پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ: سوشل میڈیا پر سرکاری ملازمین کی مراعات کم کرنے، امیروں پر ٹیکس لگانے کے مطالبے

’عام آدمی ہی کیوں سیاسی، عسکری اور عدلیہ پر مشتمل اشرافیہ کی ناکامی کی قیمت ادا کرے؟ اس مذاق کو اب ختم ہونا چاہیے۔ اگر عام آدمی کو کمر کسنے کا کہا جا رہا ہے تو ججوں، جرنیلوں اور سینیئر بیوروکریٹس کی تنخواہیں آدھی کر دینی چاہییں اور تمام مراعات واپس لے لینی چاہییں۔‘

یہ بات پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ 30 روپے اصافے کے بعد ٹویٹ کی۔

گذشتہ شام اس وقت پاکستان کی عوام کو ایک ہی دن میں دوسرا جھٹکا لگا جب پہلے نیپرا کی جانب سے جولائی کے مہینے سے بجلی کے نرخوں میں 7.91 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی گئی اور پھر شام میں وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرول اور ڈیزل 30، 30 روپے مہنگے کرنے کا اعلان کر دیا۔

حکومت اور متعدد معاشی ماہرین کی جانب سے اس فیصلے کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے اور نشاندہی کی جا رہی ہے کہ اس کی وجہ عمران خان کی گذشتہ حکومت کے آخری ایام میں دی گئی سبسڈی ہے لیکن اس کے باوجود موجودہ حکومت کو بھی خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اکثر صحافی اور تجزیہ کار نہ صرف حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے خرچے کم کرے اور عوام کو یہ دکھائے کہ انھیں بھی اس مشکل وقت میں ان کا احساس ہے بلکہ ایسی اصلاحات بھی کی جائیں جن کے ذریعے بوجھ صرف غریب اور متوسط طبقے پر ہی نہیں بلکہ امیروں پر بھی پڑے۔

سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو ایک طرف لوگ اپنے اپنے شہروں میں پیٹرول پمپس پر لگی لمبی قطاروں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کر رہے ہیں تو دوسری جانب مہنگائی کے ایک متوقع طوفان میں ضرورت مند افراد کا خیال رکھنے اور ان کے بارے میں سوچنے کی بھی تلقین کر رہے ہیں۔

’پیٹرول پر اب بھی آٹھ روپے سبسڈی دے رہے ہیں‘

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ایک ہفتے کے دوران دوسرا بڑا اضافہ ہے۔ اس سے قبل، 26 مئی کو بھی پٹرول کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اس وقت پاکستان میں پٹرول 209 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’عمران خان کی جانب سے دی گئی غیر ذمہ دارانہ سبسڈی کے باعث یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم 10 فیصد اخراجات کم کردیں تو چار ارب روپے کی بچت ہو گی، یہاں صرف ایک دن میں چار ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی تھی۔‘

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’اب بھی ہم پیٹرول پر آٹھ روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں اور ڈیزل پر یہ سبسڈی 23 روپے ہے۔‘ انھوں نے عندیہ دیا کہ اس حوالے سے 10 جون کو دیے جانے والے بجٹ میں ’بہت سے معاملات سمٹ جائیں گے۔‘

تاہم تجزیہ کار اس اضافہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حکومت توانائی بچانے سے متعلق اقدامات کیوں نہیں لے رہی ہے۔

صارف نادیہ نقی نے ایک ٹویٹ میں ایسے متعدد اقدامات کا ذکر کیا جن میں ’کام کرنے کے دنوں میں کمی، مارکیٹوں کو غروبِ آفتاب پر بند کرنے کی ہدایت، حکومتی ملازمین سے پیٹرول مفت کی بجائے خود خریدنے‘ کا مطالبہ شامل ہے۔

یہی سوال جب مفتاح اسماعیل سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’اس بارے میں تجاویز وزیرِ اعظم شہباز شریف کے سامنے رکھی گئی ہیں اور جلد فیصلے لیے جائیں گے۔‘

’پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھی، اس حکومت کی عمر کم ہوئی ہے‘

سوشل میڈیا پر اس وقت جو مطالبہ زور پکڑ رہا ہے وہ غریب کی بجائے امیر پر بوجھ ڈالنے سے متعلق ہے جس کے بارے میں اکثر ماہرین اپنے رائے بھی دے رہے ہیں۔

