آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش میں زرعی انقلاب: ایک سائنسدان اور ایک ٹی وی پریزنٹر نے کیسے بنگلہ دیش کی قسمت بدل دی
- مصنف, معظم حسین
- عہدہ, بی بی سی بنگلہ، لندن
بنگلہ دیش میں ٹنگائل کے ایک گاؤں میں ایک نئے ٹن کی شیڈ والے گھر کے سامنے شہر کے لوگوں کا ایک گروپ کھڑا ہے۔ کھیتوں کی فصل کا دورہ کرنے کے بعد وہ تھکا ہوا ہے اور سستا رہا ہے۔
یہ لوگ یہ دیکھنے گئے تھے کہ دھان کی مقامی قسم چامرا کی جگہ زیادہ پیداوار والے دھان کی کاشت شروع ہونے کے بعد علاقے کی کیا حالت ہے۔
بہت سے شہریوں کو دیکھ کر گھر کا ایک آدمی باہر نکل آیا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم بنگلہ دیش رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے آئے ہیں۔
بنگلہ دیش کے رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سابق سائنسدان ڈاکٹر ایم اے سلام نے کہا کہ 'اس کے بعد جو ہوا، اس کے لیے ہم بالکل تیار نہیں تھے۔'
"وہ شخص خوشی سے چلایا اور مجھے گلے لگا لیا، اس نے کہا: 'اللہ نے آپ کو ہمارے پاس فرشتہ بنا کر بھیجا ہے، ہم دنگ تھے، ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔'
یہ واقعہ 1996 کا ہے۔ اس وقت یہ علاقہ دریا کی وجہ سے سیلاب سے پاک تھا جسے جمنا پل کی تعمیر کے لیے کنٹرول کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہاں چامرا دھان کی صرف مقامی قسمیں اگائی جاتی تھیں جو سیلابی پانی میں اگتی ہیں اور تین سے چار فٹ پانی میں اگائی جا سکتی ہیں۔ لیکن پیداوار بہت کم تھی۔ سیلاب سے پاک ہونے کے بعد علاقے کے کسانوں نے پہلی بار زیادہ پیداوار دینے والی چاول کی اقسام کاشت کرنا شروع کر دیں۔
اس کے بعد وہ کسان ڈاکٹر سلام اور ان کے ساتھیوں کا ہاتھ پکڑ کر گھر کے اندر لے گئے۔ انھوں نے کہا: یہ ٹن کی چھت والا گھر آپ دیکھ سکتے ہیں، میں نے اسے دھان کی فروخت سے حاصل ہونے والے پیسوں سے بنایا ہے۔ میری سات پشتیں اب تک جھونپڑیوں میں رہتی آئی ہیں۔ چامرا دھان کی کھیتی کے زمانے میں کبھی ہمارے پاس کھانا ہوتا اور کبھی نہیں۔ اب دیکھیے میرے پاس کتنا دھان ہے۔ آپ لوگوں نے ہماری زندگی بدل دی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ڈاکٹر سلام کی اپنی دہائیوں پر محیط ایک کامیاب رائس سائنس دان کے دوران کی یادوں میں سے ایک ہے۔
'آؤس، آمن اور بورو - ان تینوں اقسام کے دھان کی اب ہمارے ملک میں کل 11 سے ساڑھے 11 ملین ہیکٹر رقبے پر کاشت ہوتی ہے۔ اب ہمیں اوسطاً چار ٹن فی ہیکٹر پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اب ہم اضافی دھان پیدا کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ پہلے ہم فی ہیکٹر صرف ڈیڑھ سے دو ٹن دھان پیدا کر پاتے تھے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کے 17 کروڑ لوگوں کا پیٹ بھرنا ناممکن تھا۔'
قحط کی یادیں
میمن سنگھ شہر سے پرانے برہم پتر دریا کو پار کرتے ہوئے چر ایشوردیا گاؤں ہے۔ سنہ 1974 کے موسم خزاں میں جب بنگلہ دیش اپنی تاریخ کے بدترین خوراک کے بحران کا سامنا کر رہا تھا تو یہ گاؤں بھی شدید مشکلات کا شکار تھا۔
چار ایشوردیہ کی رشیدہ اس وقت نوعمر تھیں۔ ہر روز انھیں اپنے گھر کے قریب لنگر خانہ میں کھانے کے لیے لائن میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔
رشیدہ کہتی ہیں: 'کسی دن ہمیں لائن میں کھڑے ہو کر روٹی مل جاتی، کسی دن آٹا یا میدہ ملتا، یہ کیفیت تقریباً ایک سال تک رہی۔ چاول بھی ہوتے تھے لیکن ہم اسے خریدنے اور کھانے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ اسی لیے وہ آٹا لاکر کھاتے تھے، کھانے کے لیے آلو لے آتے تھے، کبھی بغیر کھائے رہ جاتے تھے، کبھی اربی کے پتوں کا ساگ کھاتے تھے۔ ہم نے ایسے ہی دن گزارے ہیں۔'
ایم اے سلام اس وقت چار ایشوردیہ سے صرف 10 کلومیٹر دور بنگلہ دیش کی زرعی یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ وہ ایک غریب کسان گھرانے سے آتے تھے۔ جس خاندان کے ساتھ وہ وہاں رہتے تھے ان کی مالی حالت بھی بہت خراب تھی۔
ان کے بارے میں وہ کہتے ہیں: 'اس وقت انھوں نے جو کچھ کیا میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ خواہ انھیں کتنی ہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے، وہ مجھے ہر روز کھانے کے لیے چاول دیتے تھے، حالانکہ وہ خود دلیہ کھا کر رہ جاتے تھے۔ وہ مجھے اتنا پسند کرتے تھے۔'
ایم اے سلام نے زرعی سائنسدان بننے کا خواب دیکھا۔ چھوٹی عمر میں ایک غریب کسان باپ نے انھیں یہ خواب دکھایا۔
'جب میں تیسری جماعت میں تھا، ایک دن دھان کی کٹائی کے موسم میں، میں اپنے والد کے ساتھ بیل گاڑی میں دھان لینے کے لیے کھیت گیا، تھوڑی دیر بعد میرے گالوں پر پسینہ آنے لگا، تب میرے والد نے کہا، 'دیکھو بیٹا کھیتی باڑی کتنی مشکل ہے۔ اگر تم پڑھتے لکھتے ہو تو تمہیں اتنی محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ اگر تم اچھی زندگی گزارو گے تو ہم بھی اچھی زندگی گزار سکیں گے۔'
اپنے بچپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے سلام کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
ڈاکٹر ایم اے سلام اب بنگلہ دیش کے چاول کے صف اول کے سائنسدانوں میں سے ایک ہیں۔ بنگلہ دیش کا رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دھان کی کم از کم 20 جدید اقسام کی تیاری میں براہ راست شامل ہے۔
ان لوگوں کی دریافت نے بنگلہ دیش میں زراعت کی تصویر بدل کر رکھ دی۔ میں ان سے ڈھاکہ کے گلشن انسٹی ٹیوٹ میں بات کر رہا تھا جہاں وہ اب ایک نئی تحقیق میں مصروف ہیں۔
جب انھوں نے سنہ 1977 میں بنگلہ دیش رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ملازمت شروع کی تو اس وقت قحط کے بعد بنگلہ دیش کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اس ملک کی وسیع آبادی کے لیے اناج کا بندوبست کیسے کیا جائے۔
ڈاکٹر سلام کہتے ہیں: 'اس وقت بنگلہ دیش میں شاید ہر شخص دن میں صرف ایک وقت کا کھانا کھاتا تھا اور وہ بھی شاید ایک سیر چاول کا کھانا ہوتا تھا۔ چاول ہی اس کا پروٹین تھا، چاول ہی اس کا وٹامن تھا، وہی سب کچھ تھا۔ بنگلہ دیش چاول کی سرزمین ہے۔ پھر بھی قحط سالی کا شکار رہتا تھا اور کیسی افسوسناک صورتحال تھی۔'
اس وقت رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ دھان کی پیداوار کیسے بڑھائی جائے۔
ڈاکٹر سلام کہتے ہیں: 'جب میں نے کام شروع کیا تو ہمارے سینیئر سائنسدانوں نے کہا کہ ہمیں یہ کرنا ہے، ہمارا بھی عہد ہے کہ ہم اس ملک کے حالات بدل کر رکھ دیں گے۔'
بی آر-3 یا وپلو
بنگلہ دیش میں آزادی کے ابتدائی دنوں میں چاول کی صرف ایک زیادہ پیداوار دینے والی قسم 'آئی آر-8' تجرباتی بنیادوں پر کاشت کی جا رہی تھی، جسے انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے تیار کیا تھا۔
لیکن بنگلہ دیش میں اس قسم کی کاشت میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس کی کاشت کا عرصہ بہت طویل تھا۔ اس کے علاوہ بورو کے کی کاشت کے لیے آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت بنگلہ دیش میں آبپاشی کا جدید نظام تیار نہیں تھا۔
رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے پھر بنگلہ دیش کے لتیشائل دھان کی ایک مقامی قسم کو 'آئی آر-8' کے ساتھ ملا کر ایک ہائبرڈ قسم 'بی آر-3' تیار کی، جو وپلو کا دوسرا نام تھا۔
