مالی بجٹ 23-2022: نئے وفاقی بجٹ میں چھپے وہ ٹیکس جو متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
’اس بجٹ میں جو طبقہ سب سے زیادہ نظر انداز ہوا اور جس پر سب سے زیادہ بوجھ پڑنے والا ہے یہ ملک کا متوسط طبقہ ہے۔ ٹیکسوں کی مد میں ہونے والے اضافے اور تیل اور گیس پر لیوی کی مد میں زیادہ محصولات نے مہنگائی میں اضافہ کرنا ہے اور متوسط طبقے نے اس بوجھ کا سہنا ہے۔‘
ایک نجی انفارمشین ٹیکنالوجی کمپنی میں کام کرنے والے محمد عاصم پاکستان میں پیش کیے جانے والے اگلے مالی سال کے بجٹ میں متوسط طبقے کے لیے ریلیف نہ ہونے پر گلہ کرتے نظر آتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بجٹ میں غریب طبقات کے لیے تو سوشل سکیورٹی نیٹ کی صورت میں کچھ امدادی رقم دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 15 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورتحال میں انھیں کچھ ریلیف فراہم کر ے گا۔
’لیکن سرکاری ملازمین تو ملک میں دس، گیارہ لاکھ کے قریب ہیں جبکہ سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی بڑی تعداد نجی شعبے کی کمپنیوں میں کام کرتی ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود ابھی تک اپنے ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھا رہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا اثر متوسط طبقے پر پڑے گا کیوںکہ وہ ان ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی کی زیادہ شرح کو برداشت کریں گے۔
ان کے تحفظات کی تصدیق پاکستان میں معاشی اور سماجی امور کے ماہرین بھی کرتے نظر آتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس بجٹ میں کچھ ایسے ٹیکس اور لیویز شامل ہیں جن کا بجٹ تقریر میں ذکر نہیں تھا لیکن فنانس بل میں یہ شامل ہیں اور ان کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا اور اس کا سب سے بڑا نشانہ متوسط طبقہ ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متوسط طبقے کے لیے بجٹ میں کوئی ریلیف فراہم کیا گیا ہے؟
وفاقی بجٹ میں حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معاشی امور کے ماہر شہروز خان لودھی نے کہا کہ ’تنخواہ دار طبقے کے لیے اس بجٹ میں ایک ریلیف تو ٹیکس سلیب میں تبدیلی اور چھ لاکھ کی سالانہ آمدن پر ٹیکس چھوٹ کے ساتھ چھ لاکھ سے 12 لاکھ تک کی آمدنی پر صرف سو روپے ٹیکس ادا کرنے کی سہولت ہے۔
’جس کا مطلب ہے کہ اس طبقے کو بھی ٹیکس چھوٹ حاصل ہو گی۔ اسی طرح جو سلیبز تبدیل کی گئی ہیں اس سے تنخواہ دار ملازمین کو ٹیکس کی شرح میں کچھ کمی سے فائدہ ہو گا۔‘
معیشت اور سماجیات کے امور کی ماہر ڈاکٹر عالیہ ہاشمی نے کہا کہ ’اس بجٹ میں ویسے تو متوسط طبقے کے لیے کوئی خاص ریلیف فراہم نہیں کیا گیا سوائے اس کے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بھی ٹیکس سلیبز اور ٹیکس کی حد میں چھوٹ دی گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس ریلیف کے علاوہ متوسط طبقے کے لیے اس بجٹ میں کوئی خاص ریلیف فراہم نہیں کیا گیا ہے اور لگتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں حکومت کے بجٹ کے اقدامات کی وجہ سے متوسط طبقے کے لیے مشکلات بڑھنے والی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بجٹ میں کون سے نئے ٹیکس مہنگائی کی شرح میں اضافہ کریں گے؟
حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں مختلف شعبوں میں جو نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں ان میں سب سے بڑا اضافہ تیل مصنوعات پر پٹرولیم لیوی کی مد میں اگلے مالی سال میں 750 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف ہے۔
یاد رہے کہ موجودہ مالی سال میں اس لیوی کے ذریعے صرف 135 ارب روپے اکٹھے کیے گئے اور پھر گذشتہ حکومت اور موجودہ حکومت نے اسے صفر کر دیا تھا تاکہ ملک میں تیل مصنوعات کی قیمتیں زیادہ نہ بڑھ سکیں.
