زمین پر ’سب سے خالص‘ خوراک کیا گھی ہی ہے

گھی
    • مصنف, عائشہ امتیاز
    • عہدہ, بی بی سی

انڈیا میں کھانوں اور خوراک کے بارے میں لکھنے والے مصنف کلیان کارمارکر ماضی کی جانب لوٹ رہے ہیں۔

وہ آج اپنی پسندیدہ بنگالی ڈشز میں گھی سے لطف اندوز ہوئے۔ اس گھی کو دم کیے چاولوں، جن کے ساتھ فرائی مچھلی بھی پیش کی جاتی ہے، میں شامل کیا۔ اس کے علاوہ پانی میں پکے چاول، ابلے ہوئے آلو اور ابلے ہوئے انڈے بھی تھے۔

کھچڑی، جو کہ چاول اور دال سے بنتی ہے، کو کارماکر بارش کے دنوں کی ڈش سمجھتے ہیں اور گھی کے بغیر اسے نامکمل سمجھتے ہیں لیکن ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا ایسے لوگوں سے تعلق ہے جو کہ اس تاثر کے ساتھ بڑے ہوئے کہ گھی مضرِ صحت ہے اور اب میں اس کو استعمال کر رہا ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ (بنیادی طور پر) زمین پر موجود سب سے بہترین خوراک ہے۔‘

ہزار برس تک برصغیر میں گھی خوراک کا اہم حصہ تھا لیکن پھر چند دہائیاں قبل جب سیچوریٹڈ فیٹس (چربی) کو غیرصحتمند قرار دیا جانے لگا تو یہ غیر معروف ہوتا چلا گیا۔

لیکن حال ہی میں جب دنیا سیچوریٹڈ فیٹ کے متعلق سوچ بدل رہی ہے انڈین بھی اپنے کھانوں کے اہم جزو کے استعمال کی جانب پلٹنے کے لیے راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

کارمارکر کہتے ہیں کہ لوگ خوراک کی جانب زیادہ متوجہ ہوئے ہیں۔ گھی میں دلچسپی ’اپنے اصل کی جانب لوٹنے‘ کی مہم تو انڈیا میں برسوں سے چل رہی تھی لیکن کورونا کی وبا کے دوران اس میں تیزی آئی۔

کارمارکر وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تحریک ’سلو فوڈ‘ کی جانب بڑھنے کے رحجان کا حصہ ہے۔

اس تحریک کے فلسفے کے تحت گھی کو مقامی طور پر حتیٰ کہ گھر میں بھی بنایا جا سکتا ہے اور اس کا ثقافتی طور پر ناقابل تسخیر ناطہ ہے۔

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے شہر سورت میں گِر اورگینک ایک ڈیری فارم ہے جہاں گھی بنایا جاتا ہے۔ اس کے شریک بانی نیتن آہر کو گھی بنانا بہت پسند ہے۔

غیر ملکی نسل کی گائے مثلاً جرسی، ہولسٹ اور فرائسین کو دیگر کاروبار کرنے والوں کی مانند درآمد کرنے کے بجائے انھوں نے گِر گائے پالی ہوئی ہیں۔ یہ گائے کی ایک نسل ہے جس کا آبائی علاقہ گِر کے پہاڑ اور جنگلات ہیں جو کاٹھیاوار میں موجود ہیں۔

نیتن اپنے فارم میں موجود جانوروں کو کھلے عام چرنے دیتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کا دودھ دھونے سے پہلے بچھڑوں کو اپنی ماؤں کے دودھ میں سے اپنا حق لینے دیا جائے۔

وہ اے 2 گھی، جو گھی کی ایک ایسی قسم ہے جسے غذائیت کے اعتبار سے زیادہ بہتر تصور کیا جاتا ہے، بیلونا میتھڈ کے ذریعے بناتے ہیں۔

اس طریقہ کار میں ایک چھوٹی سی مشین، جو کہ موٹر سے کلاک وائز اور اینٹی کلاک وائز چلتی ہے، روایتی طریقے سے ہاتھ سے چلائی جانے والی متھانی یا بلونی کی نقل ہے۔

