آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان کی حکومت سے شکایات
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد پر بظاہر پریشان دکھائی نہیں دے رہی لیکن خود ان کی جماعت کے اراکین اور ان کے اتحادی ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد کے بعد بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکمراں جماعت کے ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی وفاقی وزراء کی کارکردگی پر برس پڑے اور کہا کہ حکومت کی موجودہ اقتصادی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی موجودہ لہر کی وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں اور ان کے حلقوں کے لوگ اس بارے میں سوالات بھی کرتے ہیں جن کا ان کے پس میں کوئی جواب نہیں ہوتا۔
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین نے اس بات کا بھی شکوہ کیا کہ وفاقی وزراء اُنھیں ملاقات کا بھی وقت نہیں دیتے۔ اراکین کی طرف سے شکایات کے انبار لگانے پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر ہفتے ایک وفاقی وزیر اپنے محکموں کی کارکردگی کے بارے میں پارلیمانی پارٹی کو بریفنگ دے گا۔
حکمراں اتحاد میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) گروپ کے سربراہ اختر مینگل بھی حکومت سے نالاں دکھائی دیتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہ کیے تو ان کی جماعت حکومت سے تعاون کرنے کا از سر نو جائزہ لے گی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت خود ہی گرنا چاہے تو ان کی جماعت اس کو کاندھا نہیں دے سکتی۔
دوسری طرف حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ ق بھی حکومت کے ترجمان فواد چوہدری کے بیان سے خوش نہیں ہے اور اُنھوں نے یہ معاملہ وزیر اعظم کے سامنے اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے ذرایع کے مطابق وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان پر پارٹی کا موقف سامنے رکھیں گے۔
فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی بحثیت جماعت چاہتی تو وہ پاکستان مسلم لیگ ق میں بھی فاروڈ بلاک بنوا سکتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں طارق بشیر چیمہ اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین سے ملاقات کی تھی جس میں اُنھوں نے جہانگیر ترین سے کہا تھا کہ وہ پنجاب کے گورنر چوہدری سرور کو روکیں کیونکہ اُنھوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عمثان بزدار کو کام نہیں کرنے دینا۔
پارلیمانی امور نظر رکھنے والے صحافی شاکر سولنگی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد پر شاید فوری طور پر حکمراں جماعت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو لیکن اگر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کیا تو وہ دن زیادہ دور نہیں ہے جب پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو دے گی۔
پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اتحاد کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف جیل میں ہیں جبکہ آصف علی زرداری جیل سے باہر ضرور ہیں لیکن ای سی ایل میں نام ہونے کی وجہ سے وہ بیرون ممالک نہیں جا سکتے۔
شاکر سولنگی کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کا اتحاد دراصل ان اداروں کے لیے ایک پیغام ہے جو ان دونوں جماعتوں کی قیادت کے لیے ’احتساب کے نام پر مسائل پیدا کرر ہی ہے‘۔
اُنھوں نے کہا کہ حکمراں جماعت حزب مخالف کی دونوں بڑی جماعتوں کے اتحاد سے اس سے لیے کوئی خاص پرشان نہیں ہے کیونکہ اس بات کا یقین ہے کہ ’اسٹیبلشمنٹ اُنھیں اکٹھا نہیں ہونے دے گی۔‘
بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اتحاد کی جھلک اس وقت بھی نظر آئی جب سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے نظر آئے۔