بلوچستان: سیلاب میں پھنسے سندھ کے بے زمین ہاری جن کی اب ’جان بچ جائے تو بڑی بات ہے‘

    • مصنف, شبینہ فراز
    • عہدہ, صحافی

’بچوں کو ہم نے کاندھے پر اٹھایا ہوا تھا، پانی ہماری کمر اور پھر کندھوں تک آ گیا، پانی کا بہاﺅ اتنا تیز تھا کہ لگ رہا تھا کہ ہم ڈوب ہی جائیں گے۔ بس بھگوان نے بچا لیا۔‘

حوراں کسی رضاکار کے فون سے ہم سے بات کر رہی تھیں اور روتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ ’ہم اسی طرح پانی میں جانے کتنے گھنٹے چلتے رہے، کوئی ہماری تکلیف کا اندازہ نہیں کر سکتا۔‘

وہ اپنی درد بھری کہانی سناتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'جس وقت پانی آیا تو گھر پر میں، میرا ایک چھوٹا بچہ اور بوڑھے معذور سسر موجود تھے، سسر معذوری کے باعث چارپائی سے اتر بھی نہیں سکتے تھے۔

'ہمارے گھر کے مرد زمیندار کے کہنے پر مزید مزدور لینے گاﺅں گئے ہوئے تھے۔ سیلاب کا پانی ا تنی تیزی سے آیا کہ ہمارے کپڑے، برتن اور سارا سامان ڈوب گیا۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'ہمیں زمیندار اور ان کے آدمیوں نے بچایا، وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے تھے لیکن کچھ گھنٹوں بعد، وہاں بھی پانی کا تیز ریلا پہنچ گیا تھا۔ ایک پورا دن ایسے ہی گزرا کہ ہم پانی میں کھڑے تھے اور بچوں کو درختوں پر بٹھا دیا تھا۔ دوسرے دن کچھ رضاکاروں نے رسوں کی مدد سے پانی سے گزار کر ہمیں یہاں روڈ تک پہنچایا۔'

حوراں اب لسبیلہ کے قریب سڑک کنارے اپنے دو چھوٹے چھوٹے بچوں اور دیگر سینکڑوں لوگوں کے ساتھ امداد کی منتظر ہیں جو فی الحال انھیں دور دور تک نہیں دکھائی دیتی۔

حوراں سندھ کے شہر ٹنڈو الہیار کے قریب ایک گاﺅں کی رہنے والی ہیں۔ ان کا تعلق بھیل قبیلے سے ہے اور ان کے خاندان کے بہت سے افراد ہر سال لسبیلہ کے علاقے میں کھیتوں میں مزدوری کرنے یا کپاس چُننے آتے ہیں۔

سندھ کے بہت سے شہروں جن میں بدین، میرپور خاص، ٹھٹھہ خصوصاً ٹنڈو الہیار اور عمرکوٹ وغیرہ سے لوگوں کی بڑی تعداد کھیت مزدور کے طور پر بلوچستان کے لسبیلہ، اوتھل اور لاکھڑا وغیرہ کا رخ کرتی ہے۔

اس عارضی نقل مکانی کرنے والوں میں زیادہ تر ہندو کمیونٹی کے اووڈ، بھیل اور کولھی افراد شامل ہیں۔

یہ لوگ اپنی خواتین اور بچوں سمیت بلوچستان کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ سال بھر بھی قیام کرتے ہیں جبکہ کچھ افراد کسی خاص فصل کی بوائی یا چنائی تک رہتے ہیں۔

اس وقت کپاس کی چنائی کا سیزن چل رہا ہے اور اس چنائی کے دو دور ہو چکے تھے اور آخری دور چل رہا تھا کہ سیلاب نے آ لیا۔

بلوچستان اس وقت بارشوں کے باعث شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے، تیز بارشوں اور پھر بپھرتے ندی نالوں نے تباہی مچا دی ہے۔

دہرے خطرے میں گھرے سندھ کے ہاری

سندھ کے ہاری جن کی ایک بڑی تعداد اس سیزن میں بلوچستان کا رخ کرتی ہے ان کے لیے خطرے کی بات یہ بھی ہے کہ کسی حکومتی ادارے کو یہ نہیں معلوم کہ ان کی کتنی تعداد اس سیزن میں بلوچستان کے کس علاقے میں موجود ہیں۔

