کھوکوش سے نیلسر جھیل کا پیدل سفر جہاں ایک غلطی زندگی کا چراغ گُل کر سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
- مصنف, اکمل شہزاد گھمن
- عہدہ, صحافی
60 سال کی عمر میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے پاکستانی کرنل (ر) ڈاکٹر جبار بھٹی سے ایک بار گفتگو کے دوران پوچھا کہ ’لوگ جان جوکھوں کا سفر کر کے مہم جوئی کیوں کرتے ہیں؟‘
ان کا جواب تھا کہ ’نمایاں ہونے کی خواہش آپ سے کچھ منفرد کرواتی ہے، پھر پہاڑوں اور ویرانے کی اپنی کشش ہوتی ہے۔‘
ٹریولر اور ٹور آپریٹر رانا اکمل خان نے سوشل میڈیا پر ایسی ہی ایک مہم جوئی کا منصوبہ شیئر کیا جس کے تحت سالانہ شندور پولو میلہ دیکھتے ہوئے مہوڈنڈ، سوات تک پیدل آنا تھا۔ راستے میں چار دن اور تین راتیں کیمپنگ کرنی تھی۔ میں نے فوراً جانے کی حامی بھر لی۔
میرا خیال تھا کہ اسلام آباد میں ہائیکنگ تو کرتے رہتے ہیں اور کبھی کبھی تو ٹریل 3 سے مونال تک چلے جاتے ہیں اور پھر ٹریل 5 کی طرف سے ڈھائی تین گھنٹوں میں واپس آ جاتے ہیں، تو شندور سے یہ سفر بھی ایسا ہی ہو گا بلکہ راستے تو مہوڈنڈ کے اردگرد کی طرح سر سبز و شاداب ہوں گے۔
ٹراؤٹ کی جنت
تین جولائی کو شندور پولو فیسٹیول کا فائنل میچ دیکھنے کے بعد شندور کے نواح میں لنگر نالے سے اتوار کی سہہ پہر دو بجے دوستوں کے ساتھ کھوکوش جھیل-1 تک چلنا شروع کیا تو میرے سمیت اکثر ساتھیوں کے ذہنوں میں ایسا ہی ایک سہانا سفر تھا۔
اسلم پورٹر اور ڈاکٹر وقار کے ساتھ چلتے ہوئے احساس ہوا کہ رواں دواں نیلگوں پانی کے حامل لنگر نالے کنارے یہ سفر ویسا ہی تھا جیسا سوچا تھا۔ پانی دریا کی شکل دھارتے ہوئے غذر سے جا کر گلگت دریا کا حصہ بنتا ہے۔ اس علاقے کو ٹراؤٹ مچھلی کی جنت کہتے ہیں گو کہ بغیر سرکاری اجازت نامے کے مچھلی کے شکار پر پابندی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آدھے سفر تک اسلم پورٹر اور ڈاکٹر وقار نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے اور باقی سب ساتھی بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ شام کے قریب بہت بڑے بڑے پتھروں پر مشتمل ایک پہاڑ آ گیا۔ بظاہر لگتا تھا کہ پانی کے ساتھ ساتھ جانا ہے مگر اسلم اور ڈاکٹر وقار پہاڑ کی چوٹی کی طرف سے گئے تھے۔
ان کے پیروی میں اوپر تو نہیں گیا لیکن پانی والی طرف بھی نہ گیا۔ درمیان سے جاتے ہوئے اتنے بڑے بڑے پتھروں پر سے جانا پڑا تو حوصلہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔
شکر کیا جب آگے سے آ کر اسلم پورٹر نے میرا بیگ اٹھا لیا۔ تھوڑی دیر بعد کھوکوش کی پہلی جھیل کو دیکھا تو ساری تھکاوٹ اُتر گئی۔ پہاڑوں کے دامن میں تاحدِ نظر نیلگوں پانی کی جھیل جنت کا نظارہ پیش کر رہی تھی۔ کوئی 12 یا 13 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پانچ بجے پہنچنے والا میں تیسرا فرد تھا۔ سات بجے کے قریب چوتھا ساتھی متلی کی کیفیت لیے پہنچا۔

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
