آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوئٹہ: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا جلتے ہوئے آئل ٹینکر کو آبادی سے دور لے جانے والے ہیرو کے لیے تمغہ شجاعت کا اعلان
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے محمد فیصل بلوچ نامی اُن ٹینکر ڈرائیور کو تمغہ شجاعت کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے جو چند دن قبل کوئٹہ میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر جلتے ہوئے ٹینکر کو آبادی سے دور لے گئے تھے۔
وزیرِ اعظم نے محمد فیصل سے بدھ کو ملاقات کی۔ فیصل بلوچ وزیر اعظم کی دعوت پر اتوار کو کوئٹہ سے اسلام آباد پہنچے تھے جہاں بلوچستان ہاﺅس اسلام آباد میں اُنھیں سرکاری مہمان کے طور پر ٹھہرایا گیا تھا۔
شہباز شریف کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ وہ ’حقیقی زندگی کے ہیرو ہیں جنھوں نے لاتعداد جانیں بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔‘
تمغہ شجاعت پاکستان کے اعلیٰ ترین سرکاری اعزازات میں سے ہے۔ یہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اُن افراد کو دیا جاتا ہے جو ’شدید خطرے کے حالات میں بہادری کے ساتھ‘ دوسروں کی جانیں بچاتے ہیں یا بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سات جون کو کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ٹینکر سے پیٹرول پمپ منتقل کرتے ہوئے اس میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
اس وقت ڈرائیور محمد فیصل کے پاس دو ہی راستے تھے: یا تو وہ سب سے پہلے اپنی جان بچانے کی کوشش کریں اور ٹینکر سے دور چلے جائیں، یا پھر ٹینکر چلانے میں اپنی مہارت کو لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے استعمال کریں اور اسے چلا کر آبادی سے دور لے جائیں۔
اُنھوں نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا اور اس حادثے کو ممکنہ طور پر ایک بڑے سانحے میں بدلنے سے روکنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس کارنامے پر محمد فیصل کے لیے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بہادری پر پانچ لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایما پر کوئٹہ میں قائم 12 ویں کور میں اُنھیں اعزازی شیلڈ اور نقد انعام دیا گیا تھا۔
محمد فیصل کہتے ہیں کہ ’آگ میں لپٹے آئل ٹینکر کو آبادی سے دور لے جانے کی ہر ساعت کو زندگی کا آخری لمحہ سمجھتا رہا مگر زندگی باقی تھی اس لیے موت کے قریب ہونے کے باوجود بچ گیا۔‘
وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر آگ لگنے کے باوجود پیٹرول سے بھرے آئل ٹینکر کو تین کلومیٹر دور تک لے جانے میں کامیاب رہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ یہ شاید ان کی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہو گا کیونکہ چھوٹی سی غفلت یا غلط فیصلہ سب سے پہلے ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا لیکن وہ حیران ہیں کہ موت کی جانب برق رفتاری سے بڑھنے کے باوجود وہ کیسے خوفزدہ نہیں ہوئے اور درست اقدامات کرتے۔
آئل ٹینکر اور پیٹرول پمپ کے مالک سعید احمد شاہوانی، محمد فیصل سے انتہائی خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ حقیقی ہیرو ہیں۔
آئل ٹینکر میں آگ کیسے لگی؟
سعید احمد شاہوانی نے بتایا کہ آئل ٹینکر میں 10 ہزار لیٹر پیٹرول تھا جو منگل کے روز سریاب کے علاقے میں ان کے پمپ پر خالی کیا جا رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کو ٹینکر سے پیٹرول پمپ کے ٹینک میں خالی کرنے کے لیے پائپ منسلک کیا ہی گیا تھا کہ اس دوران آگ بھڑک اٹھی اور ٹینکر کا پچھلا حصہ اس کی لپیٹ میں آ گیا۔
