بلوچستان میں مارے جانے والے چار نوجوان عسکریت پسند تھے یا لاپتہ افراد، لواحقین اور سکیورٹی ادارے کے متضاد دعوے

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
’ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ اگر میرے بیٹے اور بھتیجے نے کوئی جرم کیا تھا تو حراست میں مارنے کے بجائے انھیں عدالت میں پیش کیا جاتا۔ عدالت سے اُن کو جو بھی سزا دی جاتی وہ ہمیں قبول ہوتی۔‘
یہ کہنا ہے بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے میر عبدالرزاق بادینی کا، جن کے بیٹے فرید اللہ بلوچ اور بھتیجے سلال بلوچ سمیت چار افراد کی لاشوں کو منگل کے روز نوشکی سے متصل ضلع خاران کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ ان افراد کا تعلق عسکریت پسند تنظیموں سے تھا جو محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہکاروں سے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔
عبدالرزاق بادینی اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے اور بھتیجے مبینہ طور ریاستی اداروں کی حراست میں تھے اور دونوں کو کوئٹہ شہر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
خاران سے برآمد ہونے والی چار لاشوں میں سے ایک بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پچار) کے مقامی رہنما وسیم سجاد عرف تابش کی تھی۔ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی)کا دعویٰ ہے کہ وسیم سجاد گذشتہ سال خضدار سے لاپتہ ہو گئے تھے۔
تنظیم کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رواں مہینے دو مبینہ جعلی مقابلوں میں 10 افراد کو ہلاک کیا گیا جن میں سے زیادہ تر پہلے سے ہی جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے۔ بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
تاہم سی ٹی ڈی بلوچستان کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے ان تمام افراد کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیموں سے تھا جو خاران میں دہشت گردی کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے لیکن حساس اداروں کی خفیہ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔
خاران میں مارے جانے والے افراد کون تھے؟

،تصویر کا ذریعہAbdul Razaq
خاران میں ایک پولیس اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ افراد سی ٹی ڈی سے مقابلے میں مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حوالے سے سی ٹی ڈی کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا اس کے مطابق مارے جانے والوں کی شناخت سلال احمد، شکر اللہ، وسیم سجاد اور فرید اللہ کے ناموں سے ہوئی۔
ان میں سے سلال احمد اور فرید اللہ کا تعلق بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تھا اور وہ آپس میں چچا زاد بھائی تھے۔ ان کی عمریں 20-25 سال کے درمیان تھیں۔
عبد الرزاق نے بتایا کہ ان کے بیٹے فرید اللہ اور بھانجے سلال بلوچ نے انٹر تک تعلیم حاصل کی تھی اور ’وہ بی اے کرنا چاہتے تھے۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ فرید اللہ اور سلال کو کوئٹہ شہر سے 28 ستمبر اور 6 اکتوبر کو جبری طور پر لاپتہ کیا۔ ’ہم اس ملک کے شہری ہیں۔ اگر ہمارے بچوں نے کوئی جرم یا کوئی غلط کام کیا تھا تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جاتا۔‘
ہلاک ہونے والوں میں سے وسیم سجاد کا تعلق ضلع خضدار کے علاقے زہری سے تھا۔
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی نے ان کے قریبی رشتہ داروں سے فون پر رابطہ کیا لیکن وسیم سجاد کی نماز جنازہ میں شرکت کے باعث ان سے بات نہیں ہو سکی۔
تاہم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین زبیر بلوچ نے بتایا کہ وسیم سجاد کا تعلق ان کی تنظیم سے تھا اور وہ وندر زون کے تنظیم کے صدر تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وندر کے مقامی کالج سے انٹر کے بعد وسیم یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔
’وسیم شاعری بھی کرتے تھے۔ ’تابش‘ اُن کا تخلص تھا۔ براہوی میں ان کے بہت سے اشعار وائرل بھی ہوئے۔‘
زبیر بلوچ کا کہنا تھا کہ ایک حملے میں زخمی ہونے کے بعد جون 2019 میں وسیم کے والد خضدار کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں سے 9 جون کو مبینہ طور پر وسیم کو لاپتہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہZUBAIR BALOCH
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’بعد میں ریاستی ادارے ہسپتال میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے بھی لے گئے تھے۔‘
’وسیم کا نام اس فہرست میں شامل تھا جو کابینہ کمیٹی کے حوالے کی‘
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے بدھ کے روز ایک مظاہرے کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ وسیم تابش کا نام لاپتہ افراد کی اس فہرست میں شامل تھا جو حال ہی میں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سمیت کابینہ کمیٹی برائے مسنگ پرسن کے دیگر اراکین کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر ان کے حوالے کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب سلال بلوچ اور فریداللہ کو لاپتہ کیا گیا تو ان کے حوالے سے بھی ہم نے بیانات جاری کیے تھے اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔‘
نصراللہ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ رواں مہینے دو مبینہ جعلی مقابلوں میں مجموعی طور پر 10 افراد مارے گئے جن میں سے چار کو خاران میں جبکہ چھ کو اس سے قبل مستونگ کے علاقے کابو میں ہلاک کیا گیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جن چھ افراد کو کابو میں مارا گیا ان میں سے عبداللہ ساتکزئی کو چار سال، حبیب الرحمان کو 7 سال اور داﺅد شاہوانی کو دو سال قبل مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور ان کا ریکارڈ موجود تھا۔‘
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حبیب الرحمان کے رشتہ داروں نے ان کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر بھی کیچی بیگ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی تھی۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے کبھی بھی ’بے بنیاد دعوے نہیں کیے اور ہم جو بھی بات کرتے ہیں وہ شواہد اور حقائق کی بنیاد پر کرتے ہیں۔‘
سی ٹی ڈی: ’مارے جانے والے نوشکی ایف سی کیمپ حملے میں ملوث تھے‘

وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز اور مارے جانے والے افراد کے رشتہ داروں کے الزامات کے حوالے سے بی بی سی نے بلوچستان کے مشیر داخلہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سی ٹی ڈی بلوچستان کے ڈی آئی جی سے فون پر رابطے کی ناکام کوشش کے بعد ان کا موقف جاننے کے لیے ان کو واٹس ایپ پر جو پیغام بھیجا گیا انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔
تاہم خاران میں چار افراد کی ہلاکت سے متعلق سی ٹی ڈی نے جو بیان جاری کیا اس کے مطابق 17 اکتوبر کو ’حساس ادارے نے کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کے عسکریت پسندوں کی خاران میں بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود سمیت موجودگی کی اطلاعات کے بعد کارروائی کی۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’اطلاع کے مطابق یہ افراد خاران میں دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی کرنے والے تھے۔‘
مزید پڑھیے
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’مشترکہ انٹیلیجینس ٹیموں کو معلومات ملیں کہ یہ لوگ گواش سور بڈو میں موجود ہیں جن کی تعداد سات ہے اور ان کی قیادت اشفاق احمد عرف جمیل کر رہا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’سی ٹی ڈی اور حساس ادارے کے افسران جیسے ہی عسکریت پسندوں کے ٹھکانے پر پہنچے تو وہاں پر موجود عسکریت پسندوں نے اُن پر فائرنگ کی جس پر فورسز نے حفاظتی خود اختیاری کا حق استعمال کرتے ہوئے نہایت حکمت عملی سے جوابی فائرنگ کی۔ اس دوران عسکریت پسندوں نے دستی بموں کا بھی استعمال کیا۔‘
بیان کے مطابق ’فائرنگ کا تبادلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران تین عسکریت پسند بشمول اشفاق احمد عرف جمیل اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔‘
بیان میں کہا گیا ’موقع سے چار عسکریت پسندوں کی لاشوں کو تحویل میں لیا گیا جن کی شناخت سلال احمد، شکراللہ، وسیم سجاد اور فرید اللہ کے ناموں سے ہوئی۔‘
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’عسکریت پسندوں کے ٹھکانے سے تین کلاشنکوف، ایک نائن ایم ایم پسٹل ، دس دستی بم، 15کلو دھماکہ خیز مواد، 20 مارٹر شیل، پرائما کارڈ، مارٹر گن، دس ڈیٹو نیٹرز، ریمورٹ کنٹرول ڈیوائس اور دیگر سامان قبضے میں لے کر لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔‘
بیان کے مطابق ’مارے جانے والے عسکریت پسند اشفاق احمد اور ان کے دو ساتھی سلال احمد اور فرید دو فروری 2022 کو نوشکی میں ایف سی کیمپ پر حملے میں ملوث تھے۔ اس حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی سلال اور فرید نے وصول کی تھی جو کہ جمیل نے بھجوائی تھی۔ ان دو عسکریت پسندوں نے ایف سی کیمپ کی ریکی بھی کی تھی۔‘
اس سے قبل مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں جن چھ افراد کو مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا گیا تھا اس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔
ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’سکیورٹی اہلکاروں نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کو تباہ کر کے ان کو بھاری اور جانی مالی نقصان پہنچایا۔‘












