’بزرگ کی کرامت‘ یا زمین کی ساخت: نوشہرہ کی ’پختہ مسجد‘ جو زمین میں دھنس رہی ہے

مسجد
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اکبر پورہ

مغل دور میں قائم ہونے والی تاریخی مسجد ’پختہ مسجد‘ کی محراب آہستہ آہستہ زمین میں دھنس رہا ہے، اس مسجد کے رکھوالے اور متولی اسے 'بزرگ کی کرامت' قرار دیتے ہیں تاہم ماہرین تعمیرات کے مطابق یہ زمین کی نرمی کی وجہ سے دھنس رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں اکبرپورہ کے مقام پر واقع یہ مسجد اخوند پنجو بابا کی ’پختہ مسجد‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

’بزرگ کی کرامت‘

مزار
،تصویر کا کیپشنمزار سید عبدالوہاب عرف اِون پنجو بابا

اس مسجد کے خدام اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مسجد لگ بھگ 450 سال قدیم ہے۔ مقامی روایت یہ ہے کہ ہر سال یہ مسجد ’گندم کے دانے کے برابر‘ زمین میں دھنس جاتی ہے۔

مسجد کے متولی محمد سہیل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مسجد کی بنیاد حضرت سید عبدالوہاب عرف اِون پنجو بابا نے رکھی تھی جو مغل بادشاہ اکبر کے دور میں بڑی دینی شخصیت تھے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ عبدالوہاب سے کسی نے پوچھا تھا کہ ’قیامت کب آئے گی؟‘ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ’جس دن یہ مسجد زمین میں مکمل دھنس جائے گی اس وقت دنیا ختم ہو جائے گی۔‘

محمد سہیل کے مطابق یہ روایت انھیں اپنے بزرگوں سے نسل در نسل منتقل ہوئی ہے۔

گذشتہ عرصے کے دوران اس مسجد کی محراب بڑی حد تک زمین میں دھنس چکی ہے اور اب فقط لگ بھگ ڈیڑھ فٹ کے قریب محراب زمین سے اوپر رہ گئی ہے۔

محراب

محمد سہیل کے مطابق ان کی پیدائش سنہ 1987 میں ہوئی تھی اور وہ سنہ 1995 سے باقاعدگی سے اس مسجد میں آ رہے ہیں اور یہیں انھوں نے دینی تعلیم بھی حاصل کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اگر بچپن کی بات کی جائے تو اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت تک مسجد کی محراب میں ایک آدمی بیٹھ سکتا تھا، جائے نماز بھی اندر پڑی ہوتی تھی لیکن اب اس محراب کے اندر سجدہ کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چند برس پہلے اس مسجد کی مرمت کی گئی، ٹائلز لگائی گئیں اور دیواروں پر بھی مرمت کا کام کیا گیا۔

حالیہ مرمت کے بعد اس مسجد کے ہال میں داخل ہونے والی مرکزی سیڑھی کے پائیدان بڑھ گئے ہیں۔

مسجد کہاں واقع ہے؟

محراب

پشاور سے نوشہرہ کی جانب جائیں تو پبی سے پہلے بائیں جانب اکبر پورہ کا علاقہ ہے۔ آلوچے اور آلو بخارے کے باغات اس علاقے کی بڑی پہچان رہے ہیں۔ اب بھی یہ باغات ہیں لیکن آبادی کے پھیلنے سے اب باغات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

اس راستے میں پہلے حضر عبدالوہاب عرف اخون پنجو بابا کا مزار آتا ہے اور پھر لگ بھگ ایک کلومیٹر آگے آبادی میں مسجد واقع ہے۔ یہ ایک چھوٹی مسجد تنگ گلی کے اندر واقع ہے، مسجد میں داخل ہوں تو برآمدہ کافی اونچا ہے لیکن مسجد کا صحن برآمدے سے نیچے لگ بھگ چار، پانچ قدم نیچے اُترنا پڑتا ہے۔

