حالیہ پرتشدد واقعات، کیا حکومت اور ٹی ٹی پی کے مذاکرات جاری رہیں گے؟

جنرل فیض

،تصویر کا ذریعہTwitter/Lindsey Hilsum

،تصویر کا کیپشنتحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز سابق کور کمانڈر پشاور جنرل فیض حمید کے دور میں ہوا تھا
    • مصنف, محمود جان بابر
    • عہدہ, صحافی

افغان صوبہ پکتیکا میں تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنما کی بم دھماکے میں ہلاکت اور پاکستان میں دو دہشت گرد کارروائیوں کے بعد پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین جاری مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں نئی بحث چھڑ چکی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے حال ہی میں جاری کردہ بیان میں مذاکرات کی معطلی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تاہم شہری علاقوں میں بھتہ وصولی اور سابق فاٹا اضلاع سمیت دیر اور سوات میں پے در پے واقعات نے خدشات کو جنم دیا ہے۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کے لیے بننے والی مذاکراتی کمیٹی کے بعض ارکان اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مذاکرات کے عمل کو بچانا ایک چیلنج ہوگا۔

وزیرستان میں فوج کے قافلے پر حملے، سوات میں سرکاری فورسز اور دیر میں حکومتی جماعت کے رُکنِ صوبائی اسمبلی لیاقت علی خان پر حملوں کو مذاکرات کے حوالے سے پریشان کن پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔

اسی دوران تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے والے کور کمانڈر جنرل فیض حمید کے تبادلے پر بھی بات ہو رہی ہے۔

پشاور میں سینئر تجزیہ نگار اور انگریزی اخبار ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر اسماعیل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات سابق کور کمانڈر پشاور کا شروع کیا ہوا عمل تھا۔

‘ان کی پشاور میں تعیناتی کا مقصد ہی یہی تھا کہ رواں سال ٹی ٹی پی والے معاملے کو کسی نتیجے تک پہنچایا جائے۔ اور اب نئی صورتِ حال بننے کے بعد اس پر پارلیمان کی نیشنل سیکیورٹی کی کمیٹی کا اجلاس بھی ہونا ہے۔‘

عمر خراسانی کے مارے جانے کے بعد طالبان کی جانب سے امن مذاکرات ختم کیے جانے کا خطرہ تھا لیکن انھوں نے کوئی ایسا اعلان نہیں کیا۔ اب جیسا کہ خدشہ تھا جنگ بندی کی آڑ میں دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور بھتہ خوری کے واقعات میں اضافے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اب مذاکراتی کمیٹی کو ٹی ٹی پی کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی قیادت خصوصاً سراج الدین حقانی سے بھی اس پر بات کرنی ہوگی۔

پہلے بھی جتنے قبائلی وفود افغانستان گئے تھے، انھوں نے بھی بھتہ خوری کے واقعات وہاں اُٹھائے تھے۔

دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی کے اپنے رہنماؤں پر پکتیکا میں ہونے والے حملے کے بعد جاری بیان میں کہا کہ پاکستان میں ان کی جاری جدوجہد کا سہرا حملے میں مارے جانے والے راہنما عمر خالد خراسانی کے سر ہے، جنھوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے تھے۔

بیرسٹر محمد علی سیف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنطالبان لیڈر کی ہلاکت شاید تنظیم کے اندرونی اختلافات کا شاخسانہ ہو سکتا ہے: بیرسٹر محمد علی سیف

کابل میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری مذاکراتی عمل کے دوران پاکستان سے جانے والے عسکری حکام، علما، سیاسی رہنماؤں اور قبائلی عمائدین کے مختلف وفود نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے اطلاعات کے مشیر اور انسیاسی اور قبائلی رہنماؤں کے وفود کی قیادت کرنے والے بیرسٹر محمد علی سیف کہتے ہیں کہ پکتیکا میں ہونے والے حملے میں اہم کمانڈر کے مارے جانے کے باوجود اس واقعے کے مذاکراتی عمل پر اثرانداز نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ حملہ آئی ای ڈی سے کیا گیا تھا جو اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی کو معلوم ہو کہ وہ وہاں سے گزرنے والے ہیں اور یہ بھی اندازہ ہے کہ شاید یہ ان کے اندرونی اختلافات کا شاخسانہ ہو۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران حملے میں مارے جانے والے مفتی حسن کے ساتھ مذاکرات کے دوران کابل میں کافی بات چیت ہوئی تھی۔ „میں نہیں سمجھتا کہ اس حملے کے مذاکرات پر اثرات پڑیں گے۔‘

جنرل فیض حمید کے تبادلے کے بعد مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ اس کے کوئی امکانات نہیں کہ اس سے مذاکرات ختم ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات شروع جنرل فیض نے کیے تھے، لیکن ان کے تبادلے سے اس پر شاید کوئی اثر نہ پڑے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ سوات اور وزیرستان کے حملوں کے بعد فوج کارروائیاں کرے۔ ‘ہمارے مذاکرات کے دوران ماحول کافی ریلیکس رہا، جس کا فائدہ شاید کسی نے اُٹھایا ہو۔ لیکن طالبان نے ہمیں بتایا ہے کہ ان واقعات میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں جس کے بعد ہمارا اندازہ ہے کہ شاید ٹی ٹی پی کے کنٹرول سے باہر ان کے گروپس یہ کارروائیاں کر رہے ہوں۔ یہ ان کے اختلافات کا شاخسانہ بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بہت سارے گروپس ہیں جو مختلف علاقوں میں اپنی مرضی کی کارروائیاں کرکے اپنا ایجنڈا پورا کر رہے ہوں تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔‘