آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں معاشی صورتحال کے پیشِ نظر سوئیول کی یومیہ رائیڈ سروس بند، مہنگے متبادل سے شہری پریشان
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حال ہی میں رائڈ شیئرنگ ایپ ’سوئیول‘ نے اپنی گاڑیوں کی سروس دنیا کے مختلف شہروں میں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دبئی میں قائم اس ایپ کے مالکان نے ایک اعلامیے یعنی پریس ریلیز میں ایپ بند کرنے کے پیچھے وجہ حالیہ عالمی مہنگائی کی لہر کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے اپنی سروس کو جاری رکھیں گے لیکن روزانہ استعمال ہونے والی گاڑیاں بند کی جا رہی ہیں۔
اب اس کے نتیجے میں پاکستان میں رہنے والے وہ تمام شہری افسردہ ہیں جن کا روز کا آنا جانا اس ایپ پر منحصر رہا ہے۔
اس ایپ کے ذریعے لوگ ایئر کنڈیشنڈ وینز میں اپنی سیٹ بک کروا سکتے تھے اور کسی جگہ تک پہنچنے کے لیے کار یا رکشہ بک کروانے کی نسبت کہیں کم کرایہ ادا کرنا پڑتا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں زیادہ تر افراد اپنے روزانہ کے سفر کے لیے سستی رائیڈ شیئرنگ ایپ کا استعمال کرتے آرہے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ ملک کے مختلف شہروں سے بس کے روٹ ختم ہونے یا ناقص ٹرانسپورٹ کا نظام ہے۔
ان ایپس میں کریم، اوبر اور بائیکیا کے علاوہ اِن ڈرائیور اور سوئیول جیسی ایپس بھی شامل ہیں جن کو استعمال کر کے شہری اچھے خاصے پیسے بچا سکتے ہیں۔
کراچی میں مقیم علی عمیر جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پچھلے آٹھ ماہ سے مکمل طور پر سوئیول ایپ کو استعمال کر رہے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے اپنی گاڑی کو گھر پر چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ گاڑی میں سو کام نکل آتے ہیں اور بہت پیسے لگ جاتے ہیں۔ لیکن سوئیول کو استعمال کرتے ہوئے میں گلستانِ جوہر سے آئی آئی چندریگر روڈ تک صرف 210 روپے دینے پڑتے تھے اور ماہانہ پیکج کروانے پر 6000 روپے دینے پڑتے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عمیر کا کہنا ہے کہ انھیں آسانی لگتی تھی کہ آپ کو اپنے گھر سے لے کر دفتر تک آرام دہ سواری میں پہنچا دیا جاتا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’اب ہم سب دوست سوچ رہے ہیں کہ کار پوُلنگ شروع کر دیں تاکہ پیسے بچائے جا سکیں۔‘
عمیر نے کہا کہ کراچی میں ہی مقیم شاہ زمان نامی ٹرانسپورٹ گروپ سوئیول جیسی سروس جاری رکھنے کے بارے میں کوششیں کر رہا ہے ’لیکن پیٹرول میں 30 روپے اضافے کے بعد وہ ماہانہ 12 ہزار روپے لیں گے حالانکہ اس سے پہلے مجھے صرف 6000 روپے دینے پڑتے تھے۔‘
بہتر ٹرانسپورٹ کا نظام کبھی ممکن ہو سکے گا؟
ٹرانسپورٹ کے ناقص انتظام سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ کراچی کی رہائشی نورین خان نے اپنے فیس بُک پر سوئیول ایپ کے منسوخ ہونے کے بعد لکھا کہ پاکستان میں خواتین کے لیے بائیکیا جیسی ایپ شروع کیوں نہیں کی جا سکتی؟
انھوں نے لکھا کہ ’خواتین کیوں اوبر اور کریم کو اضافی پیسے دیں۔‘
واضح رہے کہ بائیکیا ایک پاکستانی ایپ ہے جس میں کریم اور اوبر کی طرح موٹربائیک بک کروائی جا سکتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں خواتین کا موٹرسائیکل چلانے کا رجحان اتنا زیادہ نہیں ہے اس لیے بائیکیا میں صرف مرد حضرات ہی بائیک چلاتے نظر آتے ہیں جن کے پیچھے بیٹھنے میں خواتین آسانی محسوس نہیں کرتیں۔
حالانکہ کچھ خواتین پھر بھی اپنے بجٹ کو دیکھتے ہوئے بائیکیا استعمال کر رہی ہیں لیکن یہ رجحان ابھی اتنا عام نہیں ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ملک میں ایک بہتر ٹرانسپورٹ کا نظام چاہیے۔ ہم صرف یہی دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ کونسے رنگ کی میٹرو چلے گی اور کب تک چلے گی۔‘
پاکستان کے زیادہ تر شہروں میں اب بھی ماس ٹرانزٹ نظام موجود نہیں ہیں اور کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں جہاں یہ سسٹم ہیں بھی، وہاں بھی یہ پورے شہر کو آپس میں نہیں جوڑتے، چنانچہ پبلک ٹرانسپورٹ یا رکشہ، ٹیکسی یا موٹرسائیکل کی ضرورت بہرحال باقی رہ جاتی ہے۔
عمیر نے کہا کہ کراچی سرکیولر ریلوے کو چلانے کی باتیں کئی دہائیوں سے سنتے آ رہے ہیں لیکن اس کے بارے میں اب تک کچھ نہیں ہو پایا ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا پر کئی صارفین اس حوالے اپنی پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔
حمزہ نے ایک تھریڈ پوسٹ کیا۔ وہ لکھتے ہیں ’میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ سوئیول ہمارے مڈل کلاس کے لیے کیا نعمت تھی۔ میری بہن سوئیول میں کالج جاتی ہے جس کا خرچہ صرف 100-150 روپے فی دن ہے۔ اس کا متبادل پرائیویٹ پک اپ وین ہے جو 8000 روپے ماہانہ چارج کرتی ہے اور اسے وقت سے 2 گھنٹے پہلے پک کرتی ہے اور کالج ختم ہونے کے 3 گھنٹے بعد چھوڑتی ہے۔‘
’مگر سوئیول میں یہی سفر صرف 45 منٹ میں اے سی والی گاڑی میں طے ہوتا تھا۔‘
بشریٰ خان نے لکھا ’سوئیول نے اسلام آباد میں سروس بند کر دی ہے۔ اب اسلام آباد میں وہی زیرو بس سروسز پر واپس۔ میں ایک پوری کتاب لکھ سکتی ہوں کہ یہ ایک جرم ہے کہ اسلام آباد میں اب بھی ایسی کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے جو تمام سیکٹرز کو آپس میں ملاتی ہو۔‘
صحافی انس ملک نے لکھا کہ پاکستان میں معاشی حالات کے باعث پہلے ایئرلفٹ اور اب سوئیول بند ہو گئی ہے، وہ پوچھتے ہیں کہ اتنے تھوڑے وقت میں ان نئے سٹارٹ اپس کے ساتھ ناجانے کیا ہوا۔
رازی علی خان نے لکھا کہ کریم نے کریم فوڈز کو بند کر کے بھرتیاں بھی روک دی ہیں۔ افواہیں ہیں کہ بہت سے سٹارٹ اپس اپنے حقیقی اعداد و شمار نہیں دکھا رہے۔ کیا ہم بے روزگاری کی ایک اور لہر سے گزرنے والے ہیں؟
ایک اور صارف ثنا خان نے لکھا کہ اُنھیں سوئیول پاکستان کے لاہور میں آپریشنز بند ہونے کی خبر سن کر افسوس ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ کرایوں کو ایندھن کی قیمتوں سے ہم آہنگ کر لیں مگر سروس بند نہ کریں۔
اُنھوں نے لکھا کہ اُن کی ملازمت کا انحصار سوئیول کی بروقت اور آرامدہ سروس پر ہے۔