ریٹائرڈ فوجی افسران کا آرمی چیف جنرل باجوہ سے الیکشن کروانے کا مطالبہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث

پاکستان میں ریٹائرڈ فوجی اور سول افسران کی ایک تنظیم نے دعوی کیا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد ایک ملاقات میں بڑے واضح الفاظ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے ملک میں نوے دن کے اندر انتخابات کرا دیں گے۔

ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر کھلے آسمان تلے 'ویٹرن آف پاکستان' نامی تنظیم نے ایک پریس کانفرنس میں جس کی ویڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر دیکھی جا رہی ہے اس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پوچھا گیا کہ ان کا 'نوے دن کا وعدہ کدھر گیا۔'

ویٹرن آف پاکستان کی جانب سے جنرل باجوہ کو ان کا وعدہ یاد دلانے کے علاوہ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ واشنگٹن سے موصول ہونے والے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے پر ایک عدالتی کمیشن بنایا جائے تاکہ اس بات کو ثابت کیا جا سکے کہ اس میں پاکستان کو دھمکی دی گئی ہے کہ نہیں۔

ادھر دوسری طرف اس معاملے سے واقف بعض اہم ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے کسی سے کبھی بھی تین مہینے یا کسی اور مدت میں الیکشن کروانے کا وعدہ نہیں کیا اور نہ ہی اس طرح کی گفتگو کی گئی جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے ان متعلقہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ویٹرنز‘ کا نام استعمال کر کے فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیے

’ہماری ٹیم نے جنرل باجوہ سے ملاقات کی تھی‘

پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے سابق بریگیڈیر اور مصنف میاں محمود نے میگا فون پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جب حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو ’ہماری ایک ٹیم نے جنرل باجوہ سے ملاقات کی جس میں ملک کے بگڑتے ہوئے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال ہوا۔

انھوں نے کہا کہ یہ وفد ریٹائرڈ جنرل علی قلی خان کی قیادت میں ملا تھا جس میں ریٹائرڈ ایڈمرل تسلیم ایس جے اور ایئر وائس مارشل مسعود بھی شامل تھے۔

امریکہ سے پاکستان کو لاحق مبینہ خطرات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے جو خطرات ہیں وہ کوئی ’ڈھکی چھپی بات نہیں‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بحیثیت سابق فوجی انھوں نے بہت سی ایسی امریکی رپورٹس پڑھی ہیں جن میں ان خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ’فرق صرف اتنا ہے یہ خدشات اب حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں اور ان پر عمل کیا جا رہا ہے۔‘

میاں محمود نے کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت امریکہ کی طرف سے شدید ترین خطرات لاحق ہیں اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج اور خاص طور پر فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کو اس کا ادراک کرنا چاہیے اور تمام احتیاطی اقدامات کرنے چاہییں تاکہ اس صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔

مراسلے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کی تنظیم کا دوسرا بڑا مطالبہ ہے اور اس سے پہلے دیگر لوگوں کی طرف سے بھی یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اس خط کی تفصیل پر غور کریں اور یہ فیصلہ کریں کہ یہ لیٹر یہ پاکستان کے لیے دھمکی ہے یا نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'اگر یہ خط تھریٹ (دھمکی) ہے تو یہ، ہمارا بحیثیت سابق فوجی افسران کے، فوج کا بحیثیت ایک مسلح افواج کے ادارے کے اور فوج کے سربراہ، سب کا فرض ہے اس دھمکی کا نوٹس لیں اور جو بھی ہمیں کرنا ہے اس ملک کی سلامتی کی حفاظت کے لیے وہ ہم کریں۔'

میاں محمود نے ملک کے موجودہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ پر شدید تنقید کی اور ان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی طرف سے دو جنگوں میں شرکت کر چکے ہیں اور ان کی دانست میں یہ ملک کی بقا کے لیے یہ تیسری جنگ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا ملک کا دشمن اس وقت رانا ثناء اللہ ہے۔ اس صورت حال کو جسے انہوں نے تیسری جنگ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں وہ ملک دشمنوں کی واضح طور پر نشاندہی کر دینا چاہتے ہیں۔

'ہم رانا ثناء اللہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تم ملک کو تباہ کرنے میں جو کردار ادا کرنا چاہتے ہو ہم اس کو ناکام بنا دیں گے۔‘

انھوں نے موجوہ حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک ووٹ سے اقتدار میں آئے ہیں اور انھوں نے ناجائز طور پر ملک کا اقتدار سنبھالا ہوا ہے۔

پریس کانفرنس جو کھلے آسمان تلے کرائی گئی اس میں بڑی تعداد میں اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے مرد اور خواتین موجود تھے جو گاہے بگاہے 'امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نعرے بھی بلند کرتے رہے۔'

میاں محمود نے کہا کہ وہ اس بات کا برملا اظہار کرنا چاہتے ہیں کون کون سی بیرونی طاقتیں نے یہ حکومت بنانے میں اپنا کردار ادا کیا اور کون کون سے اندرونی عناصر تھے جنھوں نے بیرونی طاقتوں کی مدد کی اس حکومت کو بنانے میں۔

بریگیڈیر میاں محمود نے کہا کہ وہ 23 مارچ 1940 میں دس سال کے تھے جب انھوں نے منٹو پارک میں اس اجلاس میں شرکت کی جہاں ’قائد اعظم محمد علی جناح نے قرار داد پاکستان کی منظور دی تھی۔‘