لیکن یہ دھان کی قسم بھی کاشت میں متوقع کامیابی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی۔
'بنیادی مسئلہ روشنی کے متعلق حساسیت کا تھا۔ بنگلہ دیش میں دھان کی تمام مقامی اقسام جو عام طور پر لگائی جاتی تھیں وہ روشنی سے متاثر ہوتی تھیں۔ اور بیج لگانے سے لے کر کٹائی تک لمبا وقت لگ جاتا تھا۔ اب ہمارے سامنے چیلنج یہ تھا کہ ہم دھان کی مقامی اقسام سے روشنی کی حساسیت کیسے ختم کر سکتے ہیں؟'
سنہ 1985 میں ایم اے سلام فوٹو سنتھیسس کے موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے فلپائن گئے۔ وہ سنہ 1988 میں واپس آئے۔
وہ کہتے ہیں: 'اب ہماری کوشش اس بات پر تھی کہ ہم چاول کی مقامی اقسام سے فوٹو پیریڈ کی حساسیت کو کیسے دور کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو دھان تین ماہ میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ ہم اس کی سائنس جانتے ہیں۔ یہ خالصتاً جینیاتی ہے۔'
بی آر آر آئی-29 نے انقلاب برپا کر دیا
بنگلہ دیش نے چاول کی تحقیق میں بتدریج کامیابیاں حاصل کرنا شروع کر دیں۔ ایک کے بعد ایک چاول کی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کے متعارف ہونے سے خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا۔
سب سے بڑی کامیابی نوے کی دہائی کے وسط میں ملی۔ رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کی تیار کردہ چاول کی بی آر آر آئی-28 اور بی آر آر آئی-29' کی اقسام نے بالآخر انقلاب برپا کردیا۔
یہ دونوں اقسام اب بنگلہ دیش میں دھان کی سالانہ پیداوار کا نصف حصہ ہیں۔ بی آر آر آئی-28 سے پیداوار پانچ ٹن فی ہیکٹر تک ہے اور بی آر آرآئی-29 سے چھ ٹن فی ہیکٹر تک پیداوار ہے۔
ڈاکٹر سلام کی اب تک کی کامیاب ترین تحقیقوں میں سے ایک 'بی آر آر آئی-50' ہے سنہ 2006 میں ایجاد ہونے والی اس قسم کا مقبول نام 'بنگلہ متی' ہے۔ چاول کی اس خوشبو والی قسم کا معیار 'باسمتی' سے بہت ملتا جلتا ہے۔
ڈاکٹر ایم اے سلام کو چاول کی تحقیق کے میدان میں ان کی شراکت کے لیے سنہ 2006 میں انڈیا میں منعقدہ انٹرنیشنل رائس کانگریس میں بہترین سائنسدان کا ایوارڈ ملا۔
شیخ سراج
بنگلہ دیش میں زراعت کو جدید بنانے کی پہلی کوشش سنہ 1960 کی دہائی میں کومیلا دیہی ترقی اکیڈمی میں کی گئی۔ اس کے بانی اختر حامد خان نے تجرباتی بنیادوں پر جاپان سے لائے گئے دھان کی جدید اقسام کی کاشت کا آغاز کیا۔ لیکن اس دھان کی کاشت کے لیے مصنوعی آبپاشی کی ضرورت تھی۔ اس لیے گاؤں میں گہرے ٹیوب ویل لگائے جا رہے تھے۔
بنگلہ دیشی ٹیلی ویژن کے ایک بہت ہی مقبول پریزینٹر شیخ سراج نے بتایا کہ 'جب ٹیوب ویل کے ذریعے زیر زمین پانی کھینچا جا رہا تھا، تو کچھ گاؤں والے خوف کے مارے بھاگ گئے، وہ اسے اللہ کے خلاف اقدام سمجھتے تھے۔ کوئی سمجھ سکتا ہے کہ ابتدا میں بنگلہ دیشی لوگ زراعت میں نئی تکنیک یا آئیڈیاز کی طرف راغب ہوئے تو کسانوں کارویہ کیسا تھا؟
گھٹنوں تک پینٹ موڑ ے، اپنی ٹریڈ مارک زیتونی رنگ کی سبز قمیض اور ہاتھ میں کیمرہ لیے شیخ سراج اب بنگلہ دیش میں جہاں بھی جاتے ہیں کسانوں کی طرف سے ان کا پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے۔
لیکن جب انھوں نے پہلی بار بنگلہ دیش کے قومی ٹیلی ویژن پر زراعت پر پروگرام پیش کرنا شروع کیا تھا تو حالات بہت ناگفتہ بہ تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ 'اس وقت جب ہم بڑے بڑے کیمرے لے کر دیہات میں جاتے تھے تو لوگ اسے دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتے تھے۔ وہ اسے توپ سمجھتے تھے۔ وہ مائیکروفون کو بندوق کا بیرل سمجھتے تھے۔ گاؤں والے سماجی طور پر بہت پسماندہ تھے۔ لوگ اتنے شرمیلے تھے کہ کیمرے کے سامنے ان سے بات کروانا مشکل تھا۔'
