آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنجاب کا ضمنی الیکشن: تحریک انصاف نے ٹکٹ دیرینہ کارکنوں کے بجائے ’الیکٹیبلز‘ کو کیوں دیے؟
- مصنف, عمردراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
پاکستان کے سب سے بڑے اور انتخابی لحاظ سے اہم صوبے پنجاب میں حکومت کس جماعت کی ہو گی اس کا فیصلہ چند ہی روز میں 20 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد ہو جائے گا۔
موجودہ وزیرِاعلٰی پنجاب حمزہ شہباز کو 10 کے لگ بھگ نشستیں درکار ہیں تاکہ وہ دوبارہ گنتی میں وزیرِ اعلٰی کے عہدے پر برقرار رہ سکیں۔ دوسری طرف اگر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ان 20 نشستوں میں سے اکثریت جیت جاتی ہے تو وہ ایک مرتبہ پھر پنجاب میں اگلے سال عام انتخاب تک حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
پنجاب کے ضمنی انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کہ حال ہی میں پی ٹی آئی کی مرکز میں حکومت ختم ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب سابق وزیرِاعظم عمران خان کو 'عوام کے پاس جانے' یعنی الیکشن کروانے اور عوام میں مقبولیت کے اپنے بیانیے کو عملی طور پر ثابت کرنے کا موقع ملے گا۔
پنجاب کے 20 ضمنی حلقوں میں مقابلہ واضح طور پر دو ہی جماعتوں یعنی پاکستان مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر چکی ہے اور پاکستان مسلم لیگ ق پی ٹی آئی کا ساتھ دے رہی ہے۔
رواں ماہ کی 17 تاریخ کو زیادہ تر حلقوں میں مقابلہ سخت رہنے کی توقع ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے زیادہ تر حلقوں میں پی ٹی آئی کے ان ہی سابق ممبران کو ٹکٹ دے رکھے ہیں جن کے منحرف ہونے کی وجہ سے یہ نشستیں خالی ہوئی تھیں۔
یعنی یہ امیدوار اپنی ہی سابقہ جماعت کے خلاف ن لیگ کے امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی الیکشن مہم کے دوران 'وفاداری تبدیل کرنے والے' سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انتخابی مہم میں یہ ان کے بنیادی نعروں میں سے ایک ہے کہ 'عوام ایسے ضمیر فروش سیاستدانوں کو سبق سکھائیں گے۔' اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد سابق وزیرِاعظم عمران خان کئی مرتبہ اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ پہلے ان سے غلطی ہوئی لیکن اب وہ ٹکٹ صرف جماعت کے دیرینہ کارکنوں کو دیں گے۔
تاہم ضمنی انتخابات میں ن لیگ کے زیادہ تر 'الیکٹیبلز' کے خلاف انھوں نے بھی جن امیدواروں کو ٹکٹس دیے ہیں ان میں اکثریت 'الیکٹیبلز' کی ہے۔ یعنی ایسے سیاستدان جن کا ذاتی یا خاندانی اثر و رسوخ یا ووٹ بینک موجود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان میں بھی زیادہ تر ایسے سیاستدان شامل ہیں جو یا تو حال ہی میں کسی دوسری جماعت سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں یا پھر پی ٹی آئی میں آنے سے پہلے ایک یا ایک سے زیادہ جماعتیں تبدیل کر چکے ہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی دیرینہ کارکنون کو ٹکٹس دینے کی بات پر عملدرآمد کیوں نہیں کر پائی؟ کیا وہ ضمنی انتخابات میں رسک نہیں لینا چاہتی یا پھر حقیقت میں اس کے لیے الیکٹیبلز کے بجائے کارکنوں کو ٹکٹ دینا کسی بھی الیکشن میں ممکن نہیں ہے؟
اس کے لیے ضمنی انتخابات کے چند حلقوں پر نظر ڈالتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو ان انتخابات میں کس نوعیت کے مقابلے کا سامنا ہے اور کیا ان انتخابات کے نتائج مستقبل میں عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے لائحہ عمل پر بھی اثرانداز ہوں گے؟
پی پی 272 مظفر گڑھ