امورِ تیل کے ماہر زاہد میر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت نے اگلے مالی سال میں جو پیٹرولیم لیوی کی مد میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اس کا مطلب ہے کہ اگلے مالی سال کے شروع میں اسے ایک لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر تیس روپے صارفین سے وصول کرنے پڑیں گے۔‘
موجودہ مالی سال میں گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں 25 ارب اکٹھے کرنے کا نظرِثانی ہدف ہے اور حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے اس مد میں دو سو ارب کا ہدف مقرر کیا ہے جو گیس بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ اسی طرح حکومت نے ایل پی جی پر لیوی کا موجودہ ہدف پانچ ارب سے آٹھ ارب کر دیا ہے جو صارفین سے وصول کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے اس سال محصولات کا ہدف سات ہزار ارب رکھا گیا ہے جس میں ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں ساڑھے چار ہزار ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے جس میں سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی شامل ہے جو صارفین کو چیزوں کی فروخت اور ملک میں ہونے والی درآمدات پر لگایا جاتا ہے۔
شہروز خان لودھی نے اس بارے میں کہا کہ ’ان ٹیکسوں کا مطلب ہے کہ صارفین کو اب زیادہ پیسے دینے پڑیں گے اور متوسط طبقہ اس کا سب سے بڑا شکار ہو گا کیوںکہ سیلز ٹیکس اشیا کی فروخت پر لگایا جاتا ہے اور صارفین کو اس کے لیے اضافی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘
ان کے مطابق اگلے مالی سال میں متوسط طبقے کو بجلی، گیس اور پیٹرول کے زیادہ نرخ ادا کرنے پڑیں گے کیوںکہ سیلز ٹیکس اور لیوی کے باعث ان بلز کی رقوم کے علاوہ مہنگائی کی شرح میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت ڈائریکٹ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لاتی اور اس کے ذریعے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف پورا کرتی تو اس سے ان ڈائریکٹ طریقے سے اکٹھا ہونے والا ٹیکس کم ہوتا اور اس کا متوسط طبقے پر کم اثر پڑتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متوسط طبقہ کس طرح متاثر ہو گا؟
حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی، گیس پر سرچارج اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے اور اس کے متوسط طبقے پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں شہروز لودھی نے کہا کہ ’آئندہ سال میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 11 فیصد رکھا گیا ہے جو غیر حقیقی ہے کیوںکہ اس وقت بھی فوڈ انفلیشن بیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔‘
ڈاکٹر عالیہ ہاشمی نے کہا کہ ’اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک میں صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے تو اس کے ساتھ ٹیکس سلیب میں رد و بدل سے تنخواہ دار طبقے کو کچھ فائدہ ہو گا۔‘
یاد رہے کہ ملک میں کام کرنے والے تنخواہ دار طبقے کا ستر فیصد حصہ غیر رسمی معیشت میں کام کرتا ہے جن کی تنخواہیں بڑھانے یا نہ بڑھانے کا کام ان کے مالک کے پاس ہوتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں عین ممکن ہے کہ ان کے مالکان نے ان کی تنخواہیں نہ بڑھائیں ہوں۔
انھوں نے کہا کہ ’اضافی ٹیکسوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی شرح بے حد اضافے کا خدشہ ہے جس کے اس طبقے کی قوت خرید کم ہو گی۔ اور اس کم ہوتی قوت خرید سے انھیں کچھ ضروریات پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔‘
ڈاکٹر عالیہ نے کہا کہ لگتا ہے کہ ’کم ہوتی قوت خرید کی وجہ سے یہ طبقہ اب خوراک پر کم خرچ کرے گا یا خوراک میں ان چیزوں پر خرچ کرے گا جن سے صرف پیٹ بھرا جا سکے تاہم اس کے زیادہ طبی فائدے نہ ہوں۔
’مثلاً بچوں کو پروٹین اور کیلشیم وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے اور لگتا ہے کہ متوسط طبقے کے والدین اب اس پر کم خرچ کریں گے جس سے ایک لحاظ سے ان کی صحت بھی خراب ہو گی۔‘
انھوں نے کہا ’اس کے ساتھ یہ ہو گا کہ یہ طبقہ کار سے موٹر سائیکل پر آ سکتا ہے کیوںکہ ایندھن کی زیادہ لاگت کی وجہ سے اس طبقے کے لیے اب کار چلانا مشکل ہو جائے گا۔‘
ڈاکٹر عالیہ نے کہا کہ ’یہ طبقہ بچوں کی تعلیم پر بھی کمپرومائز کر سکتا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے لگتا ہے کہ اخراجات بچانے کے لیے اس طبقے کو بہت ساری ضروریات پر کٹوتی کرنی پڑے گا۔‘
ان کے مطابق ’اس بجٹ میں غریب طبقے کے لیے تو کچھ ریلیف موجود ہے اور اس طبقے کی ضروریات بھی محدود ہیں اسی طرح امیر طبقے کو بھی اس سےکچھ خاص فرق نہیں پڑنے والا تاہم اس بجٹ کا سب سے زیادہ منفی اثر متوسط طبقے پر پڑے گا۔‘













