سابق فوجی افسران کی تنظیمیں سیاست میں کتنا اثر و رسوخ رکھتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت میں پیر کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر ریٹائرڈ فوجی افسران کی ایک تنظیم ’ویٹرنز آف پاکستان‘ کی پریس کانفرنس نے ملکی سیاست میں ریٹائرڈ فوجی افسران کے اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک بحث چھیڑ دی ہے۔
اس پریس کانفرس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یٰسین اور دیگر نمایاں نام موجود تھے۔
پاکستان آرمی کے پہلے لانگ کورس سے تعلق رکھنے والے بریگیڈیر میاں محمود نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان کے ہمراہ ریٹائرڈ فوجیوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وعدہ کیا تھا کہ نوے دن میں ہی نئے انتخابات کرائیں گے۔ انھوں نے پوچھا کہ ’اب وہ وعدہ کہاں گیا؟‘
پریس کانفرنس کے بعد انھوں نے صحافیوں کے سوال نہیں لیے۔ بعد ازاں وہاں موجود صحافیوں اور کئی ریٹائرڈ افسران کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی اور یوں اس پریس کانفرنس کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئے۔ خیال رہے کہ متعلقہ ذرائع نے ان دعوؤں کی تردید ہے۔
مگر یہ پہلی بار نہیں کہ مسلح افواج کے ریٹائرڈ افسران نے کسی معاملے پر اپنی کسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنا بیانیہ پیش کیا ہو۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معاملہ سیاسی نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے، مثلاً کسی ایک سیاسی جماعت کے موقف کی پُر زور تائید یا مخالفت، اور فوجی نوعیت کا بھی جو کہ عام طور پر فوج اور فوجی قیادت کی حمایت میں ہوتا ہے۔ مثلاً کسی مشہور سیاستدان نے فوج مخالف بیان دیا جو سوشل اور مین سٹریم میڈیا میں بحث کا موضوع بن گیا تو اچانک ریٹائرڈ افسران کے یہ گروپ سامنے آتے ہیں، احتجاج بھی کرتے ہیں اور پریس کانفرنسیں بھی۔
اگرچہ اس بار توپوں کا رُخ خود فوج کی جانب ہے مگر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ صارفین کہیں پریس کانفرنس کرنے والوں پر اپنی سیاست چمکانے کا الزام لگا رہے ہیں اور کہیں ان کے بیانیے کی حمایت کی جا رہی ہے۔
بعض لوگوں نے جنرل علی قلی خان کا ذکر بھی کر رہے ہیں جنھوں نے چند برس قبل سابقہ حکمراں جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اور اس کے ساتھ ان کے صاحبزادے خالد قلی خان کا بھی نام لیا جا رہا ہے جنھیں 2018 میں تو عمران خان نے پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا تھا تاہم اب کئی صارفین نے وہ تصاویر اور ٹویٹس شیئر کیں جن میں انھیں حال ہی میں عمران خان سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہISPR
خیال رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان اس وقت فوج سے سبکدوش ہوئے تھے جب نواز شریف نے 1998 میں انھیں سپرسیڈ کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ اس سے کئی دہائیاں قبل 1958 میں ان کے والد جنرل حبیب اللہ خان خٹک کی جگہ جنرل ایوب خان نے جنرل محمد موسیٰ کو پاکستان آرمی کا پہلا کمانڈر ان چیف بنایا تھا۔
جنرل علی قلی خان نے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور ان کے بیٹے 2018 میں کرک سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ امیدوار تھے۔ تاہم اس وقت انھیں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا۔
دوسری جانب کئی سوشل میڈیا صارفین نے پریس کانفرنس کے شرکا کے موقف کی حمایت بھی کی ہے۔
لیکن ریٹائرڈ فوجی افسران کی یہ ایسوسی ایشنز یا سوسائٹیز آخر کیا ہیں اور کیا یہ ملکی امور میں فیصلہ سازی کی سطح پر کسی قسم کا اثر و رسوخ رکھتی ہیں؟
اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے ہم نے متعدد حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران سے بات کی ہے۔ مگر پہلے اس پر بات کرتے ہیں کہ ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کے لیے خود فوج میں کیا نظام رائج ہے۔
سابق فوجیوں کے لیے قائم ادارے
وزارت دفاع اور فوج کے زیر انتظام پاکستانی فوج سے ریٹائر ہونے والے اہلکاروں کے لیے، چاہے وہ کسی بھی رینک سے تعلق رکھتے ہوں، ڈائریکٹوریٹس موجود ہیں۔ فوجی اہلکاروں سے متعلق کسی بھی پلیٹ فارم کی سرکاری حیثیت صرف اسی صورت میں قائم ہو گی جب وہ جی ایچ کیو میں رجسٹرڈ ہو گا یا اس کے پاس جی ایچ کیو اور وزارت دفاع کی جانب سے این او سی یا اجازت نامہ ہو گا۔