صوبائی اسمبلی کی یہ نشست پاکستان تحریکِ انصاف کی سابق رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرہ بتول کے منحرف ہونے پر خالی ہوئی۔ اسی حلقے سے ان کے صاحبزادے سید باسط سلطان بخاری پی ٹی آئی کے 'ناراض' رکن قومی اسمبلی ہیں۔
ضمنی انتخابات میں باسط سلطان کی اہلیہ زہرہ باسط بتول ن لیگ کی امیدوار ہیں۔ لیکن دوسری طرف باسط سلطان کے بھائی ہارون بخاری بھی آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں موجود ہوں گے۔ ایک ہی خاندان کی ان دو شخصیات میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔
ایسے میں پاکستان تحریکِ انصاف نے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے معظم خان جتوئی کو میدان میں اتارا ہے۔ وہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے جتوئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے کزن عبدالقیوم خان جتوئی سنہ 2008 سے 2010 تک صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔
روایتی طور پر اس حلقے میں سیاسی جماعتوں کے مقابلے شخصیات اور برادری سسٹم کو سامنے رکھتے ہوئے ووٹ دیا جاتا ہے۔ معظم خان جتوئی نے سنہ 2018 میں بھی پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا تھا لیکن آزاد امیدوار باسط سلطان سے شکست کھا گئے تھے۔
اس سے قبل وہ ایک مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔
'اس وقت پی ٹی آئی کی اولین ترجیح الیکٹیبلز ہیں'
تجزیہ نگار اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرینسی (پلڈیٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ کم از کم ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے دیرینہ پارٹی ورکر کو ٹکٹ دینا ممکن نہیں تھا۔
'ایسے حالات میں جہاں اسے سخت مقابلے کا سامنا ہے اور جیت کے لیے بہت کم مارجن موجود ہے وہاں اس وقت پی ٹی آئی کی اولین ترجیح الیکٹیبلز ہیں۔'
احمد بلال محبوب کے مطابق ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی طرف سے الیکٹیبلز کو ٹکٹ دینے کی منطق سمجھ میں آتی ہے اور کم از کم ان انتخابات میں دیرینہ ورکرز کو ٹکٹ نہ دینے پر انھیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
'ان کی مدِ مقابل جماعتوں کی طرف سے بھی تو الیکٹیبلز ہی سامنے ہیں اور کچھ حلقوں میں اس کے علاوہ چارہ ہی نہیں ورنہ خطرہ ہوتا ہے کہ آپ وہ سیٹ ہار جائیں گے۔' ان کا ماننا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ انھیں یہ سیٹ جیتنی ہے تو الیکٹیبلز کی طرف جانے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
پی پی 224 لودھراں
لودھراں پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق سینیئر رہنما جہانگیر خان ترین کا علاقہ ہے۔ جہانگیر خان ترین سابق وزیرِاعظم کے قریب ترین ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے تاہم وہ عمران خان سے اپنی راہیں جدا کر چکے ہیں۔
ان کے حامی یعنی 'ترین گروپ' کے ممبران صوبائی اسمبلی نے حال ہی میں پی ٹی آئی کے خلاف پنجاب اسمبل میں وزیرِاعلٰی کے الیکشن میں ووٹ دیا تھا۔
لودھران کے حلقہ پی پی 224 سے پاکستان تحریکِ انصاف کے زوار حسین وڑائچ گذشتہ عام انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم وہ ترین گروپ کا حصہ تھے اور حال میں منحرف ہونے والے اراکین میں شامل تھے۔
اب وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں۔ ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے عامر اقبال شاہ قریشی کو ٹکٹ دے رکھا ہے۔ وہ اس سے قبل ایک مرتبہ ن لیگ اور ایک مرتبہ ق لیگ کی ٹکٹس پر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔
ان کے والد پیر اقبال شاہ قریشی نے سنہ 2018 کے عام انتخابات میں ن لیگ کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست کے لیے اس وقت کے پی ٹی آئی کے امیدوار اور جہانگیر ترین کے صاحبزادے علی خان ترین کو شکست دی تھی۔
'لوٹوں کی سبق سکھانا پی ٹی آئی کے لیے اہم انتخابی نعرہ بن کر ابھرا ہے'
اس حلقے میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی نے ایک مرتبہ پھر الیکٹیبلز کو اپنا امیدوار بنایا ہے جو اس سے قبل بھی ایک سے زیادہ سیاسی جماعتیں تبدیل کر چکے ہیں۔ جبکہ ساتھ ہی الیکشن مہم میں چئیرمین عمران خان 'لوٹوں' کو سبق سکھانے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔
تجزیہ نگار اور سربراہ پلڈیٹ احمد بلال محبوب کے مطابق جس قسم کے حالات پنجاب میں اور ضمنی انتخابات میں بن چکے ہیں یہ پی ٹی آئی کے لیے 'ڈو اور ڈائی' کی صورتحال ہے۔ اس میں یہ توقع کرنا درست نہیں تھا کہ وہ الیکٹیبلز کو ٹکٹ نہیں دیں گے۔
احمد بلال سمجھتے ہیں کہ 'لوٹوں کو سبق سکھانا پی ٹی آئی کے لیے ایک انتخابی نعرہ ضرور بن کر ابھرا ہے اور وہ ظاہر ہے اس سے فائدہ بھی اٹھانا چاہیں گے۔' تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی حقیقت تھی کہ ان کی اپنی جماعت میں بھی زیادہ تر الیکٹیبلز ہی موجود تھے۔
پی پی 228 لودھراں
لودھراں کی دوسری نشست پر بھی پاکستان مسلم لیگ ن نے نذیر احمد خان کو ٹکٹ دے رکھی ہے جو پی ٹی آئی کے منحرف رکن تھے اور گذشتہ عام انتخابات میں اس نشست پر کامیاب ہوئے تھے۔
تاہم لودھراں کے اس حلقے میں آزاد امیدوار پیر سید رفیع الدین شاہ بخاری کو بھی ایک مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ اگر وہ نشست جیت بھی جاتے ہیں تو وہ پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہو جائیں گے۔
یوں اس حلقے میں پی ٹی آئی کو دوہرے مقابلے کا سامنا ہے۔ اس حلقے میں مقابلے کے لیے پی ٹی آئی نے عزت جاوید خان کو اپنا امیدوار مقرر کیا ہے۔
انھوں نے سنہ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا اور چند سو ووٹوں کے فرق سے پیر سید رفیع الدین شاہ کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔
'یا تو آپ کو خطرہ نہ ہو، یا آپ کے پاس الیکٹیبلز ہی نہ ہوں'
پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ دو ہی صورتوں میں سیاسی جماعتوں کے لیے ممکن ہو پاتا ہے کہ وہ اپنے ایسے کارکنان کو ٹکٹس دے پائیں جو ایک لمبے عرصے سے جماعت کے ساتھ وفادار رہے ہیں۔
'یا تو آپ کو شکست کا خطرہ نہ ہو یا پھر آپ کے پاس الیکٹیبلز ہی نہ ہوں تو ہو سکتا ہے کہ آپ دیرینہ کارکنوں کو ٹکٹس دیں۔'
احمد بلال محبوب کے مطابق ایسا پاکستان میں صرف ایک مرتبہ ہوا ہے جب سنہ 1970 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے بہت سے ایسے امیدواروں کو ٹکٹس دیے تھے جن کے بارے میں خود انھیں بھی یقین نہیں تھا کہ وہ جیت جائیں گے۔
'یہ وہ دور تھا جب سیاست میں خود بھٹو صاحت کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا اور جن امیدواروں کو انھوں نے ٹکٹس دیے انھیں تو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔ لیکن وہ جیت گئے۔'
احمد بلال محبوب کے خیال میں پی ٹی آئی جب ایک مرتبہ یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ اس نے الیکڑیبلز ہی کو ٹکٹ دینا ہے تو اب اس کے لیے اس چکر میں سے نکلنا مشکل ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے
پی پی 288 ڈیرہ غازی خان
جنوبی پنجاب کا یہ حلقہ خاص طور پر دیہی علاقوں اور کچھ ٹرائیبل علاقے پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں کھوسہ خاندان کافی زیادہ سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
