پنجاب: 20 حلقوں میں وہ ضمنی انتخابات جو ملکی سیاست کے رخ کا تعین کریں گے

پولنگ کا عملہ

،تصویر کا ذریعہARIF ALI

،تصویر کا کیپشنپولنگ کے سامان پولنگ سٹیشنوں پر پہنچا دیا گیا ہے
    • مصنف, فراز ہاشمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس لندن

پاکستان کی سیاست میں 17 جولائی بروز اتوار ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کا معرکہ ہونے جا رہا ہے۔

ان انتخابات میں پنجاب کے دل لاہور کے چار حلقوں کے علاوہ راولپنڈی، خوشاب، بھکر، فیصل آباد، جھنگ، شیخو پورہ، ساہیوال، لودھراں، ملتان، بہاولنگر، مظفر گڑھ، لیّہ اور ڈیرہ غازی خان کے حلقے شامل ہیں۔

کہنے کو تو یہ صوبائی اسمبلی کی کل 371 نشستوں میں سے صرف 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہیں لیکن ملک کے سیاسی ماہرین اور مبصرین انھیں ایک اہم سیاسی معرکے سے تعبیر کر رہے ہیں۔

ان 20 حلقوں میں جہاں عوام اتوار کی صبح سے شام گئے تک اپنے ووٹ ڈالیں گے، ان پر پورے ملک کی نظریں لگی رہیں گی۔

ملکی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں جیت اور ہار کے ملکی سیاست پر بڑے دور رس اور بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

ان انتخابات کا فوری اثر تو پنجاب کی موجودہ حکومت پر ہو گا جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب کی اکثریت واضح نہیں ہے لیکن اس کا اثر مرکزی حکومت پر بھی لامحالہ پڑے گا۔

ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت کے حکم کے تحت جولائی کی 22 تاریخ کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہو گا جہاں عارضی طور پر عدالت کے حکم کے تحت محدود اختیارت کے ساتھ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز حمزہ شہباز کو ایوان اقبال کے بجائے اسمبلی کے ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنی ہو گی۔

اگر حمزہ شہباز اپنی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر صوبائی اسمبلی میں مزید اہم تبدیلیاں بھی متوقع ہیں جن میں سپیکر کا عہدہ بھی شامل ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کا انحصار بھی بڑی حد تک ان ہی انتخابات پر ہے۔ جو بھی سیاسی جماعت ان انتخابات کے نتیجے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے اس کے آئندہ انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھانے کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔

پنجاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مسلم لیگ (ن) کی مرکز میں قائم شہباز شریف کی مخلوط حکومت بھی پنجاب میں 20 حلقوں میں کامیابی کی صورت میں سکھ کا سانس لے گی بصورت دیگر اس کے لیے بھی زندگی تنگ ہو جائے گی اور جلد عام انتخابات کے انعقاد کے تحریک انصاف کے نعرے کی تکمیل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

یہ انتخابات نہ صرف ملک کی سیاست کے رخ کا تعین کریں گے بلکہ آئندہ آنے والے دنوں میں ملک میں جمہوری نظام کے خد و خال، ریاستی اداروں کے دائرہ اختیار اور ملکی معیشت کے علاوہ ملکی کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ان ضمنی انتخابات کی اہمیت کا اندازہ دونوں جماعتوں کی طرف سے چلائی جانے والی انتخابی مہم سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

ایک طرف تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی جماعت کی انتخابی مہم کی قیادت کر رہے تھے تو دوسری طرف ن لیگ کی طرف سے مریم صفدر میدان میں سرگرم تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

دونوں جماعتوں نے تقریباً ہر حلقے میں بڑے بڑے انتخابی جلسے منعقد کیے۔ ملکی تاریخ میں اس سے پہلے ضمنی انتخابات میں کبھی سیاسی جماعتوں کو اتنا ضرور لگاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، یہاں تک کہ حکمران جماعت نے اپنے امیدواروں کی مدد کے لیے اپنے وزراء کو وزارتوں سے مستعفی کروا کر میدان میں اتارا۔

گذشتہ دو ہفتوں سے ضمنی انتخابات کی مہم میں پائے جانے والے جوش و خروش سے اور عوامی دلچسپی سے ان پر عام انتخابات کا گماں ہونے لگا تھا۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت قومی اسمبلی میں اکثریت کھونے کے بعد صوبائی اسمبلی میں بھی اپنی اکثریت برقرار نہیں رکھ پائی تھی اور اس کے 25 اراکین پارٹی کی صوبائی اور مرکزی قیادت سے ناراض ہو کر اپوزیشن سے مل گئے تھے۔

پنجاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تحریک انصاف کے ناراض ارکان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جب ان کی نشستوں سے ہٹا دیا گیا تو ن لیگ کے وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار کو واضح اکثریت حاصل نہ رہی اور یوں صوبے میں سیاسی بحران مزید پیچیدگی اختیار کر گیا۔

پچیس میں سے پانچ ارکان مخصوصی نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین اور حضرات تھے۔ ایک طویل انتظار اور تحریک انصاف کی طرف سے اس ضمن میں عدالت سے رجوع کرنے کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی طرف سے نامزد کردہ پانچ افراد کے صوبائی اسمبلی کے رکن ہونے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔

تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے جو رسہ کشی شروع ہوئی اس میں دونوں طرف سے آئینی اور قانونی طور پر انتہائی متنازع اقدامت اٹھائے گئے۔ یہاں تک کہ دونوں جماعتوں کے اراکین کے صوبائی اسمبلی کے اجلاس علیحدہ علیحدہ بھی منعقد ہوئے۔

معاملات جب ملک کی سب سے بڑی عدالت میں پہنچے تو دونوں جماعتوں کی مرضی سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر ضمنی انتخابات کے بعد دوبارہ انتخاب کروانے کا فیصلہ سنایا گیا۔