تھوڑی دیر تک دیگر ساتھی بھی وقفے وقفے سے آنا شروع ہو گئے۔
پتا چلا کہ نو میں سے آدھے بیمار ہو چکے ہیں۔ گروپ لیڈر، فضل گائیڈ اور ایک ساتھی صادق ادھر ہی رہ گئے ہیں اور وہ پورٹرز کا بندوبست کرنے میں لگے ہیں۔
رات گئے ایک ساتھی معظم پکے ہوئے کھانے کے کچھ ٹِن پیک لے کر آئے تو کچھ ڈھارس بندھی۔ آٹا تھا مگر نہ تو گوندھنے کا کوئی انتظام تھا نہ روٹی پکانے کا۔ سو کھجوریں، بسکٹ وغیرہ کھائے، پانی پیا اور گزارہ کیا۔
ایان، ڈاکٹر زعیم اور ذیشان وٹو جیسے نوجوانوں نے جیسے تیسے ٹینٹ لگائے۔ سلیپنگ بیگ پورے تھے نہ ٹینٹ۔ اسلم پورٹر نے سرِ شام ہی آگ کا بندوبست کر دیا تھا۔ کچھ ساتھی اس آگ کے ارد گرد سو گئے۔ ہم میں سے چند خیموں میں بسیرا کرنے والوں کو بھی سلیپنگ بیگ کے بغیر ہی رات جیسے تیسے گزارنی پڑی۔
کھوکوش جھیل کا برفیلا پانی
صبح اٹھ کر کھوکوش جھیل کے برفیلے پانی میں سارے کپڑے اتار کر نہایا تو طبعیت ہشاش بشاش ہو گئی۔ ایک ساتھی بھی ہمت کر کے نہا لیے۔ کچھ ہمراہیوں نے پورٹرز کی مدد سے پتیلے میں پانی گرم کیا اور اس میں سالن کے ٹن پیک رکھ دیے۔ سالن گرم ہو گیا تو سب نے تھوڑا تھوڑا کھا کر ناشتہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
22 میں سے تین ساتھی تو لنگر سے روانگی کے وقت ہی ہمیں الوداع کہہ چکے تھے۔ ان کے خیال میں انتظامات ڈانواں ڈول تھے۔
چونکہ دن چڑھے تک بھی گروپ لیڈر اور گائیڈ ابھی تک نہیں پہنچے تھے لہٰذا اکثریت نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ کچھ نوجوان تصویر کشی وغیرہ میں مشغول تھے لیکن ہم سات لوگوں نے واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ ابھی ایک کلومیٹر جھیل کے دوسرے کنارے تک پہنچے تھے کہ بڑے بڑے پتھروں پر ہیڈ پورٹر جلیل سامان اٹھا کر آتے ہوئے دکھائی دیے۔
جلیل نے بتایا کہ مطلوبہ پورٹرز کا انتظام ہو گیا ہے اور گروپ لیڈر اور دیگر ساتھی بھی آ رہے ہیں۔ تین ساتھی تو نہ رکے اور گھروں کو روانہ ہو گئے۔
ڈاکٹر وقار کہنے لگے کہ واپس جانا بھی آسان نہیں، حالات اگر ساز گار ہوں تو میں یہ سفر پورا کرنا چاہوں گا۔ جب لگا کہ اب معاملات بہتری کی طرف گامزن ہیں تو ہم چار لوگ واپس آ گئے۔ ان چار میں سے ایک گروپ کے معمر ساتھی 58 سالہ عزیز گجر اور دوسرے نوجوان 24 سالہ سعد بھی تھے۔
دو بجے کے قریب گروپ لیڈر دیگر ساتھیوں سمیت آ گئے۔ ان سے کہا کہ اگر انتظامات میں گڑبڑ ہے تو واپس چلتے ہیں لیکن مجھے انھوں نے خاموشی کا کہا کہ اس طرح سب لوگ ہمت ہار جائیں گے۔
چار جولائی کا منصوبہ یہ تھا کہ کھوکوش پاس کے بیس کیمپ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے کیوں کہ چھ جولائی تک مہوڈنڈ اور سات کو اسلام آباد پہنچنے کا پروگرام تھا۔ مگر انتظامی امور کے درہم برہم ہونے کی وجہ سے ہم شام چار بجے کے لگ بھگ اگلے پڑاؤ کی طرف روانہ ہوئے تو آٹھ کلومیٹر کے لگ بھگ فاصلہ طے کر کے چھ بجے کے قریب کھوکوش جھیل- 2 کے خوب صورت کنارے کیمپنگ کی۔ خوب جی بھر کر کھانا کھایا، چائے پی اور صبح تک نیند پوری کی۔
آنکھ کُھلی تو اردگرد چہل پہل تھی۔ جنریٹر چل رہا تھا، ساتھی موبائل اور بنک چارجر چارج کر رہے تھے۔ انڈے ابل رہے تھے چائے بن رہی تھی، مناسب انداز میں ناشتہ کیا۔ آٹھ بجے کے قریب گروپ لیڈر نے گروپ فوٹو بنائی۔

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
اگلی منزل کی طرف سفر شروع کیا تو تھوڑا اوپر جا کر بکروالوں کی جھونپڑی آ گئی۔ ان کے ساتھ ساتھیوں نے تصاویر بنائیں اور لسی پی۔ کچھ رقم دینے کی کوشش کی تو انھوں نے انکار کر دیا۔ پتا چلا کہ یہ بکروال دیر بالا کے گجر ہیں اور گوجری زبان بولتے ہیں۔ سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور کشمیر میں بھی ان کی رشتے داریاں ہیں۔
تقریباً چھ گھنٹے میں 12 کلومیٹر کے لگ بھگ فاصلہ طے کر کے 13 کلو میٹر طویل کھوکوش جھیل کے آخری کنارے سے تھوڑا آگے پہاڑوں کے دامن میں گول سی جگہ پہنچے جہاں ایک قدرتی غار بھی بنا ہوا تھا۔ اس غار میں پورٹرز نے کھانا پکانا شروع کیا، وہاں اندر لیٹنے کی تنگ سی جگہ بھی تھی۔
حسین مناظر، دشوار راستہ
آج کا راستہ ابھی تک سب سے دشوار تھا۔ بڑے بڑے پتھر، ڈھلوانی پہاڑ اور مشکل چڑھائیاں تھیں۔ صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ پاؤں پھسلنے یا لُڑھکنے کی صورت میں ہڈی پسلی ایک ہو سکتی ہے یا کم از کم چند قلابازیوں کے نتائج تو بھگتنے ہی ہوں گے۔ آخری دو گھنٹے کے سفر میں پانی بھی میسر نہیں تھا۔ پانی نیچے جھیل میں سامنے نظر آ رہا تھا مگر پانی کے لیے میلوں جانا اور آنا محال تھا لہٰذا جیسے تیسے سفر جاری رکھا۔
چلنے اور سورج کی تمازت سے گرمی اور پیاس کی شدت بڑھ رہی تھی۔ سب سے کم عمر سعد پیاس سے گھبرا کر نیچے جھیل تک چلے گئے اور خوب پانی پی کر اُدھر ہی لیٹ گئے۔ آخر پورٹر جلیل انھیں تقریباً کھینچ کر اوپر لائے۔ آتے ہی سعد نے خود کو یہاں آنے پر کوسنا شروع کر دیا اور بتایا کہ وہ گھر والوں کو یاد کر کے روتے رہے ہیں۔
خیمے لگ گئے، چائے بننی شروع ہوئی تو پتا چلا کہ خُشک دودھ ختم ہو چکا ہے مگر اس صورتحال میں قہوہ بھی بہت مزے دار لگا۔ تھوڑی دیر بعد نوڈلز بھی تیار تھے مگر مناسب برتن نہیں تھے لہٰذا قہوے کے خالی گتے کے کپوں میں ہی سب نے نوڈلز کھائے۔ کس نے کس کپ میں چائے پی اور کس میں کس کے لیے نوڈلز ڈلے کچھ پتا نہ چلا۔

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
شام کے قریب روٹی پکنے کی خوشبو آنے لگی، گروپ لیڈر اور ایک ٹریکر صادق ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔ اگلے سفر کے بارے میں گفتگو ہوئی تو فضل گائیڈ نے سب کی رائے جاننا چاہی۔ ڈاکٹر وقار اور دیگر کچھ دوست کھوکوش ٹاپ کے بیس کیمپ تک آج جانا چاہتے تھے۔ مگر اکثریت رائے سے طے پایا کہ گروپ لیڈر کا انتظار بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹر وقار نے اپنے تجربے اور علم کی روشنی میں بتایا کہ کل جنگی طرز کا دن ہو گا اور ہر صورت کل صبح چار بجے ہم اُٹھیں گے اور ٹاپ پار کر کے سوات کی طرف اگلے بیس کیمپ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے چونکہ آدھے کے قریب ہم سفر طے کر چُکے ہیں اب واپسی کے بجائے آگے بڑھنا آسان ہے۔