گذشتہ عام انتخابات میں اس حلقے سے محسن عطا کھوسہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ اس سے قبل وہ ن لیگ کی ٹکٹ پر بھی رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو چکے تھے۔
ضمنی انتخابات وہ تاہم خود حصہ نہیں لے رہے اور ان کی جگہ ان کے کزن عبدالقادر خان کھوسہ ن لیگ کے ٹکٹ پر حصہ لے رہے ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے اس حلقے میں جس کو اپنا امیدوار چنا ہے وہ بھی محسن عطا کھوسہ کے کزن ہیں۔ سردار سیف الدین کھوسہ نے سنہ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی ہی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے لیے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔
وہ ایک طویل عرصے تک پاکستان مسلم لیگ ن کے دیرینہ رہنما رہنے والے سابق سینیٹر سردار ذولفقار خان کھوسہ کے صاحبزادے ہیں۔ سنہ 2018 سے قبل وہ خود بھی ایک طویل عرصے تک ن لیگ کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور کئی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔
کیا سیاسی جماعتوں کے لیے کارکنان کو ٹکٹس دینا ممکن ہے؟
صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ صرف پاکستان تحریکِ انصاف ہی نہیں بلکہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ یہ مسئلہ رہا ہے کہ انھوں نے پارٹی ورکرز کو بہت کم ٹکٹس دیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے بہت سے ایسے سیاستدان دیکھے ہیں جو پارٹی ورکر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔'
ان کے خیال میں پاکستان میں تمام تر بڑی سیاسی جماعتیں جو حکومت قائم کرتی رہی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ الیکٹیبلز ہی کو ٹکٹس دیں۔
پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اپنے دیرینہ کارکنان کو دیگر عہدے دے کر بھی خوش رکھ سکتے ہیں تاہم وہ ایسا بھی نہیں کرتیں جیسا کہ سینیٹ کے اندر رکنیت یا ملک کی صدارت وغیرہ۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ عام انتخابات کے بعد عارف علوی کو صدر کا عہدہ دے کر پی ٹی آئی نے کم از کم ایسا ایک قدم ضرور اٹھایا تھا۔ تاہم دیگر جماعتیں ایسا بھی نہیں کر پائیں۔
پی پی 217 ملتان
پی ٹی آئی نے ملتان کی اس صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے زین قریشی کو ٹکٹ دیا ہے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے ہیں۔ سنہ 2018 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ سنہ 2013 کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے شاہ محمود قریشی ایک طویل عرصے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔
سنہ 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست شاہ محمود قریشی جیت گئے تھے تاہم انھوں نے پی پی 217 سے پنجاب اسمبلی کے لیے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔ یہاں انھیں محمد سلیم نعیم کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔
سلیم نعیم کو ملتان کے اس حلقے میں پی ٹی آئی کا 'دیرینہ کارکن' تصور کیا جاتا تھا تاہم ان کی جماعت نے ان کے مقابلے میں شاہ محمود قریشی کو ٹکٹ دیا۔ لیکن سلیم نعیم نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لے کر الیکشن جیت لیا۔
اس کے بعد پی ٹی آئی کے اس وقت کے سرکردہ رہنما جہانگیر خان ترین حکومت سازی کے وقت سلیم نعیم کو پی ٹی آئی میں واپس لے آئے تھے۔ تاہم حال ہی میں وہ بھی منحرف اراکین کی اس فہرست میں شامل تھے جنھوں نے وزیرِاعلٰی کے انتخاب میں ن لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