بگٹی قبیلے کی تقسیم

 نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ بلوچ متحد ہو کر ہی اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ بلوچ متحد ہو کر ہی اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بلوچستان میں بگٹی قبیلے کے نئے نواب میر عالی بگٹی کی دستار بندی کے بعد بگٹی قبیلے کے لوگ اب واضح طور پر پانچ حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔

نواب اکبر بگٹی جو فوجی آپریشن شروع ہونے سے پہلے بلوچوں کی ایک جماعت قائم کرنا چاہتے تھے خود ان کا خاندان تین حصوں میں تقسیم ہے۔

ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے بگٹی قبیلے کے لوگوں نے بتایا ہے کہ اب اگر وہ نواب اکبر بگٹی کے خاندان کے ایک رہنما کا ساتھ دیتے ہیں تو دوسرے لیڈر کے لوگ انھیں دھمکیاں دیتے ہیں۔

یہ صورتحال صرف ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں ہی نہیں بلکہ نصیر آباد اور جعفرآباد کے علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اب ایک ہی خاندان کے بھائی بھی آپس میں تقسیم ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ جب سن دو ہزار پانچ میں کوہلو اور پھر ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا تو ان دنوں جمہوری وطن پارٹی کے ترجمان شاہد بگٹی نے کہا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ بلوچوں کو تقسیم کرا کے انھیں آپس میں لڑانا چاہتی ہے۔

تین روز پہلے نصیر آباد کے علاقے میں مبینہ طور پر میر عالی بگٹی کے لوگ ایک دیہات میں گئے اور وہاں ان کی جھڑپ ہوئی ہے جس میں میر عالی گروپ کے دو اور ایک مخالف ہلاک ہوا ہے۔ اسی طری انیس مئی کو دستار بندی کے دن بھی سوئی شہر میں بڑی تعداد میں راکٹ داغے گئے تھے۔

نواب اکبر بگٹی نے فوجی آپریشن شروع ہونے سے پہلے کوئٹہ پریس کلب میں ایک ٹیلیفونک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ تمام بلوچ جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر بلوچستان کے لیے کوششیں کرنا چاہییں اور اس کے لیے وہ اپنی جماعت جمہوری وطن پارٹی کو تحلیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ بلوچ متحد ہو کر ہی اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے اس اپیل پر سب سے پہلے حال ہی میں تربت میں ہلاک ہونے والے بلوچ رہنما غلام محمد نے لبیک کہا تھا اور انھوں نے ڈیرہ بگٹی جا کر نواب اکبر بگٹی کی حمایت کی تھی لیکن دیگر جماعتیں اس پر متحد نہیں ہو سکیں۔

بلوچ جماعتیں تو متحد نہیں ہو سکیں بلکہ بلوچوں کا اتحاد ( چار جماعتی اتحاد) بھی ختم ہوگیا اور نواب اکبر بگٹی کی جماعت کے بھی حصے بخرے ہو گئے ہیں۔

جمہوری وطن پارٹی کے ایک دھڑے کی قیادت نواب بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی کر رہے ہیں اور وہ خود کو نوابی کی اصل حقدار سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ایک دھڑے کی رہنمائی میر عالی کے ہاتھ میں ہے اور اب ان کی نواب کی حیثیت سے دستار بندی بھی ہو گئی ہے۔

براہمدغ بگٹی نے جمہوری وطن پارٹی کا نام تبدیل کرکے بلوچ ریپبلکن پارٹی رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جداگانہ شناخت کے تحت نواب اکبر بگٹی کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔

بگٹی قبیلے کے لوگ بھی اب تقسیم ہو گئے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی کے مخالف کلپر اور مسوری پہلے سے علیحدہ علیحدہ گروپس تھے لیکن اب نواب اکبر بگٹی کے اپنے خاندان کے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں جن میں ایک گروپ کی قیادت براہمدغ بگٹی دوسرے کی میر عالی بگٹی اور تیسرا دھڑا نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی کا ہے۔

بگٹی قبیلے کے ایک بزرگ نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ قبائلی روایات کے تحت تو نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد سرداری کا حق میر عالی بگٹی کا ہوتا ہے کیونکہ وہ نواب بگٹی کے بڑے بیٹے سلیم اکبر بگٹی کے بڑے بیٹے ہیں لیکن جس طرح وہ آئے اور ان کی دستار بندی ہوئی ہے اس سے کئی لوگوں کو اختلاف ہے۔

بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ حکومت بلوچوں کو تقسیم کراکے انہیں آپس میں لڑانا چاہتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنبعض حلقوں کا ماننا ہے کہ حکومت بلوچوں کو تقسیم کراکے انہیں آپس میں لڑانا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے سن دو ہزار چار میں قبائلی رہنماوں سے کہا تھا کہ وہ میر عالی بگٹی اوربراہمدغ میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں لیکن اس وقت قبائلی رہنماوں کے علاوہ بڑی تعداد میں مرد اور خواتین نے نواب اکبر بگٹی سے کہا تھا کہ جب تک آپ زندہ ہیں آپ ہی نواب ہیں اور اس کے بعد وہ خود فیصلہ کر لیں گے۔

بزرگ نے کہا کہ انھیں یہ بھی معلوم ہو ا ہے کہ نواب بگٹی کے ہلاک ہونے سے پہلے براہمدغ بگٹی ہی ان کے ہمراہ تھے اور انھوں نے سارا اختیار براہمدغ بگٹی کو دے دیا تھا لہذا وہ بھی اب اس عہدے کے حقدار سمجھے جاتے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق آپریشن کے ابتدا میں تینوں اگرچہ سارا دن علیحدہ رہتے تھے لیکن شام کے وقت اکٹھے ہو جاتے تھے اور یہ سب حفاظت کے لیے کیا جاتا تھا۔

بگٹی قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق اس قبیلے کی چھ بڑی شاخیں ہیں جن کے سربراہوں کو چیف کہا جاتا ہے اور ان میں مسوری ' شمبانڑی' ، 'کلپر ' ، 'فیروزانی ' ، نوہسانی' اور نواب بگٹی کا اپنا قبیلہ راہجہ شامل ہیں۔ سردار کی دستار بندی یا انتخاب کے لیے ان چھ قبائلی رہنماؤں کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن میر عالی کی دستار بندی کے وقت مبینہ طور پر دو قبیلوں کے رہنما فیروزانی اور نوہسانی موجود تھے باقی خود نہیں آسکے یا نہیں آئے۔

میر عالی بگٹی نے حال ہی میں زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کہا ہے کہ انھیں یہ حق اللہ نے دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اتحاد پر یقین رکھتے ہیں اگر بلوچوں کے مذاکرات کے زریعے بات چیت حل ہوتی ہے تو وہ متحد ہو سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے قائدین کے مطابق وفاقی حکومت کی خواہش ہے کہ بلوچستان کے معاملات کو حل کرے اور اس کے لیے وزیر اعظم آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے معاملات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں یہ اب اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتے جب تک کہ اس بارے میں سچی نیت سے حالات بہتر بنانے کی کوشش نہ کی جائے اور اس کے لیے تمام قوتوں سے صدق دل سے بات چیت کی جائے ان میں براہمدغ بگٹی کے علاوہ مری اور مینگل قبیلے کے لوگوں کو شامل کیا جائے ۔ مبصرین کے مطابق ان مذاکرات کے لیے ابتدا جتنا جلدی ہو سکے کی جائے وگرنہ بہت دیر ہو سکتی ہے.