اُنھوں نے بتایا کہ آگ کے شعلے سے فلر کو بھی کچھ زخم پہنچے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس وقت ڈرائیور محمد فیصل پانی پینے گئے ہوئے تھے اور ٹینکر سے کچھ فاصلے پر تھے۔ جب آگ بھڑک اٹھی تو پمپ پر موجود ہر شخص کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے لیکن محمد فیصل کسی خوف کے بغیر بھاگ کر گاڑی میں سوار ہوئے اور لوگوں سمیت پمپ کو بچانے کے لیے ٹینکر کو سٹارٹ کر کے روانہ ہو گئے۔
شاہوانی کہتے ہیں کہ پیٹرول پمپ، آئل ٹینکر اور اس میں موجود 10 ہزار لیٹر پیٹرول سب اُن کے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ اور اس کے قرب و جوار میں آگ بجھانے کے لیے انتظامات نہ ہونے کے باعث ٹینکر اور پیٹرول نے تو ویسے جلنا ہی تھا لیکن ان کے ساتھ ساتھ خود پیٹرول پمپ میں بھی آگ بھڑکنے امکانات تھے لیکن ڈرائیور محمد فیصل کی بہادری اور حاضر دماغی نے نہ صرف کئی جانوں بلکہ پیٹرول پمپ کو بھی بچا لیا۔
ان کا کہنا تھا ایسے مناظر ہم تو ہالی وڈ فلموں میں دیکھتے رہے ہیں لیکن ایک حقیقی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس آفات سے نمٹنے کے صوبائی محکمے (پی ڈی ایم اے) کا نمبر تھا اس لیے اُنھوں نے پی ڈی ایم اے کو کال کی اور اُنھوں نے آگے فائربریگیڈ کے عملے کو اطلاع دی۔
اتنی دیر میں محمد فیصل جا کر جلتے ٹینکر میں بیٹھ گئے۔
’یہ ایک ایسا وقت تھا کہ جس میں آگے نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مگر گاڑی کو ریورس کیے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے پہلے ٹینکر کو ریورس کیا اور اس کے بعد اس کو آگے لے گیا۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ پیٹرول پمپ کے قریب بھی ایک کھلی جگہ تھی مگر جب وہ اس خالی جگہ پر پہنچے تو وہاں ایک سوزوکی پک اپ اور ایک کار آ گئیں جس کی وجہ سے اُنھوں نے ٹینکر کو وہاں نہیں روکا کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں دونوں گاڑیوں اور ان میں سوار افراد کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
اب ان کے پاس واحد راستہ اس جلتے ہوئے ٹینکر کو آبادی سے جتنا دور ممکن ہو لے جانا تھا۔ جب وہ آبادی سے نکل گئے تو اس وقت ٹینکر کا پچھلا حصہ کافی حد تک آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا اور اب اسے مزید دور لے جانا ان کے لیے بالکل ممکن نہیں تھا۔
اب ان کے سامنے ایک اور مشکل یہ تھی کہ اُنھوں نے جب بریک پر پاﺅں رکا تو اس وقت بریک بالکل کام نہیں کر رہی تھا۔
اس وقت ٹینکر کی رفتار 70 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ محمد فیصل نے بتایا کہ ٹینکر کی رفتار بہت زیادہ ہونے کے باعث اُنھوں نے پہلے اسے تیسرے گیئر میں ڈالا، پھر دوسرے اور پھر پہلے گیئر میں ڈالا اور پھر انجن آف کر دیا اور ٹینکر رک گیا۔
اس دوران ان کو ڈر تھا کہ کہیں آگ کے شعلوں کی وجہ سے پیچھے کسی کو نقصان پہنچا ہو گا کیونکہ ہوا اور پیٹرول بہنے کی وجہ سے پیچھے شعلے دوردور تک تھے مگر وہ مسلسل ہارن دبائے آگے بڑھتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی آئل ٹینکر میں ان کے چھوٹے بھائی ان کے ساتھ معاون کے طور پر کام کرتے ہیں۔
’جب آگ لگنے کے بعد میں ٹینکر لے کر نکلا تو پیچھے سے میرے بھائی نے ٹریفک کو روک دیا تھا تاکہ کسی اور کو آگ کے شعلوں سے نقصان نہ پہنچے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ جب میرے بھائی اور گاڑی کے مالکان میرے پاس پہنچے تو اُنھوں نے بتایا کہ گاڑی کے پیچھے آگ سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا۔
محمد فیصل کو اس بات پر خوشی ہے کہ ایک انسان ہونے کے ناطے دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو بچانے اور اپنے مالکان کے مالی نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے ان سے جو کچھ ہو سکتا تھا وہ اُنھوں نے کرنے کی کوشش کی۔