نیتن مانتے ہیں کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس پر بہت زیادہ لاگت نہیں آتی اور زیادہ پیمانے پر پیداوار میں رکاوٹ نہیں۔

یہی نہیں، ان کا اندازہ ہے کہ جب سے کورونا کی وبا کا آغاز ہوا ہے تب سے اب تک گھی کی مانگ میں 25 سے 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بنیادی سطح پر تو گھی مکھن کی صاف شدہ حالت سمجھی جاتی ہے۔ یہ طریقہ پہلے انڈیا میں اپنایا گیا تاکہ مکھن کو گرم موسم میں خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔

مکھن کو ہلکی آنچ پر ابالا جاتا ہے یہاں تک کہ اس میں سے نمی بخارات کی شکل میں اڑ جائے اور ٹھوس حالت میں موجود دودھ جو بھورے رنگ میں دکھائی دیتا ہے کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھرپور طور پر خوشبودار چکنائی بنتی ہے۔

Meenakshi Vashistha/Alamy

،تصویر کا ذریعہMeenakshi Vashistha/Alamy

،تصویر کا کیپشنکاٹھیاوار میں گِر کے پہاڑوں میں گِر نامی نسل کی گائے ہوتی ہے

لیکن بہت سے انڈینز کے لیے گھی تاریخی طور پر کھانا پکانے سے زیادہ مقدس چیز ہے۔

مصنف پریتھا سِن کا کہنا ہے کہ گھی دودھ کی سب سے خالص شکل ہے- یعنی آخر میں نکلنے والی چیز۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ خالص ترین سمجھا جاتا ہے جو خداؤں کو پیش کیا جاتا ہے اور یہ وہ ذریعہ ہے جس کی مدد سے دعاؤں کو جنتوں میں بھجوایا جاتا ہے۔‘

شکاگو میں موجو کولین ٹیلر سِن نے ضیافت اور روزے کی تاریخ پر ’فیسٹ اینڈ فاسٹ: اے ہسٹری آف فوڈ اِن انڈیا‘ کے نام سے کتاب لکھی ہے۔ انھوں نے گھی کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی تاریخ ہزار برس پرانی ہے۔

’گھی کی تعریف رِگ ویدا میں ملتی ہے جو کہ تقریباً چار ہزار سال پرانی دعاؤں اور بھجن پر مشتمل ہے۔‘

پراجاپتی کا کہنا ہے کہ ’مخلوقات کے خدا نے اپنے ہاتھوں کو رگڑا اور پہلی بار گھی بنا، جسے اس نے اپنے بچوں کی تخلیق کے لیےشعلوں میں ٹپکا دیا۔‘

انڈین ثقافت سے گھی کا بہت گہرا تعلق ہے۔ روایتی طور پر ہندو مذہب کے پیروکار شادی کی رسم، موت اور دیگر رسومات میں آگ لگانے کے بعد گھی کے استعمال کو مبارک سمجھتے ہیں۔

Traditionally, Hindus pour ghee into fire at marriages, funerals and other ceremonies : )

،تصویر کا ذریعہrvimages/Getty Images

،تصویر کا کیپشنہندو شادی، موت کے بعد آخری رسومات اور دیگر رسومات میں آگ میں گھی کا استعمال کرتے ہیں

امریکہ میں مقیم مصنفہ سندیپہ مکھر جی دتا بونگ مامز کک بُک کے نام سے بلاگ لکھتی ہیں۔ اپنے بچوں کو جب چکنائی دینے کا وقت آیا تو انھوں نے گھی کا چناؤ بلا ججھک کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’نئی ہڈیوں کو اور دماغ کی نشونما اور وٹامن کی فراہمی کے لیے یہ اچھی چکنائی ہے۔‘

ان کی والدہ ان سے بھی ایک قدم آگے ہیں جو کہ اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ گھر کا بنا گھی ہی استعمال کریں۔

دتا کہتی ہیں ’وہ چھوٹے مرتبانوں میں گھی بناتیں اور پھر جو بھی اٹلانٹک جا رہا ہوتا تھا وہ اس کے ہاتھ اسے اپنے نواسے نواسیوں کے لیے بھجواتی تھیں۔‘

