پاکستان میں رواں برس آم کی پیداوار میں نمایاں کمی: ’25 سال میں ایسا بحرانی سال نہیں دیکھا‘

آم
    • مصنف, عثمان زاہد اور اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو

’میں گذشتہ دو دہائی سے زائد عرصے سے آم کی کاشتکاری کر رہا ہوں مگر رواں برس جو آم کے ساتھ ہوا، ایسا بحرانی سال میں نے 25 سال میں نہیں دیکھا۔ سخت موسم، وائرس (کالا تیلو) اور پانی کی شدید کمی اس بحران میں مزید اضافے کی وجہ بنے، جس سے رواں برس اس فصل کی پیداوار تقریباً 50 فیصد تک کم ہو کر رہ گئی ہے۔‘

اپنی دُکھ بھری یہ داستان پاکستان کے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے کاشتکار عبدالرزاق نے بی بی سی کو سُنائی۔ عبدالرزاق گذشتہ 25 برس سے آم کی کاشتکاری کر رہے ہیں۔

عبدالرزاق تو اب اس بحران میں آم کو چھوڑ کر کسی اور فصل میں اپنی قسمت آزمائی کا سوچ رہے ہیں مگر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پاکستان جو ’پھلوں کے بادشاہ‘ آم کی پیداوار کے لیے دنیا بھر میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اسے اس بحران کی کیا قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایسے میں حکومت کو اب پیداوار کو بڑھانے کے لیے کون سے ایسے ضروری اقدامات اٹھانا ہوں گے جس سے نہ صرف اس صنعت سے جڑے لگ بھگ ساڑھے چار لاکھ خاندان غربت سے بچ سکیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی اس صورتحال سے دھچکا نہ لگے۔

بی بی سی نے اس حوالے سے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے حکام کے علاوہ اس صنعت سے جڑے دو تجربہ کار ایکسپورٹرز وحید احمد اور جمشید بشیر سے آم کی فصل کو درپیش چیلنجز سے متعلق بات کی ہے۔

آم

وحید احمد فروٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آم کی تو ابتدا ہی اس خطے سے ہوئی، جسے آج دنیا پاکستان اور انڈیا کے نام سے جانتی ہے۔

انھوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سُنایا کہ جب ایک بار برطانیہ میں ملکہ سے ان کا تعارف کروایا گیا تو ملکہ نے فوراً کہا کہ وہ پاکستان کے آموں کو پسند کرتی ہیں۔

وحید احمد کے مطابق اس وقت پاکستانی آم 40 سے زائد ممالک کو برآمد ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے بعد قرنطینہ کے اصول سخت ہونے کے باوجود بھی امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا میں بھی آم اب بھی جا رہا ہے۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق پاکستان دنیا میں آم پیدا کرنے والا چھٹا بڑ ملک ہے اور عالمی سطح پر اس کی برآمدات کا حصہ تقریباً 3.5 فیصد بنتا ہے۔ سرکاری حکام نے بھی آم کی فصل میں نمایاں کمی کی توقع کی تصدیق کی ہے۔

عبدالرزاق کاشتکار
،تصویر کا کیپشنعبدالرزاق تو آم کو چھوڑ کر کسی اور فصل میں اپنی قسمت آزمائی کا سوچ رہے ہیں

پاکستان میں آم کی پیداوار میں کتنی کمی واقع ہوئی؟

اس صنعت سے جڑے ان ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں برس کے سیزن جو ہوا، ایسا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔

ان کے مطابق اگر گذشتہ برس سو ایکڑ سے تقریباً 100 اور 130 گاڑیاں آموں کی ہو جاتی تھیں تو رواں برس صرف 30، 40 یا 50 گاڑیاں ہی مل پائیں۔

وحید احمد کے مطابق ’یہ پاکستان کی 100 ارب روپے کی صنعت ہے جس سے چار سے ساڑھے چار لاکھ خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔‘

ٹی ڈی اے پی کے مطابق گذشتہ برس پاکستان نے 149 ملین کلو گرام آم برآمد کیے تھے، جس کی پاکستانی روپے میں قیمت ساڑھے 22 ارب بنتی ہے جبکہ رواں برس آم کی پیداوار میں 50 فیصد کمی متوقع ہے۔

ان حکام کے مطابق کم پیداوار کے تناظر میں اس برس برآمدات کا ہدف بھی کم کر دیا گیا ہے۔

وحید احمد
،تصویر کا کیپشنوحید احمد کے مطابق اس وقت پاکستانی آم 40 سے زائد ممالک کو برآمد ہو رہا ہے

آم کی پیداوار میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟

وحید احمد کے مطابق گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی کا ہماری فصل پر بڑا اثر (مرتب ہوا) ہے۔

ان کے مطابق ’ہماری فصل 18 لاکھ ٹن ہے، جس میں سندھ کا حصہ 29 فیصد، ایک فیصد خیبر پختونخوا جبکہ 70 فیصد پنجاب کا ہے۔‘

وحید احمد کے مطابق پہلے سیزن سندھ سے شروع ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ پنجاب کا رخ کرتا ہے۔

ان کے مطابق اس بار بہار نہیں آئی جس سے فلاورنگ نہیں ہو سکی۔ وہ کاشتکار عبدالرزاق کی اس بات سے متفق ہیں کہ پانی بھی وقت پر نہیں مل سکا جس سے پیداوار مزید متاثر ہوئی جبکہ دیگر عوامل میں انھوں نے ڈیزل کی قلت اور لوڈشیڈنگ کا ذکر کیا۔

وحید احمد کے مطابق سنہ 2013 سے گلوبل وارمنگ کے اثرات پاکستان پر بڑھتے نظر آر ہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ صرف آم ہی نہیں بلکہ دیگر فصلوں پر بھی اس کے اثرات پڑے ہیں۔

ان کے مطابق پاکساتن میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کمی ہے۔ اچھے بیج نہیں اور کاشتکار پیدوار بڑھانے کے جدید طریقوں سے بھی واقف نہیں ہیں۔

وحید احمد کے مطابق اس وقت پاکستان میں پیداور کی قیمت بہت زیادہ ہے جبکہ جہاں پاکستانی کاشتکار فی ایکڑ میں دو سے ڈھائی سو درخت آم کے اگاتا ہے وہیں دنیا میں ایک ایکڑ میں 25 سے تین ہزار تک درخت اگائے جاتے ہیں۔

پاکستان آم

پیداوار کی کمی سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟

وحید احمد کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد یہ سب اب صوبے کی ذمہ داری ہے کہ وہ زراعت کو آگے بڑھائے، فوڈ سکیورٹی سے نمٹیں، اب کاشتکاروں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بیسٹ پریکٹسز کو فالو کر سکیں۔

عبدالرزاق کے خیال میں اب کاشتکار کے لیے نقصان برداشت کرنا ممکن نہیں اور ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکس کم کرے، پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے اور وائرس سے نمٹنے کے لیے کاشتکاروں کو مؤثر دوائیاں دے تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

عبدالرزاق کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ بروقت اقدامات اٹھائے کیونکہ اس وقت بہت بحرانی کیفیت ہے۔ ان کے مطابق اگر نقصان کم نہ ہوا تو پھر کسی اور کاروبار کی طرف چلے جائیں گے۔

جمشید بشیر آم کی ایکسپورٹ کرنے والی کے پی انٹرنیشنل کمپنی کے مالک ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس بار بہار آنے سے پہلے ہی گرمیاں شروع ہو گئیں جس سے آموں کی پولی نیشن نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی تاہم ان کے مطابق اس بار جہاں پیداوار کم ہوئی اس سے آم کا سائز بڑھا ہے جو حوصلہ افزا ہے۔‘

جمشید بشیر کے مطابق اگر صیحح وقت پر آم کو سپرے کیا جائے اور زراعت کے جدید طریقوں کو اختیار کیا جائے تو آم کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق پیداوار بہتر کرنے کے لیے ڈرپ اریگیشن کا طریقہ بھی اچھا ہے جس کے ذریعے آم کو جتنا پانی چاہیے ہوگا اتنا ہی اسے مل سکے گا۔