نوری آباد مسافر کوچ میں آتشزدگی: 12 بچوں سمیت 17 افراد ہلاک، ’آنکھوں کے سامنے ہمارے بچے جھلس گئے اور ہم کچھ نہیں کر پائے‘

بس آتشزدگی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بچے جھلس گئے اور ہم کچھ نہیں کر پا رہے تھے دو منٹ میں آگ نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔‘ یہ کہنا ہے کہ قربان مغیری کا جن کے خاندان کے اٹھارہ لوگ بس حادثے میں جھلس کر ہلاک ہوگئے۔

کراچی حیدرآباد موٹر وے پر بدھ کی شب خیرپور ناتھن شاہ جانے والی کوچ میں آگ بھڑک اٹھی جس میں 18 افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے، صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ حادثے ایئر کنڈیشنر میں سپارک کی وجہ سے لگی۔ انھوں نے مزید تحقیقات کا حکم جاری کردیا ہے جبکہ پولیس نے بس کے مالک نور ملک اور عمران شیخ کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے تاہم کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

خیرپور ناتھن شاھ سے پانچ کلومیٹر دور واقع دوست محمد بھرگڑی گاؤں کے لوگ منتظر تھے کہ قربان مغیری اپنے پانچ بھائیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ گھر واپس لوٹ رہے ہیں لیکن جمعرات کی شام اس گاؤں میں سترہ لاشیں پہنچیں جن میں قربان کے دو اہل خانہ کے علاوہ بھتیجے، بھانجے شامل تھے۔

دوست محمد بھرگڑی گاؤں کے قبرستان میں اب بھی سیلابی پانی موجود تھا، جس کی وجہ سے نہر کے کنارے پر قبریں بنائی گئیں جن میں 8 بچے اور 8 خواتین تھیں۔

ان میتوں کو کراچی میں ایدھی سرد خانے منتقل کیا گیا تھا جہاں غسل و کفن کے بعد خیرپور ناتھن شاہ کے لیے روانہ کیا گیا متاثرہ خاندان نے لاشیں کے ڈی این اے کرانے سے انکار کردیا تھا۔

علی مردان مغیری نے بی بی سی کو بتایا جیسے سیلاب آیا وہ اپنی فیملیز کے ساتھ کراچی میں منگھو پیر کے علاقے میں اپنے رشتے داروں کے پاس چلے گئے جہاں وہ ڈیڑھ مہینے موجود تھے انھوں نے سنا کہ گاؤں میں پانی اب اتر چکا ہے تو انھوں نے واپسی کا فیصلہ کیا اور واپسی کے لیے گاڑی کرائی۔

مسافر کوچ میں آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہShahzad Soomrro

علی مردان کے بڑے بھائی قربان مغیری نے بتایا کہ گاؤں کے بچے تھے ڈیڑھ ماہ کراچی میں رہے کر تنگ آچکے تھے اس لیے کہتے تھے کہ واپس چلو، منگھو پیر میں انھوں نے بیس ہزار کرائے پر ایک بڑا مکان لیا تھا جس میں سارے رہتے تھے جبکہ ساتھ میں ایک باڑا بھی تھا جہاں مال مویشی باندھ کر رکھا تھا۔

قربان نے بتایا کہ انھوں نے مال مویشی پہلے ہی ٹرک میں گاؤں روانہ کردیا تھا جبکہ بدھ کی شام وہ بھی خوشی خوشی گاؤں کے لیے روانہ ہوئے۔

’بس میں بو آرہی تھی لیکن ڈراییور نے محسوس نہیں کی شیشے میں میرے بھانجے نے دیکھا کہ بس میں پیچھے آگ لگی ہوئی ہے اس نے آواز لگائی کہ آگ لگی ہوئی بس روکو، دروازہ کھولنے کے لیے بٹن دبایا لیکن دروازہ نہیں کھلا ہم نے سمجھا بس آج سب جل کر مر جائیں گے دوبارہ بٹن دبایا تو دروازہ کھل گیا۔‘

کراچی حیدرآباد موٹر وے پاکستان کے مصروف ترین سڑکوں میں شمار ہوتی ہے۔ قربان نے بتایا کہ ’موٹر وے پولیس موجود نہیں تھیں دیگر بس والوں نے شیشے توڑے لیکن دھواں پھیل گیا اور آگ دو منٹ میں بھڑک کر بس کو چارو طرف سے لپیٹ میں لے لیا وہ چھوٹے بڑے چالیس کے قریب لوگوں کو بچا سکے جبکہ دیگر ان کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے جھلس کر ہلاک ہوگئے اور وہ کچھ نہیں کرسکے۔‘

یاد رہے کہ حالیہ سیلابی بارشوں سے شہری آبادی میں اب سے زیادہ خیرپور ناتھن شاہ شہر اور اس کے آس پاس کا علاقہ متاثر ہوا ہے جو اس وقت بھی زیر آب ہے۔

