آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان میں بارشیں اور سیلابی ریلے: کوک سٹوڈیو سے شہرت پانے والے بلوچ گلوکار وہاب بگٹی بھی سیلاب زدگان میں شامل
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے نصیرآباد ڈویژن میں سیلابی ریلوں سے لوگوں کی جو بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے اس میں بلوچی زبان کے معروف گلوکار وہاب بگٹی بھی شامل ہیں۔
انھیں کوک سٹوڈیو میں ایک گانے کی باعث بڑی شہرت ملی تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گھر منہدم ہونے کے بعد انھیں کسی اور علاقے میں نقل مکانی کرنا پڑی کیونکہ گھر کے ملبے کے ساتھ مزید قیام کسی طرح بھی ممکن نہیں تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی طرح جعفر آباد اور صحبت پور سمیت دیگر علاقوں میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور مختلف علاقوں میں نقل مکانی کرنے کے بعد مدد کے منتظر ہیں۔
وہاب بگٹی اور ان کے بچوں کے بے گھر ہونے کی تصاویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو لوگوں نے حکومت اور میڈیا کی توجہ ان کی اور دیگر سیلاب متاثرین کی جانب دلاتے ہوئے ان کے لیے مدد کی اپیل کی۔
وہاب بگٹی کون ہیں؟
وہاب بگٹی کا تعلق بلوچوں کے معروف بگٹی قبیلے سے ہے۔
اگرچہ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے زیادہ ترلوگ ڈیرہ بگٹی میں آباد ہیں لیکن وہاب بگٹی اور ان کے خاندان کے لوگ طویل عرصے سے ضلع نصیر آباد میں رہتے ہیں۔
ان کے آٹھ بچے ہیں اور ان کی رہائش ضلعے کے ایک دیہی علاقے گوٹھ عمر بگٹی میں تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہاب بگٹی کا شمار بلوچستان کے معروف لوک گلوکاروں میں ہوتا ہے۔ انھیں کوک سٹوڈیو میں گانے والے 'کناں یاری' نامی گانے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر شہر ت ملی۔
انھوں نے یہ گانا کوک سٹوڈیو کے 14 ویں سیزن میں کیفی خلیل اور ایوا بی کے ساتھ مل کر گایا تھا جسے یوٹیوب پر تین کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔
’19 اگست کو میں بھی بے گھر ہو گیا‘
موبائل فون نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے وہاب بگٹی سے بمشکل رابطہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ 13 اگست سے ان کے علاقے میں مسلسل بارشیں ہورہی تھیں جن سے نہ صرف کچے گھروں کو نقصان پہنچا بلکہ پٹ فیڈر میں شگاف پڑنے کی وجہ سے صحبت پور، جعفر آباد سمیت متعدد علاقے زیر آب آگئے۔
انھوں نے کہا کہ ’طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ہمارے گرد و نواح کے علاقوں سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں سے لوگوں کے بے گھر ہونے کی خبریں روز آرہی تھیں، لیکن 19 اگست کو میں بھی بے گھر ہو گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان کے علاقے میں جو پکے گھر تھے وہ کسی حد تک محفوظ رہے لیکن کچے گھروں میں سے کوئی بھی سلامت نہیں رہا اور ان کی طرح نصیر آباد کے مختلف علاقوں میں لاکھوں انسان بے گھر ہوگئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ کچا ہونے کی وجہ سے ان کا گھر مکمل طور ہر منہدم ہوگیا، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
نقل مکانی پر مجبور
وہاب بگٹی نے کہا کہ گھر کے انہدام کے بعد نہ ان کے پاس کوئی خیمہ تھا اور نہ ہی بارش اور کیچڑ کی وجہ سے وہاں مزید ٹھہرنا ممکن تھا اس لیے انھیں نقل مکانی کرنا پڑی۔
انھوں نے کہا کہ نصیر آباد ڈویژن کے مختلف علاقوں میں لاکھوں لوگوں نے بے گھر ہونے کے بعد سڑکوں کے کنارے پر پناہ لے رکھی ہے ۔