اس حوالے سے کام کرنے والے ایک سماجی کارکن جی ایم بلوچ کے مطابق بلوچستان جانے والے یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس سندھ میں بھی اپنی کوئی زمین نہیں ہوتی اس لیے یہ کام کی تلاش میں گھومتے پھرتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ 'انھیں زرعی خانہ بدوش بھی کہا جا سکتا ہے، یہ لوگ زیادہ تر سانگھڑ، میرپور خاص، عمرکوٹ اور ٹنڈو الہیار وغیرہ سے بلوچستان میں لسبیلہ، اوتھل اور لاکھڑا کے علاقے میں کھیتوں میں کام کرنے جاتے ہیں۔

'ان علاقوں میں یہ سندھی لوگ اجنبیت محسوس نہیں کرتے کیونکہ ان علاقوں میں لاسی زبان بولی جاتی ہے جو سندھی زبان سے ملتی جلتی ہے لیکن ان افراد کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار سندھ کے پاس ہیں نہ بلوچستان کے پاس۔'

لسبیلہ کے ایک اور سرگرم رضاکار خلیل رونجھو کے مطابق 'میرا صرف اندازہ ہے کہ ایسے افراد کی تعداد 20 ہزار تک ہو سکتی ہے۔ حتمی تعداد کا خود زمین داروں کو بھی نہیں پتا، وہ صرف مردوں کے بارے میں جانتے تھے کہ ان کی زمینوں پر کتنے مرد کام کر رہے تھے، ان کے خاندان کے دیگر افراد مثلاً خواتین، بوڑھے اور بچے کتنے افراد کو یہ ساتھ لے کر آئے تھے، یہ کوئی نہیں جانتا۔'

خلیل رونجھو نے مزید بتایا کہ 'پرسوں رات تک ریسکیو کے عمل کے دوران ایک بڑی تعداد میں ہاریوں کو ان کے بچوں و خواتین کے ساتھ سیلابی متاثرہ زمینوں سے نکال کر روڈ کے کنارے لایا گیا ہے لیکن ابھی بھی ذرائع کا کہنا ہے کہ دور دراز کے علاقوں میں یہ ہاری سیلابی ریلوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور کچھ افراد کے پانی میں بہہ جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔'

عمرکوٹ کے ایک سماجی کارکن ہیرا لال کے مطابق 'بلوچستان کام کرنے جانے والوں میں عمرکوٹ کی ہندو اووڈ، کوہلی اور بھیل برادری کے لوگ شامل ہیں۔

'یہ انتہائی غریب لوگ ہیں، انھیں وہاں کام بھی مل جاتا ہے پھر ہندو ہونے کے باوجود بلوچستان میں کسی مذہبی تفریق کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے، اس لیے یہ اطمینان سے کئی ماہ وہاں گزارتے ہیں۔'

وہ بتاتے ہیں کہ 'کچھ لوگ کھیت میں مزدوری کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ زمین ٹھیکے پر لے کر بھی کام کرتے ہیں۔ مزدوروں کو 800 سے ایک ہزار روپے یومیہ اجرت ملتی ہے اور زمیں دار انھیں آنے جانے کا کرایہ بھی دیتے ہیں۔

'دو تین بار کپاس چننے کے بعد آخری چنائی میں زمین دار انھیں پچاس فیصد کا حصے دار بنا لیتے ہیں۔ یوں ایک خاندان دو سے تین لاکھ کما کر لوٹتا ہے۔'

ہیرا لال نے مزید بتایا کہ 'صرف ہمارے علاقے سے 2500 سے 3000 لوگ بلوچستان گئے تھے۔ انھوں نے بھی تصدیق کی کہ بہت سے لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ باحفاظت سڑک تک پہنچ گئے ہیں، کچھ افراد کو رضاکاروں اور کچھ افراد کو آرمی نے ریسکیو کیا مگر بہت سے لوگ ابھی بھی پھنسے ہوئے ہیں۔'

