پانچ بیٹیوں کی پیدائش پر طلاق: ’اب اتنا پر اعتماد اور مضبوط محسوس کرتی ہوں کہ اپنی بیٹیوں کی پرورش خود کر سکتی ہوں‘

آمنہ نذیر
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، رحیم یار خان

آمنہ نذیر کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ وہ آج تک پردے کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں۔ انھیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کوئی کام تلاش کرنا ہے تو کیسے کرنا ہو گا اور ان کی سب سے چھوٹی بیٹی کو پیدا ہوئے ابھی صرف بیس دن گزرے تھے۔

ان کی بیٹی ہسپتال میں پیدا ہوئی تھیں اور آمنہ ابھی خود زچگی کے بعد کی تکلیفوں سے باہر نہیں نکلی تھیں لیکن گھر میں کھانے کو بہت کم رہ گیا تھا۔ بچوں کو کئی وقت بھوکا رہنا پڑ رہا تھا۔ آنے والے دنوں میں بات مکمل فاقوں تک آ سکتی تھی۔ گھر کا کرایہ بھی سر پر تھا۔ آمنہ کو جلد کوئی فیصلہ لینا تھا۔

اس سے قبل ان کے والدین اور بھائی ان کی مدد کیا کرتے تھے لیکن کچھ عرصہ قبل ان کی والدہ کی وفات ہو گئی اور بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں۔ وہ اب بھائیوں کے پاس مدد کے لیے جانا بھی نہیں چاہتی تھیں۔

ان کی بڑی دو بیٹیوں نے بھی ان سے کہا کہ ’ہم اب کسی کے پاس مانگنے کے لیے نہیں جائیں گے‘ لیکن آمنہ بغیر پردے کے کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں اور کام کرنے کی غرض سے تو کبھی نہیں گئیں تھیں۔ انھیں نہیں معلوم تھا کہ کیا کام اور کیسے کیا جا سکتا ہے۔

بڑی دو بیٹیوں کے مشورے سے انھوں نے کھانا پکا کر بیچنے کا سوچا لیکن ان کے پاس پیسے بہت کم تھے اور یہ خیال بھی تھا کہ اگر کام نہ چلا تو کیا ہو گا؟ لیکن آمنہ نے ہمت کی اور گھر سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے چہرے کو انھوں نے چادر سے ڈھانپ لیا۔

آمنہ نے کچھ چاول خریدے، ایک دیگچہ بھر کر بریانی بنائی اور ایک بینچ اٹھا کر رحیم یار خان شہر کے مضافات میں ایئرپورٹ روڈ پر جا کر بیچنے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ زچگی کا درد ابھی پوری طرح گیا نہیں تھا اور ان کے لیے زیادہ دیر کھڑے رہنا انتہائی تکلیف دہ تھا۔

بیس دن کی چھوٹی بیٹی فاطمہ کو فیڈر میں دودھ دے کر وہ بڑی بیٹیوں کے حوالے کر آئیں۔ دس سالہ بیٹی فضا ان کی مدد کے لیے ان کے ساتھ آ گئی۔

ایئرپورٹ روڈ پر موٹر سائیکلوں اور رکشے والوں کی آمدورفت بھی ہوتی ہے۔ یہی لوگ زیادہ تر آمنہ سے بریانی خریدنے کے لیے رکنے لگے لیکن تھوڑی ہی دیر بعد آمنہ کو گھر کی طرف بھاگنا پڑا کیونکہ فاطمہ مسلسل رو رہی تھی۔ اسے پنگھوڑے میں ڈال کر، سلا کر پھر آمنہ واپس لگ بھگ دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اپنے بریانی کے سٹال پر پہنچ گئیں۔

اس بات کو اب ڈیڑھ برس ہو چلا ہے۔ اسی مقام پر آج آمنہ بریانی کی ایک ریڑھی لگاتی ہیں اور ساتھ ہی دو تین بینچ پڑے ہیں جن پر بیٹھ کر لوگ ان سے بریانی خرید کر کھاتے ہیں۔ ان کے پاس لنچ باکس بھی ہیں جن میں وہ بریانی پیک کر کے بھی دے دیتی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آمنہ نے اس وقت کو یاد کیا جب انھوں نے اس کام کا آغاز کیا تھا تو وہ اپنے آنسو نہیں روک پائیں۔

’میری بیٹی صرف بیس دن کی تھی جب میں یہاں کھڑی ہو کر بریانی بیچ رہی تھی۔ میں سخت تکلیف میں تھی، میرے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا لیکن میرے سامنے صرف میری بچیوں کے چہرے تھے۔‘

