عمران خان کا لانگ مارچ: اسلام آباد کے ڈی چوک کی فضا میں اب بھی آنسو گیس کی بُو ہے

پی ٹی آئی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

یہاں اسلام آباد کے ڈی چوک کی فضا میں آنسو گیس کی بُو اب بھی رچی ہوئی ہے جو آنکھوں میں جلن کا احساس پیدا کر رہی ہے۔ شیلنگ اور آگ لگنے کے جو واقعات پیش آئے ان سمیت یہاں شاہراؤں پر کھڑے کنٹینرز یہاں بدھ کو ہونے والی تباہی اور بدنظمی کا پتہ دے رہے ہیں۔

صبح سویرے یہاں اسلام آباد کے ڈی چوک میں میری ملاقات محمد اشفاق سے ہوئی۔

وہ کہنے لگے ’ہم برسوں محنت کرتے ہیں، پانی دیتے ہیں صفائی کرتے ہیں اور مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ جب کوئی احتجاج ہوتا ہے تو آنے والے منٹوں میں اس کو جلا دیتے ہیں جس سے ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے۔'

وہ گذشتہ 19 برسوں سے کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے میں بطور مالی کام کر رہے ہیں۔

جمعرات کی شب ڈی چوک میدان جنگ بن گیا تھا جہاں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس میں کئی گھنٹے جھڑپیں جاری رہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بتدریج آنسو گیس کا استعمال کیا اور رد عمل میں مظاہرین نے آس پاس کی جھاڑیوں کو آگ لگا دی۔

محمد اشفاق کہتے ہیں کہ ’افسران کو بتایا کہ گرین بیلٹ کو آگ لگی ہے تو انھوں نے کہا کہ جاؤ بجھاؤ، ہم نے کہا کہ کیسے جائیں مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے ہیں آپ فائر برگیڈ بھجوا دیں لیکن گاڑی نہیں آئی۔'

محمد اشفاق کے مطابق وہ منھہ پر کپڑا باندھ کر باہر نکلتے تھے، انھوں نے دیکھا کہ مظاہرین آگے بڑھ رہے تھے اور پولیس پیچھے ہوتی گئی، کنٹینر کے پاس پہنچ کر پولیس نے شیلنگ شروع کردی، اس قدر گیس پھیل گئی کہ سانس لینا بھی دشوار ہوچکا تھا۔

’آنسو گیس لگتی تھی تو آنکھیں جل جاتی تھیں، گلے میں تکلیف ہوتی، ایسے لگتا جیسے انسان ختم ہوجاتا ہے۔'

قریب واقع ایک ہوٹل کے مالک نے مجھے بتایا کہ مظاہرین نے ایک کنٹینر گرایا اس کے بعد دوسرا گرایا اور پھر پولیس نے شیلنگ شروع کردی۔

پی ٹی آئی

دوپہر ساڑھے بارہ بجے جناح اور فیصل ایونیو کے سنگم پر املی اور آلو بخارے کا شربت فروخت کرنے والے رب نواز سے ملاقات ہوئی جو ریڑھی واپس لیکر جارہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ بدھ کی شام چار بجے یہاں پہنچے تھے اور جیسے ہی شیلنگ ہوتی وہ پیچھے چلے جاتے تھے۔

’جیسے لوگ جمع ہوتے پولیس شیلنگ کرتی اور مظاہرین جھاڑیوں اور پودوں کو آگ لگانا شروع کردیتے، اس سے دھواں نکلتا تھا اور آنسو گیس کا دھواں دب جاتا تھا اور کھانسی و آنکھوں میں جلن نہیں ہوتی تھی۔‘

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام

جناح ایونیو پر چائنا چوک کے قریب کھجور کے درخت اور او ڈی جی ڈی سی ایل کی عمارت کے باہر کئی جھاڑیاں جلی ہوئی ہیں۔ اس مقام پر آنسو گیس کے شیلز کے کئی درجن ریپر بھی بکھرے ہوئے ہیں جن میں لانگ رینج اور شارٹ رینج تحریر ہے، اس کے علاوہ آس پاس نمک کی چھوٹی چھوٹی پُڑیاں بھی نظر آئیں۔

ڈی چوک کے قریب صبح سے کئی ٹیمیں تاریں جوڑتی ہوئی نظر آئیں، ایک کنویں سے مسلسل دھواں نکل رہا تھا۔ اندر تاریں جل چکی ہیں، مرمتی عملے نے بتایا کہ آگ لگنے سے انٹرنیٹ کی فائبر تار متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے دو کلومیٹر میں انٹرنیٹ کی سروس معطل ہے جبکہ ایک نوجوان نے بتایا کہ آس پاس کے کیمروں کی کیبل بھی متاثر ہوئی ہے۔

پی ٹی آئی
،تصویر کا کیپشناس کنویں میں تاروں کو آگ لگ گئی تھی

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اپنے خطاب میں چھ روز میں انتخابات کرانے کا الٹی میٹم دیکر چلے گئے ہیں جس کے بعد قافلوں کی روانگی شروع ہوئی لیکن ڈی چوک اور آس پاس کے علاقے میں پارکوں میں درختوں کے نیچے کئی لوگ آرام کرتے ہوئے اور سیلفیاں لیتے ہوئے نظر آئے جبکہ ڈی چوک کے قریب بھی درجنوں کارکن موجود تھے جن میں سے ایک دو سامنے موجود کنٹینروں کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ ’ڈر گئے امریکہ کے پٹھو ڈر گئے۔'