فوج سابق اہلکاروں سے براہِ راست رابطہ رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل برانچ کے زیرانتظام ریٹائرڈ ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے ویلفیئر اینڈ ری ہیبیلیٹیشن ڈائریکٹوریٹ قائم ہے۔
اس کے علاوہ ملک کے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ آرمڈ سروسز بورڈ یا ڈی اے ایس بی کے دفاتر ہیں۔ یہ ادارہ جی ایچ کیو کی ایجوٹنٹ جنرل برانچ اور وزارت دفاع کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔ یہ فوج سے ریٹائر ہونے والے اہلکاروں کے مسائل، پنشن، کاغذی کارروائیوں، نوکری کے لیے جی ایچ کیو سے اجازت نامے اور دیگر امور کا خیال رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ہر ضلع میں اس ادارے کے دفتر کا انتظام ایک ریٹائرڈ افسر کے سپرد کیا جاتا ہے جو وزارت دفاع سے تنخواہ لیتا ہے۔ اسی طرح ایجوٹنٹ جنرل کے زیر انتظام سنٹرل آفیسرز ریکارڈ آفس ہے جو افسران سے متعلق ریکارڈ رکھتا ہے جبکہ ایم ایس برانچ حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کا ریکارڈ جب کہ جوانوں کا سروس ریکارڈ متعلقہ رجمنٹیل سینٹر میں رکھا جاتا ہے۔
اسی طرح دیگر مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرز اور وزارت دفاع کی جانب سے منظور شدہ پلیٹ فارمز ہی ریٹائرڈ ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے تصدیق شدہ ادارے ہیں۔
تو ان سابق فوجیوں کی فلاح و بہبود کے نام پر بنی دیگر تنظیموں کی کیا حیثیت ہے؟
ایکس سروس مین کے نام پر بنی غیرسرکاری تنظیمیں
اس وقت ملک میں چند تنظیمیں ہیں جو خود کو ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں اور وزارت دفاع کے سابق ملازمین کی نمائندہ کہتی ہیں۔ ان میں پیس یعنی پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی ہے جس کا قیام 1991 میں عمل میں آیا۔
ایسی ہی ایک اور تنظیم پاکستان ویٹرنز ایسوسی ایشن ہے جو جنوری 2008 میں پاکستان ایکس سروس مین ایسوسی ایشن کے نام سے بنائی گئی اور بنیادی طور پر سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف چلنے والی وکلا تحریک میں حصہ لینے کے لیے قائم ہوئی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تنظیم رجسٹرڈ نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
پیس یا ایکس سروس مین سوسائٹی ایک غیر سرکاری تنظیم کے طور پر جوائنٹ سٹاک کمپنیز راولپنڈی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے، اور تنظیم کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے مطابق اس سوسائٹی کے ساتھ تقریباً سات لاکھ ریٹائرڈ فوجی منسلک ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی فنڈنگ کا کوئی ذریعہ نہیں اور ممبران میں سے جو اپنی حیثیت کے مطابق فنڈنگ کرنا چاہے وہ کرتا ہے۔
ریٹائرڈ فوجیوں کے لیے قائم تمام چھوٹی بڑی تنظیموں میں سے صرف یہ ایک تنظیم ہی رجسٹرڈ ہے۔ تاہم یہ بھی جی ایچ کیو یا وزارت دفاع کے ساتھ منسلک نہیں، نہ ان کی جانب سے ان کے پاس کسی بھی قسم کا اجازت نامہ ہے۔
ایک اہلکار کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ان تنظیموں کا خود کو تمام ریٹائرڈ فوجیوں کی نمائندہ کہنا غلط اور غیرقانونی ہے۔
مگر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ ان کی تنظیم سمیت دیگر ایکس سروس مین تنظیموں کے قیام کا بنیادی مقصد آپس میں رابطہ کاری اور مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ اہم قومی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔
ریٹائرڈ فوجیوں کو فلاح و بہبود یا پریشر گروپ؟
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امجد شعیب نے کہا کہ ’بنیادی طور پر کام فلاح و بہبود کا ہے۔ ان کی بہتری کی کوشش کرنا، ان کے لیے جاب (نوکریوں) کا انتظام کرنا اور ان کے مسائل کو حکومت یا متعلقہ فورم کے سامنے رکھنا۔ لیکن اس کے ساتھ ہم پاکستان کی مسلح افواج کو سپورٹ مہیا کرتے ہیں جب ہم سمجھتے ہیں کہ ان اداروں کو بغیر کسی وجہ کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
’اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کبھی نہ کبھی تو یہ (آئی ایس پی آر) پریس کانفرنس تو کر لیتے ہیں مگر یہ ہمیشہ پبلک میں اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ لیکن ہمیں تو پریس کانفرنس کرنے یا پریس ریلیز جاری کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘
وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’ہم قومی معاملات پر ایک پریشر گروپ کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سوسائٹی کے ایک بڑے حصے کے نمائندہ ہیں اور ہماری رائے کی اہمیت ہے۔ ہمارے ہر تحصیل میں دفاتر ہیں اور ہم وہاں سے کسی بھی قومی معاملے پر فیڈ بیک (رائے) لیتے رہتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ الزام غلط ہے کہ ’ہم کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں۔ ہمارا کسی سے کوئی تعلق نہیں، اگر کسی خاص ماحول میں ہمارا بیانیہ یا رائے کسی ایک جماعت کے حق میں ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اس جماعت کے حامی ہیں اور دوسرا یہ ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک تنظیم کی رائے ہوتی ہے۔‘
تاہم انھوں نے یہ ضرور کہا کہ پریس کلب میں ویٹرنز آف پاکستان نامی تنظیم کے کئی ممبران سیاسی حیثیت رکھتے ہیں جو سب کے علم میں ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں ان کی تنظیم بھی وہی رائے رکھتی ہے مگر ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایسے بیانات سے گریز کریں گے جو پاکستان اور ملک کی مسلح افواج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔‘
اسی بارے میں بی بی سی نے ویٹرنز آف پاکستان سے رابطے کی کوشش کی تاہم ان کے ممبران نے تادم تحریر جواب نہیں دیا۔
لیکن کیا سابق فوجی اہلکاروں یا ان کی غیر سرکاری تنظیموں کی رائے یا بیانیہ فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوسکتی ہے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ فوجی قیادت کے لیے وہی اہم ہیں جو فوج میں ملازمت کر رہے ہیں۔ ’آرمی چیف کے لیے ان کے زیر کمان کام کرنے والے فوجیوں کی رائے اور سوچ اہمیت رکھتی ہے، اس لیے ریٹائرڈ فوجی اہلکار کسی معاملے پر کیا موقف اپناتے ہیں، اس کا فوج سے کوئی تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔‘
متعلقہ ذرائع نے ویٹرنز آف پاکستان کی حالیہ پریس کانفرنس کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان تنظیموں کا فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی یہ جی ایچ کیو یا وزارت دفاع کے ماتحت یا ان کی اجازت سے کام کر رہی ہیں۔ ’فوجی اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے باقاعدہ نظام موجود ہے جو مکمل طور پر فعال ہے۔ سابق فوجیوں کو مکمل آزادی ہے کہ وہ سیاست میں حصہ لیں، تاہم ملکی قوانین انھیں اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتے کہ مسلح افواج کے ساتھ اپنا تعلق استعمال کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔‘
اس سوال پر کہ کیا پریس کانفرنس کے دوران فوج یا فوجی قیادت پر الزام لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، انھوں نے کہا کہ ایسا ممکن ہے کیونکہ یہ ویسے ہی الزامات ہیں جیسے حال ہی میں ایمان حاضر مزاری نے لگائے تھے جو ’ملکی قوانین کے خلاف ہے۔‘
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کی طرف سے ایمان مزاری کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ شیریں مزاری کی بیٹی نے فوج اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف تضحیک آمیز بیان دیا تھا۔ اور یہ کہ ان کے بیان کا مقصد فوج میں نفرت، بے یقینی اور افراتفری پیدا کرنا ہے، جو کہ بہت سنگین اور قابل سزا جرم ہے۔
فوج نے کہا تھا کہ ایمان مزاری نے افسران کو اعلیٰ قیادت سے بدگمان کرنے کی کوشش کی ہے۔ جی ایچ کیو کے مطابق ایمان مزاری کا بیان فوج کی شبیہ کے لیے نقصان دہ ہے۔ ’ان کے بیان کا مقصد عوام میں ڈر اور خوف پیدا کرنا ہے، جو کہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔‘
ایمان مزاری کی جانب سے عدالت میں تحریری جواب داخل کرواتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کی والدہ کی گرفتاری سے قبل اور بعد میں پیش آئے چند واقعات کے باعث وہ سٹریس (پریشانی) میں مبتلا تھیں اور ان واقعات کے پس منظر میں اُن کے دیے گئے بیانات کا مقصد فوج میں انتشار پھیلانا نہیں تھا۔











