گجرات پولیس کی ’جگاڑ‘ لیڈی کانسٹیبل نہ ہونے پر مرد اہلکار کو نقاب پہنا کر ملزمہ کے ساتھ فوٹو سیشن کروا لیا

،تصویر کا ذریعہPolice
- مصنف, احتشام احمد شامی
- عہدہ, صحافی، گوجرانوالہ
پاکستان میں سوشل میڈیا آنے کے بعد سے اکثر دیکھا گیا ہے کہ پولیس اپنے کارناموں کی تشہیر کے لیے بھی اسی میڈیم کا سہارا لیتی ہے اور ملزمان کی گرفتاریوں اور ان سے برآمد ہونے والے اسلحے کی تصاویر سے لے کر ان کے ساتھ کیے جانے والے فوٹو سیشن ہمیں آئے روز سوشل میڈیا پر نظر آتے رہتے ہیں۔ تاہم کارکردگی دکھانے کے لیے کیا گیا ایسا ہی ایک فوٹو شوٹ گجرات کی پولیس کو خاصا مہنگا پڑا ہے۔
تو واقعہ کچھ یوں ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے تھانہ دولت نگر میں خاتون پولیس اہلکار موجود نہ ہونے پر ایک مرد اہلکار کو نقاب پہنا کر ملزمہ کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا اور پولیس کی جانب سے یہ فوٹو سیشن میڈیا کو بھی جاری کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ پولیس ایکٹ کے تحت کسی خاتون کی گرفتاری کے وقت خاتون پولیس اہلکار کی موجودگی لازمی ہے اور شاید اسی قانون کا پاس رکھنے کی غرض سے پولیس کی جانب سے یہ اقدام اٹھایا گیا۔
سوشل میڈیا پر بھی صارفین پولیس کے اس انوکھے اقدام کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔
گجرات پولیس کے ترجمان کے مطابق ایس ایچ او تھانہ دولت نگر کی مبینہ منشیات فروش خاتون کے ساتھ بنائی گئی مشکوک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے معاملے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور ’ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات عطا الرحمٰن نے محکمے کی جگ ہنسائی کا باعث بننے پر ایس ایچ او کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا ہے۔‘
پولیس حکام کے مطابق ایس ایچ او کے خلاف تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں اور اس سلسلے میں ڈی ایس پی صدر کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔

واقعہ کس طرح پیش آیا؟
گجرات کے تھانہ دولت نگر کے اہلکاروں نے ناجائز اسلحہ برداروں اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو ناجائز اسلحہ بردار اور ایک خاتون منشیات فروش ملزمہ کو گرفتار کیا جن کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کیے گئے، پولیس نے بعد ازاں گرفتار ملزمان اور خاتون منشیات فروش ملزمہ کی اسلحہ اور منشیات کے ساتھ تصویر بنوائی۔
پولیس ایکٹ کے مطابق کسی ملزمہ کی گرفتاری کے لیے خاتون اہلکار کا ساتھ ہونا لازم ہوتا ہے، اسی طرح اگر خاتون ملزمہ کو مجاز عدالت میں پیش کیا جاتا ہے یا کسی خاتون ملزمہ کی تصویر میڈیا کو جاری کی جاتی ہے تو قانون کے مطابق خاتون اہلکار کا ہمراہ ہونا لازم ہے۔
تھانہ دولت نگر میں جس مرد اہلکار کو مبینہ طور پر خاتون اہلکار ظاہر کرکے نقاب پہنا کر خاتون ملزمہ کے ساتھ کھڑا کیا گیا اس اہلکار کا قد قدرے لمبا تھا اور عام طور پر خواتین کا قد اتنا لمبا نہیں ہوتا، یوں اہلکار کا لمبا قد ایس ایچ او کے لیے مشکلات کا باعث بن گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گجرات پولیس کے ترجمان کی پریس ریلیز کے مطابق شکوک وشبہات پیدا کرنے والی بظاہر لیڈی کانسٹیبل کو ملزمہ کے ساتھ کھڑا کیا گیا جس کے بعد ایس ایچ او نے وہ تصویر مقامی میڈیا کو جاری کی اور سوشل میڈیا گروپس میں بھی شیئر کر دی جو بعد ازاں وائرل ہو کر محکمے کے لیے بدنامی اور جگ ہنسائی کا باعث بنی۔
یہ بھی پڑھیے
ڈسٹرکٹ پولیس حکام نے ’غیر ذمہ دارانہ رویے پر ایس ایچ او تھانہ دولت نگر کو معطل کر کے پولیس لائن تبدیل کر دیا ہے اور واقعے کی مکمل انکوائری کے لیے ڈی ایس پی صدر کو ہدایت کی ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر معاملے کی مکمل انکوائری کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔‘
ڈی ایس پی صدر نے اس سلسلے میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جب منشیات فروش ملزمہ گرفتار کی گئی اس وقت خاتون اہلکار تھانے میں موجود تھیں، لیکن جب کچھ گھنٹوں بعد تصاویر بنوائی گئیں تو خاتون اہلکار چھٹی کر کے اپنے گھر جا چکی تھیں جس وجہ سے مرد اہلکار کو نقاب پہنا کر ساتھ کھڑا کیا گیا جو کہ ایک غلط اقدام تھا۔
تھانہ دولت نگر کے ایس ایچ معطل ہونے کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تصویر میں ’لیڈی پولیس ہی ہے، بس اس کا قد ذرا بڑا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ردِعمل

،تصویر کا ذریعہSocial Media
جہاں اس واقعے کی تصاویر سامنے آنے پر علاقے کے افراد حیران ہیں وہیں سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے بھی جاری ہیں۔
ایک صارف زین بسرا نے قد کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ 'روسی لیڈی کانسٹیبل ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہSocial Media
عاطف عزیز کا کہنا تھا کہ ’یہ پنجاب پولیس ہے جو کچھ بھی کرسکتی ہے۔‘
ثاقب راجپوت نے لکھا کہ ‘پاکستانی جگاڑو‘ جس کے جواب میں عدنان صفدر اعوان نے پولیس کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ ‘بہرحال قانون کی پیروی کرنے کی کوشش کی گئی ہے!‘