معاشی ماہر عزیر یونس نے لکھا کہ ’پونے شہر پراپرٹی ٹیکس کی مد میں اتنی رقم اکٹھی کرتا ہے جتنا پورا صوبہ سندھ بھی نہیں کرتا۔ امیر کئی دہائیوں سے اپنی دولت ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں جھونک رہے ہیں۔ اور انھیں ایسا کرنے کے لیے ایمنسٹی سکیمز بھی دی گئی ہیں۔‘

’اگر حکومت عام آدمی کو ’ریلیف‘ فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے امیر پر ٹیکس لگانا ہو گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کے بارے میں شاہ رخ وانی نے لکھا کہ ’یہ فیصلہ تکلیف دہ ضرور ہے لیکن ناگزیر بھی ہے۔ پاکستان عالمی مارکیٹ سے تیل خریدتا ہے اور اس پر سبسڈی لگانا کسی حکومت کے لیے بھی صحیح نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ وسیع تر معاشی اصلاحات کرنی ہوں گی۔‘

معیشت پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی خرم حسین نے ٹویٹ کیا کہ ’اپنی کمریں کس لیں۔ ابھی بہت کچھ آنا باقی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ توانائی، گیس اور گندم کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

’شرح سود بھی بڑھانا پڑے گا جس سے بزنس ایکٹویٹی سست پڑ جائے گی اور ممکنہ طور لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جا سکتا ہے۔ مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں۔‘

صحافی خلیق کیانی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’شہباز شریف سرکاری خرچ پر 6 دن دفاتر کھلے رکھنے پر بضد ہیں اور کسی وزیر کو توفیق نہیں کہ بجلی اور تیل کی بچت کے لیے مشورہ دیں۔‘

صحافی کامران خان نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شہباز شریف یقینی بنائیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا بوجھ عام پاکستانی کے ساتھ سرکاری لاٹ صاحبان بھی اٹھائیں۔ بیوروکریٹس، جج، جنرل، وزرا کا فیول الاؤنس آدھا کر دیں۔‘

صحافی کامران یوسف نے لکھا کہ ’غلط معاشی پالیسیوں اور اصلاحات کے نام پر سزا صرف عوام کو نہیں ملنی چاہیے۔ اس ملک میں ایلیٹ جس کو کبھی ٹیکس کی مد میں اور کبھی سبسڈی کی مد میں اربوں کی مراعات دی جاتی ہیں وہ سب واپس ہونی چاہیے۔ سرکاری تیل مفت میں جو افسران، وزرا کو دیا جاتا ہے وہ بند ہونا چاہیے، سب قربانی دیں۔‘

اس بارے میں پاکستان کسان رابط کمیٹی کے جنرل سیکریٹری نے لکھا کہ ’یہ حکومت دو مہینے میں اتنی غیر مقبول ہو گئی ہے جتنی پچھلی والی دو سال بعد ہوئی تھی۔ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھی، اس حکومت کی عمر کم ہوئی ہے۔‘

ڈاکٹر وسیم سرور ملغانی نے بھی اشرافیہ کے لیے سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ وقت اس فیصلے کے دفاع کرنے کا نہیں ہے۔

سماجی کارکن اور مصنف عمار علی جان نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’اشرافیہ کو دی گئی مجموعی سبسڈیز 2660 ارب روپے ہیں جبکہ سماجی تحفظ کے منصوبوں کی مد میں دی گئی اس سے چار گنا کم یعنی 624 ارب روپے۔

’عوام اشرافیہ کو سبسڈی فراہم کرتی ہے، اشرافیہ ملک کو مالی طور پر دیوالیہ کرتی ہے، ریاست عوام کی قربانی دے کر اشرافیہ کو بچاتی ہے۔ کوئی بھی جماعت اس چکر کو ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔‘

مہنگائی کے متوقع طوفان کے بیچ اکثر صارفین ان افراد کا خیال رکھنے کی بھی تلقین کر رہے ہیں جو ضروت مند ہیں۔ روحا ندیم نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’سوچ بھی نہیں سکتی کہ یہ مشکل وقت مزدور طبقے پر کتنا بھاری گزرے گا۔ گھر پر کام کرنے والوں کو زیادہ تنخواہ دیں۔ ڈیلیوری سٹاف کو زیادہ ٹپ دیں۔ ایسے دکانداروں سے رعایت نہ مانگیں جو مشکل سے اپنے اخراجات پورے کر رہے ہیں۔‘