بشیر بلور پر قاتلانہ حملہ

بشیر احمد بلور
،تصویر کا کیپشنبشیر احمد بلور پر گزشتہ پانچ ماہ کے دوران یہ دوسرا حملہ ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ سنئیر صوبائی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما وزیر بشیر احمد بلور پر ہونے والے قاتلانہ حملے اور بعد میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک مبینہ خودکش حملہ آوار بھی شامل ہے۔

پشاور پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کو پشاور کے مصروف بازار نمک منڈی میں اس وقت پیش آیا جب سنئیر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور ایک زیر تعمیر سڑک کا معائنہ کررہے تھے۔

صوبائی وزیر کے پرسنل سیکرٹری نورمحمد نے بی بی سی کو بتایا کہ بشیر بلور سڑک کا معائنہ مکمل کرکے واپس اپنی گاڑی میں جارہے تھے کہ نمک منڈی چوک میں سڑک کے کنارے کھڑے ایک نامعلوم حملہ آور نے ان پر دستی بم سے حملہ کیا تاہم بم نہ پھٹا۔ اس کے بعد حملہ آور نے بھاگ کر ایک قریبی گھر میں پناہ لے لی۔

پشاور پولیس کے سربراہ صفت غیور نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور نے اپنے جسم سے دھماکہ خیز مواد باندھا ہوا تھا اور پولیس کے پہنچنے پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے حملہ آور سمیت وہاں موجود چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہپستال منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمیوں میں ایک پولیس اہلکار، ایک خاتون اور تین راہگیر شامل ہیں۔

پولیس سربراہ نے بتایا کہ حملے کے بعد پولیس نے سارے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور دو تھے جن میں سے ایک بھاگ جانے میں کامیاب ہو گیا۔ تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ اے این پی کے رہنما اور صوبائی وزیر بشیر احمد بلور پر گزشتہ پانچ ماہ کے دوران یہ دوسرا حملہ ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں بھی بشیر احمد بلور پر قیوم سٹیڈیم پشاور میں بین الصوبائی گیمز کی اختتامی تقریب کے دوران ایک مبینہ خودکش حملہ ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوئے تھے۔