آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لمز یونیورسٹی میں جنرل باجوہ کا خطاب: ’فوج کے سربراہ کو سنا تو سوچ میں 180 ڈگری کی تبدیلی واقع ہوئی‘
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے رواں ہفتے لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) کے طلبا اور اساتذہ سے خطاب کیا اور ان کے سوالات کے تفصیلی جواب دیے۔
آرمی چیف کا یہ پروگرام تو محض ایک دو گھنٹے کا تھا مگر وہ کہتے ہیں ناں کہ اگر بات نکلی تو پھر دور تلک جائے گی۔ ایسا ہی کچھ لمز میں آرمی چیف کے اس خطاب کے ساتھ ہوا۔ انھیں طلبا کے تند و تیز سوالات کے لیے ساڑھے سات گھنٹے رکنا پڑا۔
سوال و جواب کا سیشن جاری تھا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کہا کہ اب بہت وقت ہو گیا ہے اور اس سیشن کو اب ختم کرتے ہیں۔ یوں دن 12 بجے سے شروع ہونے والا یہ پروگرام شام ساڑھے سات بجے اختتام پذیر ہوا۔
بی بی سی اردو نے اس پروگرام میں شریک ہونے والے متعدد طلبا اور اساتذہ سے تفصیل سے بات کی ہے اور ان کا اس پروگرام سے پہلے اور بعد کا تاثر جاننے کی کوشش کی ہے۔
چونکہ تمام شرکا اس ہال کی باتیں باہر نہ بتانے کے پابند ہیں، اس وجہ سے یہاں ان طلبا اور اساتذہ میں سے کسی کی بھی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی تقریر کے متن کو من و عن یہاں لکھا جا رہا ہے۔
جن طلبا سے بی بی سی نے بات کی ان کی اکثریت کا مؤقف یہ ہے کہ آرمی چیف نے تسلی سے ان کے سوالات سنے اور پھر انتہائی تحمل سے ان کے جواب دیے۔ اگر پھر بھی طلبا کی تسلی نہیں ہوئی تو انھوں نے مزید ضمنی سوالات بھی سنے جو عام طور پر ایسے پروگرامز میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔
شریک طلبا کے مطابق فوج سے متعلق جتنے اعتراضات بھی اٹھائے جاتے ہیں ان پر کھل کر گفتگو ہوئی اور کسی نے کسی کو نہ تو ٹوکا اور نہ ہی سخت سوالات پوچھنے پر انتظامیہ کی طرف سے بھی کوئی سرزنش کی گئی۔
ایک طالبعلم نے بتایا کہ ’جب وہ اس پروگرام میں شریک ہونے کے لیے جا رہے تھے تو وہ یہ پلان کر کے گئے تھے کہ اگر آج فوج کے سربراہ نے ان کا جواب نہیں دیا تو وہ نہ صرف احتجاج کریں گے بلکہ نعرہ بازی بھی کریں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ ’میری توقعات کے برعکس میں نے جو کچھ بھی پوچھا اسے سنا گیا اور اس کا جواب دیا گیا۔‘ تاہم وہ کہتے ہیں کہ وہ فوج کے سربراہ کی جانب سے دیے جانے والے متعدد جوابات سے متفق نہیں ہیں مگر پھر بھی وہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ کم از کم آرمی چیف نے اختلافی نکتہ نظر کو سنا تو سہی اور ’پراپرٹی میں جرنیلوں کی دلچسپی‘ تک کے موضوع پر کھل کر بات کی۔
ایک اور طالبعلم جن کا تعلق ملک کے ایک پسماندہ اور کم سہولیات والے خطے سے ہیں کا کہنا ہے کہ ان کا تاثر یہ تھا کہ ان کے سوالات کو ’فلٹر‘ کر دیا جائے گا مگر آرمی چیف نے ان کے خطے سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا تفصیلی جواب دیا اور یہ تسلی بھی کرائی کہ ان کے خطے کے بارے میں ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔
لمز کے ایک طالبعلم نے تو سوشل میڈیا پر طلبا کو یہ مشورہ دیا تھا کہ بائیکاٹ کرنے کے بجائے وہ ایسی ’ڈیبیٹ‘ یعنی مذاکرے کا حصہ بنیں۔
شعبہ قانون کے ایک طالبعلم کے مطابق ’آرمی چیف نے سوالات کے جوابات تو ضرور دیے مگر متعدد بار ’ان کی جانب سے ’سول اتنظامیہ ان معاملات میں بااختیار ہے‘، جیسے جوابات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ درست تصویر پیش نہیں کر رہے تھے۔‘
ان کے ایک دوسرے ساتھی نے کہا کہ ’میرا پہلے یہ تاثر بن گیا تھا کہ ملک میں ہر چیز کے پیچھے فوج ہے مگر جب سے آرمی چیف کو سنا تو سوچ میں 180 ڈگری کی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔‘
اس طالبعلم کے مطابق اب جب وہ کیمپس میں دیگر طلبا کو اپنے تبدیل شدہ خیالات کے بارے میں بتاتے ہیں تو وہ خود بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جنرل قمر باجوہ نے ان کا مختلف امور پر ابہام دور کر دیا ہے۔
پروگرام میں شریک ایک طالبہ نے بتایا کہ لاپتہ افراد کو ایگزیکٹو کا مسئلہ بتانے پر انھیں مایوسی ہوئی مگر جس طرح فوج کے سربراہ نے تفصیل سے اس معاملے پر بات کی وہ قابل تعریف پہلو تھا۔
ایک طالبعلم کے مطابق ’میرا تاثر خاص نہیں بدلا مگر میرے لیے جو نئی چیز تھی وہ یہ تھی کہ آرمی چیف نے ہر طرح کے سوالات کا سامنا کیا اور وہ اس بات سے بھی آگاہ تھے کہ فوج پر کس قسم کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔‘
ایک طالبعلم نے کہا کہ انھیں فوج کی متعدد پالیسیوں سے اب بھی اختلاف ہے مگر اس پروگرام میں شریک ہو کر وہ جنرل قمر باجوہ کے گرویدہ ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق ’مجھے ان کی گفتگو میں نرمی اور مزاح کا پہلو دیکھ کر اچھا لگا۔‘
یہ بھی پڑھیے
’کیا آرمی چیف کو زیب دیتا ہے کہ وہ ایسے اپنا تاثر درست کرنے کی کوشش کریں‘
ایک طالبعلم نے کہا کہ وہ سوال و جواب کے سیشن سے تو مطمئن ہیں مگر ان کے ذہن میں یہی سوال بار بار آ رہا تھا کہ ’کیا آرمی چیف کو زیب دیتا ہے کہ وہ ایسے تاثر درست کرنے کی کوشش کریں۔‘ اور پھر وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ ’آخر اس کے پیچھے مقاصد کیا ہیں اور آرمی چیف کا تعلیمی ادارے میں کیا کام ہے۔‘
شعبہ سیاسیات اور اکنامکس کے ایک طالبعلم نے کہا کہ ’یہ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ فوج کا سربراہ تیاری کر کے ایک ایسی یونیورسٹی آیا جہاں اکثریت فوج کے ’غیرقانونی اور غیر آئینی‘ اقدامات پر کھل کر بات کرتی ہے۔‘ ان کے مطابق اس صورتحال کو ذہن میں رکھ کر آرمی چیف نے پہلے ہی اپنے خطاب میں بہت سے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق ایک گھنٹے کے خطاب میں آرمی چیف نے خود ہی بتایا کہ انھیں معلوم ہے کہ فوج کے بارے میں کیا کہا جاتا ہے کہ وہ ’کالی ویگو‘ میں اختلاف رائے رکھنے والوں کو اغوا کر کے لے جاتی ہے اور بعض صحافیوں پر حملوں میں بھی ملوث ہے۔
’انھوں نے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ کچھ لوگ حکومت، ججز اور پشاور میں 2014 میں ایک سکول میں ہونے والے حملے کے پیچھے بھی فوج کے کردار پر بات کرتے ہیں۔‘
ایک طالبہ نے کہا کہ ان کے فوج کے بارے میں تاثرات بالکل نہیں بدلے اور انھیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ایک ایسے افسر سے بات چیت کیسے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ جبکہ ڈائیلاگ خود ایک ہمددری حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
ان کے مطابق اگر فوج کا کوئی صحیح معنوں میں سولجر نمائندگی کر رہا ہوتا تو شاید ان کے خیالات میں فرق آتا۔ اور وہ بھی ایسا تب ممکن ہوتا جب وہ لمز کو پروگرام سے بہت پہلے ہی سے ایک چھوٹے فوجی کیمپ میں نہ بدل دیتا۔
بی بی سی کو لمز یونیورسٹی کے چند طلبا نے آرمی چیف کے دورہ کے موقع پر کیمپس میں سکیورٹی سے متعلق غیر معمولی انتطامات کے متعلق بھی بتایا۔ ان کے مطابق ’ان کی کینٹین اور کھانے پینے کے ڈھابے بند کر دیے گئے تھے جبکہ ہر طرف عام کپڑوں میں بھی ایجنسیوں کے اہلکار پھر رہے تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ان کی کلاسز بھی جاری تھیں، جس سے طلبا میں خوف و ہراس بھی پیدا ہوا۔‘
یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نے بتایا کہ دیگر صوبوں سے آئے کچھ طلبا نے یہ شکایت بھی کی فوج کے سربراہ کی کچھ پالیسیوں سے ان کے اختلافات ہیں اور ان کے یونیورسٹی میں مہمان بن کر آنے سے ان کے خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’فوج نے خود اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اب یونیورسٹیوں میں آکر نوجوان نسل کو اپنا مؤقف بتانا چاہتے ہیں۔‘ ان کے مطابق اس سے قبل بھی اعلیٰ افسران نے یونیورسٹی انتظامیہ سے اس متعلق رابطہ کیا ہے۔
’فوجی پس منظر رکھنے والے طلبا کو ہی پروگرام کے لیے اجازت دی‘
کچھ طلبا نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ آرمی چیف کے پروگرام کے لیے سیلیکشن کی گئی اور سب کو اس پروگرام میں جانے کا موقع نہیں دیا گیا۔
ایک طالبہ نے بتایا کہ متعدد ایسے شرکا تھے جن کے خاندان میں کوئی نہ کوئی فوجی افسر شامل تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ’یہ سب تصدیق کرنے کے لیے طلبا سے دو طرح کے فارمز پُر کرائے گئے اور پھر آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے گھروں تک جا کر تصدیق بھی کی کہ کہیں وہ طالبعلم کس قسم کے خیالات کا حامل ہے۔ کہیں وہ سیاست میں زیادہ ملوث تو نہیں ہے یا سماجی کارکن تو نہیں ہے۔‘
ایک طالبعلم کے مطابق جس طرح دو فارم بھیجے گیے اس سے پیٹرن کا پتا چلا ہے۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’کچھ طلبا کو فون کر کے ڈرایا دھمکایا بھی گیا کہ وہ پروگرام میں شریک نہ ہوں۔‘
لمز انتظامیہ کا مؤقف
لمز کے شعبہ طلبا امور کے ڈین ڈاکٹر عدنان زاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کچھ طلبا کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی کے تمام طلبا کو اس پروگرام میں شرکت کے لیے ای میل بھیجی گئی تھی۔
ان کے مطابق ایک ہی دن میں یونیورسٹی کے پانچ ہزار طلبا میں سے 1800 نے اپلائی کیا تو پھر مزید رجسٹریشن کا عمل روک دیا گیا کیونکہ یونیورسٹی میں سب سے بڑے ہال میں صرف 250 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ دعوت ’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘ کی بنیاد پر دی گئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ جن 250 طلبا نے پہلے اپلائی کیا تھا صرف ان کی ہی سیلیکشن کی گئی۔ عدنان زاہد کے مطابق اس پروگرام میں شرکت کے لیے طلبا کی کسی قسم کی پروفائلنگ نہیں کی گئی تھی اور نہ کسی کو ڈرایا دھمکایا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ جو تین سے چار طلبا اس پروگرام میں دعوت نامہ ملنے کے باوجود شریک نہیں ہو سکے تھے انھوں نے خود انتظامیہ کو ای میل کے ذریعے آگاہ کر دیا تھا۔
انھوں نے سوشل میڈیا پر اس پروگرام سے متعلق ہونے والی تنقید پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنقید حقائق کے منافی ہے۔
اس پروگرام کی میزبانی میں شامل ایک فیکلٹی ممبر نے کہا کہ یہ سارا پروگرام کس طرح ترتیب دیا گیا تھا اس کے بارے میں تو وہ نہیں جانتے مگر اتنا ضرور ہے کہ یہ طلبا کی ساری سیلیکشن یونیورسٹی کی انتظامیہ نے خود کی ہے اور آئی ایس آئی سمیت کسی بھی ایجنسی کو طلبا کے بارے میں مزید تحقیق کرنے کے بارے میں نہیں کہا گیا۔