بجٹ 23-2022: مہنگائی کے اس دور میں گھریلو بجٹ کیسے بنایا جائے؟

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد

راولپنڈی کے رہائشی عمیر اعوان کو حال ہی میں اسلام آباد کے ایک نجی بینک میں نوکری ملی جہاں اُن کی تنخواہ 45 ہزار روپے ہے۔ ان کا کام تعلقات عامہ سے متعلق ہے جس کے لیے انھیں دن بھر موٹرسائیکل پر صارفین سے ملاقاتیں کرنا ہوتی ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ ملازمت کی ابتدا میں اُن کا ادارہ انھیں پیٹرول کے پیسے نہیں دیتا۔

عمیر کی رہائش کا ان کے دفتر سے فاصلہ تقریباً 25 کلومیٹر ہے اور اس صورتحال کے پیش نظر عمیر کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی حالیہ لہر نے ان کی زندگی مشکل تر بنا دی ہے۔

’میرے پاس ایک موٹر سائیکل ہے، پہلے ایک ہزار روپے کا پیٹرول ڈلواتا تھا اور پانچ دن آفس آنا جانا ہو جاتا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ اسی رقم میں بمشکل تین دن آفس جا سکتا ہوں۔ خرچہ سمجھیں ڈبل ہو گیا اور تنخواہ وہی 45 ہزار ہے۔ ایک سال سے راولپنڈی میں نوکری ڈھونڈ رہا تھا، نہیں ملی۔ اب اسلام آباد شفٹ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس شہر میں تو ایک وقت کا کھانا بھی ناممکن ہے، مکان کا کرایہ تو میری تنخواہ سے بھی زیادہ ہو گا۔‘

اگر آپ کا تعلق اس طبقے سے ہے جس کی ماہانہ آمدنی 40 سے 60 ہزار کے درمیان ہے، آپ کسی شہر میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور آپ کے بچے سکول جاتے ہیں تو یقیناً آج کل آپ کی پریشانی کئی گنا بڑھ گئی ہو گی۔

مہنگائی میں حالیہ اضافے نے متوسط، خصوصاً زیریں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے گھر کا خرچ چلانا مشکل کر دیا ہے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے مگر آمدن وہیں ہے جہاں ایک سال پہلے تھی اور شہریوں کی یہ پریشانی سوشل میڈیا پر بھی دکھائی دیتی ہے۔

فیس بک پر خواتین کے کئی کلوزڈ گروپس میں کئی ہفتوں سے یہ بحث جاری ہے کہ وہ اپنا بجٹ کیسے ترتیب دیں۔ اسی طرح ٹوئٹر ہو یا سماجی رابطوں کی کوئی بھی ویب سائٹ، صارفین اپنے اپنے انداز میں مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔

صارف حسنین احمد کہتے ہیں کہ ’بجلی اور گیس کے بل ہیں اور (میری) آٹھ افراد پر مشتمل فیملی ہے۔ میری پرائیویٹ جاب میں تنخواہ 34 ہزار روپے ہے۔ آپ لوگ سوچیں، یہ بس خدا ہی پورا کرتا ہے۔‘

مختیار جان نے لکھا کہ ’اب تو ہم دال اور سبزی بھی نہیں لے سکتے، مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے۔‘

کم آمدن میں بنیادی اخراجات مشکل ہیں تو بچت کا خیال اب ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ ایک اور سوشل میڈیا صارف نے پوسٹ کیا کہ ’جن کی تنخواہ 50 ہزار ہے وہ 20 ہزار کہاں بچا سکتے ہوں گے اور جن کی ماہانہ تنخواہ ہی 20 ہزار سے کم ہے، وہ کیا کھائیں، کیا بچائیں؟‘

بڑے شہروں کے کم سہولتوں والے علاقے میں دو کمروں کے مکان کا کرایہ کم از کم 10 ہزار روپے ہے۔ دو بچوں کی سکول فیس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ سرکاری سکول میں زیرتعلیم ہیں یا نجی میں۔ پرائیویٹ اداروں میں کم درجے کا پرائیویٹ سکول ہے یا بہتر درجے کا۔ اس طرح ان بچوں کی سکول فیس بھی ایک ہزار سے 15 ہزار کے درمیان ہے۔

