دریائے سوات میں لوگوں اور لاشوں کو نکالنے والے محمد ہلال: ’جب کوئی ڈوبتا ہے تو سمجھتا ہوں کہ یہ میرا بھائی، بیٹا یا بہن ہے‘

- مصنف, بلال احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
’جب کوئی ڈوبتا ہے تو میں سمجھتا ہوں یہ میرا بھائی، بیٹا یا بہن ہے۔ جب تک ڈھونڈ نہ لوں دل کو سکون نہیں آتا اور رات دن دریا کے کنارے ڈیرے ڈالے رہتا ہوں۔‘
یہ کہنا ہے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے محمد ہلال کا، جو گزشتہ 35 برس سے دریائے سوات میں ڈوبنے والے افراد کو نکالتے ہیں۔
ان 35 برس میں ہلال نے لگ بھگ چار سو افراد کی لاشیں دریا سے نکالی ہیں اور پچاس کے قریب افراد کو ریسکیو کیا۔ رواں ماہ اگست میں انھوں نے پانچ لاشیں نکالیں، جن میں بچے بھی شامل تھے۔
پورے سوات میں جہاں بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو مقامی لوگ ہلال سے رابطہ کرتے ہیں اور کالام سے لے کر بٹ خیلہ تک لوگ انھیں مدد کے لیے بلاتے ہیں۔
ہلال یہ کام بغیر کسی معاوضے کے کرتے ہیں اور اس کے لیے انھوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کشتی بنا رکھی ہے، جس میں ٹریکٹر کے ٹائر کی ٹیوبز اور لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔
اس کام کے لیے ہلال کے بھائی، بیٹے اور چند دوست بھی ان کی معاونت کرتے ہیں۔ ہلال اپنی اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی حفاظت کے لیے لائف جیکٹس اور ایک سٹریچر بھی ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں۔

’کئی بار مرتے مرتے بچے‘
محمد ہلال نے بتایا کہ اس کام میں مشکلات بہت ہیں۔ ’جیسے ہماری گاڑی کا کرایہ، کشتی کے اخراجات وغیرہ۔ جب کوئی ڈوبتا ہے تو اوپر کے علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔ موسم اور دریا کا بھی پتا نہیں چلتا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’کئی بار ہم مرتے مرتے بچے۔ چند ماہ پہلے کی بات ہے ہم باغ ڈھیرئی گئے تھے تو اس دن بہت طوفان تھا۔ ہماری کشتی الٹ گئی اور ہم دریا میں گر گئے۔ ساتھ میرا بیٹا تھا لیکن آگے میرے بھائی تھے تو انھوں نے میرے بیٹے کو بچا لیا ورنہ آج وہ نہ ہوتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد ہلال نے مزید بتایا کہ ’جب کوئی کسی کے ڈوبنے کی اطلاع دیتا ہے تو میں گھر سے نکلتے وقت کفن کے طور پر لازمی کوئی چادر یا کپڑا ساتھ رکھتا ہوں کیونکہ ڈیڈ باڈی کے جسم پر اکثر کپڑے نہیں ہوتے۔‘
’ہم لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ دریا سے دور رہا کریں کیونکہ کچھ پتا نہیں کس جگہ پانی گہرا ہو۔ ہم اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے لاشیں ڈھونڈتے ہیں۔ پچھلے ہفتے اپر سوات مدین سے تعلق رکھنے والے ایک بچے کی لاش چودہ دن بعد ملی جس کو دس دن ہم مسلسل ڈھونڈتے رہے تھے۔‘

’انتظامیہ تعاون نہیں کرتی‘
محمد ہلال نے بتایا کہ پانی سے لاش نکالنے کے بعد جب وہ اسے تھانے یا ہسپتال لے کر جاتے ہیں تو کوئی اس کے قریب نہیں جاتا کیونکہ اکثر لاشیں گل سڑ جاتی ہیں، جس سے تعفن اٹھ رہا ہوتا ہے۔
’اس وقت بھی ہسپتال میں ہم ہی اس کو ابتدائی پٹی وغیرہ کرتے ہیں جبکہ پولیس بے جا سوال کرتی ہے کہ اس کے خاندان والوں کو ڈھونڈو۔ اب یہ تو ہمارا کام نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
’اللہ سسٹم ٹھیک چلا رہا ہے‘
محمد ہلال کا کہنا ہے کہ انھیں اس کام کے لیے کئی کئی دن گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے لیکن ان کا ماننا ہے کہ اللہ نے شاید انھیں اسی کام کے لیے بنایا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’گھر اور خاندان والوں سے باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ مہنگائی ہے، اپنے گھر کی طرف دھیان دو لیکن مجھے شاید اللہ نے اسی کام کے لیے ہی بنایا ہے۔ جس طرح میں نے اپنے والد کا مشن جاری رکھا، اسی طرح میرے بیٹے اس مشن کو جاری رکھیں گے۔ مشکلات تو ہیں مگر اللہ سسٹم ٹھیک چلا رہا ہے۔‘

جب پہلی بار والد کے ساتھ دریا میں گیا
محمد ہلال نے بتایا کہ وہ آٹھ برس کے تھے جب پہلی بار وہ اپنے والد کے ساتھ دریا میں ڈوبنے والے ایک فرد کی تلاش میں نکلے۔
’مجھے یاد ہے کہ رات کا وقت تھا۔ میں شدید سہما ہوا تھا کہ اس وقت ایک لاش نکال کر مجھے اس کے پاس بٹھا دیا گیا لیکن بس وہ رات تھی جو مشکل سے گزری اس کے بعد وہ دن اور آج کا دن ہے، کبھی ڈر نہیں لگا بلکہ ڈوبنے والے اپنی فیملی کی طرح لگتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو کا محکمہ تو چھ سال قبل سوات میں قائم ہوا اور اس سے پہلے کوئی سرکاری انتظام نہیں تھا۔
ریسکیو 1122 سوات کے مطابق سنہ 2016 سے اس برس اگست تک سوات میں 311 افراد پانی کی بے رحم موجوں کی نظر ہوئے جن میں سے 250 افراد کی لاشیں جبکہ 41 افراد کو زندہ ریسکیو کیا گیا۔
محمد ہلال نے بتایا کہ ’ابھی بھی لوگ ہمیں ہی کال کرتے ہیں۔ ہر گاؤں کے پاس ہمارے نمبر ہیں۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ریسکیو والے آگئے ہیں تو ہم تلاش ختم کر دیں بلکہ ہم اس وقت تک تلاش جاری رکھتے ہیں جب تک ریسکیو والوں کو یا ہمیں زندہ شخص یا لاش مل نہیں جاتی۔‘










