آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جہانگیر ترین: ’پریشر گروپ نہیں، پنجاب حکومت کی انتقامی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش ہے‘
- مصنف, عماد خالق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے حامی ارکانِ اسمبلی کے گروپ کی جانب سے اسمبلیوں میں الگ پارلیمانی نمائندوں کی نامزدگی کے بعد جہاں پاکستان میں حکمران جماعت میں ممکنہ دھڑے بندی کی باتیں شدت اختیار کر گئی ہیں وہیں جہانگیر ترین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ کوئی فارورڈ بلاک نہیں بلکہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے کی جانے والی ’انتقامی کارروائیوں‘ کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے تشکیل دیا گیا گروپ ہے۔
تحریکِ انصاف کا اہم ستون اور ماضی میں وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریبی ساتھی سمجھے جانے والے جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ یہ گروپ تین ماہ قبل تشکیل دیا گیا تھا اور اب منگل کو ان کی جانب سے دیے گئے ایک عشائیے کے دوران اس کی بات اسمبلی کے فلور تک پہنچانے کے لیے نمائندوں کو چنا گیا ہے۔
اس گروپ میں شامل ایک رکنِ اسمبلی کے مطابق جہانگیر ترین کے ’ہم خیال گروپ‘ میں 30 سے زیادہ اراکین موجود ہیں اور انھوں نے راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں جبکہ سعید اکبر نوانی کو پنجاب اسمبلی پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کی رات اس ’ہم خیال گروپ‘ کے حوالے سے خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ موضوع سیاسی کارکنوں، مبصرین اور صارفین کی دلچسپی کا محور بن گیا اور جہاں ناقدین یہ کہتے نظر آئے کہ وزیراعظم عمران خان کی ناک تلے تحریکِ انصاف میں دھڑے بندی ہونا جماعت کے لیے باعثِ شرم ہونا چاہیے، وہیں پارٹی کے عہدیداروں اور حامیوں نے عمران خان میں مکمل بھروسے کا اظہار کرتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی کہ پی ٹی آئی میں کسی قسم کی پھوٹ پڑی ہے۔
وفاقی وزیر اسد عمر اور سنیٹیر فیصل جاوید نے اس خبر کے جواب میں ٹویٹ کرتے ہوئے عمران خان کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے لکھا 'عمران خان آخری گیند تک لڑنے والا انسان ہے اور اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ وہ دباؤ کے آگے جھک جائیں گے تو وہ بے وقوفوں کی جنت میں جی رہا ہے۔ وہ آخر تک لڑیں گے اور فاتح بن کر سامنے آئیں گے۔'
خود جہانگیر ترین نے بھی بدھ کی صبح لاہور کی ایک عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب پی ٹی آئی کا حصہ تھے، ہم سب پی ٹی آئی کا حصہ ہیں اور ہم سب انشا اللہ پی ٹی آئی کا حصہ رہیں گے۔‘
واضح رہے کہ اس گروپ کے قیام پر وزیراعظم عمران کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
گروپ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
جہانگیر ترین کے حامی، اس ہم خیال گروپ کے رکن اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے زراعت عبدالحئی دستی نے منگل کی رات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے چند صوبائی و قومی رکن اسمبلی نے پارٹی میں جہانگیر ترین ہم خیال پارلیمانی گروپ بنا لیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پارٹی میں یہ ہم خیال اراکین کا گروپ اس وقت ہی بن گیا تھا جب جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کی ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ آغاز میں تو اس گروپ کے قیام کا کوئی پلان نہیں تھا لیکن جیسے جیسے ہم خیال دوست اکٹھے ہوتے گئے یہ گروپ بنتا گیا۔ اس ہم خیال پارلیمانی گروپ کے وفاق میں لیڈر رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں اس کی نمائندگی سعید اکبر نوانی کریں گے۔‘
ان کے مطابق ’پارٹی کے بہت سے اراکین کے یہ تحفظات تھے کہ جب سے وہ جہانگیر ترین کے ساتھ ان کی عدالتی پیشی کے موقع پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جانے لگے ہیں تب سے ہمیں ہمارے حلقوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