رستے میں کہیں بھی قیام نہیں کیا جا سکتا اور خدا نہ کرے پہاڑی درّوں پر اکثر جب موسم خراب ہوتا ہے تو بارش بہت جلد برف باری کا روپ دھار لیتی ہے۔ لہٰذا یہاں سے نکلنے کے بعد متعینہ منزل پر پہنچنے کے علاوہ ہمارے پاس دوسرا کوئی رستہ نہیں، سو کل سر دھڑ کی بازی لگانے کا دن ہو گا۔
شام ہوتے ہی بارش شروع ہو گئی تو پریشانی اور بڑھی کہ ہمارے گروپ لیڈر اپنے ساتھی سمیت کہاں رہ گئے۔ ایک گھنٹے کے قریب جم کر بارش ہوئی، کچھ خیمے پانی سے لیک ہو گئے، ہمارا خیمہ اوپر ترپال ہونے کے باوجود ہلکا پھلکا گیلا ہوا مگر شکر ہے بارش رک گئی مگر گروپ لیڈر رات گئے تک نہ آئے۔
فضل نے بتایا کہ شاید وہ بکروالوں کے پاس رُک گئے ہوں گے، ایک پورٹر کو بھی ان کی مدد کو روانہ کر دیا ہے۔ تازہ روٹیوں کے ساتھ کھانے کو نہاری ملی تو لگا جیسے جنگل میں منگل کا سماں ہو گیا ہو۔
جنگی طرز کا دن اور کھوکوش پاس بیس کیمپ
صبح چار بجے کے قریب ڈاکٹر وقار نے جگانا شروع کر دیا۔ گروپ لیڈر ابھی تک نہیں پہنچے تھے ان کی صحت سلامتی کی دعا کے ساتھ ساتھ جیسے تیسے سامان لپیٹا اور ساڑھے چار بجے کے لگ بھگ اس سفر پر روانہ ہوئے جسے ڈاکٹر وقار جنگ کا نام دے رہے تھے۔ مسلسل اور مشکل چڑھائی تھی، رستے کا کوئی نشان نہیں تھا جہاں پاؤں رکھتے وہی رستہ قرار پاتا۔
آٹھ بجے تک ایک شور مچاتی ندی کے دامن تک پہنچ گئے اور یہی کھوکوش پاس کا بیس کیمپ تھا۔ پورٹرز علی الصبح ہی نمکین چاول پکا چُکے تھے۔ اچار کے ساتھ وہ چاول صبر شُکر سے کھائے۔
اگلے سفر پر روانہ ہوتے ہی بوٹ اتارنے کے بعد ندی پار کی اور ٹاپ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ ڈاکٹر وقار کے ساتھ مزید تین لوگ ایک لمبے اور چڑھائی والے رستے کی طرف چلے گئے لیکن ہمارے قافلے میں سب سے آگے جلیل پورٹر تھے اور آج سعد ان کے ساتھ سائے کی طرح چمٹا ہوا تھا۔ اب گلیشئر بھی آنے شروع ہو گئے تھے جہاں بوقت ضرورت جلیل سعد کو واپس آ کر سہارا بھی دیتے۔
برف پر چلنا پتھروں کی نسبت آسان تھا۔ دو بجے کے قریب ڈاکٹر وقار، ان کے ساتھی اور چترالی پورٹرز ٹاپ پر پہنچ چُکے تھے۔ ہم لوگ جب بھی جلیل سے پوچھتے کہ ٹاپ تک کتنا سفر رہ گیا ہے تو وہ کہتے اور آدھا گھنٹہ۔
ڈاکٹر وقار دور ٹاپ سے ہاتھ کے اشاروں اور زور زور سے آوازیں دے کر نیچے سے اوپر چڑھنے میں مشغول ساتھیوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ اس وقت بالکل ایسے لگ رہا تھا جیسے ٹی وی سکرین پر کبھی مہم جوؤں کو مہم سر کرتے دیکھا کرتے ہیں۔ ٹھنڈ تھی اور تیز دھوپ بھی، چلنے سے جسم گرم، تھکا ہوا جبکہ تھوڑا سانس پھولا ہوا۔ پیاس کی وجہ سے کبھی کبھی بوتل سے پانی کا گھونٹ لے لیا۔

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
کھوکوش ٹاپ اور برفیلی اترائی
جلیل کا آدھا گھنٹہ 4 بجے ختم ہوا تو ہم مزید چار لوگ کھوکوش ٹاپ پر پہنچ گئے۔ ڈاکٹر وقار ساتھیوں اور کچھ پورٹرز سمیت سوات کی طرف بیس کیمپ کو روانہ ہو چکے تھے۔