چند لمحات کے توقف اور آنسو روکنے کی کوشش کے بعد وہ دوبارہ بولیں تو باقاعدہ زار و قطار رونے لگیں۔

’میں بیٹی کو فیڈر دے کر آتی لیکن وہ پھر بھی چپ نہیں کرتی تھی۔ اس کی ایک آنکھ خراب تھی لیکن میرے پاس دوا کے پیسے نہیں تھے۔ بھاگ کر جاتی اس کو جھولے میں ڈال کر سلاتی اور پھر واپس بھاگتی۔ خود مجھ سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا لیکن میں نے اپنی بیٹیوں کے لیے یہ سب کچھ کیا۔‘

آمنہ نذیر

آمنہ کو یہ سب کیوں کرنا پڑا؟

آمنہ نذیر کی سب سے چھوٹی اور پانچویں بیٹی فاطمہ جب پیدا ہوئیں تو ان کے شوہر گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ انھیں جب معلوم ہوا تھا کہ ان کی بیٹی پیدا ہوئی ہے تو وہ اسے دیکھنے یا آمنہ کی خیریت دریافت کرنے ہسپتال بھی نہیں گئے۔

آمنہ اپنی سب سے بڑی بیٹی جن کی عمر لگ بھگ 16 برس تھی ان کے ساتھ ہسپتال سے واپس گھر آئیں۔

’وہ گھر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے ایک مرتبہ بھی بیٹی کی طرف نہیں دیکھا۔ میں نے اسے کہا بھی کہ کیا ہوا اگر بیٹی ہوئی ہے اسے دیکھ تو لو لیکن اس نے نہیں دیکھا۔‘

اور پھر وہ چند دن کی فاطمہ، چار بیٹیوں اور آمنہ کو چھوڑ کر گھر سے چلے گئے۔ اس کے بعد نورے والی کے اس علاقے میں ایک کرائے کے مکان میں آمنہ اور ان کی پانچ بیٹیوں کے پاس کوئی کمانے والا نہیں تھا۔

اس وقت کو یاد کر کے آمنہ ایک مرتبہ پھر آبدیدہ ہو گئیں۔ ’میری تو خیر ہے لیکن اپنی چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کو چھوڑ کر چلا گیا وہ۔ میں نے کہا میں تو رہ لوں گی لیکن میری بیٹیاں جس طرح رو رو کر زندگی گزار رہی ہیں وہ مجھ سے نہیں دیکھا جاتا۔‘

آمنہ کو یاد ہے جب بیٹیاں ان سے کہتی تھیں کہ ’امی بھوک لگی ہے پاپا کب آئیں گے‘ تو وہ انھیں یہ کہہ کر دلاسہ دیتی تھیں کہ ’صبر کرو ابھی آ جائیں گے تھوڑی دیر میں۔‘

’میرے شوہر کو بیٹے چاہیے تھے‘

آمنہ نذیر کی شادی لگ بھگ پندرہ برس قبل ان کے والدین کی مرضی سے ہوئی۔ وہ دونوں اس سے قبل ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ ان کے شوہر عمر میں ان سے تین چار سال بڑے تھے۔ پہلی بیٹی کی پیدائش ہی سے ان کی زندگی مشکلات کا شکار ہونے لگی۔

’انھیں (شوہر) بیٹا چاہیے تھا۔ میرے دیور کے گھر بیٹے تھے اور میرے گھر بیٹیاں ہو رہی تھیں، میرے شوہر کو یہ نہیں چاہیے تھا، انھیں تو صرف بیٹا چاہیے تھا۔‘

وہ کہتی ہیں ان کے شوہر نے کسی ایک بیٹی کو بھی نہیں اپنایا۔ ’اس نے بیٹیوں کو کبھی پیار نہیں کیا۔ بات بات پر مجھ سے جھگڑا کرتا اور مجھے مارتا تھا۔ مجھے خرچہ بھی نہیں دیتا تھا۔‘

آمنہ نذیر

آمنہ بتاتی ہیں کہ انھیں کئی مرتبہ اپنے والدین کے گھر چلے جانا پڑتا تھا۔ گھر والے انھیں سمجھا کر واپس بھیج دیتے تھے کہ تمہارا گھر تو بس رہا ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا۔

لیکن ان کے لیے کچھ ٹھیک نہیں ہوا۔ ’میں اگر کہتی تھی کہ کیا بات ہے اگر ہماری بیٹیاں ہیں، ہم ان کی پرورش کریں گے اور اپنا گھر بسائیں گے، تو وہ کہتا تھا گھر بسانے کی بات مت کرو۔ مجھے ایسے مارتا تھا جیسے میں اس کی بیوی نہیں کوئی نوکرانی ہوں۔‘

آمنہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے ایک مرتبہ اپنے شوہر سے کہا کہ کوئی بات نہیں میں اپنی بیٹیوں کی خود پرورش کر لوں گی تو انھوں نے کہا کہ ’تم کیا کرو گی، تم میرے بغیر کچھ نہیں ہو۔‘

پھر وہ دن آیا جب ان کے شوہر گھر چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے گھر چلے گئے اور مڑ کر نہیں آئے۔ چند دن کے بعد انھوں نے آمنہ نذیر کو طلاق دے دی۔

یہ بھی پڑھیے

’ایسا لگا خودکشی کر لوں‘

آمنہ نذیر جہاں سٹال لگاتی ہیں اس کے قریب ہی فرنیچر بنانے والوں کی ورک شاپس اور سڑک کے دوسری طرف ریل کی پٹری تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد وہاں سے ٹرین گزرتی تھی۔

پٹری کی دوسری جانب تھوڑے فاصلے پر وہ آبادی ہے جس میں آمنہ کا مکان ہے۔ وہ روز صبح سویرے بریانی کی ریڑھی لے کر وہاں سے نکلتی ہیں۔ ان کا مکان سڑک سے قدرے نیچے ڈھلوان پر واقع ہے اس لیے انھیں ریڑھی کو دھکا لگا کر اوپر لانا پڑتا ہے۔ ان کی بیٹیاں اس میں ان کی مدد کرتی ہیں۔

وہ شہر سے باہر نکل کر قدرے مضافات میں اس لیے ریڑھی لگاتی ہیں کہ لوگوں کی باتیں نہ سننی پڑیں۔

’وہ آمنہ کھڑی ہے، کیوں کھڑی ہے، کیا کر رہی ہے اور طلاق یافتہ جیسے الفاظ سن سن کے میرے کان پک چکے تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جب ان کے شوہر نے انھیں طلاق دی تو ایک مرتبہ انھیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ ان کے ساتھ کیا ہو گیا اور اب آگے گیا ہو گا۔ وہ صرف روتی رہتی تھیں۔

وہ اب بھی رو رہی تھیں۔ ’ایک دفعہ مجھے لگا کہ میں خودکشی کر لوں اور اپنی بیٹیوں کو بھی ختم کر دوں۔‘

آمنہ نے آنسو روک کر دوبارہ بولنے کی کوشش کی ’لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے سوچا چھ چھ جانیں چلی جائیں گی اور اس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود کو مضبوط کروں گی، اتنا مضبوط کہ میری بیٹیاں مجھ پر فخر کر سکیں۔‘

یہ فیصلہ کر لینے کے بعد آمنہ سمجھتی ہیں انھیں محسوس ہوا کہ وہ در حقیقت طلاق لے کر ’عذاب کی اس زندگی‘ سے نکلنا چاہتی تھیں۔

آمنہ نذیر

’زندگی جہنم بن چکی تھی‘

ریڑھی پر کھڑے بریانی لینے آنے والوں کو لنچ باکس میں چاول ڈال کر دیتے ہوئے آمنہ نے بتایا کہ ان کے والدین نے ان کے شوہر کو رکشہ بھی لے کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ آمنہ اور بچوں کو گھر کا خرچ نہیں دیتے تھے۔

آمنہ کو گھر کے کرائے کے لیے بھی پیسے اپنے والدین اور بھائیوں سے مانگ کر لانے پڑتے تھے۔ ’بیٹیوں کے کپڑے تک میرے ماں باپ لے کر دیتے تھے۔ اس (شوہر) کو یہ تک نہیں پتا ہوتا تھا کہ اس کی بیٹی نے جو کپڑے پہنے ہیں وہ کہاں سے آئے۔‘

آمنہ کو لگتا ہے کہ ان کی ’زندگی جہنم بن چکی تھی۔‘ ان کے سابق شوہر نے نہ تو بیٹیوں کی تعلیم اور نہ ہی ان کی پرورش پر کوئی توجہ دی۔ اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے آمنہ کو پہلے ماں باپ اور پھر بھائیوں کے پاس جانا پڑتا تھا۔

’بھائی میری مدد کر دیتے تھے مگر وہ اس کو نہیں سمجھاتے تھے کہ وہ میرے ساتھ ایسا نہ کرے اور اپنا گھر بسائے۔ وہ کہتے تھے آمنہ تم بس رہی ہو، صبر کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘ پھر ان کی والدہ کی وفات ہو گئی اور بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں۔

