آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دریائے سندھ میں باراتیوں سے بھری کشتی الٹ گئی: 20 خواتین سمیت 22 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، 27 افراد کی تلاش جاری
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ریسکیو کے محکمے کے حکام کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں باراتیوں سے بھری کشتی الٹنے کے نتیجے میں ڈوبنے والی مزید ایک خاتون کی لاش برآمد کر لی گئی ہے جس کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد 22 ہو گئی ہے۔
پیر کو ضلع رحیم یار خان کے علاقے ماچھکہ میں پیش آنے والے اس حادثے میں ڈوبنے والے مزید 27 افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
ریسکیو پنجاب کے ترجمان کے مطابق ماچھکہ میں واٹر ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں 39 غوطہ خور شریک ہیں۔ یہ آپریشن پیر کی شب روک دیا گیا تھا اور منگل کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ حادثہ کشتی میں گنجائش سے زائد افراد سوار ہونے کے باعث پیش آیا۔
صحافی غلام حسن مہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر موسیٰ رضا کے مطابق دریائے سندھ کی ساحلی پٹی پر واقع نواحی گاؤں ماچھکہ کی سولنگی برداری کے افراد بارات لے کر دریائے سندھ میں سفر کر رہے تھے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس بارات میں دو کشتیاں شامل تھیں، جن پر خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 150 سے زائد افراد سوار تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ایک کشتی، جس میں تقریباً 75 افراد سوار تھے، اچانک الٹ گئی اور اس میں سوار تمام افراد دریا میں جا گرے۔
ڈپٹی کمشنر موسیٰ رضا کے مطابق ان میں سے 35 افراد کو دوسری کشتی کے سواروں نے بچا لیا جبکہ اب تک 19 خواتین کی لاشیں بھی نکالی جا چکی ہیں اور باقی افراد کی تلاش میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
ریسکیو ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ دوسری کشتی میں سوارکئی مردوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو بچایا۔ کئی افراد کو غوطہ خوروں نے محفوظ مقام تک پہنچایا لیکن خواتین پانی کے بہاؤ کے باعث دریا میں ڈوب گئیں اور شاید ان کے ساتھ بچے بھی تھے لیکن ابھی تک کسی نے بچوں کے ڈوبنے کی تصدیق نہیں کی تاہم ریسکیو ٹیموں کی جانب سے ڈوبنے والے افراد کی تلاش میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
اس افسوسناک واقعے کی اطلاع جیسے ہی تھانہ ماچھکہ کو موصول ہوئی تو تھانے میں موجود اہلکاروں نے چھٹی پر گئے اہلکاروں کو بھی واپس بلا لیا اور بھاری نفری کے ہمراہ اس علاقے میں پہنچے۔
زندہ بچ جانے والے افراد کو محفوظ مقام پر پہنچا کر انھیں پانی اور خوراک فراہم کر دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے اس واقعے پر لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے ضلعی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ زندہ بچ جانے والوں کو ہسپتال میں بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
ریسکیو پہنچنے میں بھی دو گھنٹے لگ گئے
ریسیکو افسیر ضلع رحیم یار محمد شفیق کے مطابق رات کا اندھیرا پھیلنے تک بیس لاشوں کو نکالا جاچکا ہے۔ انھوں نے صحافی محمد زبیر کو بتایا بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق کشتی میں مجموعی طور پر 94 افراد سوار تھے۔ جن میں سے 45 لوگ محفوظ رہے ہیں۔ اس میں 29 لوگ ابتک لاپتا ہے۔ ان لاپتا لوگوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ بیس لاشوں کو نکالا جاچکا ہے۔ جس میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
محمد شفیق کے مطابق کشتی ڈوبنے کا حادثہ صبح دس بجے پیش آیا تھا۔ یہ انتہائی دور دراز کا علاقہ ہے۔ جہاں پر ریسیکو اہلکاروں کو پہچنے میں بھی دو گھنٹے لگ گے تھے۔ راستہ بہت دشوار گزار تھا۔ دو گھنٹے بعد جب آپریشن شروع کیا تھا تو دریا کا بہاؤ انتہائی تیز پایا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دریا کے تیز بہاؤ اور گہرائی کے اندر کوئی آٹھ گھنٹے تک مواتر آپریشن جاری رہنے کے بعد رات کا اندھیرا پھیلنے کی وجہ سے امدادی کاروائیاں روک دی گئیں ہیں۔ صبح روشنی پھیلتے ہی دوبارہ امدادی سرگرمیاں شروع کردی جائیں گئیں۔
محمد شفیق کے مطابق اس آپریشن میں ریسیکو کے کوئی چالیس جوان حصہ لے رہے ہیں۔ دریا کا بہاؤ بہت تیز ہے۔ جس وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔
محمد شفیق کے مطابق ہمارے ابتدائی اندازوں کے مطابق کشتی ڈوبنے کی وجہ کنجائش سے زیادہ لوگوں کو سوار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ جب کشتی تیز اور گہرے دریا میں پہنچی تو اس کو معمول کے مطابق کچھ جھٹکے لگے جس پر کشتی میں سوار عورتوں اور بچوں میں خوف پیدا ہونے کی وجہ سے افراتفری پیدا ہوئی تھی۔
محمد شفیق کے مطابق ’عورتوں اور بچوں کی جانب سے افراتفری پیدا ہونے کی وجہ سے کشتی ڈانوں ڈول ہوئی اور پھر کے لکڑی کے تختوں میں سے پانی اندر داخل ہوا اور کشتی گہرے اور تیز پانی میں ڈوب گئی تھی۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اصل حقائق تفتیشی اداروں کی جانب سے تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ضلع رحیم یار کی تحصیل صادق آباد کے علاقے مچکا سے باراتکھرور کے علاقے میں جارہی تھی۔ کھارو کے رہائشی ماسٹر غلام حیدر کے مطابق بارات لانے والے اور بارات کا استقبال کرنے والوں میں شامل تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ بارات لانے والے اور بارات کا استقبال کرنے والے سب سولنگی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم لوگوں کو یہ اطلاع مل گئی تھی کہ باراتی دریا کے راستے جبکہ دولہا اور اس کے قریبی عزیز روڈ کے راستے سے آرہے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ دریا کے راستے سفر کرنے والے جلد پہنچ جائیں گے جبکہ روڈ کا راستہ لمبا اور کوئی پانچ، چھ گھنٹے پر مشتمل تھا۔
ماسٹر غلام حیدر کے مطابق کوئی دس بجے، ساڑھے دس بجے کہ قریب یہ اطلاع مل گئی تھی کہ حادثہ پیش آچکا ہے۔ جس کے بعد بارات کے استقبال کی تمام کی تمام تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں تھیں۔ اس موقع پر لڑکے بالے روایتی سندھی رقص اور میوزک وغیرہ چلا رہے تھے اور اس بات کا انتظار تھا کہ بارات پہنچے تو مل کر خوشی منائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ساری کی ساری تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ جس کے بعد لوگ افراتفری کے عالم میں جائے وقوعہ کے لیے چل پڑے تھے۔
ماسڑ غلام حیدر کے مطابق ایک تو کشتی میں سوار تمام لوگ عزیز، رشتہ دار اور ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرا اس حادثہ میں کئی خونی رشتے دار بھی جان سے گئے ہیں۔ کئی خواتین کے ہمراہ ان کے بچے تھے۔ جن کی تفصیلات آہستہ آہستہ سامنے آرہی ہیں۔
اس خونی حادثے نے کئی خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ پورا کا پورا قبیلے اور علاقہ سوگوار ہوچکا ہے۔