موسم گرما میں درآمدی ایل این جی کے چار نئے ٹینڈر: درآمدی گیس پر پاکستان کا انحصار کیوں بڑھ رہا ہے اور یہ ملکی معیشت کے لیے کتنا خطرناک ہے؟

ایل این جی ٹرمینل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان نے جولائی کے مہینے کے لیے درآمدی ایل این جی کی خریداری کے لیے چار ٹینڈر جاری کیے ہیں جن کا ملک میں گیس کی طلب و رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ختم کرنا ہے۔

پاکستان چار طویل مدتی معاہدوں کے تحت پہلے سے ایل این جی کی درآمد کر رہا ہے تاہم ملک میں گیس کی قلت کے پیش نظر حکومت نے جولائی کے مہینے کے لیے مزید چار کارگو منگوانے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ ٹینڈر جاری کیے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے ملک میں درآمدی ایل این جی گیس کی قلت کو پورا کرنے کے لیے منگوائی جا رہی ہے تاہم دوسری جانب دنیا میں ایل این جی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے ایل این جی کی یہ درآمد ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ ثابت ہو رہی ہے۔

روس اور یوکرین تنازع نے ایک جانب تیل و کوئلے کی قیمتوں کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے تو اس کا اثر گیس کی قیمتوں پر بھی پڑا جو دنیا بھر میں اس وقت بلند سطح پر موجود ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کا درآمدی ایل این جی پر بڑھتا ہوا انحصار ملک کی انرجی سکیورٹی اور مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے جس کا اظہار ایک عالمی ادارے انسٹیٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشنل انیلیسز (آئی ای ای ایف اے) کی حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں بھی کیا ہے۔

پاکستان میں درآمدی ایل این جی پر زیادہ انحصار ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان تنازع کی وجہ سے گیس کی قیمتیں عالمی منڈی میں بلند ترین سطح پر موجود ہیں اور اس کا منفی اثر پاکستان جیسے ملکوں پر پڑ رہا ہے جو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی گیس پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان میں ایل این جی بیرون ملک سے کچھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت منگوائی جا رہی جو پاکستان مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے سابقہ ادوار میں کیے گئے ہیں۔

تاہم گیس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ’سپاٹ کارگو‘ یعنی ایل این جی کی موجودہ عالمی مارکیٹ میں قیمت پر منگوائے جاتے ہیں جو طویل مدتی معاہدوں کے مقابلے میں اس وقت بہت زیادہ ہے۔

پاکستان میں گیس کی پیداوار و کھپت کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

ایل این جی

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت گیس کی مقامی پیداوار 3000 سے 4000 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جب کہ ملک میں اس کی ضرورت 6000 سے 7000 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔

مقامی پیداوار اور کھپت میں پیدا ہونے والے اس فرق کو درآمدی ایل این جی سے پورا کیا جاتا ہے، جس کے لیے پاکستان نے چار طویل مدتی معاہدے کیے جس میں قطر سے ایل این جی درآمد کے ساتھ دو کمپنیاں 'ای این آئی' اور 'گنور' پاکستان کو گیس فراہم کرتی ہیں۔

پاکستان میں بجلی بنانے والے پلانٹس 35 فیصد گیس استعمال کرتے ہیں ، 21 فیصد گیس کا گھریلو استعمال ہے، صعنتی شعبے میں اس کا استعمال 17 فیصد اور فرٹیلائزر کا شعبہ 16 فیصد گیس استعمال کرتا ہے۔

پاکستان نے مقامی سطح پر گیس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے 2015 میں گیس درآمد کرنا شروع کی اور پہلے سال میں جتنی گیس درآمد کی گئی تھی اس میں آئندہ آنے والے برسوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان میں درآمد کی جانے والی گیس اور اس پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کے اگر موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینے کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو اس میں گذشتہ سال کے ان گیارہ مہینوں میں 86 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔

پاکستان نے گذشتہ مالی سال جولائی سے مئی کے مہینوں میں 2.3 ارب ڈالر کی گیس درآمد کی تھی جو موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں بڑھ کر 4.2 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔ صرف مئی کے مہینے میں درامدی گیس کا بل 58 کروڑ 3 لاکھ ڈالر تھا جو گذشتہ مئی میں 27 کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر تھا۔

درآمدی گیس پر پاکستان کا انحصار کیوں بڑھ رہا ہے؟

ایل این جی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے درآمدی گیس پر زیادہ انحصار کے بارے میں آئی ای ای ایف اے کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کی شریک لکھاری ہنیا اسعاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 80 کی دہائی سے پاکستان کی معیشت کا انحصار گیس پر بڑھا اور وقت کے ساتھ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ گھریلو اور صنعتی استعمال کے ساتھ ساتھ بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس استعمال کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کھپت بڑھ گئی تاہم پاکستان میں اس کے مقامی ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے اور گیس کی کوئی نئی بڑی دریافت نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایک تو سکیورٹی کی صورتحال ہے کہ کوئی نئی سرمایہ کاری نہیں ہوئی ہے تو دوسری جانب گیس کی کھپت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

روس، یوکرین تنازع اور پاکستان کو گیس درآمد میں درپیش مشکلات

ایل این جی

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان میں سردی کے موسم میں گیس کی کمی کی شکایات تو ایک معمول کی بات چلی آ ر ہی ہے تاہم موجودہ سال میں سردی اور گرمی دونوں موسموں میں پاکستان گیس کمی کا شکار ہے۔