’وہ گھی بالکل خالص ہوتا تھا اور اس کا ذائقہ ایسے تھا جیسے وہ جنت سے آیا ہوا تحفہ ہو۔‘

دتا کہتی ہیں کہ گھی صرف کھانا بنانے یا خوراک کو فرائی کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ آج کل کے فینسی اناج اور دلیے کی آمد سے پہلے ہر بنگالی بچہ صبح سکول جاتے ہوئے ناشتے میں گھی آلو شیدو بھات (گھی-ابلا ہوئے آلو-چاول) کا ناشتہ کرتا تھا۔

وہ وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ غیر سرکاری طور پر بنگال میں ریاستی خوراک ہے۔

’ان دنوں جب کاربو ہائیڈریٹس اور چکنائی کی بری شہرت نہیں تھی مائیں یہ محسوس کرتی تھیں کہ یہی ڈش دن بھر ان کے بچوں کے لیے قوت بخش غذا ہے۔‘

یہ بری شہرت ان دعووں کی وجہ سے ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ سیچوریٹڈ چکنائیاں دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں- گھی میں 50 سے 70 فیصد تک سیچوریٹڈ چکنائی ہوتی ہے۔

کچھ دہائیوں تک انڈیا میں گھی کا استعمال کم ہو گیا۔

سنہ 1980 کی دہائی میں صنعتوں نے ویجیٹیبل آئل کو پروموٹ کیا اور پھر جب اس کا استعمال بڑھا تو گھی کا استعمال کم ہو گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’شہری اور مغرب سے متاثر آبادیوں نے روایتی تیل کو کم تر جانا اور وہ ویجیٹیبل آئل استعمال کرنے لگے۔‘

پھر گزرتے وقت کے ساتھ بغیر ذائقے کے ریفائن یا صاف تیل کا استعمال دستور بن گیا اور گھی کا استعمال غیر معمولی ہو گیا۔

رنور برار ایک مصنف ہیں اور وہ ماسٹر شیف انڈیا کے جج ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ایک ریسٹورنٹ بھی چلاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1980 کی دہائی کے بعد چکنائی پر بات چیت لبریز چربی کو ولن بنانے کے لیے تھی، خوش قسمتی سے ہم اب بہتر طور پر جانتے ہیں کہ چکنائی اور کولیسٹرول کی کیا جگہ ہے۔

ماہرین اب بھی یہ مشورہ دیتے ہیں کہ زیادہ چکنائی والی خوراک نہ کھائی جائے، لیکن کچھ نے لبریز چربی سے متعلق خطرات کے حوالے سے اپنے موقف میں نرمی اپنانی شروع کی ہے۔

مزید پڑھیے

کیٹو ڈائٹ جس میں ہائی فیٹ یعنی زیادہ چکنائی کا استعمال ہوتا ہے، کی وجہ سے بھی امریکہ جیسے ممالک میں گھی کی شہرت بڑھی ہے۔

لیکن مغرب کی گھی میں دلچسپی پر شاید وہاں کے لوگوں کی درست رہنمائی نہیں کی گئی۔

برار کہتے ہیں کہ گھی میں کھانا پکانے کا مقصدیہ نہیں کہ یہ اتنا گرم ہو جائے کہ اس کا درجہ حرارت سموکنگ ٹمپریچر تک پہنچ جائے یعنی جس کے بعد یہ جلنے لگے بلکہ اس کا مقصد فقط اس پوائنٹ تک جانا ہے جب اس کا ذائقہ نکلنے لگے۔

According to chef Ranveer Brar, ghee pairs well with dishes that have pronounced lactic notes like korma (Credit: StockSolutions/Getty Images)

،تصویر کا ذریعہCredit: StockSolutions/Getty Images

،تصویر کا کیپشنشیف رنویر برار کا کہنا ہے کہ گھی ان کھانوں میں بہتر ہوتا ہے جو قورمے جیسے ہوں

مزید یہ کہ انڈیا میں گھی کو بہت زیادہ مقدار میں فوری حل یا پھر کارب کو کم رکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ بلکہ روایتی طور پر گھی کے لیے نقطہ نظر میں سے ایک جدت، ہم آہنگی اور گریس ہے۔