ڈی چوک پر ہماری موجودگی کے دوران ہی وہاں سے پنجاب پولیس کی تین بسیں روانہ ہوئیں جن میں اہلکار سوار تھے جبکہ چھتوں پر اینٹی رائٹ شیلڈز اور ڈنڈے موجود تھے۔

ڈی چوک پر مظاہرین کے لیے بریانی کے پیکٹس اور پانی کی فراہمی کی گئی جو سامان ایک سوزوکی میں موجود تھا۔ گذشتہ شب شیلنگ کے وقت پانی کی قلت پیدا ہوگئی تھی اور ٹوئٹر پر ایسے پیغام بھی شیئر ہوئے جس میں کہا گیا کہ اگر کوئی ڈی چوک پر پانی پہنچا دے تو وہ پیسے منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایک دلچسپ منظر جناح اور فیصل ایونیو کے سنگم پر اوور ہیڈ برج کے نیچے نظر آیا جب ایک کار میں سوار دو افراد کارکنوں میں پچاس پچاس کے نوٹ تقسیم کرتے نظر آئے۔

مزید پڑھیے

پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے، اس رنگ کی ٹوپیاں مفلر اور عمران خان کی تصویر والے بیج فروخِت کرنے والے درجنوں لوگ فٹ پاتھ پر موجود تھے۔ ان میں ایک قمر شہزاد نامی شخص کے مطابق وہ لاہور سے آئے تھے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے ان کا 12 سو روپے کرایہ لگا۔

’میرا خیال تھا کہ دھرنا تین چار روز چلے گا اور یہ مال فروخت ہو جائے گا لیکن صبح کو واپسی کا اعلان ہوا، اس وقت تو نہ کوئی مفلر لے رہا ہے نہ جھنڈا نہ بیج، بس دعا کریں کہ کوئی آجائے نہیں تو مجھ غریب کا نقصان ہوجائے گا۔'

پی ٹی آئی
،تصویر کا کیپشنقمر شہزاد نامی شخص کے مطابق وہ لاہور سے آئے تھے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے ان کا 12 سو روپے کرایہ لگا

جناح ایونیو پر کئی ایسے لوگ بھی نظر آئے جنھوں نے بیک پیک اٹھا رکھے تھے۔ ان میں لوئر دیر سے آنے والے جاوید خان شامل تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے بیک پیک میں مچھر دانی ہے جس کو رات کو انھوں نے استعمال کیا اس کے علاوہ ایک چھوٹا کمبل تھا، خوراک کی کچھ چیزیں تھیں اور ماسک تھے جب شیلنگ ہوئی تو انہیں یہ چیزیں کام آئیں۔

جاوید کے مطابق ان کا خیال تھا کہ کچھ روز رہنا ہوگا لیکن اب قیادت کے اعلان پر واپس جارہے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے مارچ ختم کرنے کا اعلان بعض کارکنوں کے لیے غیر متوقع تھا تاہم انہیں یقین تھا کہ بہتر مفاد میں یہ اقدام کیا گیا ہے۔

ندیم خان کہنے لگے کہ ان کا اندازہ تھا کہ دس سے پندرہ دن لگ سکتے ہیں کیونکہ پہلے بھی 130 دن لگے تھے اور شہباز شریف حکومت ’اتنی آسانی سے نہیں جائے گی لیکن پہلے ہی کامیابی مل گئی‘ اس لیح اب وہ جارہے ہیں۔

انہیں یقین ہے کہ جلد انتخابات ہونے والے ہیں۔

ڈی چوک پر صورتحال پولیس کے قابو سے نکلنے کے بعد عمران خان کی آمد سے چند گھنٹے قبل وفاقی حکومت نے ریڈ زون میں فوج طلب کرلی تھی جبکہ رینجرز پہلے سے موجود تھے۔

پیکٹس
،تصویر کا کیپشنوہاں آنسو گیس کے شیلز کے کئی درجن ریپر بھی بکھرے ہوئے ہیں

گلگت سے آنے والے شاہ وزیر کے مطابق وہ تو حکومت ختم کرنے کے لیے ہی آئے تھے اور ان کے مطابق ’عمران خان نے یقیناً ملک کے مفاد میں مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا ہوگا‘۔

حکومت کو عمران خان کی جانب سے دیا گیا چھ دن کا الٹی میٹم ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا، کیا پھر یہی مناظر ہوں گے یا اس سے پہلے پرامن حل نکل آئے گا، اس پر فی الحال قیاس آرائیاں ہی ہو رہی ہیں۔

واپس دفتر کی راہ لیتے ہوئے ہم نے کچھ شاہراؤں پر دیکھا تو وہاں شاہراؤں کے ساتھ کنٹینرز اب بھی کھڑے تھے، گرین بیلٹس پر کوڑا کرکٹ اب بھی دکھائی دے رہا تھا لیکن اس کے ساتھ شہر میں معمول کی زندگی بھی شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