چترالی پورٹرز نے ان پلاسٹک کی تھیلیوں میں گرم گرم نوڈلز ڈال کر کھانے کو دیے جن میں نوڈلز ابالنے سے پہلے پیک ہوتے ہیں کیوں کہ اس پتیلے کے سوا جس میں نوڈلز ابالے تھے، کوئی برتن نہیں تھا۔
درخت کی لکڑیوں کے ساتھ سب نے نوڈلز کھانا شروع کر دیے۔ مجھے یہ کھانا کبھی مرغوب نہیں رہا بہرحال اس مقام اور اس وقت وہ بھی غنیمت تھا۔
تھوڑی دیر بعد باقی سارے ساتھی بھی پہنچ گئے۔ سوا پانچ بجے مہوڈنڈ کی طرف بیس کیمپ کو سفر شروع ہوا۔ جب نیچے دیکھا تو یہ منزل پاس پر چڑھنے سے بھی مشکل لگی۔ سب سے آگے جلیل صاحب، سعد اور ایک ساتھی تھے۔ بندہ سوچتا تھا یہ کیسے گزرے ہیں۔ جب خود گزر جاتا تھا تو خیال آتا تھا کہ میں تو گزر گیا ہوں، باقی آنے والے کیسے گزریں گے۔
بُھربھری مٹی اور پتھریلے کنکر جب کہ پہاڑ کی ڈھلوان ایسی کہ صرف پہاڑی یا جنگلی حیات ہی گزر سکیں۔ دوسری طرف نیچے دور گہرائی تک پتھر یا تا حد نظر برف کی سفید چادر ڈھلوانی انداز میں بچھی ہوئی۔ آدھا گھنٹہ چلنے کے بعد شدید ڈھلوانی برف پر چلنے کا مرحلہ آ گیا، کچھ ساتھی تصاویر بنانے لگے۔
واپس مڑ کر دیکھا تو چترالی پورٹرز سامان سمیت بغیر کسی چھڑی کے سہارے پہاڑوں پر یوں دوڑتے ہوئے اُتر رہے تھے جیسے یہ ان کا کوئی کھیل ہو۔
دیکھتے ہی دیکھتے پورٹرز برف تک پہنچ گئے اور منٹوں میں برف پر سامان سمیت سلائیڈ لے کر دور نیچے جا کے پھر چلنا شروع کر دیا۔ دیکھا تو ایک دو دفعہ جلیل بھی برف پر پھسلے مگر سنبھل گئے کہ یہ ان کا کام تھا۔
سعد نے پورٹرز کی پیروی کی اور برف پر سلائیڈ لی اور کافی نیچے پہنچ گئے۔ جوتوں میں کنکر جمع ہو چکے تھے، برف سے بوٹ اور جرابیں بھی گیلی ہو گئیں۔
حالانکہ پہلے سے ارادہ تھا کہ جرابوں پر شاپنگ بیگ چڑھا کر اوپر جرابوں کا ایک اور جوڑا چڑھا کر بوٹ پہن لیں گے۔ مگر جلیل کا کہنا تھا کہ خیر ہے کوئی ضرورت نہیں۔ دو گھنٹے کا سفر ہو گا۔
میں کوشش کر رہا تھا کہ بے تحاشا ڈھلوانی برف پر سنھبل کر چلوں۔ دو تین دفعہ پھسل کر سنبھلا۔ جب لگا کہ نیچے تک جانے میں بہت وقت لگے گا تو میں نے بھی برف پر سلائیڈ لے کر اپنا فاصلہ کم کیا اور منٹوں میں نیچے پہنچ گیا البتّہ بوٹوں کے علاوہ شارٹس بھی گیلے ہو گئے۔ اب خطرناک پتھر تھے یا برف تھی۔ تیسری کوئی راہ نہ تھی۔
جلیل سے جب پوچھتے کہتا، بس ایک اور گھنٹہ لگے گا۔ پینے کو پانی تھا نہیں جبکہ جلیل نے گلیشئر کی برف کھانے سے منع کر رکھا تھا۔ میرے پاس کچھ چیونگم تھیں وہ چباتا رہا اور جلیل کے پیچھے چلتا رہا۔
پاس پر چڑھتے ہوئے جلیل وقفے وقفے سے چل رہا تھا مگر اب جلیل بالکل رُکنے کو تیار نہیں تھا۔ کیوں کہ اوپر سے لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی تھا۔ منزل کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔
جلیل سے کہا آپ تو کہتے تھے یہ سفر دو گھنٹے کا ہے جواب میں جلیل کہتا بس ایک گھنٹے تک پہنچ جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
ہم تین لوگ جلیل، سعد اور میں بلا رُکے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے اور باقی ساتھیوں میں سے صرف ایک دور پہاڑوں کے اوپر نظر آ رہا تھا، باقی پیچھے رہ چُکے تھے۔
وقت کے ساتھ اندھیرے اور تھکاوٹ کے آثار بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ جب بار بار جلیل کو رکنے کا کہا تو سعد نے بتایا کہ جلیل کہتے ہیں مجھے رات کو ٹھیک طرح سے نظر نہیں آتا۔ اب چلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
بیس کیمپ تک پہنچنے سے آدھا گھنٹہ پہلے صورتِحال یہ ہو چکی تھی کہ پاؤں کہیں رکھتا، وہ پڑتا کہیں اور تھا۔ آخر کار دور سے روشنی کے آثار نظر آئے تو جان میں جان آئی۔
بیس کیمپ
خدا خدا کر کے ساڑھے آٹھ اور نو کے درمیان کیمپ تک مسلسل 16-17 گھنٹے تقریباً 25 کلومیٹر چلنے کے بعد پہنچے۔ ڈاکٹر وقار اور ان کے تین ساتھی ساڑھے سات بجے کے قریب پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔
سوائے اسلم پورٹر کے ہمیں کوئی نہ ملا۔ نہ ہم نے اور نہ کسی اور نے کھانے کا پوچھا۔ کیمپ کے ساتھ شور کرتے دریا کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ بس پہلے آنے والے پورٹرز کی مہربانی سے ٹینٹ ایستادہ تھے۔
میں اور سعد ہاتھ منھ دھو کر سلیپنگ بیگ کھول کر ایک ٹینٹ میں لیٹ گئے۔ سونے سے پہلے سعد نے کھانے کو دو بسکٹ اور بخار، درد کی ایک گولی دی۔
پیچھے رہ جانے والے دوستوں کی بہت فکر تھی مگر ایک حوصلہ تھا کہ فضل رہنمائی کے لیے ان کے ساتھ ہے۔ اپنے ساتھیوں کے لیے پریشانی ضرور تھی مگر میں اس قدر تھک چُکا تھا کہ خود کو ان کی کسی مدد کے قابل نہ پایا۔
رات ایک بجے کے آس پاس آنکھ کُھلی تو خیمے سے کسی ضرورت کے تحت باہر نکلا۔ دور پہاڑوں کے اوپر روشنی نظر آئی۔ میں نے بھی موبائل کی روشنی سے اپنی موجودگی کا احساس دلایا مگر مجھ میں سکت نہیں تھی کہ میں کچھ دیر باہر رُکا رہتا۔ واپس خیمے میں آ کر سو گیا۔
رات گئے پیچھے رہ جانے والے ساتھیوں کی گُفتگو سنائی دی۔ صبح اٹھ کر پتا چلا کہ جلیل انھیں دو بجے کے لگ بھگ لینے گئے جبکہ ہمارے وہ ساتھی گائیڈ سمیت رستہ بھول چُکے تھے چونکہ کوئی رستہ تو تھا ہی نہیں۔ یوں 24 گھنٹے سفر کرنے کے بعد ساتھی کیمپ تک پہنچ پائے۔
صبح بات چیت سے علم ہوا کہ ہمارا کیمپ سُرخ پتھر جھیل کے کنارے قائم ہے۔
چترالی پورٹرز اب واپس روانہ ہونے والے تھے۔ وہ چاروں مقامی زبان میں خوشی سے گا اور ناچ رہے تھے۔
سُرخ پتھر سے ڈونچار جھیل
7 جولائی منگل کی شام تک منصوبے کے مطابق ہمیں اسلام آباد پہنچنا تھا لیکن اس روز ہم صبح ساڑھے دس بجے کے قریب اگلا پڑاؤ ڈونچار جھیل کے کنارے کرنے کے ارادے سے نکلے۔
یہ ایک خوب صورت رستہ تھا جہاں ندی نالے، دریا، آبشاریں، ہرے بھرے اور بنجر پہاڑ، اونچی نیچی پگڈنڈیاں، پینے کو ٹھنڈا میٹھا پانی اور خوب صورت جھیلیں۔
یہ ایسا رستہ تھا جس کو ذہن میں رکھ کر ہم میں سے اکثر لوگ آئے تھے مگر یہاں آکر تو انھیں باقاعدہ ٹریکنگ کرنی پڑی جہاں کسی رستے کا کوئی نشان نہیں تھا، جس راہ پر چلتے ایک سرمستی اور انفرادیت کا احساس ہوتا تھا کہ یہاں مشکل سے ہی کوئی اور آسکتا ہے۔
