سارہ انعام قتل کیس: ایاز امیر کا نام مقدمے سے خارج، شاہنواز امیر کے خلاف ناجائز اسلحے کا مقدمہ

،تصویر کا ذریعہSocial Media
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد میں عدالت نے کینیڈین نژاد پاکستانی خاتون سارہ انعام کے قتل کے مقدمے سے سینیئر صحافی ایاز امیر کا نام نکالنے اور انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
ادھر پولیس نے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کے خلاف ناجائز اسلحہ رکھنے کا مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے ملزم کی نشاندہی پر ان کے فارم ہاؤس پر چھاپہ مار کر یہ اسلحہ برآمد کیا ہے۔
سارہ انعام کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں 23 ستمبر کو قتل کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے ان کے شوہر شاہنواز امیر کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ ملزم کے والد سینیئر صحافی ایاز امیر کو بھی بعدازاں حراست میں لیا گیا تھا۔
تفتیشی ٹیم نے مقدمے کے شریک ملزم ایاز امیر کو منگل کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا ہے اور ان کا مزید پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔
اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم شاہنواز کا ایاز امیر سے رابطہ ہوا تھا۔ ادھر ایاز امیر کی جانب سے ایڈووکیٹ بشارت اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت ہے۔
بشارت اللہ کا کہنا تھا کہ وقوعہ کے وقت ملزم ایاز امیر چکوال میں موجود تھا اور واقعے کا علم ہونے پر اس نے خود پولیس کو اطلاع دی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 35 برس سے ملزم ایاز امیر کا اس فارم ہاوس سے کوئی تعلق نہیں اور ان کا نام اس مقدمے سے خارج کیا جائے۔
ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس عدالت کو آگاہ نہیں کر سکی کہ کن ثبوتوں کے تحت ایاز امیر کو گرفتار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایاز امیر تفتیش سے نہیں بھاگ رہے اور کوئی ایسا ایکٹ بتا دیں جس سے ثابت ہو وہ اس قتل میں ملوث ہیں۔
اس موقع پر وکیلِ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ یہ تمام باتیں ٹرائل کی ہیں اور اس موقع پر دیکھا جائے کہ ملزم کے خلاف کیا ثبوت آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تک یہی ثبوت ہےکہ ملزم ایاز امیر کا واٹس ایپ پر مرکزی ملزم سے رابطہ ہوا۔
اس پر وکیلِ صفائی کا کہنا تھا کہ ایاز امیر کا بیٹے شاہنواز سے رابطہ وقوعہ کے بعد ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’باپ کا بیٹے سے رابطہ ہو جائے تو کیا دفعہ 109 لگتی ہے؟‘ بشارت اللہ کا کہنا تھا کہ ’مرکزی ملزم کا پھر تو جس جس سے رابطہ ہوا ہے، پولیس انھیں ملزم بنا دے گی۔
سماعت کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ عامر عزیز نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی اور فیصلے میں کہا کہ ملزم کے خلاف صفحہ مثل پر کوئی ثبوت نہیں ہے اور اس کا نام مقدمے سے خارج کیا جائے اور اسے رہا کر دیا جائے۔
اس سے قبل پولیس نے دو بار ایاز امیر کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جبکہ مرکزی ملزم بھی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی ہی تحویل میں ہے۔ اس مقدمے میں ملزم کی والدہ بھی نامزد ہیں تاہم عدالت نے پیر کو ایاز امیر کی سابق اہلیہ کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی تھی۔
ادھر مقتولہ سارہ کے والدین بھی منگل کو پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
’کمرے کی جانب دوڑی لیکن قتل ہو چکا تھا‘
پیر کے روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں سینیئر صحافی ایاز امیر کی سابق اہلیہ ثمینہ شاہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے درخواست کی کہ ملزمہ کا نام مقتولہ کے چچا نے نامزد کیا تاہم وہ قتل کی عینی شاہد نہیں ہیں اور نہ ہی اس واقعے سے ان کا کوئی تعلق ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ ملزمہ کئی سالوں سے اس فارم ہاؤس کی رہائشی ہیں جہاں قتل کی واردات ہوئی۔
ان کا مؤقف تھا کہ ان کے بیٹے اور مرکزی ملزم شاہ نواز امیر نے قتل کے بعد صبح 9 بج کر 12 منٹ پر بذریعہ فون ان کو وقوعہ کے متعلق آگاہ کیا تو ثمینہ شاہ کمرے کی جانب دوڑیں۔ تاہم ان کے پہنچنے تک سارہ انعام کا قتل ہو چکا تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم کی والدہ نے شاہ نواز امیر کو کمرے میں بیٹھنے کو کہا، تب تک والد ایاز امیر نے پولیس کو آگاہ کر دیا تھا جس کے بعد اسلام آباد پولیس چند منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کرتے ہوئے ثمینہ شاہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ صحت کے مسائل سے بھی دوچار ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں شاہ نواز کی والدہ کی درخواست پر سماعت ہوئی تو ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ ان پر کوئی الزام نہیں ہے اور انھوں نے پولیس کو خود واقعے کے بارے میں بتایا تھا۔ عدالت نے ان کو تین دن میں شامل تفتیش ہونے کی ہدایت بھی کی۔
’بیٹے کی والدہ سے کہا تھا اسے بھاگنے نہیں دینا‘
عدالت میں ایاز امیر نے خود دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے واقعے کی اطلاع خود پولیس کو دی۔
عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر سے پوچھا گیا کہ ایاز امیر کا اس کیس سے کیا تعلق ہے تو پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ ملزم ایاز امیر کو مقتولہ کے چچا نے نامزد کیا ہے۔
پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ مقتولہ کے والدین کینڈا میں ہیں جو کل تک پاکستان پہنچ جائینگے۔
ایاز امیر نے عدالت میں کہا کہ ’میرے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں، کوئی مصنوعی کہانی بھی نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے بیٹے کی والدہ سے کہا کہ شاہ نواز کو بھاگنے نہیں دینا۔‘
’ایسے کیسز میں لاشیں غائب ہو جاتی ہیں کیا کچھ ہو جاتا ہے۔ جو کچھ اس کیس میں ہو رہا ہے آئندہ کوئی تفتیش میں تعاون سے پہلے سوچے گا۔‘
سابق رکن قومی اسمبلی ایاز امیر نے کہا کہ ’پولیس تسلیم کرتی ہے کہ ان کواطلاع میں نے خود دی تھی۔ اکیلے میں مجھے سراہتے ہیں کہ آپ بڑے سچے آدمی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ واقعے کے بعد ایاز امیر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’یہ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے اور خدا کرے ایسا کسی کے ساتھ نہ ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتے اور ’میں تو صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا واقعہ کسی کے ساتھ پیش نہ آئے اور یہ صدمہ کسی کو نہ اٹھانا پڑے۔‘

واقعہ کیسے پیش آیا؟
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان پیش آیا۔
اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق قتل کی واردات کی اطلاع ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو دی۔
اطلاع ملنے پر پولیس فارم ہاؤس 46 پہنچی تو ملزم نے پولیس کو دیکھتے ہی خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ کمرہ کھولنے کے بعد ملزم کو قابو کر لیا گیا۔
اس میں یہ بھی درج ہے کہ ملزم کو کمرے سے نکالا گیا تو اس کے کپڑوں پر خون کے نشانات تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے بتایا کہ انھوں نے لڑائی کے دوران اپنی بیوی کے سر پر ڈمبل مارا اور مقتولہ کی لاش کو واش روم میں چھپا دیا۔
ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ ملزم نے صوفہ کے نیچے چھپایا آلہ قتل ڈمبل بھی خود برآمد کروایا ہے جس کے اوپر خون اور بال لگے ہوئے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے ڈمبل کے متعدد وار کر کے اہلیہ کا قتل کیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشن اسلام آباد پولیس سہیل ظفر چھٹہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ 'گھر کے واش روم سے تشدد زدہ لاش ملی جس کے سر پر زخموں کے نشانات تھے۔'
انھوں نے بتایا کہ مبینہ طور پر مقتولہ سارہ کو وزرش کے لیے استعمال ہونے والی ڈمبل سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بظاہر اسی تشدد سے ان کی موت ہوئی ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ملزم کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ ان کی تیسری بیوی تھیں اور چند ہفتے قبل ہی انھوں نے اسلام آباد کی ایک عدالت میں جا کر شادی کی تھی۔ ملزم کی اس سے قبل اپنی دو بیویوں سے طلاق ہو چکی ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق جس فارم ہاؤس پر یہ واقعہ ہوا وہ ملزم کی والدہ، ایاز امیر کی سابقہ اہلیہ، کے نام پر ہے اور ملزم اپنی والدہ کے ساتھ ہی رہائش پذیر تھے۔








