پنجاب کے ضمنی انتخابات: پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا؟

    • مصنف, احمد اعجاز
    • عہدہ, صحافی، مصنف

17 جولائی کو پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی 20 میں سے پندرہ سیٹوں پر کامیاب ہو چکی ہے جبکہ مسلم لیگ ن نے چار نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ ضمنی الیکشن بے حد اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا تھا کیونکہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا فیصلہ اور بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں وفاقی حکومت کا مستقبل بھی اس سے جڑا ہوا تھا۔

اگر مسلم لیگ ن یہ ضمنی انتخابات جیت جاتی تو پنجاب میں جہاں حمزہ شہباز شریف کی حکومت برقرار رہتی وہیں وفاقی حکومت بھی طاقتور ہو جاتی۔ گویا مسلم لیگ ن کا وفاق کا ہچکولے لیتا اقتدار پنجاب میں فتح کا منتظر تھا۔

اب چونکہ صورتحال واضح ہو چکی لہذا یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ضمنی الیکشن کے یہ نتائج مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟

کیا عام انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی؟

پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد کیا حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اب بھی قومی اسمبلی کی معیاد مکمل کرنے کے اپنے اعلان پر قائم رہے گی؟

بعض تجزیہ کار اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کم از کم وزیراعظم شہباز شریف یہی چاہیں گے کہ عام انتخابات کی مُدت کو آگے کی جانب کھینچا جائے اور وزیراعظم کچھ ماہ بعد اہم تقرریوں کا فیصلہ کریں اور اُس کے بعد جا کر انتخابات کا اعلان کریں۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی جانب سے دباؤ بڑھایا جائے گا کہ فوری طور پر وفاقی حکومت کا خاتمہ اور نئے انتخابات کااعلان ہو۔

گذشتہ رات جب نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری تھا اور پی ٹی آئی کی برتری واضح ہو چکی تھی تو عمران خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ’ملک کے آگے بڑھنے کا واحد راستہ فوری طور پر صاف اور شفات الیکشن ہے، جو کہ غیر متنازع الیکشن کمیشن کروائے، کوئی اور راستہ سیاسی بے یقینی اور مزید معاشی افراتفری کا باعث بنے گا۔‘

خود حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں نے تسلیم کیا ہے کہ عمران خان کا فوری انتخابات کے انعقاد کا دباؤ وفاقی حکومت کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر وفاقی حکومت یہ دباؤ برداشت نہیں کر پاتی تو یہ ضمنی انتخابات کے نتائج کا مینڈیٹ ہے جس نے یہ واضح کر دیا کہ پی ٹی آئی ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے اور اہم ملکی فیصلے اِس کی منشا کے بغیر نہیں ہو سکتے۔

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ کہتے ہیں ’حکومت پر فوری انتخابات کے انعقاد کا دباؤ پہلے بھی تھا، جو اب مزید بڑھ جائے گا۔اگر عمران خان تصادم کے بجائے افہام و تفہیم کا راستہ اپناتے ہوئے مطالبہ کریں تو شاید سیاسی جماعتیں رضامند ہو جائیں۔‘

مسلم لیگ ن کے پاس وفاقی حکومت قائم رکھنے کا جواز ہے؟

ویسے تو ضمنی انتخابات صوبائی اسمبلی کے چند گنے چنے حلقوں میں ہوئے ہیں اور بظاہر تو ان ضمنی انتخابات کی وفاقی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن بعض مبصر اور سیاسی رہنما اس بات پر اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کو شکست کے بعد وفاقی حکومت قائم رکھنے کا سیاسی اور اخلاقی جواز نہیں رہتا۔

اگر مسلم لیگ ن کسی نہ کسی طرح وفاقی حکومت قائم رکھتی ہے تو پاکستان کی تاریخ میں پہلی وفاقی حکومت ہو گی جو خالصتاً اسلام آباد کے اقتدار تک محدود ہو گی۔ یہ بہت ہی انوکھا معاملہ ہو گا کہ وفاق میں برسرِ اقتدار جماعت پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کہیں پر بھی حکومت نہیں رکھتی۔

اس صورتحال میں شہباز شریف اسلام آباد کے چند مربع کلومیٹر پر حکومت کریں گے؟

پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں ’مسلم لیگ ن کے پاس وفاقی حکومت برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ اچھا نقطہ اُٹھایا گیا کہ اگر حکومت برقرار رہی تو یہ صرف اسلام آباد کی حد تک ہو گی۔‘

سلمان غنی بھی ایسا ہی خیال ظاہر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن کو فوری طوپر الیکشن میں جانا چاہیے تھا اور اب بھی اس کو عوام کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔‘

انتخابی اُمور کے ماہر سرور باری کہتے ہیں ’مسلم لیگ ن کے پاس جوا ز نہیں، لیکن اگر وہ وفاقی حکومت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کا حق ہے۔‘

