آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان کو لانگ مارچ کی اجازت دینے پر رضا مندی سے انکار تک
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں حکمراں اتحاد کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کو لانگ مارچ کی اجازت دینے میں رضامندی ظاہر کرنے کے بعد مارچ سے ایک دن پہلے اس کی اجازت نہ دینے کے بارے میں پنجاب حکومت کے ترجمان عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خفیہ اور حساس اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پیر کی شب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے متعلقہ حکام کے ساتھ اس ضمن میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں اداروں کی طرف سے رپورٹس دی گئیں کہ پی ٹی آئی کے کارکن اسلام آباد میں لانگ مارچ کے لیے نہ صرف لاٹھیاں اور اسلحہ وغیرہ بھی اکٹھا کر رہے ہیں بلکہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل بھی اکٹھے کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اداروں نے اپنی رپورٹس میں اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ لانگ مارچ کے دوران کوئی خودکش حملہ آور بھی اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے کارروائی کرسکتا ہے۔
- عمران خان کا لانگ مارچ: پاکستان میں سیاسی صورتحال کی لائیو کوریج
پنجاب حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں وزارت داخلہ کے حکام بھی موجود تھے جنھوں نے لانگ مارچ کے حوالے سے تیاریوں کے سلسلے میں ایسی معلومات دیں جن کو شیئر نہیں کیا جاسکتا۔
انھوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کی ان رپورٹس سے پہلے حکومت میں موجود اتحادی اس بات پر کسی حد تک متفق تھے کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی اجازت دے دی جائے تاہم ان رپورٹس کی روشنی میں اور بالخصوص لاہور میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ہاتھوں پنجاب پولیس کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کی اجازت دی تھی جس پر عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جس ملاقات میں یہ فیصلہ ہوا اس میں سابق وزیر اعظم ویڈیو لنک کے ذریعے موجود نہیں تھے۔
پنجاب حکومت کے ترجمان عطا اللہ تارڑ کے مطابق حکومت نے لانگ مارچ نہ کرنے کا فیصلہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ اگر اتحادی اجازت دیں تو وہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو ان کے گھروں سے بھی نہ نکلنے دیں۔
دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے سری نگر ہائی وے پر دھرنا دینے سے متعلق جو درخواست دی گئی تھی اس کے بارے میں پولیس اور خفیہ اداروں نے رپورٹس دی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ چونکہ دہشت گردی کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا اس لیے ایسے حالات میں جلسہ کرنے یا دھرنا دینے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سری نگر ہائی وے پر ماضی میں جمعیت علمائے اسلام نے بھی احتجاجی مظاہرے کیے تھے لیکن اس وقت ان کے پاس اپنی سکیورٹی موجود تھی اور انھوں نے پرامن رہنے کی یقین دہانی کروائی تھی، لیکن پی ٹی آئی کے اس لانگ مارچ میں نہ تو ان کی اپنی کوئی سکیورٹی موجود ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے پرامن رہنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ پر پابندی لگانے کے فیصلے کے اعلان سے قبل ہی پنجاب کے مختلف شہروں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے پیر کی شام سے ہی تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے تھے۔
پیر کی شب ان چھاپوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھیں اور ان پر ردعمل بھی آنا شروع ہو گیا تھا۔
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے ایک ہزار سے زیادہ گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔
ماضی میں کئی مرتبہ وفاقی کابینہ کا حصہ رہنے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی آبائی رہائش گاہ اور سیاست کا گڑھ لال حویلی کے باہر بھی پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان موجودہ حکومت کے خلاف مئی کے پہلے 20 دنوں میں درجنوں شہروں میں احتجاجی جلسے کر چکے ہیں۔ ان تمام جلسوں میں عوام نے ایک بڑی تعداد میں شرکت کی اور کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔ جن شہروں میں تحریک انصاف نے جلسے منعقد کیے ان میں پشاور اور لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور سیالکوٹ جیسے پنجاب کے بڑے شہر شامل ہیں۔