شہروز کاشف اور فضل علی: نانگا پربت سر کرنے والے پاکستانی کوہ پیما جو ’رات برف کی غار میں یہ سوچ کر سوئے کہ بس اب ختم۔۔۔‘

شہروز کاشف

،تصویر کا ذریعہPakistan Army Aviation

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’اس رات میں یہ سوچ کر سویا تھا کہ بس ختم، زندگی اب نہیں رہی۔۔۔ ہم اب بچ نہیں سکتے۔۔ کوئی چانس نہیں کہ کل ہم زندہ اٹھ پائیں گے مگر صبح اٹھے تو معجزہ ہو چکا تھا۔‘

دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت (8126 میٹر) سر کرنے والے 20 سالہ پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ فضل علی کو گذشتہ شام کیمپ ون سے ریسکیو کرکے بحفاظت گلگت پہنچایا جا چکا ہے لیکن نانگا پربت پر گزرنے والی وہ رات ان کے ذہن پر نقش ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ منگل کی شام نانگا پربت کی چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے راستے میں 7350 میٹر کی بلندی پر تقریباً شام کے 7:30 بجے شہروز کا اپنے والد سے آخری رابطہ ہوا تھا۔

مگر منگل کی صبح 8:45 پر نانگا پربت کا سمٹ کرنے کے بعد ایسا کیا ہوا کہ شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ کا رابطہ بیس کیمپ اور اہلِ خانہ سے منقطع ہو گیا؟

اس رات ان دونوں کوہ پیماؤں کے ساتھ وہاں کیا واقعہ پیش آیا؟ اور انھوں نے وہ رات نانگا پربت کے قاتل پہاڑ کے خطرناک زون میں کہاں اور کیسے گزاری؟

شہروز کاشف

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN ARMY AVIATION

گلگت پہنچنے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہروز کاشف اور ان کے ساتھی اور گائیڈ فضل علی نے بتایا کہ منگل کو صبح سمٹ کرنے کے بعد تقریباً 9 بجے وہ نیچے اترنا شروع ہوئے اور 7500 میٹر تک پہنچے ہی تھے کہ بادل چھا گئے اور موسم بہت خراب ہو گیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں کوئی رسیاں نہیں لگی ہوئی تھیں نہ ہی کوئی قدموں کے نشان نظر آتے تھے لہذا انھیں روٹ کی سمجھ نہیں آئی اور وہ اس قاتل پہاڑ پر بھٹک گئے۔

شہروز بتاتے ہیں کہ انھوں نے گائیڈ اور ساتھی فضل علی سے پوچھا کہ ’کدھر جانا ہے؟ تو انھیں بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی اور وہ بھی یہی بولے کہ کوئی پتا نہیں۔‘

’ہم مدد کے لیے چیخ رہے تھے۔ ہیلپ ہیلپ پکار رہے تھی کہ شاید کوئی سن لے اور مدد کو آ جائے مگر وہاں کوئی نہیں تھا اور میں اور فضل بس اکیلے راستہ ڈھونڈتے رہے اور اسی میں رات ہو گئی۔‘

نانگا پربت کے اس خطرناک زون میں تقریباً منفی 20 درجہ حرارت اور برفیلی ہواؤں میں ان کوہ پیماؤں کو جان لیوا قدرتی موسم کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کے اندر بھی ایک لڑائی لڑنا پڑی اور انھوں نے تقریباً ایک پورا دن اس بلندی پر بھٹکتے ہوئے گزارا۔

اتنی بلندی پر کیا خطرہ ہوتا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم سطح سمندر سے 2100 میٹر تک کی بُلندی پر رہنے کے لیے بنا ہے اور اس سے زیادہ بلندی پر انسانی جسم میں آکسیجن کی سچوریشن تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور جسم میں منفی اثرات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اتنی بلندی پر عموماً کوہ پیما ہائی پوکسیا (آکسیجن کی کمی) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہائی پوکسیا کے ساتھ نبض تیز ہو جاتی ہے، خون گاڑھا ہو کر جمنے لگتا ہے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ خراب حالت میں کوہ پیماؤں کے پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے اور وہ ہائی ایلٹیٹیوٹ سیریبل انیڈما (HACE) کا شکار ہو سکتے ہیں۔

انھیں خون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھانسی آنے لگتی ہے اور ان کا نظام تنفس بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

شہروز کاشف

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN ARMY AVIATION

ایسی حالت میں بیشتر کوہ پیماؤں کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، انھیں عجیب ہذیانی خیالات آتے ہیں اور وہ پھر وہی کرتے ہیں جو 'ایورسٹ' فلم میں اینڈی ہیرس نے کیا تھا۔

کوہ پیمائی سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ شاید ہائی پوکسیا کے ساتھ ساتھ دھندھلی فضا جس میں کم دکھائی دیتا ہے شہروز اور فضل کے بھٹکنے کا سبب بنا تاہم ان دونوں کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور ہم بس خراب موسم کے باعث بھٹک گئے۔

اسی وقت شہروز کا اپنے والد سے آخری رابطہ ہوا جس کے بعد ان دونوں کے تمام آلات نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

’یہ سوچ کر سویا تھا کہ کوئی چانس نہیں کہ کل ہم زندہ اٹھ پائیں گے‘

بھٹکتے بھٹکتے شام کا اندھیرا پھیلنے لگا۔

انھوں نے 7500 میٹر کی بلندی پر (سمٹ سے تقریباً 600 میٹر نیچے) جہاں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری تھا، سر کو گرم رکھنے کے لیے بہت چھوٹی سی برف کی غار کھودی (شہروز اور فضل علی اسے اگلو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے صرف سر رکھنے کے لیے ذرا سی جگہ کھودی تھی) اور اپنے تمام کپڑوں، جوتوں اور آلات سمیت لیٹ گئے۔ ان کا سر برف کی غار کے اندر تھا جبکہ پورے جسم کھلے آسمان تلے تھا۔

شہروز بتاتے ہیں کہ ’اس رات ہم اس برف کی چھوٹی سی غار میں یہ سوچ کر سوئے تھے کہ بس ختم۔۔ زندگی اب نہیں رہی۔۔۔‘

’میں یہ سوچ کر لیٹ گیا تھا کہ ہم بچ نہیں سکتے اب اور کوئی چانس ہی نہیں کہ کل ہم زندہ اٹھ پائیں گے۔‘

فضل علی بتاتے ہیں کہ ’چونکہ ہم نے تو سمٹ کر کے اسی دن واپس آنا تھا اس لیے اس رات ہمارے پاس نہ پینے کا پانی تھا نہ کھانے کی کوئی چیز اور نہ ہی ٹینٹ۔۔۔ 7500 میٹر کی بلندی پر ہم ایک ایسی جگہ تھے جہاں سردی اور خراب موسم کے ساتھ برفانی تودے اوپر گرنے کا بھی خطرہ تھا اور ہر قسم کا رسک تھا مگر بس خدا کا نام لیا اور اس نے بچا لیا۔‘

شہروز

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN ARMY AVIATION

تو اندازاً 7500 میٹر پر منفی 20 میں وہ کتنی دیر سوئے ہوں گے؟ شہروز بتاتے ہیں کہ ’موسم بہت خراب تھا، برف گر رہی تھی اور وہ ہر آدھے گھنٹے بعد اٹھ رہے تھے۔‘

شہروز کہتے ہیں کہ ’ایک آپ پلان کرتے ہیں اور ایک اللہ کا پلان ہوتا ہے اور میں یہی سوچ رہا تھا کہ اللہ کی مرضی سے آئے ہیں اب جو ہو گا وہ بھی اللہ کی مرضی ہو گی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’صبح تقریباً 4:30 سے 5 بجے اٹھے تو ایک معجزہ ہی ہوا تھا اور ہم دونوں اس خطرناک زون میں 7500 میٹر کی بلندی پر رات گزار کر جان بچانے میں کامیاب رہے تھے۔‘

