آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش: کنٹینرز میں آگ اور دھماکے سے کم از کم 44 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی
بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ کے قریب ایک سٹوریج ڈپو میں آتشزدگی اور زبردست دھماکے کے ایک واقعے میں کم از کم 44 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔
سیتا کنڈ میں ایک مقام پر جب کئی شپنگ کنٹینرز میں آگ لگنے سے دھماکے ہوئے تو سینکڑوں لوگ وہاں آگ پر قابو پانے کے لیے پہنچے تھے۔ آگ لگنے کی وجہ تو ابھی معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ کنٹینرز میں کیمیائی مادے تھے جو آتشزدگی کا سبب بنے۔
علاقے کے ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ہسپتال انتظامیہ نے عوام سے خون کے عطیات کی اپیل کی ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
آگ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات نو بجے لگی تھی اور واقعے کے فوری بعد سینکڑوں فائر فائٹرز، پولیس اور رضاکار جائے وقوعہ پر پہنچے۔ جیسے ہی آگ بجھانے کے لیے مدد فراہم کی جا رہی تھی کہ اس دوران وہاں موجود چند کنٹینرز میں زور دار دھماکہ ہوا جس نے امدادی کارکنوں کو آگ کی لپیٹ میں لے لیا اور چند افراد دھماکے کے بعد ہوا میں اڑنے والے ملبے سے بھی زخمی اور ہلاک ہوئے۔
لاری ڈرائیور طفیل احمد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’دھماکہ اتنا زبردست تھا کہ جہاں میں کھڑا تھا وہاں سے تقریباً 10 میٹر کے فاصلے پر جا گرا۔ میرے ہاتھ پاؤں جھلس گئے ہیں۔‘
اتوار کی صبح رضا کاروں کو، جن میں سے کچھ نے پیروں میں صرف سینڈل پہنے ہوئے تھے، اٹھتے ہوئے دھوئيں کے درمیان پڑے ملبے سے لاشیں نکالتے دیکھا گیا۔
دھماکے میں کم از کم پانچ فائر فائٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کئی صحافی جو دھماکے سے پہلے آگ کی رپورٹنگ کر رہے تھے لاپتہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دھماکا اتنا بڑا تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی اور آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایک مقامی دکاندار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ملبے کا ایک ٹکڑا آدھا کلومیٹر دور تک اڑ کر ان کے تالاب میں جا گرا۔ انھوں نے دھماکے کے بعد ’آگ کے گولے بارش کی طرح گرتے ہوئے دیکھے۔‘
اس کے بعد کی تصاویر میں دھات کے شپنگ کنٹینرز کی مڑی تڑی باقیات اور گودام کی منہدم چھت نظر آتی ہیں۔ ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہوا میں تیز بدبو پھیلی ہوئی ہے۔
فائر فائٹرز اتوار کو بھی آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فائر حکام کے مطابق مسلسل دھماکوں نے آگ بجھانے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی فائر سروس کے سربراہ معین الدین نے کہا کہ ’اس کیمیکل کی موجودگی کی وجہ سے ہم ابھی تک آگ پر قابو نہیں پا سکے۔‘ کیمیکل کو سمندر میں بہہ کر چلے جانے سے روکنے کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔
سیتا کنڈ چٹاگانگ سے صرف 40 کلومیٹر (25 میل) کے فاصلے پر ہے۔ شہر کا ایک ہسپتال متاثرین سے بھر گیا ہے۔ اس کے علاوہ فوجی کلینک زخمیوں کے علاج میں مدد کر رہے ہیں۔
سیتا کنڈ کے ڈپو میں تقریباً 4,000 کنٹینرز کو ذخیرہ کیا گیا تھا، جو بنگلہ دیش کے دوسرے سب سے بڑے شہر چٹاگانگ کی بندرگاہ سے گزرنے والے کنٹینرز کے لیے ایک ٹرانزٹ پوائنٹ ہے۔
ایک علاقائی سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ڈپو میں لاکھوں ڈالر کے ملبوسات تھے جو مغربی منڈیوں کو برآمد کیے جانے تھے۔
بنگلہ دیش مغرب کو کپڑوں کا ایک بڑا سپلائی کرنے والا ملک ہے اور گذشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملبوسات برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
لیکن کمزور قوانین اور ضوابط کے ناقص نفاذ کو اکثر اس قسم کے صنعتی حادثات کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔
بنگلہ دیش میں حالیہ برسوں میں کئی بڑی آتشزدگی کی وجہ سے سینکڑوں اموات ہوئی ہیں۔ گذشتہ سال ملک کے جنوب میں ایک فیری میں آگ لگنے سے کم از کم 39 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اور رواں سال کے آغاز میں دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب روپ گنج میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 52 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سنہ 2020 میں چٹاگانگ کے قریب ہی پتینگا میں ایک اور کنٹینر سٹوریج ڈپو میں تیل کا ٹینک پھٹنے سے تین مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔
اتوار کو، ڈھاکہ ٹریبیون اخبار نے 12 صنعتی حادثات کی ایک فہرست شائع کی ہے جس میں آگ، عمارت کا گرنا اور کیمیکل کا رساؤ شامل ہے۔ ان حادثات میں سنہ 2005 سے اب تک 1,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