آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنجاب کے ضمنی انتخابات: پاکستانی سیاست، بریانی کے ڈبوں سے لے کر موٹرسائیکلوں تک
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے لے کر ووٹر اور سپوٹر ایک دوسرے پر اکثر تنقیدی جملے کستے ہوئے یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ’تم تو بریانی کے ڈبوں پر بکنے والے لوگ ہو‘ یا پھر ’برگر پارٹی‘ یا پھر ’لفافے لینے والے‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
کچھ لوگوں کے نزدیک یہ تو چھوٹی موٹی باتیں ہیں کیونکہ ان کے خیال میں سیاست میں اپنے ووٹروں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا ووٹ انمول ہے جیسے کسی کھانے کے ڈبے سے خریدا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔ اور تیسری پارٹی وہ ہے جسے سیاست دان اور لوگ اسٹیبلشنمٹ اور انتظامیہ کا کہتے ہوئے الزام عائد کرتے ہیں کہ انھیں ووٹ کو عزت دینے یا خریدنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ الیکشن کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہیں۔
ویسے تو ووٹروں کو زیادہ تر یہ گلہ رہتا ہے کہ ہمارا خیال سیاستدانوں کو اسی وقت آتا ہے جب انھیں ہمارے ووٹ چاہیے ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاستدان اپنے ووٹروں اور ان کے ووٹ کا خیال کیسے رکھتے ہیں؟
17 جولائی کو پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن بھی اس وقت سیاسی جماعتوں کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنے جنرل الیکشن۔ یاد رہے کہ پچھلے چند ماہ میں پاکستان کی سیاست میں خاصی تبدلیاں دیکھنے میں آئی ہے۔ جس کے بعد سیاست سے جڑا ہر شخص یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ ابھی لوگوں میں ان کی مقبولیت دوسری جماعت یا شخص سے زیادہ ہے۔
اس معاملے پر سیاسی ماہرین کی یہ رائے ہے کہ یہ الیکشن آنے والے سیاسی نقشے پر گہرے نشانات چھوڑے گا جس کے اثرات آئندہ ہونے والے الیکشن پر بھی پڑیں گے۔
اس لیے پنجاب کی سیاست میں اس وقت کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ان ضمنی انتخابات کے لیے خاصہ زور لگا رہی ہیں۔
یہ زور کئی حلقوں میں بریانی کے ڈبوں سے بڑھ کر موٹر سائیکلوں تک جا پہنچا ہے۔
گذشتہ روز ملتان سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے زین قریشی کے حوالے سے کچھ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ انھوں نے دس ووٹوں کے بدلے ایک موٹر سائیکل کا اعلان کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حوالے سے الیکشن کمیشن پنجاب کی ترجمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہم تک سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو پہنچی تھی جس پر الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے اس کی انکوئری کا حکم دیا ہے۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے زین قریشی نے ٹوئٹ کی جس میں انھوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار سلمان نعیم کو جاری ہونے والے الیکشن کمیشن کے نوٹس کی تصویر لگائی اور لکھا کہ سلمان نعیم کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کیونکہ ہم نے الیکشن کمیشن کو ثبوت دیے تھے کہ وہ کس طرح ووٹ خرید رہے ہیں۔
اس معاملے کو برابر کرنے کے لیے مجھے ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے، یہ ناقابل قبول ہے۔ ہم بدعنوانی میں ملوث نہیں ہیں اور نہ ہی کریں گے۔ یہ پی ٹی آئی کے ڈی این اے کے خلاف ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن پنجاب نے بتایا کہ حالیہ ضمنی الیکشن میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ایک حلقے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی جانب سے نقد رقموں دینے کا اعلان کیا گیا اور وہ ویڈیو بھی ہم تک پہنچی تھی جس پر انھیں بلا کر نوٹس اور وارنگ دی گئی ہے۔
الیکشن سے قبل ایسے واقعات سامنے آئے ہیں۔ تاہم یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ووٹ خریدنے کے لیے بولی لگائی گئی یا ووٹر کو کوئی چیز یا فائدہ دیا گیا ہو۔ ماضی میں بھی کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں میں نے خود امیدواروں کو الیکشن جیتنے کے لیے جلسوں اور میٹنگز کے علاوہ ووٹرز کو فائدے دیتے بھی دیکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسی طرح 2018 میں ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ان کے انتخابی نشان کے سونے کے لاکٹ بنوائے گئے تاکہ خواتین ووٹرز کو بھی خوش کیا جا سکے۔ یہی نہیں بلکہ لاہور کے کچھ حلقوں میں موٹرسائیکل دینے کی روایت بھی پرانی ہے۔
ہاں البتہ کھانے کھلانے کو اکثر سیاست دان اور ووٹرز مہمان نوازی اور خاطرداری میں شمار کرتے ہیں اور ہر صوبے میں اسے ہماری روایات ہیں کا نام دے دیا جاتا ہے۔
ان ذاتی تجربوں کے علاوہ اکثر صحافی دوست بھی ایسی کئی داستانیں سناتے ہیں۔
صحافی ماجد نظامی نے اپنے ایسے ہی ایک تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے خود ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کی گاڑی میں پیسوں سے بھرے بیگ رکھتےہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ الیکشن ہیں حلقے میں جائیں تو ضرورت پڑ ہی جاتی ہے۔
اس تمام تر معاملے پر تجزیہ کار نصرت جاوید نے بتایا کہ میں کئی سالوں سے پاکستان کے علاوہ جنوبی ایشا کے دیگر ممالک کے الیکشن کوور کر چکا ہوں۔ اور میرے خیال میں ووٹ کو خریدنے کا عمل تقریباً ہر جگہ ہی ہے۔ تاہم اس کے لیے طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے۔
انھوں نے پاکستان کے بارے میں تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ `سیاست اور الیکشن پاکستان میں انتہائی مہنگا ہوگیا ہے۔ تاہم میرے تجزیے کہ مطابق 2008 کے الیکشن کے بعد ووٹرز کے لیے پیسوں کا استعمال زیادہ ہوا اور یہ رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس سے قبل طریقہ یہ ہوتا تھا کہ ووٹر کی فرمائش ہوتی تھی کہ ہماری گلی کی سڑک ٹھیک کروا دیں یا حلقے کا کام کروا دیں۔‘
تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ `یہ تو سیاست دان کی بیوقوفی ہے کہ وہ اگر اپنے ووٹرز کو موٹرسائیکل دے رہا ہے۔ کیونکہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ ایسے فوائد لے کر ووٹ اسی شخص کو ڈالے گا۔ یہ بات درست ہے کہ ووٹر کو خریدنے کے لیے ایسے حربے اپنائے جاتے ہیں لیکن ان کا فائدہ نہیں ہوتا الٹا ہماری سیاست کو اس سے نقصان ہی ہو رہا ہے۔ ‘