ہیرا لال کے مطابق 'ان کے پاس پہنچنے والی اطلاعات کے مطابق اوڑکی، اسماعیل رونجھو اور بروہی گاﺅں میں لوگ ابھی بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ لسبیلہ کے مین سٹاپ کراسنگ پر ایک ہزار سے زیادہ لوگ بے یارو مددگار بیٹھے ہوئے ہیں۔

'اس کے علاوہ عمر کوٹ کے نزدیک زیرو پوائنٹ گاﺅں کے رام بخش اووڈ کے آٹھ بھائی اور ان کے اہل خانہ تقریباً 100 کے قریب لوگ، عمرکوٹ کے ہی میر چند کے ساتھ 55 مزدور بھی ابھی تک لسبیلہ کے قریب کیلاش ندی پر اور لسبیلہ کے گوٹھ سردار رسول بخش میں 50 کے قریب مزدور دو ندیوں کے درمیان پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔'

ہیرا لال کے مطابق 'ابھی تک 150 لوگ باحفاظت عمرکوٹ پہنچ چکے ہیں۔ یہ لسبیلہ کے مختلف گاﺅں سے واپس آئے ہیں لیکن ان کے پاس جو اطلاعات ہیں وہ انتہائی مایوس کن ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'وہاں بہت سے مزدوروں کو زمین داروں نے یرغمال بنا کر ان کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے۔ جن مزدوروں نے زمینداروں سے ایڈوانس رقم لی ہوئی تھی، ان زمینداروں کا کہنا ہے کہ رقم لوٹائے بغیر کوئی یہاں سے واپس نہیں جا سکتا۔'

لسبیلہ کراسنگ پر موجود یاقو نے بی بی سی کو فون پر یہ بھی بتایا کہ 'زمینداروں نے نہ صرف ان کی مزدوری روک لی ہے بلکہ تمام رابطے بھی منقطع کر دیے ہیں۔ ہماری کوئی مدد نہیں کی، ہم اللہ کے آسرے پر بیٹھے ہیں۔'

لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ مینیجمنٹ سائنسز اوتھل کے لیکچرر شیخ ثنا اللہ جو یونیورسٹی میں انوائرنمنٹل سائنس میں مختلف موضوعات کے ساتھ ڈیزاسٹر (آفات) بھی پڑھاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہاں سے جولائی کے مہینے میں شہروز مزداکی گزرنے والی 100 گاڑیاں ان کے مشاہدے میں آئی ہیں۔ ایک گاڑی میں تیس سے چالیس لوگ سوار ہوتے ہیں گویا 4,000 تک لوگ لسبیلہ میں ہو سکتے ہیں۔

'بعد ازاں یہ تمام ہاری کام کے لیے مختلف علاقوں کی زمینوں اور گاﺅں میں پھیل جاتے ہیں لہٰذا کسی ایک جگہ سے معلومات ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'اس وقت تو تمام رابطہ سڑکیں اور پل ٹوٹ چکے ہیں، کسی کو کسی کی خبر نہیں ہے۔ ڈام بی اور لاکھڑا کے جنگلات میں بہت سے لوگ پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس وقت تو جو ادارہ یا فرد جو کرسکتا ہے وہ کر گزرے۔'

بارشیں اور سیلاب

محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال مون سون کی شدید بارشوں نے بلوچستان میں سیلابی کیفیت پیدا کر دی ہے۔

محکمے نے جون کے اوائل میں الرٹ جاری کر دیا تھا کہ اس سال جولائی اگست میں تیز بارشیں ہوں گی۔

محکمہ موسمیات بلوچستان کے اسسٹنٹ پروگرامر اظہر علی کے مطابق اب تک بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کی مقدار بارکھان 137 ملی میٹر، دالبندین میٹر ملی میٹر 33.7، گوادر 153.2 ملی میٹر، جیوانی 63 ملی میٹر، قلات 87 ملی میٹر، خضدار 216 ملی میٹر، لسبیلہ 384.4 ملی میٹر، پنجگور 170 ملی میٹر، پسنی 190.3 ملی میٹر، کوئٹہ 47 ملی میٹر، سبی 144 ملی میٹر، تربت 88 ملی میٹر، اورماڑہ 121 ملی میٹر، اور ژوب 85 ملی میٹر رہی۔

کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ 'بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس سال اوسط %90 بارشیں زیادہ ہوئی ہیں اور ابھی مون سون کا ایک اور سپیل باقی ہے۔'