صحن سے پھر ہال میں داخل ہوں تو پھر پانچ چھ قدم نیچے اترنا پڑتا ہے۔ مسجد کی محراب بڑی حد تک زمین میں دھنس چکی ہے۔ مسجد کے اس چھوٹے ہال میں داخل ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے تہہ خانے میں داخل ہو گئے ہیں۔

مقامی لوگ یہاں نماز اور عبادت کے لیے موجود رہتے ہیں جبکہ دینی تعلیم کے لیے بھی بچے اور بڑے یہاں آتے ہیں۔

محراب

ماہرین آثار قدیمہ کی رائے

اس مسجد میں موجود علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ سنہ 1990 کی دہائی میں کچھ ماہرین اس مسجد میں آئے تھے جن میں جاپان کے آثار قدیمہ کے لوگ شامل تھے اور ان کی رائے یہ تھی کہ اس مسجد کے نیچے کہیں ڈپریشن یا ایسی نرم جگہ ہے جہاں پانی موجود رہتا ہے جس کی وجہ سے مسجد کا کچھ حصہ زمین میں دھنس رہا ہے۔

اس بارے میں محکمہ آثار قدیمہ کے ریسرچ افسر بخت محمد سے رابطہ کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ جو معلومات کتابوں سے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق حضرت عبدالوہاب عرف پنجو بابا سنہ 1537 میں صوابی میں پیدا ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’انھوں نے تعلیم ہندوستان میں حاصل کی اور پھر واپسی پر وہ پشاور چمکنی سے ہوتے ہوئے اکبر پورہ میں رہائش پزیر ہوئے۔ انھوں نے اکبر پورہ میں پختہ مسجد کی بنیاد ڈالی جبکہ اس سے پہلے اس علاقے میں پختہ مسجد نہیں تھی۔ اس مسجد میں انھوں نے درس و تدریس کا کام شروع کیا۔‘

بخت محمد نے بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے اب تک اس پر کوئی باقاعدہ سائنسی تحقیق نہیں کی ہے کہ یہ مسجد یا اس مسجد کا ایک حصہ زمین بوس کیوں ہو رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ تاریخی مسجد ہے اور اس کی تعمیر بھی ماضی کی تعمیرات کے مطابق ہے لیکن اس مسجد میں مختلف اوقات میں تعمیرات اور اس کی تزین و آرائش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اس بارے میں ماہرین کی ٹیم اس علاقے میں بھیج کر تحقیق کی جائے گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مسجد یا اس کا کوئی حصہ کیوں زمین میں دھنس رہا ہے۔

ماہرین تعمیرات کیا کہتے ہیں؟

موجودہ دور میں کسی عمارت کی تعمیر کے لیے بیئر کیپیسٹی ٹیسٹ (برداشت کی صلاحیت کا ٹیسٹ) کیا جاتا ہے، زمین کا معائنہ کیا جاتا ہے کہ کتنی نرم ہے یا کتنی سخت ہے اور یہ کہ آیا کوئی زمین عمارت کا وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟

پشاور میں شعبہ آرکیٹیکٹ سے وابستہ فاروق حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اس علاقے میں بہت سی بڑی اور چھوٹی عمارتوں کے ڈیزائن تیار کیے ہیں اور ان کی معلومات کے مطابق اکبر پورہ کے کچھ علاقوں میں زمین نرم ہے اور کہیں سخت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس مسجد کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں ان کے مطابق یہ مغلیہ دور کی تعمیر ہے اور اس دور میں عمارتیں خوبصورت تو بہت بنتی تھیں لیکن ان کے لیے کوئی سائنسی تحقیق یا اس نوعیت کا معائنہ نہیں کیا جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق جس زمین پر مسجد تعمیر کی گئی ہے وہ نرم ہوگی اور اس لیے بعض اوقات زمین آہستہ آہستہ زمین بوس ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں بتایا کہ اس مسجد کو مزید زمین میں دھنسنے سے روکا جا سکتا ہے لیکن اس کے اخراجات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ہائیڈرالک سسٹم کے تحت یہ کام کیے جاتے ہیں لیکن موجودہ طور پر اس مسجد کی عمارت کو اٹھانے سے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو گا۔