مگر یہ واضح تھا کہ یہاں کسی اپنے سے نہ کوئی رابطے کی صورت ہے اور نہ ہی غلطی اور بیمار ہونے کا مارجن ہے۔ کیوں کہ آپ کی کوئی غلطی یا فطرت کی طرف سے کوئی آفت، زندگی کا چراغ گُل بھی کر سکتی ہے۔ بس آپ نے سنبھل کر اگلی منزل کو چلتے ہی جانا ہے۔
آج سُرخ پتھر جھیل سے شروع کیا ہوا سفر بہت بھلا لگ رہا تھا۔ یہاں رستے کا نشان اور زندگی کے آثار تھے۔ کہیں بھیڑ بکریاں اور گائے وغیرہ چرتی ہوئی مل جاتیں اور کہیں کوئی خوب صورت جھیل۔

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
نیل سر جھیل بھی ایسے ہی تھی جیسے کسی نے نیلگوں پانی بڑے سے پیالے میں پہاڑوں کے دامن میں رکھ دیا ہو۔
رستے میں اِکا دُکا مٹی اور پتھر سے بنے گھر بھی نظر آئے مگر مکین کوئی نہ ملا۔ تین بجے کے قریب ایسے ہی کئی گھر اکٹھے ملے جن میں بچوں، عورتوں اور مردوں کی چہل پہل نظر آرہی تھی۔
میں موبائل سے ریکارڈنگ کرنے لگا تو ایک شخص نے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔ میں اس کی طرف بڑھنے لگا تو وہ میری طرف۔ وہ حکیم خان تھا جس نے آکر ہاتھ ملایا، میرا بیگ لے کر اپنے کندھے پر لٹکا لیا اور مسجد کے بڑے سے احاطے میں لے گیا جہاں ہمارے کچھ ساتھی اور گاؤں والے پہلے سے موجود تھے۔
گاؤں کے سربراہ ملک دیر خان نے بتایا کہ یہ 15 کے قریب گھروں پر مشتمل ایک ہی خاندان کے افراد کا گاؤں لوئی پڑغال یا بڑا بیگا ہے جس کا مطلب بڑا گاؤں ہے۔
تھوڑی دیر بعد ہمارے دیگر ساتھی اور کھانا آ گیا۔ بڑے سے احاطے میں چھوٹی سی خوب صورت مسجد کے اندر کھانا دستر خوان پر چُن دیا گیا۔
لوٹے میں پانی ڈال کر سب کے ہاتھ دلوائے گئے۔ تازہ پکی ہوئی بڑی بڑی روٹیوں کے ساتھ مکھن، چینی اور دودھ تھا۔ سب نے جی بھر کر کھانا کھایا۔ بعد میں تازہ دودھ کی بہترین چائے آ گئی۔
فضل گائیڈ نے بتایا کہ حاجی دیر خان میرے ماموں لگتے ہیں۔ روایتی پختون مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو کر اپنی اگلی منزل ڈونچار جیل کی طرف چلے تو ایک تبدیلی اور آئی تھی کہ اکثر شور مچاتی ندیوں کو پار کرنے کے لیے لکڑی کے بڑے شہتیر کا پُل بنا ہوتا۔
یہ اس بات کا نشان تھا کہ اب منزل قریب ہے۔ تھوڑی دیر بعد اپنے کندھے اور گدھے پر ہمارے قافلے کا سامان لادے حکیم خان ہم سے آگے نکل گیا۔ شام سات بجے جب ڈونچار آبشار اور جھیل کے دامن میں پہنچے تو ہم سے پہلے ہی کچھ ساتھی اور پورٹرز وہاں پہنچ چکے تھے، حکیم خان کلہاڑی سے لکڑی کاٹتا دور سے ہی نظر آ گیا۔

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
ڈونچار جھیل کے مقابل جھیل کنارے بوٹ اور جرابیں اتار کر چھوٹے شاہی باغ کے نام سے معروف جنت نظیر قطعے کی مخملیں گھاس پر لیٹ گیا۔
ابھی باقی ساتھی قریب پہنچنے کو تھے کہ مہوڈنڈ کی طرف روانگی کا بگل بج گیا۔ کسی نہ پوچھا کہ جانے کا فیصلہ کس نے کیا، بس فوراً سب روانہ ہو لیے کیونکہ ہر کسی کو گھر پہنچنے کی جلدی اور خوشی تھی۔