عمران حیدر تھہیم کوہ پیمائی کے شوقین اور گذشتہ 11 برس سے کوہ پیمائی کے لیے پاکستان آنے والی مہمات پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ منگل کی رات ہم نانگا پربت پر درجہ حرارت چیک کر رہے تھے کہ ان کے بچ جانا کا کتنا امکان ہے اور سمٹ پر درجہ حرارت منفی 20 تھا۔ جس سے ہمیں امید ہوئی تھی کہ یہ بچ جائیں گے کیونکہ منفی 15-20 کے درمیان survival ممکن ہوتا ہے۔

’ہم نے خدا کا شکر ادا کیا کہ ہم زندہ بچ گئے‘

اتنی بلندی پر انسانوں کو سانس لینے کے لیے درکار آکسیجن کی کمی سے جہاں 'آلٹیٹیوٹ سکنیس (اونچائی پر لاحق ہونے والی بیماری)' کے امکانات بڑھ جاتے ہیں وہیں بلندی پر تیز ہوائیں بھی کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ انتہائی کم درجہ حرارت بھی جسم کے کسی بھی حصے میں فراسٹ بائیٹ کا باعث بن سکتا ہے۔

شہروز اور فضل اس حوالے سے خوش قسمت رہے کہ انھیں جسم کے کسی حصے میں فراسٹ بائیٹ نہیں ہوئی۔۔۔ وہ اسے ایک معجزے کا نام دیتے ہیں کہ دونوں کے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں۔

چونکہ ان کے آلات کام کرنا چھوڑ چکے تھے لہذا دونوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ بیس کیمپ میں ان کو ریسکیو کرنے کے لیے کیا کوششیں کی جاری ہیں اور انھوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نیچے کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کھلے آسمان تلے اتنی مشکل رات گزارنے کے بعد انھوں نے کیمپ تھری پہنچ کر وہاں رک کر ریسکیو کا انتظار کیوں نہیں کیا؟ شہروز اور فضل علی بتاتے ہیں کہ ’موسم اتنا خراب تھا کہ ہمیں معلوم ہو گیا کہ ریسکیو مشکل ہے اور کوئی ہماری مدد کو نہیں آ سکے گا۔ لہذا ہم نے تھوڑا آرام کرنے کے بعد اترآئی کا سفر جاری رکھا۔‘

شہروز بتاتے ہیں کہ ’جب ہم گئے تو رات کا وقت تھا مگر راستہ بھولنے اور رات گزارنے کے بعد جب صبح بادل ہٹے تو میں سمجھا کہ رات ہی ہے اور پھر سارے راستے کو دن کی روشنی میں تصور کیا اور اپنے دماغ میں واپسی کی ٹریل بنانی شروع کی۔‘

یاد رہے کہ ان سے رابطہ منقطع ہونے کے اگلے دو روز کے دوران دونوں کوہ پیماؤں کو بذریعہ ہیلی اور زمینی راستے سے ریسکیو کرنے کی کوششیں کی گئی تاہم خرابی موسم کی وجہ سے یہ کوششیں ناکام رہی تھیں۔

اپنی مدد آپ کے تحت یہ دونوں نیچے اُترے اور ابتدا میں بیس کیمپ تھری، اس کے بعد ٹو اور پھر بیس کیمپ ون تک پہنچے جس کے بعد پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز نے 4948 میٹر سے انھیں ریسکیو کیا۔

پاکستان آرمی ایوی ایشن

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN ARMY AVIATION

کیا اس سے قبل کسی کوہ پیما نے نانگا پربت کے اس خطرناک زون میں رات گزاری ہے؟

یاد رہے شہروز کاشف اور فضل علی نے 7500 میٹر پر جس زون میں کھلے آسمان تلے رات گزاری یہ نانگا پربت کا ڈیتھ زون نہیں ہے اور اس سے قبل بھی بہت سے کوہ پیماؤں نے وہاں وقت گزارا ہے (نانگا پربت کا ڈیتھ زون 126 میٹر ہے جو 8000 میٹر سے شروع ہو کر 8126 میٹر تک کا علاقہ ہے)۔

اس کی حالیہ مثال فرانسیسی خاتون الزبتھ ریوول تھی جو 2018 کے موسم سرما میں وہاں رہ کر زندہ بچ گئی تھیں جب کہ ان کے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ساتھی کوہ پیما تومش ماتسکیویچ کی موت ہو گئی تھی۔

ریوول اور تومش ماتسکیویچ 8126 میٹر بلند نانگاپربت کو سردیوں کے موسم میں سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ 7400 میٹر کی بلندی پر پھنس کر رہ گئے۔

ریوول کو ایک ڈرامائی امدادی کارروائی کے نتیجے میں زندہ بچا لیا گیا تھا۔ تاہم اس ریسکیو آپریشن کے دوران تومش کو تلاش نہیں کیا جا سکا تھا۔

الزبتھ ریوول اور تومش ماتسکیویچ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالزبتھ ریوول اور تومش ماتسکیویچ

جن چار پولش کوہ پیماؤں نے الزبتھ کو بچایا تھا وہ انھیں بچانے کے لیے کے ٹو سے آئے تھے اور انھیں Kinshofer wall کے اوپر سے بچایا گیا تھا۔

ریسکیو ٹیم نے انھیں تاکید کی تھی کہ وہ اپنے پولش کوہ پیما ساتھی تومش ماتسکیویچ کو سات ہزار فٹ کی بلندی پر ہی چھوڑ دیں۔ بعد میں الزبتھ نے اس فیصلے کو خوفناک اور دردناک بتایا تھا۔

دونوں نے شدید برفانی ہواؤں سے بچنے کے لیے تودے تلے چھپنے کی کوشش کی لیکن تومش میں نیچے کی طرف مشکل سفر جاری رکھنے کی سکت نہ رہی اور صبح ہونے تک ان کی حالت مزید بگڑ چکی تھی۔

اس وقت انھیں پیغام ملا کہ اگر آپ چھ ہزار میٹر کی بلندی تک نیچے کی طرف آ جائیں تو آپ کو بچایا جا سکتا ہے اور پھر تومش کو 7200 میٹر کی بلندی پر جا کر بچا لیا جائے گا۔

جی پی ایس کے ذریعے وہ امدادی ٹیم کے ساتھ رابطے میں رہیں اور یہ سوچ کہ نیچے کی طرف روانہ ہوئیں کہ انھیں بچا لیا جائے گا اور انھوں نے اپنا ٹینٹ،کمبل اور سامان وہیں چھوڑ دیا۔

لیکن امدادی ٹیم نہ پہنچ سکی تھی اور الزبتھ کو برفانی تودے تلے ایک اور رات گزارنی پڑی۔

اس رات الزبتھ پر ہذیان کی کیفیت طاری ہو گئی اور انھوں نے اپنے جوتے اتار پھینکے۔۔۔ صبح جب اٹھیں تو انھوں نے صرف جرابیں پہن رکھیں تھیں۔

بعد میں الزبتھ نے بتایا تھا کہ ’مجھے لگا جیسے لوگ میرے لیے چائے لے کر آئے ہیں۔ ایک عورت نے مجھ سے کہا کہ کیا وہ چائے کے بدلے میرا جوتا لے لیں؟ میں اسی وقت خودکار طریقے سے اٹھ گئی اور جوتا اتار کر اسے دے دیا۔ صبح جب میں اٹھی تو میں نے صرف جرابیں پہن رکھی تھیں۔‘

الزبتھ پانچ گھنٹے بغیر جوتوں کے رہیں۔ انھوں نے 6800 میٹر کی بلندی پر رکنے کا فیصلہ کیا تاکہ نیچے کا سفر جاری رکھنے کے لیے کچھ قوت آ سکے۔ اس دوران پولش امدادی ٹیم کا وہ پیغام انھیں موصول نہیں ہوا کہ وہ ان کو بچانے کے لیے آ رہے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب انھوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ کیا وہ بچ پائیں گی؟

آخر کار انھوں نے اپنا سفر گیلے دستانوں اور ننگے یخ بستہ پاؤں کے ساتھ دوبارہ شروع کیا اور صبح تین بجے وہ ایک کیمپ کے قریب پہنچ گئیں۔ الزبتھ کو وہاں سے اسلام آباد اور پھر اگلے دن سوئٹزرلینڈ پہنچایا گیا تھا۔

الزبتھ ریوول

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالزبتھ ریوول

یہ بھی پڑھیے

نانگا پربت کو 'کلر ماؤنٹین' کیوں کہتے ہیں؟

نانگا پربت یا ننگی پہاڑی کو علاقائی زبان میں 'دیامیر' بھی پکارا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے 'پہاڑوں کا بادشاہ'۔ یہ چوٹی پاکستان میں گلگت بلتستان کےعلاقے میں سطح سمندر سے 8126 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔

نانگا پربت کو'کلر ماؤنٹین' یا 'قاتل پہاڑ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ اس پر شرح اموات دنیا میں موجود 8000 میٹر سے بلند چوٹیوں میں سب سے زیادہ یعنی 23 فیصد ہے۔

عمران حیدر تھہیم بتاتے ہیں کہ دنیا میں 8000 میٹر سے بلند جتنی بھی 14 چوٹیاں ہیں ان پر سب سے پہلے سمٹ کی کوششیں 1895 میں نانگا پربت سے ہی شروع ہوئی تھیں۔

سنہ 1895 سے 1953 تک، پہلی سمٹ سے پہلے جتنے بھی کوہ پیما نانگا پربت کو سر کرنے جاتے (8-10 ایکسپیڈیشن) سب کے سب مر جاتے۔

سنہ 1953 تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ یہ 'کلر ماؤنٹین' ہے جو اسے سر کرنے جاتا ہے، مر جاتا ہے۔

پہلے سمٹ سے قبل تک کم از کم 31 کوہ پیما اس کا سمٹ کرنے کی کوششوں میں ہلاک ہوئے، پھر 1953 میں ڈرامائی طور پر پہلا سمٹ ہوا اور وہ بھی آکسیجن کے بغیر۔

آسٹریا کے مشہور کوہ پیما ہرمن بوہل نے تن تنہا اور آکسیجن کے بغیر 1953 میں اس قاتل پہاڑ کو سر کر لیا تھا۔

عمران حیدر کے مطابق یہ کسی بھی آٹھ ہزاری پہاڑ کو اکیلے سر کرنے کی سب سے پہلی اور شاید آج تک کی واحد مثال ہے۔ گو کہ سوئس الپائنسٹ Ueli Steck نے بھی انّاپورنا ساؤتھ کو 2013 میں اکیلے سر کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن یہ دعویٰ کچھ لوگوں کے نزدیک متنازعہ ہے۔

اب تک نانگا پربت پر سمٹ کرنے والے کوہ پیماؤں کی کل تعداد 376 ہے جبکہ 91 اسے سر کرنے کی کوششوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یعنی ہر چار میں سے ایک کوہ پیما اسے سر کرنے کی کوشش میں جان کی بازی ہارا ہے۔

اب شہروز کا آگے کیا ارادہ ہے ؟

شہروز

،تصویر کا ذریعہKASHIF SALMAN

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز جنھیں زیادہ تر لوگ 'براڈ بوائے' کے نام سے جاتے ہیں، 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔

رواں برس مئی میں شہروز دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے۔

وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا (8586 میٹر)، 16 مئی 2022 کو چوتھی بلند ترین لوتسے (8516) اور پانچویں بلند ترین مکالو (8463) کو سر کیا ہے۔

اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑاپیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس(5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔

دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو 'پروجیکٹ 345' کا نام دیا تھا۔

شہروز اب فضل علی کے ساتھ گاشر برم ون (8080 میٹر) اور ٹو (8035 میٹر) سر کرنے سکردو جا رہے ہیں۔

میں نے شہروز سے پوچھا کہ تقریباً موت کو چھو کر واپس آنے کے بعد کیا وہ کچھ آرام نہیں کرنا چاہیں گے ؟ اور کیا انھیں تھوڑا سا بھی ڈر نہیں لگ رہا؟ گھر والے نہیں منع کر رہے کہ اب انسان بنو اور گھر بیٹھو؟

اس کے جواب میں شہروز کہتے ہیں ’یہ سب کھیل کا حصہ ہے، یہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔۔۔ اور گھر والوں کو میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ جذبات کو ذرا سائیڈ پر رکھ کر بات کریں تو وہ میرے فیصلوں کو سمجھ جاتے ہیں۔‘