'مٹی اور آدمی'
بنگلہ دیش کے زرعی شعبے میں گزشتہ چند دہائیوں میں ڈرامائی تبدیلیوں کے پیچھے شیخ سراج کو مرکزی کرداروں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں جب سائنسدان ایک کے بعد ایک نئی زیادہ پیداوار والی چاول کی اقسام ایجاد کر رہے تھے، حکومت کی طرف سے لوگوں کو زراعت میں نئے طریقوں اور حکمت عملیوں سے متعارف کرانے کے لیے مختلف کوششیں کی گئیں۔شیخ سراج کے زرعی پروگرام 'مٹی او مانش' مٹی اور آدمی نے اسے فروغ دینے میں بڑا کردار ادا کیا۔
وہ بتاتے ہیں: 'شروع میں اس پروگرام کا نام 'امار دیش' یعنی ہمارا ملک تھا۔ اور یہ 50 منٹ کا پندرہ روزہ پروگرام تھا۔ بعد میں میں نے اسے 'مٹی او مانش' کے نام سے ہفتہ وار پروگرام میں بدل دیا۔ میں نے سوچا کہ بنگلہ دیش کے کسانوں کو تفریحی پروگراموں کی بجائے تعلیمی اور ترغیبی پروگراموں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اگر کسانوں کو نئے بیج، نئی حکمت عملی اور نئی مہارتیں صحیح طریقے سے سمجھائی جائیں تو زراعت کے شعبے میں بڑی تبدیلی لانا ممکن ہے۔'
گذشتہ چار دہائیوں سے شیخ سراج بنگلہ دیش کے کسانوں کے لیے زراعت کے بارے میں معلومات کا بنیادی ذریعہ رہے ہیں۔ سنہ 1980 کی دہائی میں جب ٹیلی ویژن ہر گھر تک نہیں پہنچتا تھا لوگ ہر ہفتہ کی شام گاؤں کے بازاروں اور کمیونٹی سینٹرز میں 'مٹی او مانش' پروگرام دیکھنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔
تاہم کسانوں کو زراعت کے نئے طریقے اپنانے کی ترغیب دینا آسان نہیں تھا۔
وہ بتاتے ہیں: 'آج کے کسانوں اور 30 سال پہلے کے کسانوں میں زمین کا فرق ہے۔ زراعت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے اس وقت کے اہلکار جو کہتے تھے یا جو کچھ میں ٹیلی ویژن پریزینٹر کے طور پر کہتا تھا وہ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جو ہم زراعت کے بارے میں بتا رہے ہیں، اگر فصل اچھی نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟ اسی لیے وہ آسانی سے متاثر نہیں ہوتے تھے۔ وہ آسانی سے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا نہیں چاہتے تھے۔'
'جب میں اسی کی دہائی میں زیادہ پیداوار دینے والے دھان کی نئی اقسام کے بارے میں بات کرتا تھا، گندم کے بارے میں بات کرتا تھا، تو انھوں نے مجھے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ یہ ربڑ کے چاول نہیں کھائیں گے، چاول کی کوالٹی اتنی اچھی نہیں تھی، پکا ہوا چاول ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ربڑ کی طرح ہے۔ اگر چاول کو پلیٹ میں رکھا جائے تو یہ ربڑ کی طرح گر جائے گا۔'
بہر حال جب سائنسدان اپنی تحقیق میں نئی کامیابیاں حاصل کر رہے تھے، شیخ سراج بھی اپنے پروگراموں کے ذریعے کسانوں کے دل جیتنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا رہے تھے۔
سنہ 1980 کی دہائی کے اواخر سے حالات تیزی سے بدلنے لگے۔ ورلڈ بینک کے مطابق بنگلہ دیش گذشتہ چند دہائیوں میں زراعت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کی ایک بہترین مثال ہے۔ صرف ایک ملک نے اس سے زیادہ زراعت پیدا کی ہے اور وہ ملک چین ہے۔
شیخ سراج نے کہا: 'اس کے بعد سے ایک بات سب کو سمجھ میں آ گئی تھی کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کی غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ آج ہماری آزادی کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ لوگ اب بھوکے نہیں مر رہے ہیں۔ اور اس میں سب سے بڑا کردار کسانوں کا ہے وہ اس کامیابی کے اصل ہیرو ہیں۔'