جہانگیر ترین نے بھی بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس موقف کی تائید کی۔ ان کے مطابق اس گروہ کے سامنے دو نکتے تھے۔ ایک، جہانگیر ترین کے ساتھ ذاتی طور پر چینی سکینڈل کی تفتیش کے حوالے سے درج ایف آئی آرز کا معاملہ اور دوسرا وہ انتقامی کارروائیاں جو جہانگیر ترین کے بقول پنجاب حکومت نے ان کے حامیوں کے خلاف شروع کر رکھی ہیں۔
’(میرے حامیوں) پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا گیا، افسروں کے تبادلے ہونے لگے۔۔۔ اس قسم کے دباؤ کے نتیجے میں میرے عشائیے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم آواز اٹھائیں گے پنجاب کی اسمبلی میں۔‘
جہانگیر ترین نے کہا کہ عمران خان کی پالیسی کے خلاف پنجاب حکومت ان کے حامیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے جس کی وجہ سے اسمبلی میں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ایک نمائندے کا انتخاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ گروپ تین ماہ قبل بنا تھا تاہم اب فرق یہ آیا ہے کہ کیونکہ پنجاب حکومت نے انتقامی کارروائیاں کی ہیں اور خان صاحب (عمران خان) کی پالیسی کے خلاف دباؤ ڈالا ہے اور ڈال رہے ہیں۔ اب انھوں نے کھڑے ہو کر اسمبلی میں بات کرنی ہے۔ اسمبلی میں بات کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنا ایک آدمی مقرر کریں جو اس بحث کو لے کر چلے۔‘
اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عبدالحئی دستی کا کہنا تھا کہ ’منگل کی شب ماڈل ٹاؤن لاہور میں جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر ہونے والے اجلاس میں متفقہ طور پر یہ طے ہوا ہے کہ اب ہمیں بطور ایک ہم خیال گروہ آگے چلنا چاہیے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو دیکھنا چاہیے۔‘
کیا جہانگیر ترین ہم خیال پارلیمانی گروپ کے قیام کو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اندر سیاسی ٹوٹ پھوٹ قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس گروپ کی تشکیل کو ٹوٹ پھوٹ قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ہم تمام اراکین جہانگیر ترین کے موقف کی حمایت میں اکٹھے کھڑے ہیں جس میں جہانگیر ترین یہ چاہتے ہیں کہ ان کی ایف آئی اے میں انکوائری کو صاف اور شفاف بنایا جائے۔جب سے ہم نے اس موقف کی ہے ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ پارٹی کے اندر سے ایک گروپ تشکیل پایا ہے تاہم ہم میں سے کسی نے پارٹی کو نہیں چھوڑا، عمران خان کی قیادت پر سب کو اعتماد ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے کے تحفظات کا خیال کریں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
واضح رہے ملک میں آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے حکومت کو جو رپورٹ دی تھی اس میں پنجاب حکومت کی طرف سے جن شوگر ملوں کو سبسڈی دی گئی تھی اس میں جہانگیر ترین کے علاوہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کی شوگر ملز بھی شامل تھیں۔
اگر وزیر اعظم عمران پر اعتماد بھی ہے اور ان کی لیڈرشپ میں آپ سب ساتھ ہیں تو تحفظات کس سے ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے عبدالحیئی دستی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیڈر عمران خان ہیں، جہانگیر ترین کے لیڈر بھی عمران خان ہیں، مگر ہر سیاسی جماعت کے اندر گروپ بندیاں ہوتی ہیں، ہمیں بھی ایسا محسوس ہوا کہ پارٹی کے اندر ایک گروہ جہانگیر ترین کو سائیڈ لائن کرنا چاہتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ منگل کو جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر ہونے والے اجلاس میں ہمارا ایجنڈا یہ تھا کہ ان اراکین کے تحفظات پر بات کی جائے جنھیں ان کے حلقوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایک رکن اسمبلی کو اپنے حلقے کا نمائندہ ہوتا ہے اس کو کیسے اور کون نشانہ بنا رہا ہے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بہت سے اراکین کے حلقے میں تعینات ہم خیال افسران کے تبادلے کیے جا رہے ہیں، ان کو حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے اور ان کے دوست احباب کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات بھی بنائے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ صرف جہانگیر ترین کا ساتھ دینے کی وجہ سے ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا اس کے برعکس چند ایسے اراکین صوبائی و قومی اسمبلی بھی ہیں جنھیں فنڈز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات سے بھی نوازا جا رہا ہے۔
جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے زیادہ اراکین کی تعداد صوبائی اسمبلی سے تعلق رکھتی ہیں تو آپ کو شکایات وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ہیں یا وفاقی حکومت سے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’بنیادی طور پر ہمارا خیال ہے کہ شاید وفاق کی جانب سے صوبوں کو یہ ہدایات کی گئیں ہیں کہ ہمیں نشانہ بنایا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی ایک پالیسی نہیں چند لوگوں پر نوازشات کی جا رہی ہیں تو کسی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تنگ کیا جا رہا ہے۔‘
ان اراکین کا مقصد اور ترجیح پارٹی لائن ہونی چاہیے جس کے تحت جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے بیشتر اراکین پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور پارٹی ٹکٹ پر لڑے یا جہانگیر ترین کے ساتھ وفاداری اور یکجہتی کا اظہار کرنا پر عبدالحیئ دستی کا کہنا تھا کہ اس گروپ میں شامل زیادہ تر اراکین وہ ہیں جو آزاد حیثیت سے انتخاب لڑے تھے اور انھوں نے جہانگیر ترین کے ذریعے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔
’اس دوران ہم سب کا جو تعلق جہانگیر ترین کے ساتھ قائم ہوا اس کو قائم رکھتے ہوئے بالکل ہماری وفاداری ان کے ساتھ ہے۔ جہانگیر ترین اس وقت عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جا چکے ہیں اور وہ اس وقت ایسے پوزیشن میں نہیں ہیں کہ کسی کو کوئی ذاتی فائدہ پہنچا سکیں، ہم اس وقت ان کے ساتھ اس لیے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جہانگیر ترین پارٹی کے لیے اہم اور ایک معزز رکن ہیں، ان کی تحریک انصاف کے لیے بہت سی خدمات ہیں اور ان کو پارٹی میں مضبوط کرنا اور میرٹ پر ان کی حمایت کرنا تحریک انصاف کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔‘
’جو فارورڈ بلاک بنانا چاہتا ہے وہ پہلے پی ٹی آئی کی نشت چھوڑے‘
پاکستان کے مقامی میڈیا پر تحریک انصاف میں جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے بننے کے خبریں آنے کے فوراً بعد ہی سوشل میڈیا صارفین نے اس پر اپنی رائے اور تبصرے دینا شروع کر دیے۔ مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حکمران جماعت کے حق میں اور اس کے خلاف ٹوئٹر ٹرینڈز دیکھنے میں آئے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے سنیٹر فیصل جاوید کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’اگر سب اراکین عمران خان کی وجہ سے جیتے تو ترین صاحب کا جہاز اور آزاد اراکین کی شمولیت کو کس کھاتے میں ڈالتے ہیں؟ عمران خان ہی تحریک انصاف ہے۔۔ لیکن جہانگیر ترین بھی تحریک انصاف کی (اب تلخ) حقیقت ہے۔‘
پنجاب کے وزیراعلی کے مشیر برائے ڈیجیٹل افیئرز اظہر مشوانی نے لکھا کہ ’اگر کوئی فارورڈ بلاک بنانا چاہتا ہے تو وہ پہلے پی ٹی آئی کی نشت سے مستعفی ہو۔‘
صحافی طلعت حسین کا کہنا تھا: 'جہانگیر ترین گروپ کی باقاعدہ رونمائی سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ 2018 انتخابی پراجیکٹ کو تشکیل دے کر قوم پر لاگو کرنے والے اب اس کو تشکیل نو کے ایک اور مرحلے سے گذار رہے ہیں۔ عمران خان کے لیے یہ ایک بڑی شرمندگی ہے کہ ان کی آنکھوں سامنے پارٹی ہائی جیک ہو رہی ہے اور وہ بے بس ہیں۔'
جبکہ صحافی گل بخاری نے تبصرہ کیا 'کمال کے لوگ ہیں۔ نون میں سے شین نکالتے نکالتے، پی ٹی آئی میں سے ترین نکال گئے۔'
عمران خان کے ایک حامی کا کہنا تھا کہ 'ان کا نام عمران خان ہے وہ بلیک میل ہونے والے دن پیدا ہی نہیں ہوئے۔'
تاہم ارشد بھٹی نے لکھا 'عمران خان عمران خان ہی رہے گا،پی ٹی آئی پی ٹی آئی ہی رہے گی۔ لیکن جہانگیر ترین اب عائشہ گلالئی،ریحام خان اور جاوید ہاشمی کے صف میں کھڑا ہو گئے ہیں اور ان کا انجام بھی ویسا ہی ہو گا۔'
ارم رائے نے لکھا 'مرشد کا ساتھ چھوڑنا ایمان چھوڑنے کے مترادف ہے۔'