انھوں نے کہا کہ لوگ شیلٹر اور خوراک نہ ہونے کی وجہ سے ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نقل مکانی کے بعد انھیں ڈیرہ مراد جمالی میں ایک دوست نے اپنے گھر میں ایک کمرہ دیا وہ وہاں اپنے بوڑھے والدین اور 8 بچوں کے ہمراہ وہاں رہ رہےہیں۔
انھوں نے بتایا کہ انھیں حکومت کی جانب سے تاحال نہ کوئی خیمہ ملا اور نہ کوئی اور امدادی اشیا ملیں جس کی شاید ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انتظامیہ کی ساری توجہ اس وقت پٹ فیڈر کے شگاف کو پر کرنے پر ہے کیونکہ اگر یہ شگاف بند نہ ہوا تو پھر تمام کے تمام علاقے ڈوب جائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ کوک سٹوڈیو سمیت مختلف لوگوں کی جانب سے امداد کی فراہمی کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔
جب وہاب بگٹی کی ایک بچے کو گود میں لینے اور باقی بچوں کی چار پائی کے نیچے کیچڑ پر بیٹھنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو صارفین نے اس پر رد عمل کا اظہار کیا۔
مینا مجید نامی ایک صارف نے لکھا کہ 'کنایاری گانے میں وائرل ہونےوالے وہاب بگٹی کا سیلاب زدہ خاندان۔ افسوس کہ وہاب بگٹی کا تعلق بلوچستان سے ہے، کہیں اور سے ہوتا تو آج نیوز ہیڈلائنز میں ہوتا اور اس کی معاونت ہوتی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ 'ہماری نیشنل صحافت صرف عمران خان، نواز شریف،شہباز گل کے گرد طواف کرتی ہے ایسی صحافت کےساتھ جو ہورہا ہے وہ ان کے اپنے کرم (اپنا کیا) ہیں۔‘
ایک اور صارف چوہدری مجید دیرت نے کہا کہ 'کوک سٹوڈیو کے مشہور گیت کنا یاری سے شہرت حاصل کرنے والے وہاب علی بگٹی کے گھر کی سیلاب کی وجہ سے تباہی دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا۔ جنوبی پنجاب، بلوچستان بالخصوص تونسہ شریف کی عوام کے لیے دلی دعا ہے کہ اللّہ ان پر اپنا فضل فرمائے اور اس مشکل گھڑی سے نکالے، آمین۔‘
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران نصیرآباد ڈویژن سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
اگرچہ بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح نصیر آباد ڈویژن کے چار اضلاع جھل مگسی، نصیر آباد، جعفر آباد اور صحبت پور میں بارشیں ہوئیں لیکن ان کے بہت سارے علاقے باقی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلوں اور پٹ فیڈر کینال میں شگاف پڑنے کی وجہ سے بھی زیادہ متاثر ہوئے۔
بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و پی ڈی ایم اے میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ پانی کا رخ نصیر آباد ڈویژن کی جانب ہے جہاں گھروں اور فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
نصیر آباد سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ سعدیہ بلوچ نے بتایا کہ نصیر آباد میں بہت سارے علاقے اس قدر زیر آب آگئے ہیں کہ لوگوں کے پاس مرنے والوں کی تدفین کے لیے جگہ نہیں۔
’اگر کوئی فوت ہو جائے تو اس کی لاش کو تدفین کے لیے کسی خشک جگہ پر لے جانے کے لیے دو تین دن لگ جاتے ہیں۔‘
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر ریلیف عطا اللہ مینگل نے بتایا کہ نصیر آباد میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریلیف کے لیے جو بھی طلب کیا جارہا ہے وہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے ان کو فراہم کی جارہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ نصیر آباد میں پی ڈی ایم اے کی ریسکیو کرنے والی ٹیمیں موجود ہیں اور انھوں نے مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے 15سو سے زیادہ افراد کو اب تک ریسکیو کیا ہے۔