عمران خان لانگ مارچ کے لیے اس قدر بےچین کیوں؟

پاکستان تحریکِ انصاف

،تصویر کا ذریعہPTI

    • مصنف, احمد اعجاز
    • عہدہ, صحافی

پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے رواں برس 25 مئی کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا گیا تھا۔ مگر اگلے ہی روز عمران خان نے اچانک یہ کہہ کر اس مارچ کو ختم کر دیا تھا کہ ’چھ دِن میں نئے الیکشن کا اعلان نہ ہوا تو پھر واپس آؤں گا۔‘

حالیہ عرصے میں عمران خان اپنے مختلف جلسوں میں بار بار عوام کو لانگ مارچ میں شرکت کے لیے تیار رہنے کا کہہ رہے ہیں۔ دوسری طرف وفاقی حکومت جس انداز سے اسلام آباد میں کنٹینرز کے ذریعے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے تو یوں لگ رہا ہے کہ اگلے چند دِنوں کے اندر اندر عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے بھی دو روز قبل کہا کہ عمران خان 12 سے 17 اکتوبر کے درمیان لانگ مارچ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہاں اہم ترین سوال یہ ہے کہ عمران خان اس وقت لانگ مارچ کے لیے بہت زیادہ اضطراب کا شکار کیوں ہیں؟

فوری انتخابات کے انعقاد کے لیے لانگ مارچ ضروری؟

رواں برس جولائی میں 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں غیر معمولی کامیابی سمیٹنے کے بعد عمران خان سمجھتے ہیں کہ نئے انتخابات کے انعقاد کا مناسب ترین وقت یہی ہے، کیونکہ وہ مقبولیت کی حدوں کو چھو رہے ہیں اور الیکشن جیتنے کے لیے الیکٹیبلز کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔

پی ٹی آئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عمران خان کا لانگ مارچ محض اس لیے ہے کہ فوری الیکشن کا اعلان ہو جائے؟

ہم نے یہ سوال مختلف تجزیہ کاروں کے سامنے رکھا تو پروفیسر حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ کا نتیجہ کیا نکلے گا، کچھ کہا نہیں جا سکتا، مگر پاکستان کے سیاسی نظام میں غیر یقینی بڑھ جائے گی۔ تاہم عمران خان اس لانگ مارچ سے فوری انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کے کچھ پیش نظر نہیں۔‘

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید جعفر احمد کا کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ محض سیاسی دباؤ ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں اپنے لیے کوئی راستہ ڈھونڈنا ہے۔ عدالتیں کہہ سکتی ہیں، استعفے منظور نہیں ہوئے، پارلیمان واپس جائیں۔ اس طرح فیس سیونگ مل جائے گی، تاہم الیکشن کی کوئی تاریخ بھی مل سکتی ہے۔‘

مگر کیا عمران خان پارلیمنٹ میں واپس آ سکتے ہیں؟

سینئر تجزیہ کار اور صحافی اویس توحید کا خیال ہے کہ ’عمران خان کے پاس ایک راستہ پارلیمان کا ہے۔ عدلیہ کی جانب سے اِن کو یہ راستہ دکھایا جا رہا ہے۔ عدالت کہہ چکی ہے کہ آپ پارلیمان میں آ کر سیاست کریں مگر خان صاحب یہ راستہ اختیار نہیں کریں گے۔‘

اہم تعیناتی سے قبل عوامی مقبولیت کا اظہار

پاکستان جیسے ملک میں نئے آرمی چیف کی تقرری ایک غیر معمولی مرحلہ ہوتا ہے۔ اس تقرری سے کئی ماہ پہلے سیاسی و سماجی حلقوں میں گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔ نئے آرمی چیف کی تقرری کے ضمن میں عمران خان کئی بیانات دے کر اپنے اضطراب کا اظہار کر چکے ہیں۔

12 ستمبر کی شب ایک نجی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’پہلے عام انتخابات کروائے جائیں، اُس کے نتیجے میں جو حکومت منتخب ہو، وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کرے۔‘

عمران خان کے اس بیان سے میڈیا و سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک نتیجہ یہ بھی اخذ کیا گیا کہ عمران خان موجودہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خواہاں ہیں۔ لیکن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے حالیہ دورہ امریکا میں اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ مزید توسیع نہیں چاہتے اور مدت پوری ہونے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سماجی و سیاسی حلقوں میں نومبر میں ہونے والی اس تعیناتی کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ عمران خان کے مختلف بیانات اس کے غماز ہیں کہ وہ اس تعیناتی کو اپنی سیاست کے لیے بہت اہم سمجھتے ہیں۔

ایک لحاظ سے عمران خان پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس میں اُن کی منشاء کے سب خلاف ہو رہا ہے، لہٰذا اضطراب بھی بڑھ چکا ہے۔

ڈاکٹر سید جعفر احمد کا دو ٹوک انداز میں کہنا تھا کہ ’عمران خان کے ہاتھ میں آرمی چیف کی تعیناتی والا معاملہ نہیں رہا۔‘

نومبر کے بعد کے حالات عمران خان کے لیے موافق نہیں رہیں گے؟ کیا ان کے اضطراب کے پیچھے یہ فیکٹر ہو سکتا ہے؟ سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کا خیال ہے کہ ’اس وقت کی جو اسٹیبلشمنٹ ہے، وہ نومبر تک کی ہے، نومبر کے بعد کیا ہو گا، کچھ کہہ نہیں سکتے۔ تاہم موجودہ اسٹیبلشمنٹ قبل ازوقت انتخابات نہیں چاہتی۔‘

اس اہم تعیناتی پر عمران خان کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیا اس کا وقت گزر نہیں چکا؟ اویس توحید کا خیال ہے کہ ’یہ لانگ مارچ آخری حربہ ہے، جس کے ذریعے عمران خان، اسٹیبلشمنٹ کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں، مگر اسٹیبلشمنٹ کے جو اشارے کنائے ہیں، اُس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ نہ فوری الیکشن ہوں گے اور نہ ہی اہم تعیناتی رُکے گی۔‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نذیر لغاری کا کہنا تھا کہ ’عمران خان لانگ مارچ کے ذریعے سیاسی سپیس لینا چاہتے ہیں۔ آنے والا آرمی چیف کون ہو گا؟ اس پر سب کا فوکس ہے۔ مگر اِن جماعتوں کو یہ نہیں معلوم کہ فیصلے یہ نہیں کرتے بلکہ کہیں اور ہوتے ہیں۔‘

سکڑتی سپیس اور سپورٹ کو بحال کرنے کے لیے لانگ مارچ؟

29 ستمبر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی سزا کالعدم قرار پائی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے بریت کے حکم نامے کے بعد نااہلی بھی ختم ہوئی اور وہ سیاست میں عملی طور پر حصہ لینے کی حق دار ٹھہریں۔ اس وقت مریم نواز لندن میں موجود ہیں جبکہ اسحق ڈار لگ بھگ پانچ برس کے بعد ملک میں واپس آ کر وفاقی وزیر ِخزانہ کے طور پر معیشت کو سنبھالا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مریم نواز

،تصویر کا ذریعہPMLN

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسحاق ڈار کی ’باعزت واپسی‘ ایک واضح اشارہ تھا کہ عمران خان کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے اندر سپیس سکڑ چکی ہے اور میاں نواز شریف کے وطن واپس آنے کی راہیں آسان ہوتی جا رہی ہیں۔

عمران خان کا ایک اضطراب یہ بھی ہے کہ اس سارے عمل کو اگر ایک نئی ’سیاسی انجینیئرنگ‘ سے تعبیر کیا جائے تو یہ مسلم لیگ ن کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ نئے تشکیل پاتے سیاسی منظر نامے میں صاف ظاہر ہے کہ عمران خان کے لیے سپیس سکڑ چکی ہے۔

اس ضمن میں ڈاکٹر سید جعفر احمد کا کہنا تھا کہ ’اپریل کے بعد سے احتجاج اور لانگ مارچ کا ایک سلسلہ چل رہا ہے۔ عمران خان کو اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد لوگوں کی جانب سے جو سپورٹ ملی ہے، وہ اُس سپورٹ کو برقرار دیکھنا چاہتے ہیں اور عوام کی سپورٹ سے ملکی اداروں کو پسپا کرکے سپیس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