خیرپور ناتھن سے سوشل ورکر عابد حسین ببر نے بی بی سی کو بتایاکہ پانی اترنے کے بعد لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف واپسی اختیار کی ہے، خیرپور ناتھن شاہ کی بھی چالیس فیصد کے قریب آبادی لوٹ آئی باوجود اس کے انڈس ہائی وے اس وقت بھی زیر آب ہے اور ٹرانسپورٹ بحال نہیں ہوئی۔

سندھ کے محکمہ صحت کے صوبائی وزیر لااکٹر عذرا پیچوہو کو کہنا ہے کہ سندھ میں سیلابی پانی کی مکمل نکاسی میں اندازے کے مطابق دو سے تین ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اس پانی کی وجہ سے وائرس اور بیکٹریا پھیلنے کے ساتھ مچھروں کی افزائش، پینے کے پانی کا فقدان سانس کے امراض ہو رہے ہیں۔

نوری آباد مسافر کوچ میں آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہShahzad Soomrro

انھوں نے بتایا کہ ہسپتالوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ مریض ہیں ایک ایک بسترے پر تین تین بچے بھی نظر آئیں گے، سیلابی صورتحال سے ایک ہزار کے قریب ہسپتال متاثر ہوئے جبکہ جو سیلاب والے علاقوں ہیں وہاں یہ ہسپتال غیر فعال ہیں جنہیں پانی کی نکاسی کرکے بحال کیا جائے گا۔

’خواتین ڈاکٹرز کی قلت ہے جو ایف سی پی ایس کی طالبات ہیں ہم نے انھیں اپنے اپنے اضلاع میں واپس بھیج دیا ہے وہ وہاں کیمپوں اور ہسپتالوں میں کام کریں گی، سائکاٹرسٹ کی صوبے میں تعداد کم ہے ان کے لیے ہیلپ لائن بنا رہے ہیں اس سلسلے میں جناح ہسپتال میں جو سینٹر ہے اس کو یہ ذمہ داری دی جارہی ہے اس کے علاوہ ہر ضلع میں سائیکولوجسٹ بھرتی کیے جارہے ہیں تاکہ وہ ان کے سیشن کرسکیں۔ کیونکہ جن کے گھر و مال و اسباب بہہ گیا ان کی ذہنی صحت متاثر ہوگی۔‘

ڈاکٹر غذرا پیچوھو نے بتایا کہ ڈیڑھ ماہ میں بچوں کی کیمپوں میں 340 اموات ہوچکی ہیں جبکہ ہسپتالوں میں روز بچے ہلاک ہو رہے ہیں لیکن افسوس کے ان کے پاس مکمل ڈیٹا دستیاب نہیں۔ دوسری جانب صوبائی محکمہ آفات کے مطابق سندھ میں بارشوں اور اس کے بعد میں ہونے والے واقعات میں گزشتہ ڈیڑہ ماہ میں 779 افراد ہلاک اور 8422 زخمی ہوچکے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق زحمی ہونے والے 17 افراد بالغ ہیں اور ان میں سے بیش تر کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد رخصت کر دیا گیا جبکہ چند کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے پارلیمانی سیکریٹری محکمہ صحت قاسم سومرو کے مطابق ’مغیری برادری کے ان افراد کا تعلق خیرپور ناتھن شاہ سے تھا جو کراچی سے واپس جا رہے تھے۔‘

ڈی ایس پی نوری آباد واجد علی تھیم کا کہنا ہے کہ مسافر کوچ کراچی سے خیرپور ناتھن شاہ جا رہی تھی اور اس بس میں سوار تمام افراد سیلاب متاثرین تھے۔

نوری آباد مسافر کوچ میں آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہShahzad Soomrro

،تصویر کا کیپشنقبرستان میں اب بھی سیلابی پانی موجود تھا، جس کی وجہ سے نہر کے کنارے پر قبریں بنائی گئیں

یاد رہے کہ حالیہ سیلابی بارشوں سے شہری آبادی میں اب سے زیادہ خیرپور ناتھن شاہ شہر متاثر ہوا ہے جو اس وقت بھی زیر آب ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام نے نوری آباد میں بس کو آگ لگنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’تین روز میں معاملہ کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے کہ کس کی غفلت کی وجہ سے معصوم جانیں ضائع ہوئیں؟ کیا بس میں حفاظتی اقدامات مکمل تھے؟ ایمرجنسی دروازوں کے ذریعے مسافروں کو کیوں نہیں نکالا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ حادثے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بس حادثہ

یہ بھی پڑھیے

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی نوری آباد کے قریب مسافر بس میں آگ لگنے کا نوٹس لے لیا ہے۔ انھوں نے ڈی سی اور ایس پی جامشورو کو متاثرین کی مدد کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو متاثرین کے اہلخانہ سے ہر قسم کے تعاون کی ہدایت کی۔