جلتا ٹرک آبادی سے دور لے جانے والا ڈرائیور: ’اگر لوگوں اور املاک کو نقصان پہنچتا تو کہاں سے پورا کرتا اس لیے جان کو خطرے میں ڈال دیا‘

،تصویر کا ذریعہvideograb/BBC
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
'لوگوں نے مجھے بہت کہا کہ ٹرک کو جلتا چھوڑ دواور اپنی جان بچاو لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اس سے نہ صرف دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا تھا بلکہ گاڑی بھی مکمل طور پرتباہ ہوجاتی، جس کی ابھی بمشکل صرف ایک قسط کی ادائیگی ممکن ہو سکی ہے'۔
یہ کہنا تھا بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے تعلق رکھنے والے ٹرک ڈرائیور محمد ریاض کا جنھوں نے مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلتے ٹرک کو آبادی والے علاقے سے دور لے جاکر نہر میں اتار دیا۔
ٹرک کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں یہ نظرآرہا ہے کہ آگ ٹرک میں لدی شالی میں لگی ہے اور پورا ٹرک تیزی کے ساتھ آگ کی لپیٹ میں آرہا ہے۔
محمد ریاض نے بتایا کہ ٹرک کے آگ کی وجہ سے تین موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچا اور اگر میں اس کو جلتا چھوڑ دیتا تو اس سے انسانوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ املاک کو بھی بہت بڑا نقصان پہنچ سکتا تھا۔
ٹرک کو آگ لگنے والی ویڈیو میں کیا ہے؟
ٹرک کے حوالے سے جو ویڈیو وائرل ہوئی اس میں یہ نظر آرہا ہے کہ چلتے ٹرک کے اوپر کے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔
ٹرک کے سامنے سفید رنگ کی ایک گاڑی مخالف سمت سے آرہی ہوتی ہے لیکن اس گاڑی کے کراس کرنے سے پہلے پہلے ٹرک کو ڈرائیور پٹ فیڈر نہر کے اندراتار دیتا ہے۔
بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرک نہر کے اندر الٹ جائے گا لیکن ٹرک الٹنے سے بچ جاتا پہ اور نہر کے اندر جاکر رُک جاتا ہے۔
نہر کے اندر پانی میں پہنچنے سے پہلے ٹرک بائیں جانب لڑھک گیا، جس کے باعث جلنے والی شالیوں کا بہت بڑا حصہ ٹرک کے باہرنہر میں گرگیا اور آگ کے بہت بڑے شعلے بلند ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور ویڈیو میں یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ جلتی شالیاں ٹرک کے فرنٹ پر بھی گر گئی ہیں۔

ٹرک میں آگ کیسے لگی؟
ٹرک کے 30 برس کی عمر کے ڈرائیور محمد ریاض نے بتایا کہ انھوں نے ٹرک میں بالاں شاخ کے علاقے سے شالی لوڈ کی تھی اور پھر اسے یہاں سے کوئٹہ لے جانا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ راستے میں ایک پیٹرول پمپ کے پاس رک گیا اور اتر کر گاڑی کے نیچھے ٹائر وغیرہ کو چیک کیا کیونکہ اس کے بعد مجھے کوئٹہ کے طویل سفر پر نکلنا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ گاڑی کے نیچھے معائنہ کررہا تھا کہ روڈ سے لوگوں نے مجھے بتایا کہ ٹرک میں آگ لگی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے بالکل پتہ نہیں چلا کہ ٹرک میں موجود شالی میں آگ کیسے لگی معلوم نہیں کسی نے جلتا سگریٹ پھینکا یا کسی نے جان بوجھ کر آگ لگائی۔
انھوں نے بتایا کہ چونکہ ٹرک شالی سے لوڈ تھا جن میں آگ تیزی سے پھیل رہی تھی اس لیے آگ کو بجھانے کی کوشش کرنے یا فائر بریگیڈ کا انتظار کرنے کے بجائے وہ گاڑی کے اندر بیٹھ گئے اور اس کو آبادی سے دور لے جانے کی کوشش کی۔
'لوگوں نے کہا کہ ٹرک سے نکلو اوراپنی جان بچاﺅ'
محمد ریاض کا کہنا تھا کہ آگ کو دیکھ کر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اور ان میں سے بعض نے مجھے مشورہ دیا کہ گاڑی سے اترو اور اپنی جان بچاﺅ۔ انھوں نے کہا کہ کہ ایسا کرنے سے نقصان کا اندیشہ بہت زیادہ تھا اس لیے انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
ڈارئیور کے مطابق' قریب میں پیٹرول پمپ کے علاوہ بڑی تعداد میں دکانیں اور ہوٹلز بھی تھے۔ چونکہ مغرب کا وقت تھا اس لیے گرمی کی شدت کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہوٹل کے باہر بیٹھی تھی'۔
انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ گیس کی پائپ لائن بھی قریب تھی جبکہ مغرب کی نماز قریب ہونے کی وجہ سے پیٹرول پمپ کے ساتھ مسجد میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
محمد ریاض کے مطابق 'وہاں آگ کے پھیلنے کی وجہ سے جو بہت بڑانقصان ہوسکتا تھا وہ اس کا رسک نہیں لے سکتا تھا کیونکہ لوگوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کے باوجود تین موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچا۔ دو موٹر سائیکلوں پر جلتی شالی گرگئی تھیں جبکہ جلدی میں ٹرک کو نکالتے ہوئے یہ تیسرے موٹر سائیکل سے ٹکرا گیا تھا'۔
ان کا کہنا تھا 'جن موٹر سائیکلوں کو آگ سے نقصان پہنچا تھا ان میں سے ایک پچیس ہزار روپے مانگ رہا ہے جبکہ دوسرا 35ہزار روپے کا مطالبہ کر رہا تھا اس کو بمشکل 30 ہزارروپے پر راضی کیا۔
اور اس کے علاوہ تیسری موٹر سائیکل جس سے ٹرک ٹکرا گیا تھا وہ اب بھی ٹرک میں موجود ہے اور اس کا مالک کہہ رہا ہے کہ اگر تاوان نہیں دے سکتے ہو تو اس کو بنا کر دو '۔
انھوں نے کہا کہ اندازہ لگائیں کہ اگر گاڑی سے وہاں لوگوں، پیٹرول پمپ اور دکانوں کو نقصان پہنچتا تو میں ان کا نقصان کہاں سے پورا کرسکتا تھا اس لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر گاڑی کو وہاں سے نکال لیا۔