اویس توحید کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے حق میں 2011 سے فضا سازگار چلی آرہی تھی جو 2021تک رہی، جس کے وہ عادی ہو چکے تھے، اب فضا سازگار نہیں رہی۔ رکاوٹیں بڑھ چکی ہیں۔ سازگار فضا واپس نہیں آ سکتی، اس لیے بے چینی بھی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

جب اس سال 9 اپریل کی رات کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی بدولت عمران خان وزیرِ اعظم نہ رہے تو اِن کی سیاست ایک نئے دَور میں داخل ہو گئی۔ یہاں سے وزارتِ عظمیٰ کے چھن جانے کے بعد دوبارہ حصول کا سفر شروع ہوا۔ اپنے مقصد میں کامیابی کے لیے اِن کے پاس کئی کارڈ تھے، جن کا استعمال بہ خوبی کیا گیا اور خاطر خواہ نتائج بھی سمیٹے گئے۔

27 مارچ کو اسلام آباد جلسے میں عمران خان نے ایک خط لہرا کر دکھایا اور کہا کہ اُن کی حکومت کو گرانے کی بیرونی سازش کی گئی ہے۔ اس خفیہ خط کو تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ’نئی زندگی‘ ملی اور عمران خان کی جانب سے بڑی کامیابی کے ساتھ خفیہ خط کا کارڈ استعمال کیا گیا۔ اس پہلو نے عوامی سطح پر اِن کی مقبولیت کو بڑھا دیا اور عوام کی بڑی تعداد مبینہ سازش کے خلاف اِن کی ہم آواز بنتی چلی گئی۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTWITTER

مگر حالیہ عرصہ کی آڈیو لیکس سے یہ احتمال جنم لے اُٹھا کہ خفیہ خط سیاسی سطح پر مزید شاید کارگر نہیں رہا۔ علاوہ ازیں اگر میاں نواز شریف واپس آ جاتے ہیں اور مریم نواز کے ساتھ مل کر عوامی رابطوں کو بحال کرتے ہیں تو نچلی سطح پر وہ سپیس حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

یعنی اس وقت جب عوام کے اندر عمران خان کی آواز ہی گونج رہی ہے، اگر اس آواز کے متوازی میاں نواز شریف اور اُن کی بیٹی کی آوازیں گونجنا شروع ہو گئیں تو مسابقت کی فضا جنم لے اُٹھے گی اور یہ عمران خان کی مقبولیت کو متاثر کر دے گی۔

یہ پہلو توجہ طلب ہو سکتا ہے کہ لانگ مارچ کے ذریعے دباؤ بڑھا کر اپنے اہداف کا ممکنہ حصول ہی مقبولیت کے گراف کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس ضمن میں جب اویس توحید کی رائے لی گئی تو اُن کا کہنا تھا کہ ’عمران خان اس لانگ مارچ کو آخری ہتھیار کے طور پر لے رہے ہیں۔ یہ بڑے اجتماع اور عوامی طاقت کے عملی مظاہرے کے ذریعے راولپنڈی اور اسلام آباد کا محاصرہ کر کے اپنی مقبولیت اور اہمیت کا احساس دلانے کی بھرپور کوشش کرنا چاہتے ہیں۔‘

جبکہ نذیر لغاری کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بندوبست اب نہیں رہا۔ اسٹیبلشمنٹ کا ایک عنصر اس کے ساتھ تھا، جس کی وجہ سے سپیس حاصل کرنے کی ایک اُمید تھی، مگر اب شاید وہ عنصر بھی ساتھ نہیں، ممکن ہے، یہ عنصر ساتھ ہو۔ مگر پہلے جیسی سپیس اب نہیں ملے گی،اصل پریشانی یہی ہے۔‘

ضیغم خان کا کہنا تھا کہ ’اقتدار سے محروم ہونے کے بعد جو عمران خان نے سازش اور بیرونی مداخلت کا بیانیہ بنایا تھا، وہ پرانا ہو رہا ہے۔ لانگ مارچ کے پیچھے اضطراب یہی ہے۔‘