یوٹیلیٹیز یعنی بجلی اور گیس کے بل بھی سب کو ہی دینے ہیں جو کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد بڑا خرچہ اشیائے خورد و نوش کی خریداری ہے اور اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 14 فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے جس سے بینادی ضروریات زندگی بھی ہاتھ سے باہر ہیں۔

اسی طرح آمد و رفت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ محدود بھی ہے اور پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد ان کے کرائے بھی ایک بڑا بوجھ بن گئے ہیں۔

تو ایسے حالات میں گھر کا بجٹ ترتیب دینا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔

ہمارے پاس فی الحال قارئین کے لیے ایسی کوئی خوشخبری نہیں کہ مہنگائی کی شرح کم ہو رہی ہے، روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہو رہا ہے یا پیٹرول سستا ہونے والا ہے مگر ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ ماہرین سے پوچھیں کہ ایک عام مڈل کلاس خاندان کیسے اپنا گھریلو بجٹ ترتیب دے سکتا ہے۔

’جو خریدنا ہے، وہ لکھیں، فہرست بنائیں‘

فہرست بنانا بجٹ تیار کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔

بی بی سی نے اس بارے میں فنانشل ٹیکنالوجی کمپنی ’اڑان‘ سے منسلک انوشے نوید اشرف سے بات کی۔ اڑان بجٹ سمیت گھریلو اور کاروباری فنانسز میں معاونت فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔

انوشے کہتی ہیں کہ گھر کا بجٹ مرتب کرنے کے لیے پہلا کام اپنی تمام ماہانہ یا ہفتہ وار آمدنی کو تین حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔

’پہلا حصہ تو ان اخراجات کا ہے جو آپ کی ضروریات زندگی ہیں یعنی وہ اشیا جو آپ کو ہر صورت چاہیے اور ان کے بغیر گزارا نہیں۔ ان میں مکان کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز، بچوں کی فیسیں اور سودا سلف وغیرہ شامل ہے۔‘

’دوسرا حصہ آپ کی خواہشات ہیں یعنی وہ اشیا جن کے بغیر آپ کا یا آپ کے اہلخانہ کا گزارا تو ہو جائے گا مگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ چیز بھی آپ کے پاس ہو۔ اس میں زیادہ تر چیزیں آپ کے طرزِ زندگی سے جڑی ہوتی ہیں جبکہ تیسرا حصہ ہے ’بچت‘ یعنی آپ شروع میں ہی فیصلہ کر لیں کہ آپ نے کتنی بچت کرنی ہے۔‘

انوشے نوید کے مطابق ’جب تین حصے بن جائیں تو آپ پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ لازم اخراجات کیا ہیں یعنی وہ خرچے جن سے جان چھڑانا تقریباً ناممکن ہے۔ ایسا کرنے سے آپ پر یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ کون سے اخراجات لازم نہیں اور ان میں رد و بدل کی جا سکتی ہے۔‘

مثال کے طور پر بچوں کی فیسیں یا مکان کا کرایہ لازم ہیں۔ اسی طرح بجلی، گیس کے بلز بھی لازم اخراجات ہیں، اگرچہ بل کم یا زیادہ ہونا کسی حد تک آپ کے ہاتھ میں ہو گا۔

’سودے سلف کی دو فہرستیں بنیں گی‘

تنخواہ تین حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد اب جبکہ کرائے اور فیسوں کی مد میں پیسے الگ ہو گئے، بجلی اور گیس کے بلز کے لیے بھی ایک رقم علیحدہ کر لی گئی ہے تو باری آتی ہے سودا سلف خریدنے کی۔ سودے سلف کی خریداری سے پہلے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کو ایک نئی فہرست بنانی ہے۔

’یہ فہرست اس لیے ہے کہ آپ مارکیٹ جانے سے پہلے یہ جانتے ہوں کہ آپ کو کس چیز ضرورت ہے اور کتنی مقدار میں۔‘

مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی: مزید پڑھیے

انوشے نوید اشرف کہتی ہیں کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچن میں سامان موجود ہوتا ہے اور ہمیں پتا نہیں چلتا کہ فلاں فلاں شے کی تو ضرورت ہی نہیں بعض اوقات ہم کچھ سامان اپنی ضرورت سے زیادہ لے آتے ہیں۔ اس لیے لکھنا بہت ضروری ہے۔‘

خیال رہے کہ یہ فہرست دو بار بنانی ہے یعنی مہینے کے آغاز میں اور پھر آخر میں۔ ایسا اس لیے کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ آپ نے کہاں کہاں جائز پیسے خرچ کیے اور کہاں فضول خرچی کی۔