'بڑے نقصان کی بجائے کم نقصان کا انتخاب کیا'
محمد ریاض نے کہا کہ میری خوش قسمتی یہ تھی کہ جس مقام پر ٹرک کو آگ لگی پٹ فیڈر نہر اس کے ساتھ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ 'اگر میں ٹرک کو آبادی سے نکال کر کہیں چھوڑ دیتا بھی تو آگ پورے ٹرک کو تباہ کرکے رکھ دیتی، جس کی وجہ سے میں نے یہ فیصلہ کیا کہ ٹرک کو نہر میں اتار دوں'۔
محمد ریاض کے مطابق 'اگر میں ٹرک کو کسی میدانی علاقے میں چھوڑ دیتا اور اگر وہاں آگ پر قابو نہیں پایا جاتا تو ٹرک کے بچنے کا شاید ایک فیصد بھی چانس نہیں تھا کیونکہ ٹرک کی باڈی لکڑی کی ہے اور آگ اس کو بُھسم کرنے میں دیر نہیں لگاتی'۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ان کے پاس ٹرک کو نہر میں گرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور انھوں نے نہر میں گاڑی کو گرانے کے لیے ایک ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں سے گاڑی کی باڈی کو کم سے کم نقصان پہنچ سکتا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ لمحہ بہت عجیب تھا جب ٹرک نہر میں لڑھکنے لگا اور میں سمجھا کہ جب نہر میں قلابازی کھاتا ہوا ٹرک گرے گا تو مجھے نقصان ہوگا لیکن میں حیران ہوگیا کہ ٹرک چلتا ہوا نہر کے اندر پہنچ گیا۔
'آپ ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ آگ کے شعلے کتنے بلند تھے چونکہ آگ زیادہ تھی اس لیے میں نے ٹرک سے فوری طور پر نکلنے کی کوشش کی، جس کے دوران میرا یک پیر کسی گرم لوہے وغیرہ سے لگ گیا، جس کی وجہ سے اس پرآبلہ پڑ گیا'۔
انھوں نے کہا کہ لوگ چونکہ پہلے ہی سے ٹرک میں آگ کو دیکھ رہے تھے اس لیے وہ نہر میں آئے اور نہر سے ٹرک پر پانی پھینکنا شروع کیا۔ محمد ریاض کے مطابق اگرچہ میں نے کسی کو فون نہیں کیا تھا لیکن کچھ دیر بعد سرکار کی جانب سے پانی کا ٹینکر آیا اور اس طرح ہم نے ٹرک میں لگی آگ پر مکمل قابو پا لیا۔

یہ بھی پڑھیے
محمد ریاض نے ٹرک کو بچانے کی کیوں ہر ممکن کوشش کی؟
محمد ریاض کا کہنا تھا کہ یہ ٹرک میرا ذاتی نہیں ہے بلکہ میرے چچازاد بھائی کا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں اسے بطور ڈرائیور چلاتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پرانے زمانے کا ٹرک ہے جسے کچھ عرصہ پہلے قسط پر 30لاکھ روپے میں خریدا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ابھی تک اس کی آٹھ لاکھ روپے کی صرف ایک قسط کی ادائیگی کی گئی تھی جبکہ دوسری قسط عید کے بعد دینی ہے۔ ان کے مطابق 'اب اللہ تعالیٰ نے ٹرک کو مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچالیا لیکن اگر خدانخواستہ یہ مکمل طور پر تباہ ہوجاتا تو پھر میں حیران ہوں کہ ہم گاڑی کی باقی قسطیں کس طرح ادا کرتے'۔
محمد ریاض نے کہا کہ ٹرک کو بہت زیادہ نقصان پہنچنے سے میرے خاندان کے لوگ بہت بڑی مالی پریشانی کا شکار ہوتے اس لیے انھوں نے دیگر لوگوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ ٹرک کو بھی نقصان سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔









