پاکستانی آم: پاکستان دوسرے ممالک کو آموں کا تحفہ کیوں بھجواتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
مرزا غالب نے کہا تھا کہ آم میٹھے ہوں اور بہت ہوں تو پھر دنیا میں ایسا کون بدقسمت ہوگا جسے میٹھے لذیذ آموں کا تحفہ پیش کیا جائے اور وہ اسے وصول کرنے سے انکار کر دے۔
مگر کچھ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں جنھیں پڑھ کر یہ امکان ظاہر کیا جانے لگا کہ اس بار امریکی اور چینی پاکستانی آم نہیں کھا سکیں گے۔
انڈیا کے خبررساں ادارے اے این آئی اور دیگر ویب سائٹس کی جانب سے شائع ہونے والی خبروں میں کہا گیا ہے کہ ’چین اور امریکہ نے پاکستان کی حکومت کا آموں کا تحفہ لینے سے انکار کر دیا ہے‘۔
اب ہمارے قارئین کے دماغ میں یہ سوالات تو ضرور اٹھ رہے ہوں گے کہ پاکستان میں کس نے امریکہ اور چین کو آم بطور تحفہ بھیجے اور نہ جانے کس نادانی میں ان دونوں ممالک نے ایسے مزیدار پھل کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے؟
تو آئیں سیدھا چلتے ہیں پاکستان کے دفتر خارجہ اور ان سوالات کا جواب معلوم کرتے ہیں وہاں پر موجود ترجمان سے۔
کووڈ پروٹوکول: ’ابھی تک کسی کو آم نہیں بھیجے گئے‘
جب پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ سے یہ سوال پوچھا گیا تو انھوں نے انڈین میڈیا میں شائع ہونے والی ایسی خبروں کو 'حقیقت کے منافی' اور ' گمراہ کن' قرار دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے بتایا کہ ہر سال صدر پاکستان منتخب ممالک کو بطور تحفہ اعلیٰ معیار کے آم بھیجتے ہیں اور وزارت خارجہ قرنطینہ کے ضوابط، سینیٹری اور فائٹوسینٹری کی ضروریات کے ساتھ ساتھ پروازوں کی دستیابی اور کووڈ 19 سے متعلق شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے ان ممالک کی ایک فہرست تیار کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس سال کا یہ تحفہ کن مملک کو جائے گا اس بارے میں منصوبہ بندی جاری ہے اور ابھی تک کسی ملک کو آم نہیں بھیجے گئے۔
پاکستان آم کا تحفہ کیوں بھجواتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
آم نہ صرف پاکستان کا قومی پھل ہے بلکہ اسے پھلوں کے بادشاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان آم کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا سب سے بڑا جبکہ اس کو برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔
پاکستان میں متعدد اقسام کے آم پائے جاتے ہیں لیکن چونسا، سندھڑی اور انور راٹول کو پاکستان میں پیدا ہونے والے بہترین آموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے آم اس کی خاص پہچان ہیں اسی لیے کئی دہائیوں سے پاکستانی حکومت 'آم' کو 'خاص' لوگوں کو بطور تحفہ دے کر ان کے دل جیتتی آئی ہے اور گذشتہ کئی سال سے تو صدر پاکستان کی جانب سے ہر سال خیر سگالی کے طور پر اور تجارتی سفارت کاری کی کوششوں کو فروغ دینے کی غرض سے منتخب ممالک کے سربراہان کو آم بطور تحفہ بھجوائے جاتے ہیں۔
اس فہرست میں چونسا، سندھڑی اور انور راٹول کی اقسام کو ترجیح دی جاتی ہے۔
پاکستان کے 'آم' نے کیا کمالات دکھائے؟
حکومت پاکستان کی جانب سے دیے گئے آم کے تحفے نے جہاں بہت سے سربراہان مملکت کو اس پھل کا گرویدہ کر دیا وہیں بہت سے ایسے کمالات بھی دکھائے جس کا شاید بہت سے لوگ اندازہ نہیں کر سکتے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کامیاب 'آم کی سفارتکاری' کا ہی ثمر ہے کہ دنیا میں پاکستانی آموں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ 20- 2019 میں بڑھ کر 104 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس سے گذشتہ سال یہ رقم 78 ملین ڈالر تھی۔
اس کے علاوہ دنیا کہ کئی ممالک پاکستان سے آم درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔
جب پاکستانی آمچین میں ’مقدس‘ بن گئے

،تصویر کا ذریعہRIZWAN TABASSUM
آج چین کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ آم پیدا کرنے والے مملک میں ہوتا ہے لیکن شاید بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ چین کی عوام کو آم سے متعارف کرانے والا اور پاک چین دوستی کی بنیاد رکھنے والا بھی پاکستانی آم ہی تھا۔ آم کے چین پہنچنے کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔
پاکستان نے محسوس کیا کہ چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
اس وقت تک انڈیا اور چین کے درمیان سنہ 1962 کی جنگ لڑی جا چکی تھی۔ یہ سنہ 1968 کا موسم گرما تھا جب پاکستان کے وزیر خارجہ سید شریف الدین پیرزادہ چینی رہنما ماؤ سے ملنے خصوصی طیارے سے بیجنگ پہنچے۔
بطور تحفہ وہ اپنے ساتھ اچھے معیاری قسم کے آم کی 40 پیٹیاں لے گئے۔ اس وقت تک یہ ایک ایسا پھل تھا جس سے چین میں زیادہ لوگ واقف نہیں تھے۔ اب ماؤ اتنے سارے آموں کا کیا کرتے اس لیے انھوں نے وہ تمام آم ان مزدور رہنماؤں کو بھیج دیے جو اس وقت شنہوا یونیورسٹی پر قبضہ کیے بیٹھے تھے۔
آم ملنے پر ان رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ چونکہ یہ کامریڈ ماؤ کا ایک قیمتی تحفہ ہے لہٰذا ان میں سے ایک ایک بیجنگ کی تمام فیکٹریوں میں بھیجا جانا چاہیے۔
ایک کارکن شانگ کوئی کا کہنا ہے کہ ماؤ کی جانب سے آموں کا تحفہ موصول ہونے کے بعد ان کی فیکٹری میں ایک پر زور بحث چھڑ گئی۔
انھوں نے بتایا کہ 'فوجی نمائندے اپنے دونوں ہاتھوں میں آم اٹھائے فیکٹری میں داخل ہوئے۔ اور ہم بڑی دیر تک سوچتے رہے کہ اس پھل کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ بڑے بحث و مباحثے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے محفوظ کر لیا جائے۔'
'ہم نے ایک ہسپتال تلاش کیا جہاں اس کو فارمل ڈیہائڈ گیس میں رکھ دیا گیا۔
دوسرے مرحلے میں ان آموں کی مومی شکل تیار کی گئی اور ہر شکل کو کانچ کے ایک خول میں محفوظ کر دیا گیا، اور پھر ہر انقلابی کارکن کو اس مومی آم کا تحفہ بھیجا گیا۔'
تمام کارکنوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس ’مقدس پھل‘ کو احترام سے تھامیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کی سرزنش بھی کی جاتی تھی۔ آم کا ذائقہ تو ہر کوئی نہیں چکھ سکا لیکن چین میں یہ کہانی پھیل گئی کہ آم مزدوروں سے ماؤ کی محبت کی علامت ہے۔ ایک بار جب آم لوگوں کے قصوں اور کہانیوں میں پہنچا تو وہ جلد ہی ان کے کھیتوں میں بھی پہنچ گیا۔
اب آم چین کی بیشتر علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ انڈیا آم کا سب سے بڑا پیداواری ملک ہوسکتا ہے لیکن اب چین دوسرے نمبر پر ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب پاکستانی آم نے برطانوی شہزادے کا دل جیت لیا
گذشتہ سال جب پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے آم کا تحفہ برطانیہ کے شاہی خاندان کو بھیجا تو برطانوی شہزادہ چارلس نے آموں کا تحفہ بھیجنے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو خط لکھ کر شکریہ ادا کیا۔
شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ نے جب پاکستانی آم کھائے تو وہ بھی اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے اور انھوں نے خط میں لکھا کہ انھیں پاکستان کے بہترین آموں کا تحفہ وصول کر کے خوشگوار حیرت ہوئی اور پاکستانی آم بے حد لذیذ ہیں، ’میں اور اہلیہ اس شاندار تحفے کے معترف ہیں‘۔
اس سال وہ کون سے خوش نصیب سربراہان مملکت ہوں گے جنھیں پاکستانی آموں کا تحفہ ملے گا اس کی فہرست ابھی ترتیب دی جارہی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی آم ان پر اپنا کیا جادو جگائیں گے۔









