ایاز امیر، عمران ریاض خان: جب بات ریاستی اداروں پر تنقید کی آئے تو غداری کے فتوے کیوں بٹنے لگتے ہیں؟

عمران ریاض

،تصویر کا ذریعہSCREEN GRAB

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں غداری یا بغاوت کے فتوے ’بانٹنے‘ کا کلچر اب اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے اور بات اب صرف فتوے بانٹنے تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اب تو ایسے افراد کو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے جو حکومتِ وقت یا ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

ابھی تک پاکستان میں تنقید کرنے والے افراد جن میں صحافی بھی شامل ہیں، اُن کو ’راہِ راست‘ پر لانے یا انھیں ’سبق سکھانے‘ کے جو طریقے اپنائے گئے ہیں ان میں مبینہ طور پر جبری گمشدگی، تشدد کا نشانہ بنانا یا پھر ان کے خلاف مقدمات کا اندراج شامل ہے۔

تنقید کرنے والوں کو ’راہِ راست‘ پر لانے کے لیے اور ان کے خلاف مقدمات درج کروانے کے لیے ایسے افراد کو مقدمات میں مدعی بنایا جاتا ہے جس کے بارے میں مبینہ طور پر شاید ’درخواست دلوانے والوں‘ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں جانتا اور عموماً ایسے افراد کو عدالتی کارروائی کے دوران پیش ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھا گیا۔

ماضی قریب میں صحافیوں کے خلاف جو مقدمات درج ہوئے اس میں ایک ہی مضمون ہوتا ہے کہ ’فلاں صحافی کے حکومت یا فوج مخالف کسی بیان سے ان سمیت پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی ہے یا لوگوں کو اداروں کے خلاف اُکسایا گیا لہٰذا ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘

موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع دینے سے متعلق فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے نے جب کور کمانڈر کو خطوط لکھے تو اُن کے خلاف مقدمہ درج کروانے والے مدعی کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا، اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے دور میں صحافی اور پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم اور صحافی اسد علی طور پر ریاستی اداروں کو مبینہ طور پر بدنام کرنے سے متعلق جو مقدمات درج ہوئے تھے اس میں بھی درخواست گزاروں کے بارے میں شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے۔

ایاز امیر

،تصویر کا ذریعہSocial Media

’آرمی چیف سے متعلق بات کرتے ہوئے ’ہتھ ہولا‘ رکھا کریں‘

حال ہی میں تجزیہ نگار ایاز امیر پر لاہور میں چند نامعلوم افراد نے حملہ کر کے انھیں زخمی کر دیا تھا۔

ایاز امیر کہتے ہیں کہ ان پر حملہ کرنے کی وجہ ’شاید اُن کی تقریر کا وہ حصہ تھا جس میں انھوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی بات کی تھی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اپنی تقریر میں انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اُن کی موجودگی میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا جنھوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو پارلیمنٹ سے منظور کروا کر ایک قانون بنوا دیا لیکن ان کی طرف سے یا ان کی جماعت کی طرف سے ایسا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھ پر حملہ ہونے سے چند روز پہلے ایک شخص جن کا تعلق ایک حساس ادارے سے تھا وہ میرے پاس آئے تھے اور کہا تھا کہ میں ذرا آرمی چیف سے متعلق بات کرتے ہوئے ’ہتھ ہولا‘ رکھوں۔‘

ایاز امیر کا کہنا تھا کہ ’وہ صرف اکیلے نہیں ہیں جن پر اداروں پر تنقید کرنے کی وجہ سے حملہ ہوا، اس سے پہلے متعدد صحافیوں کو بھی ایسے حالات سے گزرنا پڑا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اب اینکر پرسن عمران ریاض کو بھی ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے اور ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔‘

ایاز امیر

،تصویر کا ذریعہDunya News

انھوں نے کہا کہ ’اداروں پر تنقید کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ پاکستان کے خلاف بات کی جا رہی ہے۔‘

’جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف اور پھر موجودہ آرمی چیف کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع لینا خود ادارے کے مفاد میں نہیں ہے، جبکہ اس کے برعکس انڈیا، برطانیہ اور امریکہ میں چاہے جیسے بھی حالات ہوں فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی جاتی۔‘