ان بارشوں سے بلوچستان کے مجموعی 34 اضلاع میں سے 26 اضلاع طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

بپھری ندیوں میں، کھرڑی، درروالا، کولڑی، ھنجری اور دریائے ہنگول و بورالی کے پانی نے خاصی تباہی مچائی ہے۔ گاﺅں کے گاﺅں صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر ریلیف عطااللہ مینگل نے بتایا کہ 'جو اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ان میں لسبیلہ، جھل مگسی، کچھی، نوشکی، پنجگور، قلات، کوئٹہ، پشین اور قلعہ سیف اللہ شامل ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

صورت حال کیسے بہتر ہوسکتی ہے؟

پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے اورجرمن واچ انڈیکس کے مطابق پچھلے بارہ سالوں سے خطرات سے دوچار ممالک کی فہرست میں اولین دس ممالک میں شامل ہے۔

زیادہ بارشیں اور کم وقت میں تیز اور زیادہ بارشیں ابھی ان ہی موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے۔

ڈپٹی کمشنر عمر کوٹ کے آفس سے پرسنل اسسٹنٹ مشتاق علی نے اتفاق کیا کہ 'بارشوں کا الرٹ موجود تھا، اس حوالے سے بلوچستان جانے والوں کو باخبر کیا جا سکتا تھا جو نہیں کیا گیا۔'

سندھ کے ہاریوں کی تعداد یا ڈیٹا کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ 'یہ لیبر ڈپارٹمنٹ کا کام ہے کہ وہ ایسا ڈیٹا اکٹھا کرے اور کون کہاں کہاں جارہا ہے ، ان پر نظر رکھے۔'

لسبیلہ یونیورسٹی کے ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ 'قدرتی آفات سے نمٹنے کے تین مراحل ہوتے ہیں ، قبل از وقت، آفات کے دوران اور بعد از آفات۔

'قبل از وقت میں ڈیٹا اکٹھا کرنا ایک اہم سرگرمی ہے، اس کے علاوہ ندی نالوں کی صفائی، پانی نکلنے کے راستے کھلے رکھنا اور لوگوں کو اس حوالے سے شعور دینا اور باخبر رکھنا شامل ہے۔'

وہ بتاتے ہیں کہ 'آفات کے دوران یعنی اس وقت لوگوں کو ریسکیو یا مدد فراہم کرنا، انھیں محفوظ مقامات پر پہنچانا، خوراک، اور طبی سہولیات کی فراہمی ضروری ہوتی ہے جبکہ بعد از آفات میں ان لوگوں کی آباد کاری،گھروں کی دوبارہ تعمیر اور معاشی ذرائع کی بحالی شامل ہے۔ ان تمام مراحل میں ماہرین خصوصاً ٹیکنیکل ایکسپرٹ کی شمولیت بہت ضروری ہے۔'

ثناءاللہ کا کہنا ہے 'محکمہ موسمیات کی الرٹ موجود تھی۔ بہت کچھ کیا جاسکتا تھا جو نہیں کیا گیا۔ اگرچہ اب ریسکیو کام جاری ہے مگر تباہی کا جو پیمانہ ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کام بہت کم نظر آتا ہے۔

'قدرتی آفات اسی وقت آفات بنتی ہیں جب آپ تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اس سال کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر آئندہ کے لیے احتیاط اور کوئی حکمت عملی تیار کر لی جائے تو بہتر ہوگا۔'

متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن خاصا فعال نظر آتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کا ڈیٹا ان کے پاس بھی نہیں ہے۔

مون سون کا سیزن ابھی جاری ہے، حکومت کے مختلف محکمے بھی کام کر رہے ہیں مگر اطلاع ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی سیلابی ریلوں میں پھنسی ہوئی ہے اور بے شمار لوگ روڈ کے کنارے امداد کے منتظر ہیں۔

سڑک کنارے لوگوں کا کہنا ہے کہ 'ہم تو سال بھر کے لیے پیسے کمانے آئے تھے مگر اب جان بچ جائے تو بڑی بات ہے۔

'چند گھونٹ صاف پانی، چند نوالے روٹی اور ایک پیناڈول گولی ہمارے لیے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔'