عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی مگر پاکستانیوں کے تیل اور گھی کا خرچہ کیوں کم نہ ہو سکا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
عالمی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمت میں حالیہ ہفتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔ اس سال اپریل میں دو ہزار ڈالر فی ٹن تک کی سطح تک پہنچنے والے خوردنی تیل کی عالمی قیمتیں اس وقت ایک ہزار ڈالر کی سطح سے بھی نیچے آ چکی ہیں۔
عالمی منڈی کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باوجود پاکستان میں صارفین ابھی تک تیل اور گھی کی زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں اور انھیں عالمی مارکیٹ میں قیمت کی کمی کا فائدہ نہیں ہوا۔
پاکستان میں میڈیا کے دوسرے ذرائع کے علاوہ سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔
صارفین اس معاملے پر حکومت کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں خوردنی تیل اور گھی بنانے والی کمپنیوں پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔
پاکستان میں تیل و گھی کے ڈسٹری بیوٹرز کے مطابق تیل وگھی کی پیداواری کمپنیوں کی جانب سے انھیں یہ مصنوعات مہنگی ہی مل رہی ہیں اس لیے وہ اسے سستا فراہم نہیں کر سکتے جبکہ تیل و گھی کی کمپنیوں کے مطابق انڈونیشیا کی جانب سے اپریل میں پام آئل پر لگنے والی پابندی کے منفی اثرات ابھی تک موجود ہیں۔
کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں تیل و گھی کی قیمتوں میں کمی ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں خوردنی تیل کی موجودہ قیمت کیا ہے؟
پاکستان میں اس وقت خوردنی تیل کی قیمت کا جائزہ لیا جائے تو مختلف برانڈز کی مختلف قیمتیں ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تین اقسام کے خوردنی تیل و گھی فروخت ہو رہے ہیں۔
درجہ اول کے خوردنی تیل کی فی لیٹر قیمت پانچ سو روپے سے زائد ہے۔ درجہ دوم کے خوردنی تیل 450 سے 500 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہے ہیں جبکہ درجہ سوم کے تیل و گھی کی قیمت 390 سے 400 روپے فی لیٹر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ یہ قیمتیں آج سے چار پانچ ماہ پہلے بڑھی تھیں جب بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں 1800 ڈالر فی ٹن سے اوپر چلی گئی تھیں اور جس کی وجہ انڈونیشیا کی پام آئل کی برآمد پر پابندی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستان پام آئل کی نوے فیصد درآمد انڈونیشیا اور دس فیصد ملائیشیا سے کرتا ہے تاہم انڈونیشیا کی جانب سے پابندی کے خاتمے کے بعد پام آئل کی عالمی سطح پر قیمتیں کم ہوئیں اور یہ نو سو ڈالر تک گر گئیں۔
پاکستان میں تیل و گھی کی سالانہ کھپت 44 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے، جس میں سالانہ بنیادوں پر دو سے تین فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔
کراچی میں کام کرنے والے تیل و گھی کے ڈسٹری بیوٹر ذیشان زین نے بتایا کہ جب وہ کمپنیوں سے رابطہ کرتے ہیں کہ قیمت کم کی جائے تو ان کی جانب سے جواب ملتا ہے کہ اخراجات بہت بڑھ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’وہ کہتے ہیں کہ بجلی، گیس کی قیمتوں اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے وہ قیمت کم نہیں کر سکتے۔‘
ذیشان نے کہا کہ ڈسٹری بیوٹر کا ایک لیٹر پر منافع ڈھائی سے تین روپے ہوتا ہے۔ ’مارکیٹ میں بہت زیادہ مقابلہ ہے، اس لیے ڈسٹری بیوٹرز تو زیادہ نفع نہیں کما سکتے کہ جس کی بنیاد پر قیمتوں میں کوئی اضافہ ہو سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے زیادہ قیمت کے بعد ریٹیل کی سطح پر بھی زیادہ منافع کمایا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اچھے برانڈز کی قیمتیں تو پیکٹ پر درج ہوتی ہیں تاہم کم معیار کے تیل و گھی کے برانڈز پر ریٹیل سطح پر بہت زیادہ منافع کمایا جاتا ہے۔
پاکستان میں تیل و گھی کی قیمت میں کمی کیوں نہ ہو سکی؟
عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمت دو ہزار ڈالر فی ٹن کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ایک ہزار ڈالر فی ٹن سے بھی کم کی سطح پر آنے کے بعد پاکستانی صارفین ابھی تک کیوں مہنگا تیل و گھی خرید رہے ہیں؟
اس کے بارے میں پاکستان تیل و گھی کی پیداواری کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ’پاکستان ویناسپتی مینوفیکچرز ایسوسی ایشن‘ کے جنرل سیکرٹری عمر اسلام خان نے بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتیں 1800 ڈالر فی ٹن تک جانے کے بعد ہزار ڈالر فی ٹن سے نیچے گر گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت یہ قیمت 1000 سے 1100 ڈالر فی ٹن کے درمیان ہے تاہم پاکستانی صارفین کو اس کا فائدہ نہ ہونے کے بارے میں عمر اسلام نے بتایا کہ پاکستان کے پاس ڈھائی سے تین لاکھ ٹن کا خوردنی تیل کا سٹاک ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ تین مہینے عالمی منڈی میں بڑی غیر یقینی صورتحال رہی۔ ’انڈونیشیا، جہاں سے پاکستان نوے فیصد پام آئل درآمد کرتا ہے، اس نے برآمد پر پابندی لگا دی اور اس وقت جو آرڈر بک کرائے گئے تھے، وہ رک گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمر نے بتایا کہ ’جولائی میں حکومت پاکستان اور تنظیم نے ملک کر انڈونیشیا سے درخواست کی کہ اس پابندی کا خاتمہ کیا جائے۔ پابندی ختم ہونے کے بعد جب یہ آرڈر اگست میں پاکستان پہنچے تو جو ایل سی کھولی گئی، اس کے لیے اس وقت ڈالر کا ریٹ 240 طے کیا گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ 1700 سے 1800 ڈالر فی ٹن کا مال اگست میں پاکستان پہنچا اور اوپر سے ڈالر کی زیادہ قیمت کی وجہ سے درآمدی لاگت بہت زیادہ تھی، جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے کہا کہ ’دوسری جانب داخلی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا اور بجلی و گیس کے قیمتیں بڑھ گئیں۔‘
عمر اسلام نے بتایا کہ تیل و گھی کی انڈسٹری بہت زیادہ توانائی پر انحصار کرتی ہے کیونکہ اس میں ریفائن کا کام ہے اور اس میں بہت زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے جس کی وجہ سے کاروباری لاگت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عمر اسلام نے کمپنیوں کی جانب سے قیمتیں کم نہ کرنے کے گٹھ جوڑ کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’کارٹیلائزیشن کے خلاف پاکستان کا ریگولیٹری نظام ہے اور اگر کوئی ایسا کام ہوتا تو مسابقتی کمیشن آف پاکستان اس کے خلاف ایکشن لیتا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ وزارت صنعت و پیداوار کے پاس خوردنی تیل کی امپورٹ کا پورا ڈیٹا موجود ہوتا ہے تاہم عمر اسلام نے اس توقع کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں اگر ڈالر اسی سطح پر رہتا ہے تو مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
انھوں نے کسی بڑی کمی کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ مخلتف درجوں کے برانڈز کی مختلف قیمتیں ہیں تاہم انھوں نے اس امکان کو بھی مسترد کیا کہ قیمتیں ایک سال پہلے والی سطح پر آ جائیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو توانائی کی لاگت بڑھ گئی ہے تو دوسری جانب حکومت ایک لیٹر پر ایک سو روپے سے زائد ٹیکس لیتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
سوشل میڈیا پر صارفین کا ردعمل
عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی مارکیٹ میں قیمتیں کم نہ ہونے پر سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
کے کے نامی صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ صارفین خوردنی تیل اور گھی کے استعمال کا بائیکاٹ کریں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’پام آئل کی قیمتوں میں 50 فیصد کمی کے باوجود پاکستان میں قیمتیں بلند ترین سطح پر برقرار ہیں۔ منافع خوروں کی بلیک میلنگ کا واحد حل بائیکاٹ۔ حکومت سے توقع مت رکھیں۔‘
اقبال نامی صارف نے لکھا کہ ’خوردنی تیل کی عالمی قیمت دو ہزار ڈالر فی ٹن سے ایک ہزار فی ٹن سے کم ہو گئی لیکن مافیاز کی جانب سے مقامی مارکیٹ میں قیمت کم نہیں کی جا رہی اور ہماری حکومتیں ہمیشہ ان کے خلاف کمزور ثابت ہوئی ہیں۔‘
ذیشان نامی صارف نے لکھا کہ پام آئل کی قیمت 1800 ڈالر فی ٹن سے کم ہو کر 895 ڈالر فی ٹن تک آ گئی ہے مگر پاکستانی صارفین اب بھی 500 روپے فی کلو سے کم یا زائد رقم پر تیل خریدنے پر مجبور ہیں۔
انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’حکومت اپنا کام نہیں کر رہی۔ گھی مل مالکان چینل بنا کر حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں اور ذخیرہ اندوز اگلے پانچ سال کا مال جمع کیے بیٹھا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
اسد ملک نامی صارف نے استفسار کیا کہ گذشتہ دور حکومت میں عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمت 1800ڈالر فی ٹن تھی جس کی وجہ سے پاکستان میں خوردنی تیل کی قیمت 170 سے 550روپے فی کلو ہو گئی۔
انھوں نے لکھا کہ ’اس وقت پام آئل کی قیمت 895 ڈالر ہے لیکن یہاں تیل کی قیمت اب بھی وہی ہے۔ حکومت صارفین تک یہ فائدہ کیوں نہیں پہنچا رہی؟