مریم نواز کے مقابلے میں عمران خان کا بیانیہ جیت گیا؟

ضمنی انتخابات کے نتائج مسلم لیگ ن کے لیے ایک پہلو یہ بھی رکھتے ہیں کہ مبینہ طور پر عمران خان کے بیانیہ نے مریم نواز کے بیانیہ پر فوقیت پائی ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید کا بیانیہ ترتیب دیا تھا جس میں اضافہ یہ کیا گیا کہ ’اچھے دِن آنے والے ہیں۔‘

مریم نواز کی تنقید کا سارا زور عمران خان کے ساڑھے تین برس کی کارکردگی پر رہا، وہ فرح گوگی کو موضوع بنا کر بنی گالہ کو کرپشن کا گڑھ کہتی رہیں۔ واضح رہے کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ عوام سے مخاطب ہوتے وقت مریم نواز کا طرزِ تخاطب یکسر تبدیل ہوا۔

شاید لوگ ویسی ہی آواز سننا چاہتے تھے، جو وہ گذشتہ چار پانچ سال سے سُن رہے تھے۔ اگر ضمنی انتخابات کے تناظر میں عمران خان کے بیانیہ کی بات کریں تو وہ مسلسل کہتے رہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں کے ٹولے کو ہمارے اوپر لا کر بٹھایا گیا۔ یعنی وہ شریف خاندان سمیت زرداری اور مولانا فضل الرحمن پر جہاں کڑی تنقید کرتے تھے وہاں وہ مبینہ طور پر اِن کو ’مسلط‘ کرنے والوں کو لتاڑتے تھے۔

راقم کو ضمنی حلقوں میں جانے کا اتفاق ہوا، عوام کی کثیر تعداد جو کچھ سننا چاہتی وہ عمران خان کہہ رہے تھے۔

اگلے انتخابات میں مریم نواز کے پاس جلسوں میں عوام کو مخاطب کرنے کے لیے کیا ہو گا؟ سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’مریم نوا ز ہی نواز شریف کی حقیقی آواز ہے۔ مریم نے یہ شکست بھی تسلیم کی۔ ضمنی انتخابات کی مریم نے بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ آج بھی مریم کو عوام میں پذیرائی حاصل ہے۔‘

پی ٹی آئی کو انتخابات جیتنے کے لیے اسٹیبلیشمنٹ کے سہارے کی ضرورت نہیں؟

یہ ضمنی انتخابات کے نتائج پی ٹی آئی کو اس لحاظ سے تقویت دینے کا باعث بنیں گے کہ یہ جماعت کسی'سہارے' کے بغیر الیکشن جیت سکتی ہے۔

حالیہ صف بندی میں اگر پی ٹی آئی یہ انتخابات ہار جاتی تو یہ تاثر مزید قائم ہو جاتا کہ پی ٹی آئی جلسے جلوسوں کی جماعت ہے جو گذشتہ الیکشن اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے جیتی تھی اور کوئی بھی الیکشن اُن کی سپورٹ کے بغیر نہیں جیت سکتی۔

اس طرح یہ کامیابی اگلے انتخابات پر اس لحاظ سے بھی اپنے اثرات چھوڑے گی کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے بغیر بھی جیت سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں ’اپوزیشن ایکسپوز ہوئی ہے۔ میرے نزدیک تو یہ تاثر پہلے بھی نہیں تھا۔ عمران خان پر جو شک کرتے تھے کہ اِن کو بیساکھیوں کے سہارے کی ضرورت رہتی ہے، وہ خود کہہ رہے ہیں کہ جو عمران خان 2018 میں تھا وہ اب نہیں، یہ قومی لیڈر بن چکا ہے۔ اگر تاثر تھا تو اب بالکل ختم ہو جائے گا۔‘

سرور باری کہتے ہیں کہ ’اگر اینٹی اسٹیبلیشمنٹ تاثر تھا تو وہ محض الیکٹیبلز کی حد تک تھا۔اب ان انتخابات کے بعد یہ تاثر بالکل ختم ہو جانا چاہیے۔‘

مسلم لیگ ن کے اندر شکست و ریخت

ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کہ مسلم لیگ ن کی اس شکست سے پارٹی کے اندر اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔ مثلاً میاں نواز شریف کے مبینہ کیمپ سے وابستہ رہنما کہہ سکتے ہیں کہ شہباز شریف کا بیانیہ غلط ثابت ہوا ہے، شہباز شریف کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد حکومت سازی کی جانب نہیں جانا چاہیے تھا۔

جبکہ شہباز شریف کے کیمپ کی جانب سے یہ کہا جا سکتا ہے، چونکہ مریم نواز انتخابی مہم چلا رہی تھیں تو یہ مریم کی ناکامی ہے۔ یوں پارٹی کے اندر دوریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس ضمن میں پروفیسر رسول بخش رئیس کا خیال ہے ’مسلم لیگ ن میں ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوگی بلکہ یہ اپنی صفوں کو درست کرنے پر توجہ دے گی۔ اگر پارٹی کے اندر اختلافات کی بنیادپر ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تو یہ مزید کمزور ہو جائے گی۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پی ایم ایل این نے حکومت سازی کی تو مریم نواز نے اسی زمانے کہہ دیا تھا کہ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں۔‘

سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ ن کی سیاست پر نظر رکھنے والے سلمان غنی کا خیال بھی یہی ہے ’مسلم لیگ ن میں اندرونی اختلاف پید ا نہیں ہوں گے۔ ایک بات واضح کرتا چلوں کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن کا حکومت سازی کا فیصلہ مکمل طور پر نواز شریف کی آشیر باد سے ہوا تھا۔ نوازشریف کا فیصلہ ہی حتمی تھا۔ البتہ اُس وقت پارٹی کے اندر کافی لوگ یہ کہتے تھے کہ جلد الیکشن کی طرف جانا چاہیے۔ اب یہ بوجھ مسلم لیگ ن کو اُٹھانا پڑے گا۔‘

کیا پنجاب میں اینٹی اسٹیبلیشمنٹ ووٹ بڑھا؟

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کی کامیابی نے پنجاب میں اینٹی اسٹیبلیشمنٹ ووٹ بینک کو مضبوط بھی کردیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت میں تھی اور اسٹیبلیشمنٹ سے قربت رکھتی تھی تو مسلم لیگ ن نے ضمنی انتخابات میں کامیابیاں سمیٹیں، میاں نواز شریف اور مریم نواز کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنا رنگ دکھاتا رہا۔ عمران خان کی حکومت ختم ہوئی، مسلم لیگ ن اور اسٹیبلیشمنٹ کے مابین مبینہ طورپر دوریاں مٹ گئیں، دوسری طرف پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں خلا پیدا ہوا۔

اِن ضمنی انتخابات نے صورتحال کو بدل کر رکھ دیا۔ اگرچہ عمران خان کے پاس، چور، غدار، ڈاکو جیسے نعرے تھے اور مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کا فیکٹر بھی موجود تھا مگر وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت سازی کے پیچھے عمران خان کا جو اینٹی اسٹیبلشمنٹ نعرہ تھا وہ اثریت کا حامل ٹھہرا ہے۔

مگر رسول بخش رئیس کہتے ہیں ’مسلم لیگ ن نے عمران خان دور حکومت میں ضمنی انتخابات اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ پر نہیں جیتے تھے۔ حتیٰ کہ شہباز شریف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ رکھنے والے مخصوص پارٹی رہنماؤں کو سمجھاتے تھے۔ عمران خان نے واضح پوزیشن تو اب لی ہے، لیکن عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ رکھنا نہیں چاہتا۔‘

سلمان غنی کہتے ہیں ’نواز شریف کی پارٹی نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ نعرہ چھوڑ دیا، عمران نے اپنا لیا، پذیرائی بھی ملی، لیکن عمران خان قطعی طور پر اینٹی اسٹیبلیشمنٹ نہیں ہیں۔‘

انتخابات میں جیت کے لیے نعروں کی منتقلی

ہمارے ہاں انتخابات ’جذباتی لہر‘ کے سہارے پر بھی چلتے ہیں۔ اس وقت یہ ’لہر‘ پی ٹی آئی کو میسر تھی جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے پاس کوئی جذباتی و رومانوی ایسا نعرہ نہیں تھا جو ووٹرز کو متحرک کر سکے یا نوجوان نسل کو اپنی جانب کھینچ سکے۔

دوسری جانب ہماری آنکھیں گاڑیوں کے پیچھے لکھا ’امپورٹڈ حکومت نامنظور‘، ’ہم کوئی غلام ہیں، جو تم کہو وہ کریں‘، ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ دیکھتی رہتی ہیں۔ اگرچہ میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کے پاس ’ووٹ کوعزت دو‘، ’مجھے کیوں نکالا‘، ’سول بالادستی‘ جیسے نعرے تھے، جو اس ضمنی انتخابات تک آتے آتے اپنی گونج کھو بیٹھے۔

عمران خان کے دورِ حکومت میں مسلم لیگ ن نے پنجاب میں اپنی مقبولیت کو برقرار رکھا اور اپنے ووٹرز کو بھی اپنے ساتھ جوڑے رکھا۔

الیکشن میں جیت کے لیے نعروں کی کتنی اہمیت تھی؟ اس حوالے سے سلمان غنی کہتے ہیں ’ووٹ کو عزت دو نعرے کو عوام میں پذیرائی ملی تھی۔ اُس وقت ہم نے دیکھا کہ ن لیگ کے ٹکٹ کی بہت اہمیت تھی، لوگ اس میں شامل ہو رہے تھے۔ اب نواز شریف کو تمام مصلحت چھوڑ کر واپس آنا ہوگا، ورنہ رہی سہی مقبولیت بھی ختم ہو جائے گی۔‘