لانگ مارچ کے لیے آئیڈیل موسم

پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے موسم دو طرح سے اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ایک تو جلسے جلوسوں کے تناظر میں موسم کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بالعموم ایسے موسم کا انتخاب کیا جاتا ہے کہ نہ تو گرم ہو اور نہ زیادہ ٹھنڈا اور نہ ہی بارش آلود۔ یوں مارچ اور اکتوبر کے مہینے ہی آئیڈیل قرار پاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اہم تعیناتیوں کا موسم بھی جلسے جلوسوں اور لانگ مارچ کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

چونکہ نومبر میں ایک اہم تعیناتی ہونے جا رہی ہے، تو اس سے پہلے لانگ مارچ کے لیے بہترین وقت یہی دِن بنتے ہیں۔کیا لانگ مارچ کا فیصلہ اسی تناظر میں کیا جا رہا ہے؟

لانگ مارچ

،تصویر کا ذریعہPTI

اس کے جواب میں ڈاکٹر رسول بخش رئیس کا خیال تھا ’عمران خان لانگ مارچ کا کئی ماہ سے کہہ رہے ہیں۔ یہ معاملہDesperation کا نہیں بلکہ Timing کا ہے۔ اس وقت اپنے کارکنان کو لانگ مارچ کے لیے محض تیار رہنے کا کہا جا رہا ہے۔‘

مگر سینئر تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا تھا کہ ’موسم کسی بھی سیاسی سرگرمی کے لیے اہم ہوتا ہے۔ اگر عمران خان آتا ہے اور اسلام آباد کی کسی جگہ پر قبضہ کرکے بیٹھ جاتا ہے تو یہ کم بندوں سے نہیں ہو سکے گا۔اب پہلے والی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔

وفاقی حکومت معاشی بدحالی و دیگر مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئی تب!!

عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے فوری بعد ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا، پیٹرول کی قیمتیں بڑھتی چلی گئیں، ڈالر کو اُڑان لگ گئی اور لوڈشیڈنگ کا جِن بھی بے قابو ہوتا چلا گیا۔

نو منتخب حکومت بار بار یہ کہہ کر ’مشکل حالات میں حکومت لی، اگر باگ ڈور نہ سنبھالتے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا‘ لوگوں کی بے چینیوں کا جواز مہیا کرتی رہی ہے۔ مگر سماجی حلقوں میں عمران خان کا بیرونی سازش کا بیانیہ پروان چڑھتا چلا گیا۔ عوام یہ سوال اُٹھاتے پائے گئے کہ اگر موجودہ حکمرانوں نے مہنگائی کرنا تھی تو پھر حکومت سنبھالی کیوں؟

اب جس دِن سے اسحاق ڈار کی واپسی ہوئی، ڈالر کی قدر میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ اسحاق ڈار کی صورت میں حکومت کو بھروسہ ہے کہ وہ معاشی بدحالی پر کسی طور پر قابو پا لے گی۔اس کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے سیاسی استحکام آتا جائے گا، اِن کے لیے رائے عامہ ہموار ہوتی چلی جائے گی۔

اسحاق ڈار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عمران خان کے بیانیہ کو اُس وقت شدید زَد لگ سکتی ہے جب حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کا سفر شروع ہو گا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ معاشی بدحالی پر قابو پانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر سید جعفر احمد کے مطابق ’موجودہ وفاقی حکومت پاکستان کے عوام کو جیسے جیسے معاشی بدحالی سے نکال کر ریلیف کی طرف لے کر جائے گی،عمران خان کا اضطراب بڑھتا چلا جائے گا۔ ممکنہ لانگ مارچ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اب یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ جیل بھرو، مگر جیل بھرو تحریک اُس وقت ہوتی ہے جب سیاسی جدوجہد بہت آگے جا چکی ہو۔جلسوں میں تو لوگ چلے آتے ہیں، مگر یہ جیلوں میں ہر گز نہیں جائیں گے۔‘

ضیغم خان کے مطابق ’معاشی بدحالی کا دور اگر ختم ہو گیا اور دیکھا جائے تو اس میں بہتری آنا شروع ہو چکی ہے، اس سے عمران خان کی مقبولیت کا گراف گرنا شروع ہوجائے گا۔ عمران خان سمجھتا ہے کہ یہی وقت ہے پریشر ڈال کر کچھ ڈیل کر لے۔‘