پاکستان میں بجلی بنانے والے پلانٹس گیس پر بجلی پیدا کرتے ہیں ۔ آئی ای ای ایف اے کی رپورٹ کےمطابق دسمبر 2021 سے لے کر اب تک گیس کی کمی وجہ سے 3500 میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کی جا سکی اور ملک میں حالیہ ہفتوں میں 10 سے 18 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ معمول بن گئی۔

ہنیا اسعاد نے اس سلسلے میں بتایا کہ دنیا میں ایل این جی کے بڑے درآمدہ کنندگان چین، جاپان اور کوریا ہے جن کے پاس وسائل ہیں اور ایل این جی کی زیادہ سپلائی ان ممالک کو جاتی ہے۔ یوکرین تنازعے کی وجہ سے جب روس کی جانب سے سپلائی پر پابندی لگی تو اس نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا کیونکہ روس دنیا میں گیس سپلائی کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔

کورونا وائرس کے دوران گیس کی قیمتں دس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بھی نیچے آ گئی تھیں تاہم کورونا وارئرس کے بعد جب دنیا بھر کی معیشتیں بحال ہوئیں تو اس کی وجہ سے طلب بڑھی اور پھر یوکرین روس تنازع کی وجہ سے گیس کی قیمتیں 35 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بھی بڑھ گئیں جو اس وقت بھی 25 سے 30 ڈالر کے درمیان موجود ہیں۔

ہنیا نے بتایا کہ جب قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں تو پاکستان کو طویل مدتی معاہدے کے تحت گیس سپلائی کرنے والے سپلائرز بھی ڈیفالٹ کر گئے۔ اس سال جنوری سے لے کر اب تک ان سپلائرز نے گیارہ کارگوز پر ڈیفالٹ کیا جو وہ طویل مدتی معاہدے کے تحت فراہم کرنے کے پابند تھے جس کی وجہ سے پاور پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کم ہوئی تو دوسری جانب پنجاب میں ٹیکسٹائل کے شعبے نے گیس کمی کا سامنا کیا۔

انھوں نے کہا بھکی، بلوکی اور حویلی بہادر شاہ پلانٹس میں گیس سپلائی میں کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔

انھوں نے کہا پاکستان کا درآمدی گیس کا بل بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے درآمدی کنٹریکٹس ڈالر انڈیکس پر ہوتے ہیں اور اس گیس کی درآمد کے لیے ڈالر دینے ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے جن پر تیل مصنوعات کی بڑھتی ہوئی درآمد کی وجہ سے پہلے سے دباو موجود ہے

پاکستان کے گیس درآمد کے طویل مدتی معاہدے کیا ٹھیک تھے؟

تیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان نے 2015 میں گیس درآمد کرنا شروع کی تو اس کے لیے طویل مدتی معاہدے کیے، اُن کے تحت گیس کی درآمدی قیمت خام تیل کی برینٹ آئل قیمت کی فیصد سے طے کی جاتی ہے۔ سنہ 2015 میں نواز لیگ کے دور میں کیے جانے والے معاہدے برینٹ آئل کی اس وقت کی قیمت کے 13.3 فیصد کے حساب سے ہوئے تھے جب کہ تحریک انصاف کے دور میں یہ 10.2 فیصد کے حساب سے ہوئے تھے۔

گیس شعبے کے ماہر محمد راجپر نے طویل مدتی معاہدوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتوں کے دور میں طویل مدتی معاہدے ٹھیک تھے کیونکہ اس وقت کے حالات اور گیس کی قیمتوں کو دیکھا جائے تو یہ قیمت صحیح تھی اور آج پاکستان میں ان معاہدوں کے تحت گیس آ رہی ہے۔

انھوں نے کہا پاکستان ان طویل مدتی معاہدوں کا صحیح طریقے سے انتظام کر رہا ہے۔

درآمدی گیس کی نگران وزارت پٹرولیم کے ترجمان زکریا علی شاہ سے جب طویل مدتی معاہدوں کے تحت گیس درآمد کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس سلسلے میں بتایا کہ جب یہ طویل مدتی معاہدے کیے گئے تواس وقت کے جو گیس کی عالمی قیمت تھی، اس کے مطابق ٹھیک تھے۔

انھوں نے بتایا کہ کہ پاکستان میں توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے یہ طویل مدتی معاہدے بہت کارآمد ثابت ہوئے ہیں اور گذشتہ دو ادوار میں جو معاہدے کیے گئے وہ پوری ایمانداری سے ملک کی انرجی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ان طویل مدتی معاہدوں میں سے ایک کی مدت تو ختم ہو رہی ہے تاہم مزید طویل مدتی معاہدوں کے لیے کام ہو رہا ہے۔

شاہ نے کہا کہ پہلے والے طویل مدتی معاہدے قطر کے ساتھ ہوئے تھے اور اب پاکستان آذربائیجان اور سعودی عرب کے ساتھ بھی طویل مدتی معاہدوں کے لیے بات چیت کر رہا ہے اور اس سلسلے میں امید ہے کہ تین چار مہینوں میں پیش رفت سامنے آ جائے گی۔

درآمدی گیس پر بڑھتے انحصار کی وجہ سے ملک کی انرجی سکیورٹی اور مالیاتی استحکام پر ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں زکریا شاہ نے بتایا کہ پاکستان کے اندر بھی گیس دریافت کے لیے کام جاری ہے اور حال ہی میں گیس کی بڑی دریافت ہوئی ہے جو گیس کی مقامی پیداوار میں کافی اضافہ کرے گی۔