یہاں زرد چکنائی جسے فقط کافی میں نہیں شامل کیا جاتا بلکہ یہ کھانوں کے اوپر بھی فائنل ٹچ میں ڈالا جاتا ہے، گرم کرنے پر یہ سنہری رنگ کا مائع دکھائی دیتا ہے جسے کھایا جا سکتا ہے۔

تو پھر گھی کا بہترین استعمال کیسے کیا جاتا ہے؟ برار یہ تجویز دیتے ہیں کہ گھی کو دالوں یا پھر ایسے کھانوں جن میں دہی کا استعمال ہو جیسے قورمہ وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

سردیوں میں سوپ پر، اپنی روٹی/ بریڈ پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ اسے میرینیٹ کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں، یہ پھر آپ جو بھی چیز کھاتے ہیں اس کا اہم جزو بن جاتا ہے۔

شیف منیش مہروٹرا انڈین ایکسینٹ ریسٹورنٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں جب وہ مینیو سیٹ کر رہے تھے تو ان کے لیے اہم یہ تھا کہ گھی کے منفرد ذائقے کو بھی جگہ دیں۔ وہ پر اعتماد ہیں کہ دنیا ان کے ملک کے کھانوں کو سمجھ رہی ہیں اور اس کے مستند ذائقے کو پہچانتی ہے۔

گھی میں ان کے ریسٹورنٹ پر جو ڈشز بنائی جاتی ہیں ان میں گھی روسٹ مٹن بوٹی بھی شامل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ گھی اس ڈش کو سموکی-سویٹ ذائقہ دیتا ہے، یہ ہماری سب سے زیادہ بکنے والی ڈشز میں شامل ہے۔

Ghee is an ingredient that's integral to Indian cuisine (Credit: Rajdeep Ghosh/Getty Images)

،تصویر کا ذریعہ Rajdeep Ghosh/Getty Images

،تصویر کا کیپشنگھی انڈین کھانوں کا لازمی جزو ہے

شیف نیکیتا جو کہ ممبئی کے ایک ریسٹورنٹ سے منسلک ہیں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ کھانے میں ہر چیز کا مخصوص ذائقہ محسوس کرنا چاہیے۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ کیسے گھی کو استعمال کرنے سے یہ دیگر اجزا میں جذب ہوتا ہے اور کیسے انھیں گنگنانے دیتا ہے یعنی ان کی قدرتی خاصیت بھی برقرار رہتی ہے۔

ان کا بنایا مارننگ گلوری سلاد جس پر املی سے ڈریسنگ کی جاتی ہے اور اوپر گھر میں بنی کریم اور گھی کو مکس کر کے ڈالا جاتا ہے اس کے علاوہ کری پتے اور ریشم پتی مرچ ڈالی جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں پورے سلاد میں گھی تو 10 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے لیکن لوگ بلاشبہ اسے بہت پسند کرتے ہیں، گائے کے دودھ، مکھن سے بنا یہ گھی پوری ڈش کی خاصیت ہے۔

گھی کو سمجھنے کا مطلب مجموعی طور پر انڈین تشخص کو سمجھنا ہے، خوراک کے لیے یہ نقطہ نظر ہم آہنگ، پورا اور متوازن ہے، جہاں گھی نہ تو بہت کم ہے اور نہ ہی بہت زیادہ۔ اور جب گھی کو اس کے اصل معنوں میں سمجھ لیا گیا تو اچھی چیزیں تو ضروری طور پر اپنائی جاتی ہیں۔

بریئر کا کہنا ہے کہ ان کے چولہے کے پاس ایک بازو کے فاصلے پر ہی گھی موجود ہوتا ہے۔

’میں چنئی میں اپنی دادی اماں کے زیر سایہ پلا بڑھا اور پورے گھر میں گھی کی خوشبو ہوتی تھی۔ جب میں گھی لیتا ہوں تو میں اس میں سے چربی/ چکنائی سے زیادہ کی تلاش میں ہوتا ہے، اس سے میں اپنے بچپن میں جا رہا ہوں۔‘