مذاکرات یا پس پردہ قوتوں کا کردار: عمران خان کے ’غیر متوقع‘ فیصلے میں کارفرما عوامل کیا ہو سکتے ہیں؟

    • مصنف, عماد خالق، منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو

سابق وزیر اعظم عمران خان نے ڈی چوک پہنچنے کے بعد دھرنا نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چھ روز میں الیکشن کا اعلان کیا جائے ورنہ وہ دوبارہ لاکھوں افراد کے ہمراہ اسلام آباد کا رُخ کریں گے۔

اسلام آباد کا رُخ کرنے سے قبل عمران خان نے متعدد مرتبہ واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیا تھا کہ تحریک انصاف کا ’حقیقی آزادی مارچ‘ اس وقت تک وفاقی دارالحکومت میں موجود رہے گا جب تک اسمبلیاں تحلیل نہیں کر دی جاتیں اور آئندہ عام انتخابات کا اعلان نہیں کر دیا جاتا۔

تاہم ڈی چوک میں جمعرات کی علی الصبح جب انھوں نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انھیں اپنے نئے فیصلے کی بابت آگاہ کیا تو یہ اعلان ناصرف سیاسی پارٹیوں بلکہ تجزیہ کاروں کے لیے بھی حیران کُن تھا۔

عمران خان کا یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ عمران خان کے دھرنا نہ دینے کے اعلان کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں؟ اور یہ کہ تحریک انصاف کی آئندہ حکمت عملی کیا ہو گی اور کیا عمران خان چھ دن بعد دوبارہ ایسا ہی پاور شو کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے؟

اس حوالے سے تجزیہ کاروں کی رائے جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر تحریک انصاف اس ’غیرمتوقع فیصلے‘ کی کیا توجیح پیش کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما زلفی بخاری نے بی بی سی کو اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک قومی اور بین الاقوامی حیثیت کا لیڈر کمپرومائز تو کر لیتا ہے مگر اپنے مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔‘

’انھیں (عمران خان) جب یہ نظر آیا کہ پاکستانی پاکستانیوں کے ساتھ، فوج اور پولیس کے ساتھ لڑ جائیں گے، بھائی بھائی کو مارے گا۔۔ اتنی جانیں جائیں گی۔۔۔ اس کا فائدہ صرف شریف اور زرداری خاندان کو ہو گا اور نقصان صرف عام پاکستانی کو۔ تو ظاہر ہے ایسا صرف ایک لیڈر ہی سوچ سکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایک بڑے لیڈر کا قوم کے لیے بہت بڑا فیصلہ تھا۔ نظر آنے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے انھوں نے چھ دن بعد کا ٹائم دیا ہے اور اگر اس دوران انتخابات کی تاریخ نہیں دی گئی تو تحریک انصاف پورے ملک میں لاک ڈاؤن کرے گی۔‘

زلفی بخاری نے اس سوال کا جواب دینے سے معذرت کی کہ کیا اس فیصلے کے پیچھے کچھ پس پردہ روابط بھی کارفرما تھے؟ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’میرا نہیں خیال کہ ہمیں ہر چیز میں اسٹیبلشمنٹ کو انوالو کرناچاہیے۔ انھوں نے کل بڑا نیوٹرل کردار ادا کیا۔ فوج صرف آرٹیکل 245 کے تحت گورنمنٹ اور پبلک پراپرٹی کی حفاظت کے لیے بلائی گئی تھی اور انھوں نے اس کے علاوہ کہیں مداخلت نہیں کی۔‘

مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف کے بیان (ہم اسی ہفتے اسمبلیاں تحلیل کرنے والے تھے مگر چونکہ اب یہ (تحریک) مارچ کر رہے ہیں تو سب نہیں کریں گے) کا حوالہ دیتے ہوئے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ’یہ اپنی ضد کے باعث پورا ملک تباہ کر دیں گے مگر دوسری جانب عمران خان کی کوئی انا یا ضد نہیں کیونکہ ان کے سامنے ایک مقصد ہے اور اگر چھ دن میں بنا کسی جانی و مالی نقصان کے یہ مقصد پورا ہو جائے تو یہ ایک بہت بڑا اقدام ہو گا۔‘

اگر چھ دن میں الیکشن کی تاریخ نہیں ملتی تو کیا عمران خان ایک بڑا پاور شو کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے؟ اس کے جواب میں زلفی بخاری نے کہا کہ ’بالکل ہوں گے۔ مگر اس دفعہ ہم لاہور، کراچی اور اسلام آباد کا لاک ڈاؤن کریں گے، ہم ان شہروں کا لاک ڈاؤن کریں گے جن پر ملکی معیشت کا انحصار ہے اور جب معیشت نہیں چل سکے گی تو تب ہی ان (حکومتی اتحاد) کو صحیح معنوں میں سُنائی دے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ضروری نہیں کہ ہر بندہ اسلام آباد پہنچے۔ ہم میں قابلیت ہے کہ ہم پورا کراچی، پورا لاہور اور پورا اسلام آباد لاک ڈاؤن کر سکتے ہیں۔‘

حکومت اور پی ٹی آئی کے بیچ رابطوں کے حوالے سے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں مگر ان کے خیال میں حکومت یقیناً تحریک انصاف کو پیغامات بھیج رہی ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پی ٹی آئی کل کے جلسے سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے؟ اس سوال پر زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ’یہ (حکومت) سوچ رہی تھی کہ اگر یہ لوگوں کو ماریں گے تو لوگ نہیں نکلیں گے، آنسو گیس اور شیلنگ سے ڈر کر واپس گھروں میں چلے جائیں گے، مگر پی ٹی آئی ہر رکاوٹ کامقابلہ کرتی خان صاحب کے ساتھ اسلام آباد پہنچی اور بڑی تعداد میں پہنچی۔ ہمارا مقصد یہ دکھانا تھا کہ ہم جب چاہیں جہاں چاہیں پہنچ سکتے ہیں اور پورا ملک بند کر سکتے ہیں۔ اور یہ سب دکھانے میں ہم کامیاب رہے ہیں۔‘

’عمران خان نے مذاکرات کا دروازہ کُھلا چھوڑا ہے‘

اس حوالے سے تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ دھرنا نہ کرنے کے فیصلے میں یہ مصلحت ہو سکتی ہے کہ شاید ایسا کر کے مذاکرات کا دروازہ کھلا چھوڑا جائے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق ’شاید وہ (تحریک انصاف) انتہائی اقدام اٹھانے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔۔۔ اب ملک کے لیے بہتر ہو گا کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں۔‘

صحافی خاور گھمن کی نظر میں عمران خان گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سیاست سیکھ رہے ہیں۔ ’ماضی میں ہم نے دیکھا کہ خان صاحب اپنی بات پر اڑ جاتے تھے اور ایسے میں ہم یہ اندازہ کر سکتے تھے کہ وہ کیا کریں گے، لیکن گذشتہ روز انھوں نے اپنا مختلف فیصلہ لیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بیشک عمران خان کا بیان تھا کہ میں تاریخ لے کر جاؤں گا لیکن ظاہر ہے کہ فیس سیونگ ہر جماعت کو چاہیے ان حالات میں، اور ہمارے پاس یہی اطلاعات ہیں کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت چل رہی ہے اور امید ہے کہ کوئی اتفاق رائے سامنے آئے گا۔‘

خاور گھمن کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر دیکھیں تو عمران خان کے دھرنا نہ کرنے کے فیصلے سے تحریک انصاف کو ایسا کوئی نقصان نہیں ہوا، ’ہاں یہ ہے کہ پہلی بار پی ٹی آئی نے حکومت کے بعد اس قسم کی صورتحال دیکھی ہے اور انھیں سیکھنے کا موقع ملا ہے۔‘

تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ’پی ٹی آئی کی حکومت سے بلواسطہ بات چیت چل رہی ہے اور رابطے بھی موجود ہیں مگر وہ اپنی حکمتِ عملی میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جس وقت پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کی تاریخِ کا اعلان کیا، اس وقت بھی کہا جا رہا تھا کہ رابطے چل رہے ہیں اور حکومت انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے۔۔۔ چند روز انتظار کریں۔‘

’لیکن عمران خان نے انتظار نہیں کیا اور صرف مارچ کی نہیں بلکہ دھرنے کی بھی کال دے دی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جب تک تاریخ کا اعلان نہیں ہو گا وہ وہیں (ڈی چوک) بیٹھیں گے۔‘

مجیب الرحمن شامی کے مطابق ’جس طرح سے انتظامیہ نے اس مارچ سے ڈیل کیا اور توقع کے مطابق لوگ اکھٹے نہیں ہو سکے، پنجاب سے تو بہت کم لوگ اسلام آباد پہنچے اور پھر سپریم کورٹ بیچ میں آ گئی اور انھیں ایک خاص جگہ جلسہ کرنے کی اجازت دی، ایسی صورتحال میں دھرنا دینے کا موقع نہیں تھا لہذا انھوں (عمران خان) نے یہی مناسب سمجھا کہ لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے جلسہ ختم کر دیا جائے۔‘

شامی کے مطابق ’یہ جو کچھ ہوا ہے اس سے پی ٹی آئی کی طاقت کا اظہار ہوا ہے اور انھوں نے اپنے کارکنان کو موبلائز کیا ہے مگر دوسروں کو اپنی جانب اس طرح متوجہ نہیں کر سکے جیسا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عمران خان نے اس بارے میں کچھ واضح نہیں کیا کہ چھ دن بعد وہ کہاں آئیں گے، دھرنا دیں گے یا صرف جلسہ کر کے چلے جائیں گے۔‘ ان کا ماننا ہے کہ ’اس طرح عمران خان اپنے کارکنوں کو تھکا دیں گے اور خود کو مشکل میں ڈالیں گے لہذا انھیں سوچ سمجھ کر اقدامات اٹھانے چاہیں تاکہ وہ نتیجہ خیز ہو سکیں۔‘

اس حوالے سے مسلم لیگ نے کے رہنما محمد زبیر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ خود کو بند گلی میں لے کر چلے گئے تھے۔ وہ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ لانے اور ملک کا نظام درہم برہم کرنے کی باتیں کر رہے تھے مگر یہ چیزیں اتنی آسان نہیں ہوتیں۔ چاہے آپ کے سپورٹر جتنے بھی مایوس ہوں، چاہے وہ 20 ہزار ہوں یا 20 لاکھ۔۔۔ آپ جتنے مرضی بڑے جتھے لے آئیں، یہ طریقہ کار نہ ماضی میں کامیاب رہا نہ آگے کامیاب ہو گا۔‘

کیا عمران خان دوبارہ ایسا ہی پاور شو کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے؟

اس حوالے سے سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور ایک ہی کام بار بار کرنے سے طاقت کم ہوتی جاتی ہے۔‘

مجیب الرحمن شامی کے مطابق ’ایک اور پاور شو کل والے سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ مطلوبہ تعداد میں لوگوں کو اکھٹا نہ ہونے دینے کے لیے انتظامیہ نے جو انتظامات اور کارروائیاں کی ہیں، ان پر آپ جتنی مرضی تنقید کر لیں مگر اس سے حکومت میں اعتماد پیدا ہوا ہے اور اگلی مرتبہ حکومت زیادہ پُراعتماد ہو گی، مگر خان صاحب کے کارکن کنفیوز ہوں گے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کئی افراد انتظار کرتے رہ گئے مگر بسیں انھیں چھوڑ کر جا چکی تھیں، نپولین نے اپنی فوج کے ساتھ جو سلوک کیا ویسا سلوک اپنے کارکنان سے نہ کریں اور خود کو اور اپنی جماعت کو سنبھالیں اور اپنے کارکنوں کو ایسی لڑائی میں نہ جھونکیں جس کا کوئی نتیجہ نہ نظر آ رہا ہو۔‘

اس حوالے سے محمد زبیر اس جلسے کو فلاپ شو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’چھ دن کے بعد کچھ بھی نہیں ہونے والا۔ اس مرتبہ بھی توقعات اور دعوؤں کے برعکس لوگ نہیں آئے اور نہ چھ دن بعد آئیں گے اور اگلی مرتبہ حکومت کو کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ نمبرز ہیں ہی نہیں اور نہ ہوں گے۔‘

پسِ پردہ قوتوں کا کتنا کردار رہا؟

لانگ مارچ شروع ہونے سے لے کر اس کے اچانک اختتام تک کیا اس سارے عمل کے دوران کسی پسِ پردہ قوت کا کردار رہا ہے؟ اس سوال پر سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’پسِ پردہ قوتیں پاکستان کا حصہ ہیں اور ہر معاملے پر ان کی نظر ہوتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ بالکل لاتعلق ہو کر بیٹھ جائیں، ملک کے بڑے فیصلوں میں انھیں شامل کرنا پڑے گا اور جب لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بنے گی تب بھی انھیں بلانا ہی پڑے گا۔‘

تاہم سہیل وڑائچ کے خیال میں ’الیکشن کے معاملے میں ان کی ’اِن پٹ‘ شاید نہیں لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی نے بھی رابطوں کی کوشش تو کی ہو گی مگر وہ کامیاب ہوئے یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘

صحافی خاور گھمن کے مطابق ’پاکستانی سیاست میں ایک تو بند دروازوں کے پیچھے جو معاملات طے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے کیونکہ یہاں جمہوریت اتنی مستحکم نہیں ہے۔‘

مجیب الرحمن شامی کا کہنا ہے کہ ’پسِ پردہ قوتوں کا کردار موجود ہے اور وزیِر دفاع کے ذریعے رابطے بھی جاری ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ خان صاحب جب فیصلے کرتے ہیں تو اتنا غورغوض نہیں کیا جاتا جتنی ضرورت ہوتی ہے۔‘

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور برطانیہ میں بھی اگر کوئی اس طرح شہروں پر دھاوا بولنے کی دھمکی دے تو حکومت عوام کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی اور وہ حکومتیں بھی وہیں اقدامات اٹھائیں گی جو ہم نے اٹھائے۔ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور باقی ادارے، سب نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔‘