بلوچستان: ہائی کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ کے سابق جج چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی ایک حملے میں ہلاک

چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان ہائی کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی ایک حملے میں ہلاک ہوگئے۔

انھیں ان کے آبائی شہر خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعہ کی شب نشانہ بنایا۔

رخشان ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نذیراحمدکرد کا کہنا ہے کہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد انھیں طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے ان پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔

محمد نور مسکانزئی کو خاران شہر میںکہاں نشانہ بنایا گیا؟

محمد نور مسکانزئی پر حملہ ان کے آبائی شہر خاران میں ان کے گھر کے قریب ایک مسجد میں کیا گیا۔

ڈی آئی جی پولیس رخشان ڈویژن نذیر احمد کرد نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس مسجد میں نمازعشا کی ادائیگی کے لیے گئے تھے۔

’وہ مسجد میں نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے مسجد کی کھڑکی سے ان پر فائر کھول دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب ان پر حملہ کیا گیا تو اس وقت مسجد میں نمازیوں کی تعداد کم ہوگئی تھی۔

اس حملے میں محمد نور مسکانزئی سمیت دو افراد زخمی ہوگئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سابق چیف جسٹس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ گولیاں سابق چیف جسٹس کے کندھوں کے نیچھے لگی تھیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق انھیں چار گولیاں لگیں۔

ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہوئے جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پر حملے کے بارے میں مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

محمد نور مسکانزئی کون تھے؟

جسٹس ریٹائرڈ محمد نور مسکانزئی کا تعلق بلوچستان کے ضلع خاران سے تھا۔

وہ یکم ستمبر 1956کو خاران کے علاقے کنری میں پیدا ہوئے۔

انھوں نے پرائمری تعلیم ہائی اسکول کنری سے حاصل کیا جس کی بنیاد ان کے والد مولوی محمد قاسم بلوچ نے ڈالی تھی۔

یہ خاران میں سب سے پہلا پرائیویٹ سکول تھا تاہم 1951کے بعد اسے سرکاری تحویل میں لیا گیا۔

ہائی اسکول خاران سے میٹرک کرنے کے بعد انھوں نے مزید تعلیم کے لیے کوئٹہ کا رخ کیا جہاں ڈگری کالج کوئٹہ سے ایف اے کیا۔

انھوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے بی اے اور بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی اور 1980میں میں لا کالج کوئٹہ سے ایل ایل بی کیا۔

محمد نور مسکانزئی نے 1981میں وکیل کی حیثیت سے پریکٹس کا آغازکیا۔وہ مارچ 2005ءمیں بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔

7ستمبر 2009 کو انھیں بلوچستان ہائیکورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا جبکہ مئی 2011ءمیں انھیں مستقل کیا گیا۔

وہ 26دسمبر 2014 کو بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے اور 31اگست 2018 کو چیف جسٹس کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔

محمد نور مسکانزئی فیڈرل شریعت کورٹ کے بھی چیف جسٹس رہے۔

یہ بھی پڑھیے

'جسٹس ریٹائڑڈ محمد نور مسکانزئی کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا'

قائم مقام گورنر بلوچستان میر جان محمد خان جمالی اور وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے خاران میں سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نور مسکان زئی کی ہلاکت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔

قائم مقام گورنر نے سابق چیف جسٹس کی ہلاکت کو انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ امن دشمنوں کے بزدلانہ حملے قوم کو مرعوب نہیں کر سکتے۔

مشیر برائے داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے سابق چیف جسٹس نور محمد مسکان زئی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام کو ملزمان کی گرفتاری کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا گیاہے۔

انھوں نے کہا کہ ملزمان کو تلاش کرکے جلد از جلد گرفتار کرکے ان کوقرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

بلو چستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور ہائی کورٹ کے دیگر ججز نے سابق چیف جسٹس محمد نور مسکان زئی کو ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عوام کو ان کی دہلیز پر عدل و انصاف کی فراہمی کیلئے بلو چستان بھر میں عدالتوں کو وسعت دی۔

خاران شہر کہاں واقع ہے؟

خارا ن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں تین سو کلومیٹر سے زائد کے فاصلے پر واقع ہے۔

خاران شہر نہ صرف ضلع خاران بلکہ رخشاں ڈویژن کا بھی ہیڈکوارٹر ہے۔ خاران کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے ۔

2000 کے بعد بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے خاران شہر اور ضلع کے دیگر علاقوں میں میں بھی بد امنی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں خاران میں صورتحال میں بہتری آئی ہے۔