انوشے نوید کے مطابق بعض اوقات ہمیں خود بھی پتا نہیں چلتا کہ ہم کہاں کہاں رقم خرچ کر رہے ہیں۔ مثلاً اگر آپ ہر روز دن میں دو پیالی چائے پیتے ہیں، اگر ایک پیالی ساٹھ روپے کی ہے اور آپ ہفتے میں چھے دن کام کرتے ہیں تو یہ کم آمدنی والے شخص کے لیے مہینے کے آخر میں بڑی رقم بن سکتی ہے۔

اس کا احساس آپ کو اس وقت ہو گا جب آپ بجٹ کی دوسری فہرست مہینے کے آخر میں بنائیں گے۔ تب آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی کہ چائے کی ایک پیالی پر گزارا کرنا ہے یا چائے پینی ہی چھوڑ دیں۔

سودا خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھا جا سکتا ہے؟

انوشے نوید نے اس حوالے سے بھی کچھ ٹپس دی ہیں جو بعض صارفین کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

مثلاً وہ کہتی ہیں کہ ایسی اشیا جو کہ طویل مدت کے لیے چاہیے، انھیں خریدتے وقت ان کی کوالٹی پر سمجھوتہ نہ کریں۔

’مثال کے طور پر آپ کو بلب ضرورت ہے تو آپ دکان سے 200 روپے کا سستا بلب لاتے ہیں لیکن آپ یہ نہیں سوچتے کہ اس بلب کا فیوز جلدی اڑ جائے گا اور یہ زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے۔ اگر اس کے بجائے 300 روپے کا انرجی سیور خرید لیں گے تو وہ زیادہ عرصہ چلے گا اور سب سے بڑھ کر بجلی کی بچت ہو گی۔‘

ایک اور بات جس کا خیال رکھا جا سکتا ہے وہ ہے ایسے سٹورز ڈھونڈنا ’جو گودام ہوں یا جہاں سے ہول سیل پر سامان ملتا ہو۔ ایسے سٹورز پر صارف کے لیے باقی دکانوں کی نسبت کم قیمت پر سامان دستیاب ہوتا ہے۔‘

انوشے نوید کہتی ہیں کہ خریدار عام طور پر قیمتوں کا تقابلی جائزہ بھی نہیں لیتے۔

’اگر آپ قیمتوں کا موازنہ کریں تو اس سے بھی بچت کی جا سکتی ہے۔ مثلاً آپ کو ایک برانڈ کی چائے کی پتی پسند ہے تو آپ ہمیشہ وہی خریدتے ہیں لیکن کیا آپ نے اس کے ساتھ رکھی دوسری برانڈ کو ٹرائی کیا؟ ہو سکتا ہے وہ بھی ذائقے میں آپ کی پسندیدہ چائے جیسی ہو مگر قیمت میں کم ہو۔ اس سے آپ کے پیسے بچ سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ دیکھیں کہ کوالٹی پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے وہی چیز دیگر کمپنیاں کتنے میں بیچ رہی ہیں۔‘

’بجلی کا بِل آپ پر بجلی بن کر گر سکتا ہے!‘

اگر آپ کے گھر میں بجلی اور گیس کا کنکشن موجود ہے تو آپ کو بل تو دینا ہو گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بل کا کم یا زیادہ ہونا کسی حد تک آپ کے کنٹرول میں ہے اور اب جبکہ بجلی کی فی یونٹ قیمت مزید بڑھ رہی ہے تو احتیاط ضروری ہے ورنہ بجلی کا بل آپ پر بجلی بن کر گر سکتا ہے۔

اس لیے کیوں نہ آپ کپڑے دھونے یا استری کرنے کا کام دن کے اوقات میں کریں جو ’آف پِیک‘ ٹائم ہے۔ شام چھے بجے سے رات 10 بجے تک بجلی کی فی یونٹ قیمت سب سے زیادہ ہوتی ہے لہٰذا کوشش کریں کہ شام کے ان اوقات میں بجلی کا استعمال کم سے کم رکھا جائے۔ اس سے بجلی کے بل میں بڑا فرق پڑے گا۔