خیال رہے کہ میاں محمود نے 1947 میں فوج میں کمیشن حاصل کیا اور وہ پاکستان ملڑی اکیڈمی سے کمیشن حاصل کرنے والے پہلے بیچ میں شامل تھے۔

محمود خان نے کہا کہ پاکستان جن مراحل سے گزرا ہے وہ سب انہوں نے دیکھے ہیں۔ سابق فوجی آمر جنرل ایوب کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ کیسے ایوب خان نے ملکی کی خودمختاری امریکہ کو بیچی تھی اور پشاور میں امریکہ کو ہوائی اڈا بنانے کی اجازت دی۔ اس دن سے آج تک یہ ملک امریکہ کے زیرِنگیں رہا۔'

انھوں نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں امریکہ زیر نگیں رہنا ہے یا باعزت قوم کے طور پر اپنا مقام حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سے جنگ یا دشمنی کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

'امریکہ کے ساتھ دوستی کے جو تعلقات پہلے تھے وہ ہم قائم رکھنا چاہتے ہیں مگر امریکہ کو اس کا احساس کرنا پڑے گا کہ پاکستان کی اندرونی خودمختاری پر ہم کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے۔‘

متعلقہ ذرائع کا ردعمل: 'آرمی چیف کے دائرہ اختیار میں الیکشن کرانا شامل نہیں'

تاہم اس معاملے سے واقف بعض اہم ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ’کسی سے کبھی بھی تین مہینے یا کسی اور مدت میں الیکشن کروانے کا وعدہ نہیں کیا‘ اور نہ ہی اس طرح کی گفتگو کی گئی جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان متعلقہ ذرائع کے مطابق ’ایک آرمی چیف اس طرح کا وعدہ کیسے کر سکتا ہے؟ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔‘ ان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض ریٹائرڈ افسران کی یہ تنظیم تمام ریٹائرڈ فوجیوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ’ریٹائرڈ عسکری ملازمین کی تنظیم وہی کہلاتی ہے جس کی منظوری فوجی ہیڈ کوارٹر دے اور اس طرح کی تنظیم کا کام صرف ریٹائرڈ فوجی ملازمین کی فلاح و بہبود ہوتی ہے نہ کہ سیاست۔‘

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی ریٹائرڈ فوجی کو سیاست میں حصہ لینا ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن ’ویٹرنز‘ کے نام پر سیاست یا فوج کے ساتھ اپنے تعلق کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

'ریٹائرڈ فوجی کس آئین کے تحت جنرل باجوہ سے الیکشن کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں'

ریٹائرڈ فوجی افسران کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کے کلپس اور ان کے بیانات گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے جا رہے ہیں اور صارفین اس پر اپنے تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک طرف بظاہر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے ’وہ کون تھا‘، ’دِیس از ناٹ نائنٹیز‘ اور ’باجوہ ول ناٹ گو‘ جیسے ٹرینڈز چلائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف اس دعوے کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ماضی قریب میں پاکستانی فوج کے ترجمان بارہا کہہ چکے ہیں کہ ادارہ ’نیوٹرل‘ ہے اور اسے ’سیاست سے دور رکھا جائے۔‘

تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا تھا کہ ’ریٹائرڈ فوجیوں کو پریس کلب میں پریس کانفرنس کی اجازت نہ دے کر پریس کلب سے باہر نکال دیا گیا۔۔۔ پوچھنا یہ تھا کہ غداری کا پرچہ کس پر کرنا ہے۔‘

تاہم صحافی کامران یوسف نے ٹوئٹر پر سوال اٹھایا کہ ’ان ریٹائرڈ افسران سے کوئی یہ پوچھے کہ وہ آئین کی کون سی شق کے تحت جنرل باجوہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ انتخابات کروائیں۔‘

وہ مزید پوچھتے ہیں کہ ’کیا یہ آرمی چیف کا مینڈیٹ ہے؟ عوام کے ٹیکس سے پینشن اور مراعات لینے والے افسران یہ کہہ رہے ہیں وہ اس ملک کے مالک ہیں؟‘ عبداللہ نے اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کام ’سیاسی حکومت اور الیکشن کمیشن کا ہے۔‘

یاسمین ملک کا سوال ہے کہ ’فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تو آرمی چیف الیکشن کا وعدہ کیسے کرسکتے ہیں؟‘

بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس پریس کانفرنس کے سیاسی مقاصد ہوسکتے ہیں۔ جیسے صحافی سلیم صافی نے مشورہ دیا کہ ’آپ لوگ اب سیاستدان ہیں۔ کسی اور نام سے تنظیم بنالیں۔ نہیں تو باقاعدہ پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کرلیں۔‘

ادھر تحریک انصاف کی کارکن مہوش بھٹی کو ریٹائرڈ افسران کے دعوے میں حقیقت نظر آئی تو انھوں نے لکھا کہ ’جھوٹے وعدوں نے میرے ملک کا کیا حال کر دیا۔‘

کچھ صارفین نے اس پیشرفت پر طنزیہ تبصرے کیے۔ جیسے محمد تقی کہتے ہیں کہ ’ریٹائرڈ جرنیلوں نے اگر جنرل ضیا کے 90 دن میں الیکشن کے وعدے پر غور کیا ہوتا تو جنرل باجوہ صاحب ’محسنِ جمہوریت‘ کا وعدہ خودبخود سمجھ آجاتا۔‘

ریٹائرڈ فوجیوں میں سے ایک عادل راجہ نے بس اتنا کہنا مناسب سمجھا کہ ’وہ عہد جو وفا نہ ہوا۔‘