’آنے والے وقت میں غدار اکثریت میں جبکہ محبِ وطن اقلیت میں ہوں گے‘

صحافی، تجزیہ نگار اور اینکر پرسن مبشر زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ریاست یا حکومت وقت کے پاس تنقید کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ انھوں نے ’توپ کا گولہ ہی مارنا ہے چاہے اس سے کسی مچھر کو مارنا ہی مقصود کیوں نہ ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ماضی میں اگر کوئی صحافی تنقید کرتا تھا تو اس کو اٹھا کر غائب کر دیا جاتا تھا اور پانچ، چھ ماہ بعد وہ دوبارہ منظرِ عام پر آ جاتا تھا لیکن اب وقت بدل گیا ہے اور سوشل میڈیا بہت زیادہ متحرک ہو گیا ہے لیکن ریاستی ادارے اس تبدیلی کو تسلیم کرنے کے لیے بظاہر فی الوقت تیار نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اب اگر کسی صحافی کو اغوا کیا جاتا ہے یا زبردستی اٹھایا جاتا ہے تو یہ خبر سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے گردش کرنا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ریاست یا حکومت کو اپنا یہ اقدام واپس لینا پڑتا ہے۔‘

مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ ’اداروں یا حکومت وقت پر تنقید ذاتی پسند اور ناپسند کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے غیر آئینی اقدامات کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے چند افراد یہ تصور کرتے ہیں کہ یقینی طور پر تنقید کرنے والوں کے مذموم عزائم ہوں گے۔‘

اعزاز سید

،تصویر کا ذریعہAzaz Syed

انھوں نے کہا کہ ’جس تیزی سے غداری کے فتوے بانٹے جا رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں غدار اکثریت میں جبکہ محبِ وطن اقلیت میں ہوں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں صحافت بٹ چکی ہے، ایک دھڑا ایک سیاسی جماعت کے کیمپ میں جبکہ دوسرا دھڑا دوسری سیاسی جماعت کے بیانیے کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کئی حصوں میں بٹ چکی ہے اور ہر سیاسی جماعت اس کے کسی نا کسی دھڑے کو اپنا ساتھ ملائے ہوئے ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ ’ریاست نے ہی یہ فارمولا ایجاد کیا ہے کہ اگر کسی جماعت کو اقتدار میں لانا ہوتا ہے تو پانچ چھ ماہ قبل ہی اس جماعت کے حق میں اخبارات میں مضامین چھپوائے جاتے ہیں اور ان میں صحافیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔‘

مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں کہ صحافیوں کو استعمال کرنے والوں کو اُن کے مسائل کا ادراک نہیں ہے بلکہ ان کی مالی ضرورتوں کو پورا کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر صحافیوں کا احتساب صحافتی تنظیمیں نہیں کریں گی تو پھر کسی نہ کسی ادارے کو تو ایسا کرنے کا موقع ملے گا جو کہ مقدمات کے اندراج سے لے کر گرفتاری اور جسمانی تشدد تک بھی جا سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’پاکستانی صحافت اتنی بےحال ہے اور مستقبل کی تو بات چھوڑیں اس کو اپنا حال ہی درست کرنے میں ایک عرصہ درکار ہو گا۔‘

بغاوت ہے کیا؟

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی وکیل رابعہ باجوہ کا کہنا ہے کہ ’تعزیرات پاکستان کی دفعہ 124 غداری یا بغاوت کے زمرے میں آتی ہے جس کے تحت ریاست یا حکومت کے خلاف لوگوں میں نفرت پھیلانا یا انھیں اشتعال دلانا شامل ہے۔‘

انھوں نے اس کی سزا کے حوالے سے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا عمر قید یا تین سال اور اس کے ساتھ جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے تاہم غداری یا بغاوت ثابت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے پہلے ہی ایسی دفعات کو قانون کی اندر رکھا گیا تھا اور یہ قانون اب تک پاکستان اور انڈیا میں بھی رائج ہے۔‘

،ویڈیو کیپشنمیڈیا اور صحافی ریاست کا ٹارگٹ

رابعہ باجوہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں اس قانون کا غلط استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جس پر غداری کے الزامات نہ لگے ہوں البتہ اب تو سوشل میڈیا کے آنے کی وجہ سے ان الزامات کو ہوا دی جاتی ہے جس سے لوگوں میں کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کے بارے میں اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ وہ غدار ہیں یا ملک دشمن پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جس شخص پر اس قسم کے الزامات لگا دیے جائیں تو پھر اس کے لیے معاشرے میں بھی شدید مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ماضی قریب میں پاکستان پینل کوڈ سے اس قانون کو ختم کرنے کی بات کی گئی تھی تاہم یہ معاملہ اس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے اور اس قانون کو مخالفت میں بلند ہونے والی آواز کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے چاہے وہ آواز سول سوسائٹی کی طرف سے اٹھی ہو، وکلا یا پھر صحافیوں کی طرف سے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اگر کسی صحافی نے ڈکٹیٹر شپ یا حکومت کے غیر آئینی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا تو ان کے خلاف اس قانون کا غلط استعمال کیا گیا۔‘

رابعہ باجوہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں جمہوریت بڑی کمزور ہے اور ایسا قانون اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔‘