’بھنگیوں کی توپ‘: جب ایک ہتھیار کی تیاری کے لیے لاہور کے ہندو باشندوں سے تانبے کے برتن بطور جزیہ لیے گئے

،تصویر کا ذریعہWaqar Mustafa
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی و محقق، لاہور
اٹھارویں صدی آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی۔ افغان حکمران احمد شاہ ابدالی، جو بعد میں درانی کہلائے، پے درپے حملوں کے بعد ہندوستان میں لڑکھڑاتے مغل اقتدار کا پنجاب میں خاتمہ کر چکے تھے مگر دشمن ابھی باقی تھے۔
اسی دوران دو نئی توپیں بنانے کا حکم صادر ہوا مگر اس کام کے لیے درکار دھات کم پڑ گئی۔
محقق مجید شیخ لکھتے ہیں کہ ’حکم دیا گیا کہ لاہور کے ہندو باشندے جزیہ ادا کریں۔ لاہور کے صوبیدار شاہ ولی خان کے سپاہی ہر ہندو گھر سے تانبے یا پیتل کے سب سے بڑے برتن جمع کرتے۔ جب کافی دھات جمع ہو گئی تو لاہور کے ایک ہنرمند، شاہ نذیر، نے اس کی ڈھلائی کر کے اس سے توپیں تیار کیں۔‘
جب توپیں تیار ہو گئیں تو انھیں ’زمزمہ‘ کا نام دیا گیا اور انھیں پہلی بار 14 جنوری 1761 کو پانی پت کی تیسری جنگ میں مراٹھا (مرہٹا) فوج کے خلاف استعمال کیا گیا۔
جے جی ڈف نے ’ہسٹری آف مراٹھا‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس جنگ میں ایک لاکھ سے زیادہ فوجی مارے گئے، جن میں سے ’تقریباً 40 ہزار کو جنگ کے بعد دو بڑی توپوں سے اڑا دیا گیا۔‘
اس ’فتح‘ کے بعد احمد شاہ ابدالی لاہور کے راستے کابل واپس چلے گئے۔ وہ دونوں توپوں کو ساتھ لے جانا تھا مگر ایک لے جا سکے اور وہ بھی کابل جاتے ہوئے دریائے چناب میں گر گئی۔
دوسری توپ جسے ابھی بہت کچھ دیکھنا تھا لاہور کے نئے صوبیدار خواجہ عبید کی دیکھ بھال میں چھوڑ دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہنشاہ اورنگزیب عالم گیر کے سنہ 1707 میں اس دنیا سے جانے کے بعد نااہل مغل بادشاہوں پر افغان اور ایرانی حملہ آوروں کی یلغاریں تو رہیں ایک طرف، پنجاب کے دیہی علاقوں میں، سکھوں نے مغلوں کی گرفت کم زور ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد گروہ یا جتھے بنا لیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1716 میں قائم ہونے والے ایک جتھے کا نام ’جتھا بھنگیاں‘ تھا۔ بھنگ کی لت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سکھوں کی فوج دل خالصہ کے اس جتھے کو بھنگی کا نام دیا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ اس کا نشہ آور مشروب انھیں ٹھنڈک پہنچاتا اور لڑائی میں جوش کا باعث بنتا اور نڈر کر دیتا تھا۔ اس زبردست جتھے کے جاٹ بانی چھجا سنگھ (چھجو سنگھ) امرتسر سے چوبیس کلومیٹر دور ایک گاؤں پنجواڑ کے رہنے والے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
کنہیا لال تاریخ پنجاب میں لکھتے ہیں کہ چھجا سنگھ نے دسویں گرو، گوبندسنگھ، سے امرت لے کر سکھ مذہب اپنایا تھا۔
وہ اپنے ساتھیوں کا حوصلہ انھی گرو کی اس بشارت سے بڑھاتے کہ انھیں ایک دن پنجاب پر راج کرنا ہے۔ اسی یقین کے تحت وہ پنجاب میں مغل حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لیتے۔ ہتھیار چونکہ عمومی طور پر کم تھے اس لیے یہ جتھا گوریلا حملے ہی کرتا۔
سید محمد لطیف کا ’ہسٹری آف دی پنجاب‘ میں لکھنا ہے کہ متعدد سکھوں نے اس جتھے میں شمولیت اختیار کی۔ اب مسلح افراد نے مخبروں اور سرکاری اہلکاروں کے دیہات پر رات کے وقت حملے شروع کر دیے جنھیں جو قیمتی سامان ہاتھ لگتا، لے اڑتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بٹالوی کہتے ہیں کہ چھجا سنگھ کی موت کے بعد اُن کے ایک ساتھی بھیما سنگھ (بھوما سنگھ) نے ان کی جگہ لی۔ یہ موگا کے قریب ونڈی پرگنا میں گاؤں ہنگ کےایک ڈھلوں جاٹ تھے۔
بھنگی جتھے سمیت سکھ جتھوں کے علاقے بڑھے تو یہ ’مِثلیں‘ کہلائے۔ مؤرخین لیپل گریفن اور سید محمد لطیف کے مطابق بھیما سنگھ قصور کے رہائشی تھے اور انھیں سکھوں کی بارہ مثلوں میں سے ایک اور سب سے مشہور اور طاقتور بھنگی مثل کا حقیقی بانی کہا جاسکتا ہے۔
بھیما سنگھ نے 1739 میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ کی فوجوں کے ساتھ جھڑپوں میں اپنا نام روشن کیا۔ بھیما سنگھ کی انتظامی صلاحیت سے مثل کو طاقت ملی۔ ان کی موت سنہ 1746 میں ہوئی۔ چونکہ بھیما سنگھ بے اولاد تھے اس لیے اُن کے بھتیجے ہری سنگھ اُن کے جانشین ہوئے۔
اُن سے پہلے اس مثل کے رہزن صرف رات کے اندھیر ے میں لوٹ مار کرتے تھے مگر انھوں نے یہ کام دن کے اُجالے میں بھی شروع کر دیا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سو، سو میل تک ڈاکے ڈالتے اور غارت گری کر کے واپس پہنچ جاتے۔
ہری سنگھ نے لاہور اور زمزمہ پر قبضہ کر کے اس کا نام بدل کر ’بھنگیاں والی توپ‘ یا ’بھنگیاں دی توپ‘ رکھ دیا۔ لہنا سنگھ، گجر سنگھ اور کاہنیا مثل کے سوبھا سنگھ نے احمد شاہ ابدالی کی افغان افواج کے ساتھ ایک طویل گوریلا جنگ کے بعد 16 اپریل 1765 کو لاہور پر قبضہ کیا۔
وہ 20 گھڑ سواروں کے گروہوں میں تقسیم ہو کر حملہ کرتے اور بھاگ جاتے اور پورے دو مہینے تک ایسا دن رات بغیر وقفے کے چلتا رہا۔
لاہور کے قلعے پر قبضہ ایک جرات مندانہ کارروائی تھی۔ رات کے وقت گجر سنگھ کے آدمیوں نے ایک ہی وقت میں ہر سمت سے کالے کپڑے پہنے بیرونی دیواریں پھلانگیں اور سب کو مار ڈالا۔ اس کے بعد مرکزی دروازہ کھولا اور لہنا سنگھ اور اُن کےساتھی قلعے میں داخل ہو گئے۔
تب گجر سنگھ کی فوجیں پنجاب کے زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے روانہ ہوئیں۔ فوج میں سبھی صرف سوکھے چنے، چند 'کشمش کے دانے' اور چھوٹی مشکیزوں میں پانی لے کر چلتے۔
انھوں نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور اعلان کیا کہ لاہور ’گرو کا گہوارہ‘ ہے، کیونکہ چوتھے گرو رام داس کی پیدائش لاہور میں چونا منڈی میں ہوئی تھی۔
