پی ٹی آئی کارکنوں پر کریک ڈاؤن کے دوران پولیس اہلکار کی ہلاکت: ’میرا نہیں پتا میں کب واپس آؤں گا‘

کمال احمد

،تصویر کا ذریعہFamily

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

’میرے شوہر صبح آٹھ بجے ڈیوٹی پر گئے اور پھر شام چھ بجے واپس گھر پہنچے۔ بچوں کے ساتھ کچھ دیر گزاری اور پھر تھوڑی دیر بعد فون کال موصول ہوئی کہ آ جائیں، تحریک انصاف والوں کے خلاف آپریشن کرنا ہے، آپ کی رات کی بھی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔‘

’اس کال کو سُننے کے بعد میرے شوہر نے دوبارہ جانے کی تیاری شروع کر دی۔ جب وہ گھر سے نکل رہے تھے تو میں نے پوچھا کب تک واپس آ جائیں گے تو ان کا جواب تھا کہ میرا نہیں پتا میں کب واپس آؤں گا،، کل صبح یا شام تک شاید واپس آ جاؤں گا۔‘

’مگر تھوڑی دیر بعد ہی اُن کی موت کی خبر مل گئی اور گھر میں ایسا کہرام مچا کہ سوئے ہوئے بچے بھی جاگ گئے۔‘

یہ روداد گذشتہ رات ہلاک ہونے والے پولیس کانسٹیبل کمال احمد کی بیوہ رابعہ کمال نے بی بی سی کو سُنائی۔

لاہور پولیس کے ڈی آئی جی چوہدری سہیل کے مطابق کانسٹیبل کمال احمد اس وقت گولی لگنے سے ہلاک ہوئے جب قانون ہاتھ میں لینے والے تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کیے گئے ایک پولیس ریڈ میں ان پر فائرنگ کی گئی۔ چوہدری سہیل کے مطابق گولی ان کی چھاتی کے اوپر والے حصے میں لگی اور ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی کانسٹیبل کمال کی موت ہو گئی۔

رابعہ کے مطابق ان کے پانچ بچوں میں سے تین بچے اتنے کم عمر ہیں کہ انھیں ابھی تک نہیں پتا کہ ان کے والد کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ رابعہ نے بتایا کہ ’وہ ابھی بھی یہی کہتے ہیں کہ پاپا ڈیوٹی پر گئے ہوئے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’ایسا متعدد بار ہوا کہ جب کمال گھر واپس پہنچے تو انھیں دوبارہ ڈیوٹی پر بلا لیا گیا۔ ان کا بچوں کے ساتھ وقت بہت کم گزرتا تھا۔ ہمارا پہلے سے مشکل گزارا ہوتا تھا، اب تو بچوں کے سر سے باپ کا سایہ ہی اٹھ گیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کمال احمد کی بیوہ نے بتایا کہ ’ہم کرائے کے گھر میں رہ رہے ہیں۔ بڑی بیٹی چوتھی جماعت میں پڑھتی ہے جبکہ بیٹا پہلی کلاس میں۔ اب شاید میں انھیں سکول نہ بھیج سکوں کیونکہ میرا تو کوئی اور سہارا بھی نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے آٹھ ماہ کے بچے سمیت سب بچوں کے لیے حکومت سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں۔

’فون آیا کہ بھائی کی طبعیت خراب ہے، پھر فون آیا ان کی موت ہو گئی‘

کمال احمد کے بھائی عبدالستار نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں گذشتہ رات پونے دو بجے فون آیا کہ ان کے بھائی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اور انھیں جنرل ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔ پھر چند لمحوں میں ایک دوسری کال موصول ہوئی کہ ان کی موت واقع ہو گئی ہے۔

عبدالستار کے مطابق ان کے بھائی فرض شناس پولیس اہلکار تھے اور کبھی بھی غیرضروری چھٹی نہیں کرتے تھے اور جب بھی انھیں بلایا جاتا تھا وہ انکار نہیں کرتے تھے۔

پولیس کا مؤقف

لاہور پولیس کے ڈی آئی جی چوہدری سہیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف پولیس ریڈ کے دوران کانسٹیبل کمال پر ایک گھر کی چھت سے فائرنگ کی گئی۔

پولیس کے مطابق انھوں نے فائرنگ کے الزام میں گھر کے مالک اور ان کے بیٹے کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔

پولیس کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے کرائے داری ایکٹ کے معاملے پر ایک گھر پر چھاپا مارا اور اس کارروائی کے دوران ساجد نامی ملزم کے گھر کی چھت سے فائر کیا گیا۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے منگل کو پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس بھی ہماری اپنی ہے۔

تاہم انھوں نے اسے سیلف ڈیفنس کا ایک واقعہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق رات گئے اگر کسی کے گھر اس طرح گھسا جائے تو پھر ایسے واقعات پیش آنے کا خطرہ ہے، شکر ہے زیادہ جگہوں پرایسے واقعات نہیں ہوئے۔

عمران خان کے مطابق سابق فوجی افسر کی ٹریننگ تھی اور انھیں لگا کہ جیسے کوئی گھر پر حملہ آور ہو گیا ہو۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطااللہ تارڑ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کمال احمد پر فائرنگ کرنے والے شخص تحریک انصاف کے مقامی عہدیدار ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ہلاک ہونے والے اہلکار کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق سرکاری شہدا پیکج سے پنجاب حکومت کو مدد فراہم کی جائے گی۔