اندھیرا ہو چکا تھا، مہوڈنڈ کے راستے میں نصراللہ اور سیف اللہ جھیلیں بھی آئیں لیکن کوئی جھیل بھی ہمیں نہ روک سکی اور 9 بجے کے قریب تقریباً 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہم چار لوگ مہوڈنڈ مقررہ مقام پر پہنچ گئے۔
ڈاکٹر وقار کے مطابق پیڈو میٹر لنگر سے مہوڈنڈ کا فاصلہ کم و بیش 90 کلو میٹر بتا رہا تھا جب کہ جی پی ایس کے مطابق ہم نے تقریباً 65 کلومیٹر فاصلہ طے کیا تھا۔
مہوڈنڈ میں خیموں کا شہر آباد تھا۔ کئی دنوں بعد چکن کڑاہی کی خوشبو بھوک کی اشتہا بڑھا رہی تھی۔ وقفے وقفے سے باقی ساتھی رات گئے تک آتے رہے۔ 11 بجے تک ہلکا پھلکا کھانا کھا چُکے تو رات دو بجے ہم دو گاڑیوں میں 10 لوگ دو گھنٹے کے سفر کے بعد کالام ہوٹل میں پہنچ گئے۔
اگلی صبح ساڑھے دس بجے کوسٹر میں اسلام آباد کی طرف روانہ ہو گئے۔ 6 بجے شام تک ہم اسلام آباد پہنچ چُکے تھے۔ راستے میں فضل کا فون آیا کہ سب لوگ خیریت سے کالام پہنچ چُکے ہیں۔ جب کہ اکمل خان بھی ساتھیوں سمیت لوئی پڑغال پہنچ چُکے تھے اور ان کو لانے کے لیے مہوڈنڈ سے گھوڑے روانہ کر دیے تھے۔
’اس رستے سے گزرنا عام بندے کا کام نہیں‘
ہمارے گائیڈ قرار پانے والے فضل کا کہنا تھا کہ ’میں 2019 میں کچھ لوگوں کے ساتھ یہ ٹریک کر چکا ہوں۔ پیچھے رہ کر مجھے سب کو سنھبالنا تھا۔ آخری رات راستہ بھولنے کی وجہ ایک صاحب کا پیچھے رہ جانا تھا۔ دن ہوتا تو مجھے رستے کا پتا چل جاتا، رات کو راستہ تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
قاری بلال کالام کے رہنے والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کچا کنی، لس پور اور داد ریلی پر ہمارے لوگ جاتے رہتے ہیں لیکن لنگر سے مہوڈنڈ ان سب سے مشکل رستہ ہے۔‘
اکمل خان، فضل اور قاری بلال سب نے بتایا کہ اس ٹریک پر کوئی رستہ نہیں اور ہر سال جب برف باری ختم ہوتی ہے تو گزرنے والے لوگوں کو اپنا رستہ ڈھونڈنا یا بنانا پڑتا ہے۔
قاری بلال نے بتایا ’اس رستے سے گزرنا عام بندے کا کام نہیں، یہ پروفیشنل لوگوں کا ٹریک ہے۔ ٹاپ پر بارش یا برف باری سے اتنا مسئلہ نہیں ہوتا جتنا 16 ہزار فٹ بلندی پر جا کر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اُلٹیاں آ سکتی ہیں اور بندہ کچھ کھا بھی نہیں سکتا۔‘
’کوئی 10 لاکھ دے تو میں کہوں گا 20 لاکھ لو اور تم بھی نہ جاؤ‘

،تصویر کا ذریعہAuthor Photo
ہمارے بہترین ٹریکر ساتھی ڈاکٹر وقار کا کہنا تھا کہ ’میں ایسے چار پانچ ٹریک کر چُکا ہوں۔ میری نظر میں یہ پاکستان کے مشکل ترین ٹریکس میں سے ایک ہے۔ ہمارے ساتھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کبھی کسی ٹریک پر نہیں آئے۔ میں نو آموز لوگوں کو اس ٹریک پر آنے کا مشورہ نہیں دوں گا۔ یہ ٹریک پروفیشنل ٹریکرز کے لیے ہے۔‘
مہم کے منتظم اکمل خان سے جب پوچھا کہ اب اگر کوئی آپ اسی ٹریک پر چلنے کا کہے تو آپ کا جواب کیا ہو گا تو کہنے لگے کہ ’مجھے اگر کوئی 10 لاکھ دے تو میں اسے کہوں گا 20 لاکھ لو اور تم بھی نہ جاؤ۔‘