انوشے نوید کہتی ہیں کہ پیک آورز کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بجلی سے چلنے والی اشیا استعمال میں نہ ہوں تو ان کے تار سوئچ سے نکال لیں، اس سے بھی بجلی کا بل قدرے کم آئے گا۔ اس کے علاوہ کوشش کریں کہ اپنی ٹیوب لائٹس یا بلب وغیرہ انرجی سیورز ہوں تاکہ بجلی کے بل میں واضح کمی یقینی ہو سکے۔

’بچت کا خانہ کبھی خالی نہ چھوڑیں‘

یہ حقیقت ہے کہ اس قدر مہنگائی میں محدود آمدنی رکھنے والے خاندانوں کے لیے بچت کا سوچنا بھی مشکل ہے مگر ناممکن تو کچھ بھی نہیں۔

تو کوشش کریں کہ جب آپ بجٹ مرتب کرنے کی فہرست بنائیں تو ایک خانہ بچت کا بھی ہو۔اور ضروری نہیں کہ بچت کئی ہزار روپے کی ہو، یہ چند سو کی بھی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں بات کرتے ہوئے انوشے نوید نے کہا کہ ’ہم مہنگائی سے اتنے پریشان ہیں کہ بچت بھول ہی جاتے ہیں مگر یہ گھر کا خرچہ چلاتے وقت نہایت اہم ہے کہ آپ کے پاس ایمرجنسی کے لیے کچھ رقم ہمیشہ موجود ہو۔ کسی حادثے یا بیماری کی صورت میں اگر آپ نے بچت نہیں کی ہوئی تو آپ کا سارا بجٹ تہس نہس ہو جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا مہنگائی کے دور میں آمدنی بڑھائی جا سکتی ہے؟

اس کا جواب ہے کہ بالکل بڑھائی جا سکتی ہے مگر ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ جس طبقے کا بجٹ ہم ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں وہ محنت کش لوگ ہیں اور یہ دن بھر کسی دفتر میں یا کھلے آسمان تلے کام کرتے ہیں اور شاید ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دن بھر کام کے بعد شام کو نئے سرے سے محنت کریں۔

مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسے خاندان اپنی آمدن بڑھا نہیں سکتے۔ اس کا حل بھی موجود ہے اور یہی حل جاننے کے لیے ہم نے یہی سوال فنانسنگ کی ماہر انوشے نوید کے سامنے رکھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’آپ دیکھیں کہ آپ کے خاندان میں اور کون ہے جن کے پاس کوئی ہنر ہے۔ یہ ہنر سلائی کڑھائی ہو سکتا ہے، بچوں کو ٹیوشن پڑھانا ہو سکتا ہے یا پھر اچھا کھانا پکانا یعنی کیا کوئی شیف بھی ہے؟ تو اب یہ تمام کام بہت آسانی سے گھر بیٹھے کیے جا سکتے ہیں۔ اب ایسی موبائل ایپس موجود ہیں جن کے ذریعے آپ گھر میں کھانا پکائیں اور ڈیلیور کروا دیں۔ ہمارے پاس ایسی خواتین بھی ہیں جنھوں نے اپنے گھر کے قریب ہی کسی بلڈنگ میں موجود مختلف دفاتر کے ملازمین کو کھانا سپلائی کرنا شروع کیا اور یوں ان کی آمدنی میں بڑا اضافہ ہوا۔‘

اس کے علاوہ وہ لوگ جن کے پاس موٹر سائیکل یا گاڑی موجود ہے وہ بھی ڈیلیوری ایپس یا رائیڈنگ ایپس کے ذریعے کچھ کما سکتے ہیں۔ جیسا کہ راولپنڈی کے رہائشی عمیر اعوان کرتے ہیں جو پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے کافی پریشان ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا ایک حل انھوں نے ڈھونڈ لیا ہے: ’اب میں صبح آفس آتے ہوئے رائیڈنگ ایپ کی مدد سے اسلام آباد کے لیے ایک سواری ساتھ لے آتا ہوں اور اسی طرح واپسی پر بھی راولپنڈی کے لیے ایک سواری ساتھ بٹھا لیتا ہوں۔ اس سے بہت زیادہ تو نہیں مگر پیٹرول خریدنے کے لیے کچھ پیسے مل جاتے ہیں۔ تھکاوٹ تو ہوتی ہے مگر ذہنی پریشانی سے بچ جاتا ہوں۔ فی الحال نہ تو ڈالر نیچے آئے گا، نہ آٹا اور پیٹرول سستا ہو گا، بس خدا کا ہی آسرا ہے۔‘