ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ: اضافی نوٹ کی بنیاد پر کیا ذمہ داران کے خلاف آرٹیکل چھ کی کارروائی ممکن ہے؟

- مصنف, عماد خالق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ناصرف بہت واضح ہے بلکہ حکومت اس پر عملدرآمد کی بھی پابند ہے اور اسی لیے وفاقی حکومت نے آرٹیکل چھ کے تحت ریفرنس دائر کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس پورے معاملے میں آئین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔ ’اس فیصلے کی رو سے صدر، وزیر اعظم، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے ناصرف آئینی طور پر تفویض کردہ مقدس امانت میں خیانت کی بلکہ آئین کے ساتھ بھی فراڈ کیا، جو سب سے بڑا جرم ہے اور اس کی سزا آئین کے آرٹیکل پانچ اور چھ میں درج ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس فیصلے کے بعد ایوان صدر میں بیٹھے شخص کو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ فیصلے سے یہ ثابت ہوا کہ عمران خان اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کے لیے قومی مفاد کو داؤ پر لگایا اور آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا۔‘
سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ممکنہ حکومتی کارروائی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہ فیصلے میں سوال کیا گیا ہے کہ کیا وفاقی حکومت اور پاکستان کی پارلیمان آئین کے خلاف ورزی کے راستے کو کُھلا رکھے گی یا اس کا سدباب کرے گی؟ ’ہم نے اس راستے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
’اس معاملے میں آرٹیکل چھ کا قانون کی رو سے ریفرنس بنتا ہے اور دوسرا راستہ یہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اس فیصلے کے تحت ملوث افراد کے خلاف نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے اور الیکشن کمیشن ان کو ناصرف ڈی سیٹ کرے بلکہ قانون کے مطابق ان کو نااہل قرار دے اور آگے کی کارروائی کا فیصلہ کرے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے تفصیلی فیصلے میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے اضافی نوٹ نے ملک میں نئی آئینی و قانونی بحث کا آغاز کر دیا ہے کہ کیا حکومت اضافی نوٹ کی بنیاد پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر سکتی ہے اور یہ کہ اضافی نوٹ پر عملدرآمد کی قانونی حیثیت کیا ہوتی ہے۔
بدھ کو پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے 86 صفحات پر مشتمل تفضیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو مسترد کر کے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بادی النظر اپنی آئینی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ تفصیلی فیصلہ پاکستان کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے تحریر کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ اس تفصیلی فیصلے میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اضافی نوٹ لکھا جس میں ان کا کہنا ہے کہ سپیکر، ڈپٹی سپیکر، صدر اور وزیراعظم نے تین اپریل کو آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی کی۔
جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اضافی نوٹ میں کیا کہا؟
اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ سپیکر، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے صدر اور وزیراعظم کی اسمبلیاں تحلیل کرنے تک کی کارروائی عدم اعتماد ناکام کرنے کے لیے تھی۔
اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ سپیکر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ اور صدر، وزیراعظم کی اسمبلیاں تحلیل کی کارروائی سے عوام کی نمائندگی کا حق متاثر ہوا، آرٹیکل پانچ کے تحت آئین پاکستان کی خلاف ورزی پر آرٹیکل چھ کی کارروائی کا راستہ موجود ہے۔
اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ،وزیراعظم، ڈپٹی اسپیکر اور وزیر قانون نے آئین سے فراڈ کیا، آئین کا آرٹیکل 5 آئین سے وفاداری کا کہتا ہے لیکن اسے آئین کی خلاف ورزی کے طور پر استعمال کیا گیا۔
جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آیا ان اقدامات پر آئین کا آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے؟ پارلیمنٹ اس کا فیصلہ کرے۔
جسٹس مظہر عالم نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ پارلیمان فیصلہ کرے کہ آرٹیکل چھ کی کارروائی پر عمل کروا کر مستقبل میں ایسی صورتحال کے لیے دروازہ کھلا چھوڑنا ہے یا بند کرنا ہے۔
یاد رہے کہ اسی اضافی نوٹ کے تناظر میں رانا ثنا اللہ نے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہQasim Suri/ Facebook
اضافی نوٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
سابق اٹارنی جنرل اور ماہر قانون عرفان قادر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی عدالتی فیصلے میں کوئی جج اپنے اضافی نوٹ میں آئین کے مطابق اور حقائق کے مطابق چیزیں لکھتے ہیں تو یقیناً اس کی قانونی حیثیت ہوتی ہے اور اس پر سب کو عمل کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ایک اقلیت میں رہ جانے والی حکومت نے اکثریت کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کو ختم کرنے کی کوشش کی تو اس سے بڑی آئینی خلاف ورزی تو ہو ہی نہیں سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اپنے اضافی نوٹ میں بالکل صحیح نقطہ اٹھایا ہے اور اس پر سپریم کورٹ کو بطور ادارہ غور کرنا چاہیے۔
انھوں نے جج کے اضافی نوٹ کی حیثیت کی وضاحت میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ایک عدالتی فیصلے میں جج نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ مجھے خدشہ ہے کہ پاکستان کا جو فوجداری نظام انصاف ہے موجودہ حکومت اس کو کمزور کر رہی ہے تو اس پر سپریم کورٹ نے باقاعدہ اس پر نوٹس لے کر نیب، ایف آئی اے سمیت تمام حکام کو عدالت میں طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیے
ڈپٹی سپیکر کی رولنگ: عدالتیں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، قیاس آرائیوں پر نہیں، سپریم کورٹ
تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر اور ماہر قانون شعیب شاہین، عرفان قادر کی رائے سے اختلاف کرتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ وہ ہی ہے جو سات اپریل کا مختصر فیصلہ تھا، گذشتہ روز سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی توجیح جاری کی ہے لہذا فیصلہ صرف وہ ہی تصور ہو گا جو سات اپریل کو دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ یا کم کچھ فیصلہ تصور نہیں ہوتا لہذا کسی بھی مقدمے کے فیصلے میں جج کے اضافی نوٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں جسٹس مظہر عالم کی جانب سے دیے گئے اضافی نوٹ کی بھی کوئی قانونی و آئینی حیثیت نہیں ہے اور یہ صرف ان کی رائے ہے۔
انھوں نے کہا کہ کیونکہ یہ اصل آرڈر کا حصہ نہیں ہے اور عدالتی فیصلے کی ریزننگ (توجیح) میں اضافہ ہے اور اگر اس میں تمام جج مل کر بھی یہ بات کرتے تو بھی اس کی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ یہ ان کی ابزرویشن یا رائے ہے۔
کیا حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آرٹیکل چھ کی کارروائی کر سکتی ہے؟
اس کے جواب میں عرفان قادر کا کہنا تھا کہ بطور ماہر قانون میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اپنے اضافی نوٹ میں بالکل درست بات کی ہے اور اس پر اب سپریم کورٹ خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس مظہر نے اپنے اضافی نوٹ میں کسی خدشے کا اظہار نہیں کیا بلکہ انھوں نے آئین اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے بڑے واضح انداز میں کہا ہے کہ یہ خلاف ورزیاں ہمیں نظر آ رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس مقدمے کے اکثریتی فیصلے میں بھی ان آئینی خلاف ورزیوں کو تسلیم کیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے تناظر میں آرٹیکل چھ کی کارروائی پر بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے وقت میں بھی جب پارلیمان اپنے جگہ پر موجود تھی اور صرف ججوں کو برطرف کیا گیا تھا تو اسے سنگین غداری قرار دیا گیا تو یہاں تو ایک بہت بڑی بات ہوئی ہے کہ ایک اقلیت خود کو غیر آئینی طریقے سے اکثریت پر مسلط کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئین میں سنگین غداری کی تعریف دیکھیں تو یہ معاملہ عین اس کے مطابق ہے۔
ماہر قانون شعیب شاہین کہ مطابق یہ صرف ایک جج کی رائے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معزز جج نے اپنے اضافی نوٹ میں غیر آئینی اقدام کی بات کی ہے۔ اگر کوئی بھی سرکاری ملازم، اپنے فرائض سے غفلت برتتا ہے، یا کوتاہی کرتا ہے اور اس سے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب ہوتے ہیں تو یہ غیر آئینی اقدام ہے۔ ایسے تو سب پر سنگین غداری لگ جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل چھ کی تعریف کے تحت غیر آئینی اقدام اور آئین کی خلاف ورزی کرنا اور آئین کو معطل کر دینے میں بڑا فرق ہے۔
آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کے مقدمات یا کارروائی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت جانتی ہے کہ سپریم کورٹ نے ایسا کچھ نہیں کہا اس لیے وہ صرف سیاسی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کر سکتے اور صرف سیاسی بیانات دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجود حکومت کبھی بھی آرٹیکل چھ کی کارروائی نہیں کرے گی اور وہ صرف اور صرف سیاست کر رہی ہے۔
’سیاسی باتوں میں تلخیاں لانا عدلیہ کا کام نہیں‘

پاکستان کے سابق وزیرِ اطلاعات و نشریات اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے گذشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر تفصیلی فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے اضافی نوٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'جہاں تک ایک جج صاحب کے اضافی نوٹ کا سوال ہے تو ویسے تو اسی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، لیکن انھوں نے کوئی بندہ ہی نہیں چھوڑا جس پر وہ آرٹیکل چھ لگانا نہیں چاہتے۔'
انھوں نے اس حوالے سے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جج صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ آرٹیکل چھ پر مقدمے بننے شروع ہوئے تو رسے کم پڑ جائیں گے گلے بہت زیادہ ہیں۔ وہ کام کریں جو آپ کر سکتے ہیں، سیاسی باتوں میں اس طرح کی تلخیاں لانا آپ کا کام نہیں ہے۔ جب آپ کو جواب ملے گا تو پھر آپ آسمان سے لگ جاتے ہیں۔ ایسی باتیں نہ کریں ورنہ ہمیں بتانا پڑے گا کہ فیصلہ کیسے ہوا۔‘
فواد چوہدری نے کہا کہ ’جب ہماری حکومت آئے گی تو ہم اس فیصلے کو پارلیمان میں لے جا کر ختم کروا دیں گے اور پارلیمان فیصلہ کرے گی کہ آرٹیکل 69 کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 6 لگتا ہے یا نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر جج آئین توڑیں تو اس کی کیا سزا ہونی چاہیے اور اگر ججوں کے آئین توڑنے پر سزا ہو گئی تو پھر تو معاملہ بڑا خراب ہو گا۔پھر تو ذوالفقار علی بھٹو کیس کے فیصلے پر بات کرنی پڑی تو اس وقت کے ججوں کو نکالنا پڑے گا اس لیے اس طرح کے فیصلوں میں احتیاط کرنی چاہیے۔‘
پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے ججوں اور جنرلز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کے منھ کو لہو لگا ہوا ہے کہ انھوں نے سیاسی فیصلے کرنے ہیں۔ یہ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ ہے جو بدل جائے گی، پاکستان کے عوام کو حق کو فیصلوں کا حق دینا ہو گا۔‘
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے کچھ جنرلز اور ججز بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کر دیں کہ آج سے ہماری پالیسی یہ ہو گی اور اگلے دن ہم بدل جائیں۔ایک ہم فیصلہ کر لیں کہ آٹھ سال ہم نے افغانستان میں لڑائی لڑنی ہے وہاں پر ہم ہزاروں لوگ شہید کروا لیں اگلے دن ہم بدل جائیں کہ نہیں وہ ہماری پالیسی غلط تھی آج سے ہم دوسری طرف ہو گئے ہیں ہم پھر اپنے ہزاروں بندے مروا لیں۔ پاکستان میں جس طرح سے پالیسیاں بن رہی ہیں یہ تو مذاق ہے۔‘
پاکستان کے سیاسی فیصلے سیاسی میدان میں ہی ہونے چاہییں۔ ججوں اور جنرلز نے ایک کریئر چنا ہے اور اس کے وقار کے مطابق فیصلے ہونے چاہییں یہ نہیں ہو سکتا کہ کرنا ہم جج ہیں اور کرنی سیاست ہے، ہم نے فوج میں کمیشن لیا ہو لیکن کرنی ہم نے سیاست ہے۔‘