یہ سکھ دور کا آغاز تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنے 30 سالہ دور میں ان تینوں حکمرانوں نے لاہور کو تین علاقوں میں تقسیم کیا۔ لہنا سنگھ نے لاہور کے قلعے اور اندرون شہر پر حکمرانی کی، گجر سنگھ بھنگی نے لاہور کا مشرقی حصہ شالیمار باغ تک سنبھالا جبکہ سوبھا سنگھ نے نیاز بیگ تک مغربی حصے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ گجر سنگھ نے ایک نیا قلعہ بنایا جس کا نام آج تک قلعہ گجر سنگھ ہے۔ سوبھا سنگھ نے اپنا قلعہ باغ زیب النسا میں بنایا۔
جب ابدالی سنہ 1766 میں واپس آئے اور 22 دسمبر کو لاہور میں داخل ہوئے تو سکھ حکمران وہاں سے چلے گئے۔ احمد شاہ نے لہنا سنگھ سے بات چیت کرنے کی کوشش کی اور دوستی کی علامت کے طور پر انھیں افغان خشک میوہ جات کی ایک ٹوکری بھیجی۔
لہنا سنگھ نے سوکھے چنے کی ٹوکری کے ساتھ یہ تحفہ واپس کیا، جس کا مطلب تھا کہ وہ ہمیشہ مزاحمت کریں گے۔
رہی توپ تو یہ بھنگی سرداروں، لہنا سنگھ اور گجر سنگھ کے قبضے میں تھی جب سکرچکیا مثل کے سردار، چڑھت سنگھ، جنھوں نے لاہور پر قبضہ کرنے میں بھنگیوں کی مدد کی تھی، اسے غنیمت میں سے اپنا حصہ قرار دیا۔
چڑھت سنگھ نے اسے 2000 سپاہیوں کی مدد سے گوجرانوالا پہنچایا۔
اس کے فوراً بعد احمد نگر کے چٹھوں نے سکرچکیا کے سردار سے یہ توپ چھین لی۔ دو چٹھا بھائیوں احمد خان اور پیر محمد خان کے درمیان اس کے قبضے پر جھگڑا ہوا۔ لڑائی میں احمد خان کے دو بیٹے اور پیر محمد خان کے ایک بیٹے مارےگئے۔ گجر سنگھ بھنگی، جنھوں نے پیر محمد خان کی اُن کے بھائی کے خلاف مدد کی تھی، توپ گجرات لے گئے۔
سنہ 1772 میں چٹھوں نے توپ واپس لے لی اور اسے رسول نگر منتقل کر دیا۔
اُدھر ہری سنگھ کے مرنے کے بعد مہان سنگھ کو سردار منتخب کیا گیا۔ مہان سنگھ کی وفات ہوئی تو ہری سنگھ کے بیٹے جھنڈا سنگھ اور گنڈا سنگھ، سکھ رعایا کی حمایت سے مثل کے سربراہ بنے۔
مزید پڑھیے
جھنڈا سنگھ ہی توپ کو سنہ 1773 میں امرتسر لے گئے۔ جھنڈا سنگھ جموں پر حملے میں مارے گئے، وہ بے اولاد تھے۔گنڈا سنگھ نے پٹھان کوٹ پر یلغار کر دی، وہ حقیقت سنگھ کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان کے بیٹے گلاب سنگھ اپنی کم سنی کی بنا پر مثل کے سردار نہ بن سکے تو گنڈا سنگھ کے چھوٹے بھائی دیسو سنگھ کو سردار بنایا گیا۔
اُن کے بعد گنڈا سنگھ کے بیٹے گلاب سنگھ سردار بنے جن کے وقت میں مہاراجا رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کیا۔
جب رنجیت سنگھ شہر کی فصیلوں کے باہر کھڑے تھے، تب تک لہنا سنگھ، گجر سنگھ اور سوبھا سنگھ کی موت ہو چکی تھی اور ان کے تین کمزور بیٹے، چیت سنگھ، مہر سنگھ اور صاحب سنگھ، ان کی جگہ لے چکے تھے۔ کمزور قیادت کے زوال کا وقت آن پہنچا تھا۔
موضع بیسن کے مقام پر گلاب سنگھ اور رنجیت سنگھ کی فوجوں میں ٹکراؤ ہوا۔ اگلے دن زبردست رن پڑنے کی توقع تھی۔ رات کو گلاب سنگھ نے اس قدر شراب پی کہ دوسرے دن ان کی آنکھ نہ کھلی جس کے باعث اُن کی فوج تتر بتر ہو گئی۔
ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے گوردت سنگھ بھنگی مثل کے سردار بنے۔ انھوں نے رنجیت سنگھ پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا، مگر رنجیت سنگھ کو خبر ہو گئی اور انھوں نے امرتسر پر حملہ کر کے انھیں شہر سے نکال کر خود شہر پر قبضہ کر لیا۔
کچھ دیہات اُنھیں گزارے کو دیے، جو کچھ عرصہ بعد واپس لے لیے گئے۔ گلاب سنگھ کے مرنے کے بعد اس خاندان میں کوئی بھی اہل پیدا نہ ہوا اور یوں یہ مثل اپنے اختتام کو پہنچی۔
سنہ 1802 میں جب مہاراجارنجیت سنگھ نے امرتسر پر قبضہ کیا تو توپ اُن کے ہاتھ لگ گئی۔ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت کے تاریخ نگار، خاص طور پر سوہن لال سوری اور بوٹے شاہ، لکھتے ہیں کہ بھنگیوں نے کانھیوں اور رام گڑھیوں کے خلاف دینا نگر کی لڑائی میں یہ توپ استعمال کی۔ رنجیت سنگھ نے اسے ڈسکہ، قصور، سوجان پور، وزیر آباد اور ملتان کی مہموں میں استعمال کیا۔
ان کارروائیوں میں توپ کو شدید نقصان پہنچا اور یہ مزید استعمال کے لیے نامناسب قرار دے دی گئی، اسی لیے اسے واپس لاہور لانا پڑا۔ اسے لاہور کے دلی دروازے کے باہر رکھا گیا، جہاں یہ 1860 تک موجود رہی۔

،تصویر کا ذریعہWaqar Mustafa
جب سنہ 1864 میں مولوی نور احمد چشتی نے تحقیق چشتی مرتب کی تو انھوں نے اسے لاہور میوزیم کے عقب میں وزیر خان کے باغ کی بارہ دری میں کھڑا پایا۔ سنہ 1870 میں اسے لاہور میوزیم کے دروازے پر ایک نئی پناہ گاہ ملی۔
برطانوی دور میں اس توپ کو پہلے دلی دروازے اور بعد میں عجائب گھر لاہور کے سامنے رکھ دیا گیا۔ انارکلی بازار کے رخ پر سنگِ مرمر کے چبوترے پر یہ 265 سال پرانی توپ ’کمز گن‘ بھی کہلائی۔ یہ نام برطانوی مصنف رڈیارڈ کپلنگ کے ناول 'کِم' کی نسبت سے دیا گیا۔
یہ ناول کچھ یوں شروع ہوتا ہے: ’کِم بلدیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرانے عجائب گھر سامنے رکھی توپ زمزمہ پر بیٹھا تھا۔‘
مزید پڑھیے
ساڑھے نو انچ دہانے کی اس سوا چودہ فٹ لمبی توپ کو مقامی لوگ زیادہ تر ’بھنگیوں کی توپ‘ ہی کہتے ہیں۔ توپ کا دہانا گو اب بھی پانی پت کے رُخ پر ہے مگر اب خون بہانا ترک ہے۔ کبوتر اب یہاں دانا دنکا چگتے اور امن سے اڑتے پھرتے ہیں۔
شاید اسی گرمی کا اثر تھا کہ جب ہم نے بوسیدہ ہوتے قلعہ گجرسنگھ کی تصویرکشی کی کوشش کی تو کچھ لوگ ہم سے الجھ پڑے۔ ہم سے اجازت نامہ طلب کرنے لگے، اس قلعے کی باقیات کی تصویریں بنانے کا۔ چند گرتی کھڑکیوں پر مشتمل ایک دیوار اور دروازے کا پتا دیتی ایک محراب۔ یہی کچھ باقی ہے اس قلعے کا۔

،تصویر کا ذریعہWaqar Mustafa
نہ جانے وہ لوگ اس تاریخی اہمیت کی عمارت کو ہر دم نقصان پہنچاتے اور ہر کچھ عرصے بعد تجاوزات سے چھپاتے ہوئے کس سے اجازت لیتے ہوں گے!