اب آمنہ کو بھائیوں کے گھر جا کر ان سے مدد مانگنا اچھا نہیں لگتا تھا لیکن ان کے شوہر کا رویہ ویسا ہی تھا۔ وہ اب بھی انھیں خرچ نہیں دے دیتے تھے۔ ’اب مجھے لگتا ہے کہ میں شاید طلاق لینا چاہتی تھی۔ بہت مشکل ہو گیا تھا میرے لیے یہ سب برداشت کرنا۔‘

’میں نہیں چاہتی میری بیٹیاں بھی اس اذیت سے گزریں‘

آمنہ جیسی پردہ کرنے والی خاتون کے لیے کمانے کی غرض سے گھر سے باہر نکلنا مشکل تھا لیکن جب ان کا بریانی کا کام چل نکلا تو ان کو اعتماد ملا۔ وہ کہتی ہیں انھیں لگا کہ وہ پردے کے ساتھ بھی ہر وہ کام کر سکتی تھیں جو مرد کرتے ہیں۔

وہ صبح سویرے جاگتی ہیں اور بریانی تیار کرتی ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے بچوں کو ناشتہ تیار کر کے دیتی ہیں اور گھر سے ریڑھی لے کر نکل جاتی ہیں۔ سب سے بڑی بیٹی کا انھوں نے کچھ عرصہ قبل ایک رشتہ دیکھ کر سادگی سے نکاح کر دیا۔

اس سے چھوٹی بیٹی گھر کے لیے کھانا وغیرہ تیار کر لیتی ہیں۔ آمنہ تین بجے تک بریانی بیچ کر فارغ ہو جاتی ہیں۔ ان کی درمیانی دس سال کی بیٹی فضا سائیکل پر انھیں گھر سے ضرورت کا سامان لا دیتی ہیں۔

’میں نے اس بیٹی کو بھی سائیکل سکھائی ہے۔ کوئی چیز ختم ہو جائے جیسے شاپر وغیرہ تو یہ مجھے سائیکل پر لا دیتی ہے۔ اس سے بڑی کو موٹر سائیکل سکھا رہی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹیاں بھی مجبوری کی اس اذیت سے گزریں جس سے میں گزری ہوں۔‘

آمنہ خود بھی موٹر سائیکل چلاتی ہیں۔ وہ سارا دن کام کر کے تھک جاتی تھیں تو کچھ عرصہ قبل انھوں نے خود سے موٹر سائیکل چلانا سیکھی اور بریانی ہی کی کمائی سے ایک استعمال شدہ موٹر سائیکل خرید لی۔

اس پر وہ شام میں بریانی کا سامان لینے جاتی ہیں۔ کسی بیٹی کو ہسپتال وغیرہ لے کر جانا ہو تو بھی موٹر سائیکل ان کے کام آتی ہے۔

’میں چاہتی ہوں میری بیٹیوں کے ساتھ میرا شناختی کارڈ بن جائے‘

آمنہ نذیر کی بیٹیاں سکول جا کر تعلیم حاصل نہیں کر پائیں اور انھیں اس بات کا احساس ہے۔ وہ بڑی بیٹیوں کو تو نہیں پڑھا سکیں لیکن وہ چھوٹی بیٹیوں کو گھر پر ٹیوشن کے ذریعے تعلیم دلوا رہی ہیں۔

’ان کا سکول میں داخلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے باپ نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔ نہ تو ان کا فارم ب بنوایا اور نہ ہی کوئی اور شناختی دستاویزات ہیں جن کی مدد سے ان کو سکول میں داخلہ مل جائے۔‘

آمنہ چاہتی ہیں کہ اگر حکومت ان کی مدد کرے اور ان کی بیٹیوں کی شناخت ان کے نام کے ساتھ کر کے انھیں شناختی کارڈ وغیرہ دے دیا جائے تو ان کی بیٹیاں سکول جا کر تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔

’میں چاہتی ہوں یہ کچھ پڑھ لکھ کر کل کو اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ انھیں اس عذاب سے نہ گزرنا پڑے جس سے میں گزری ہوں۔‘

بریانی بیچنے سے انھیں اتنے پیسے مل جاتے ہیں کہ وہ گزر بسر کر سکیں۔ بس انھیں لگتا ہے کہ اگر انھیں اپنا گھر مل جائے اور کرائے کے گھر سے ان کو نجات مل جائے تو ان کی زندگی زیادہ آسان ہو جائے گی۔

آمنہ کہتی ہیں کہ وہ اب خود کو اتنا پر اعتماد اور مضبوط محسوس کرتی ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کی خود پرورش کر سکتی ہیں۔

’میری بیٹیاں بھی کہتی ہیں کہ ہماری مما اب مضبوط ہو گئی ہیں۔‘