آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈالر کی قدر میں ایک دن میں سات روپے کا ریکارڈ اضافہ: وجوہات کیا ہیں؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم ان سب کا احتساب کرے گی جو 'حکومت کی تبدیلی کی سازش اور پاکستان کو اس افسوسناک صورتحال تک پہنچانے میں ملوث تھے۔'
ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ جب امریکی سازش کے تحت تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی تو اس وقت ڈالر کی قدر 178 روپے تھی جبکہ آج آئی ایم ایف معاہدے کے باوجود یہ 224 روپے ہے اور فری فال میں ہے۔
پاکستان میں منگل کے روز روپے کے مقابلے میں ایک ڈالر کی قیمت میں تقریباً سات روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں گذشتہ کئی مہینوں سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایک ڈالر کی قیمت انٹرا ڈے ٹریڈ میں 222 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جو ملکی تاریخ میں ڈالر کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔
گذشتہ روز ایک ڈالر کی قیمت 215.19 روپے کی سطح پر بند ہوئی تھی جو گذشتہ روز ملکی تاریخ کی سب سے بلند سطح تھی تاہم منگل کے روز کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی ڈالر کی قیمت میں اضافہ دوبارہ دیکھا گیا جو بڑھتے بڑھتے 222 روپے کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
پاکستان میں اپریل کے شروع میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ڈالر کی قیمت میں تھوڑی سی کمی دیکھی گئی تھی تاہم 11 اپریل کے بعد ڈالر کی قیمت میں دوبارہ اضافہ شروع ہوا جس میں اب تک مسلسل اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔
پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ قرضہ پروگرام بحالی کے معاہدے میں تاخیر کی وجہ سے مئی اور جون میں روپے کی قدر کو شدید طور پر متاثر کیا تھا۔
یاد رہے کہ موجودہ حکومت کے ابتدائی چند ماہ میں ہی ایک ڈالر کی قیمت میں 38 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
ایک دن میں سات روپے کا اضافہ کیا تاریخ کا سب سے بڑا یومیہ اضافہ ہے؟
سوموار (18 جولائی) کو کاروبار کے اختتام پر پاکستان میں ایک ڈالر کی قیمت 215.19 روپے پر بند ہوئی تھی جو منگل کے روز کاروبار کے دوران 222 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو ایک دن میں تقریباً سات روپے کا اضافہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ منگل کے روز ڈالر کی قیمت میں تقریباً سات روپے ہونے والا اضافہ ملکی تاریخ میں کسی ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے سے پہلے ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ گزشتہ روز ریکارڈ کیا گیا تھا جو لگ بھگ چار روپے سے زیادہ تھا۔
پاکستان میں 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر ایک ڈالر کی قیمت 204.85 کی سطح پر بند ہوئی تھی۔
پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والے بے تحاشا اضافے کی کیا وجوہات ہیں؟
پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں گذشتہ کئی مہینوں سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ ملک کا بڑھتا ہوا درآمدی بل ہے جو عالمی مارکیٹ میں تیل، گیس اور اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھا کیونکہ پاکستان توانائی اور خوردنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان شعبوں کی اشیا درآمد کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی میں تاخیر نے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا کیونکہ پاکستان میں اس پروگرام کی بحالی نہ ہونے سے بین الاقوامی فنانسنگ رُکی ہوئی تھی۔
گذشتہ ہفتے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا جانے کے بعد ڈالر کی قیمت میں کچھ کمی دیکھی گئی تاہم گذشتہ چند روز سے ڈالر کی قیمت میں ایک بار اضافہ دیکھا گیا اور ڈالر 222 روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیے
ملک بوستان نے اس سلسلے میں کہا کہ اس وقت ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے کی سب سے بڑی وجہ ملک میں دو دن میں پیدا ہونے والی غیر یقینی سیاسی صورتحال ہے جو پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد ابھری ہے۔
انھوں نے کہا ان نتائج کے بعد قیاس آرائیوں نے جنم لیا جن میں موجودہ سیٹ اپ کے مزید چلنے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ملک بوستان نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام کے بحال ہونے کے بارے میں بھی سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں کہ اگر یہ سیٹ اپ نہیں چلتا تو پروگرام کی بحالی ہو پائے گی یا نہیں۔
انھوں نے کہا اس صورتحال نے روپے کے لیے منفی تاثر چھوڑا کیونکہ پاکستان کو اس سال 30 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ چاہیے اور یہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے مشروط ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچہ کے خیال میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والا بے تحاشا اضافہ شاید آئی ایم ایف کی کسی شرط کے تحت کیا جا رہا ہے جس میں پاکستانی کرنسی کو ڈی ویلیو کرنا ہے کیونکہ سیاسی صورتحال اور ڈالر کی رسد و طلب کا اتنا بڑا اثر نہیں آنا چاہیے تھا کہ دو دونوں میں ڈالر بارہ روپے تک بڑھ جائے۔
کیا ڈالر کی بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی قدر روپے کی قیمت پر اثر ڈال رہی ہے؟
معاشی اور مالیاتی امور کے تجزیہ کار خرم شہزاد سیاسی صورتحال کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کو بھی پاکستان میں اس کی قیمت میں اضافے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا دنیا بھر میں کرنسیاں ڈالر کے مقابلے میں گری ہیں جن میں یورو جیسی مضبوط کرنسی بھی شامل ہے۔ اسی طرح انڈین روپیہ بھی ڈالر کے مقابلے میں گرا ہے جو 80 ہندوستانی روپیہ تک گر گئی ہے۔ انھوں نے کہا بنگلہ دیش کا ٹکا بھی ڈالر کے مقابلے میں گرا ہے۔
ملک بوستان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ دنیا بھر کی کرنسیوں کو اس کے خلاف کمزور کر رہا ہے۔