آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: عمران خان کے وہ ’چھ دن‘ کب پورے ہوں گے؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے گذشتہ ماہ پچیس مئی کا احتجاج اس اعلان پر ختم کیا گیا تھا کہ وہ ’اگلے چھ روز میں دوبارہ لانگ مارچ کریں گے‘، اس مدت کے ختم ہونے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگلی تاریخ کب دی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین آج یعنی بدھ کے روز اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ان وجوہات کا بھی ذکر کریں گے کہ کیوں چھ دنوں کے بعد دوبارہ لانگ مارچ کی کال نہیں دی گئی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بدھ کو پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ابھی تک اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ کبھی نہ کبھی تو موجودہ حکومت کے خلاف نکلنا پڑے گا تاہم اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پروٹیکشن ملنے کے بعد ہی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ انھیں لانگ مارچ کی کال دینے کے لیے کسی اشارے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عدالت عظمیٰ میں رٹ دائر کرنے کا مقصد پرامن احتجاج کرنے کے لیے اپنا حق لینا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں نو اہم نکات اٹھائے گئے ہیں۔ اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے اجازت دینے کا حکم دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت حکومت کو ہدایت دے کہ احتجاج کے دوران کسی کارکن کو گرفتار نہ کیا جائے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے تحت انھیں پر امن احتجاج کا حق حاصل ہے اور عدالت عظمیٰ وفاقی اور پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے نہ صرف اجازت دینے کا حکم دیا جائے بلکہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو تشدد اور طاقت کے استعمال سے روکا جائے۔ اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو ہدایت کرے کہ احتجاج کے راستے میں رکاوٹیں حائل نہ کی جائیں۔
اسد عمر نے الزام عائد کیا کہ پچیس مئی کو لانگ مارچ کے دوران حکومت وقت کی طرف سے سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کیا گیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ بائیس کروڑ عوام کے جمہوری حق کی حفاظت کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحافی اور تجزیہ نگار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پچیس مئی کا لانگ مارچ ختم کر کے حکومت کو اسمبلیاں چھ دنوں میں تحلیل کرنے کا الٹی میٹم جلد بازی میں دیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سابق وزیر اعظم کی شاید یہ خام خیالی تھی کہ اس عرصے کے دوران کوئی نہ کوئی نتیجہ آجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘
طلعت حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ’سیاسی شرمندگی سے بچنے کے لیے‘ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے اور ان سے احتجاج کی اجازت طلب کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پاکستان تحریک انصاف کو جلسے یا لانگ مارچ کی اجازت دینے سے پہلے اپنے سابق آرڈر کو بھی سامنے رکھے گی جس میں سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو سری نگر ہائی وے پر جلسہ کرنے کی اجازت دی تھی لیکن عمران خان اپنے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کا کہتے رہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا تھا تاہم عدالت نے کہا تھا کہ اس بارے میں عدالت اپنے حکم نامے میں ایسی گائیڈ لائنز دے گی جو کہ مستقبل کے لیے بھی کارآمد ہوں گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور وفاقی دارالحکومت میں سڑکوں کی بندش سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کی درخواست پر فیصلہ جاری کرنے والے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے معزز ججز کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کے لیے مواد موجود نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی طرف سے پچیس مئی کو جاری ہونے والے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کو جلسہ کرنے کے لیے ایچ نائن گرؤانڈ فراہم کرے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں عمران خان کی تقریر کا بھی ذکر کیا اور یہ تقریر کمرہ عدالت میں بھی چلائی گئی۔ اس تقریر میں عمران خان کا کہنا تھا 'سارے جدھر بھی پاکستانی یہ دیکھ رہے ہیں۔ خوشخبری یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اب کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہو گی، کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہو گی اس لیےمیں سارے پاکستانیوں کو آج کہہ رہا ہوں کہ آج شام اپنے شہروں میں بھی نکلیں۔ اور اسلام آباد اور پنڈی میں پوری طرح کوشش کریں ڈی چوک پہنچنے کی آج شام کو کیونکہ میں انشاء اللہ گھنٹے ڈیڑھ تک وہاں پہنچ جاؤں گا'۔
اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی تقریر ان کے رویے سے مطابقت رکھتی ہے اور وہ اس جگہ پر نہیں گئے جہاں پر جلسہ کرنے کی اجازت سپریم کورٹ نے دی تھی۔
انھوں نے بینچ میں شامل دیگر ججز کی طرف سے خفیہ اداروں کے سربراہوں اور سرکاری افسروں سے اس کی معلومات لینے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے لیے کافی مواد موجود ہے۔
سید طلعت حسین کا کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ کی کال اس لیے بھی نہیں دے رہے کیونکہ پچیس مئی کو احتجاج کی کال پر نہ تو کارکن اتنی بڑی تعداد میں نکلے اور جو کارکن بھی نکلے انھوں نے ایسے جوش وخروش کا مظاہرہ نہیں کیا جس طرح کی توقع پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین پی ٹی آئی کے حالیہ جلسوں میں کارکنوں کے جذبے کو دیکھ کر کر رہے تھے۔
تاہم تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی شاہ محمود قریشی کارکنوں کے نہ نکلنے کے دعوؤں کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی وجہ مسلم لیگ ن کی جانب سے پولیس کے ذریعے مظاہرین پر تشدد کو قرار دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں پنجاب سے بڑی تعداد نہ آنے کی وجہ حکمراں جماعت کے 'ہتھکنڈے' تھے۔ ان کا کہنا تھا 'آپ کو علم ہو گا کہ کس قسم کی دہشتگردی یہاں پولیس نے پھیلائی تھی، کنٹینرز لگائے گئے، عورتوں پر شیلنگ اور تشدد ہوا، ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم جمع ہوں، اگر کنٹینرز نہ لگیں، گرفتاریاں نہ ہوں، پولیس کا استعمال نہ ہو تو پھر آپ دیکھیں کہ موبلائیزیشن ہوتی ہے یا نہیں اور اگر پھر بھی نہیں ہوتی تو گورنمنٹ کو مبارک ہو۔'
دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین اپنی تقریروں میں یہ کہتے رہے ہیں کہ انھوں نے لانگ مارچ اس لیے ختم کیا کیونکہ انھیں خونی تصادم کا خطرہ تھا کیونکہ ان کے بقول مظاہرین کے پاس بھی اسلحہ موجود تھا۔
طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان اس مرتبہ دھرنا دے بھی دیتے تو شاید ان کو وہ سہولتیں فراہم نہ ہوتیں جو سنہ 2014 کے دھرنے میں انھیں فراہم کی گئیں تھیں جس میں بعض اوقات وہ بنی گالہ بھی چلے جاتے تھے۔
حکومت نے عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے اسلحہ اور صوبے کی فورس استعمال کرنے کے بیانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی بھی قائم کردی ہے جو کہ ان بیانات کا جائزہ لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بارے میں اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان تحریک انصاف میں اب بھی ایک دھڑا ایسا ہے جو اسلام آباد کی طرف فوری طور پر لانگ مارچ کرنے یا دھرنا دینے کے حق میں نہیں ہے۔ اس دھڑے کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو اکھٹا کرنے اور انھیں متحرک کرنے کے لیے وقت درکار ہے جبکہ اسلام آباد کا موسم بھی اس وقت گرم ہے تو ایسے حالات میں دھرنا یا لانگ مارچ کی کال دینے کے موثر نتائج نہیں ملیں گے۔
اس کے علاوہ ارکان کی قابل ذکر تعداد ابھی بھی اس حق میں ہے کہ ان کی جماعت کو اب بھی پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے لاہور میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سے ملاقات کی تھی اور اس میں بھی سپیکر پنجاب اسمبلی نے مشورہ دیا تھا کہ پارلیمنٹ میں رہ کر ہی حکومت کی پالیسیوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔
تجزیہ کار سہیل ورائچ کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کسی بھی تحریک کے آخری آپشن ہوتے ہیں لیکن عمران خان نے ان کو پہلے استعمال کر کے اس تحریک کی قوت اور اہمیت کو کم کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو اب اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی کیونکہ پہلے تو لوگ آزادانہ طریقے سے جلسوں اور دھرنوں میں جاتے تھے لیکن اب حکومت اس میں رکاوٹیں ڈالے گی تو ایسی صورت حال میں پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ جتنی جلدی عمران خان نے لانگ مارچ کی کال دی اس کے لیے تو ان کے ارکان قومی اسمبلی بھی تیار نہیں تھے کیونکہ جس طریقے سے پی ٹی آئی نے پونے چار سال حکومت کی اس سے لوگ خوش نہیں تھے اور ارکان قومی اسمبلی اپنے حلقوں میں نہیں جاسکتے تھے تو ایسے حالات میں لوگ لانگ مارچ یا دھرنوں میں کیسے جاتے۔
انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنوں کے لیے نہ صرف پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس کے لیے حکمت عملی بھی تیار کرنا پڑتی ہے کہ کیسے آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے بچا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علیم خان پی ٹی آئی سے الگ ہو چکے ہیں اور ایسے حالات میں پی ٹی آئی میں ایسی کوئی قابل ذکر شخصیت نہیں ہے جو پیسہ لگا سکے۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسہ یا دھرنا دینے کے لیے حکومت سے مذاکرات کرنا پڑیں گے۔
قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے مستعفی ہونے والے پی ٹی آئی کے 130 ارکان کو دوبارہ طلب کیا ہے تاکہ ان کے استعفوں کی تصدیق کی جا سکے تاہم پی ٹی آئی نے سپیکر کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
طلعت حسین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو شک ہے کہ سپیکر کے سامنے پیش ہونے کی صورت میں متعدد اراکین اپنے استعفوں سے منکر بھی ہو سکتے ہیں جو کہ پی ٹی آئی کے لیے مذید سبکی کا باعث بن سکتا ہے۔