شدت پسندی میں تیزی کے بعد بلوچ طلبہ کو ’اٹھائے جانے‘ کا خوف: ’ہوشیار رہنا پڑتا ہے کہ کوئی پیچھا نہ کر رہا ہو‘

،تصویر کا ذریعہVOICE FOR BALOCH MISSING PERSONS
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’بلوچ شدت پسندی میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے جس کے نتیجے میں بلوچ طلبہ کی گمشدگیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔‘ سماجی کارکن پروین ناز کو خدشہ ہے کہ بلوچ طلبہ کو درپیش مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ بلوچ شدت پسندی میں اضافے سے جڑا ہے۔
پروین کا خیال ہے کہ جتنی شدت پسندی بڑھے گی اتنا ہی طلبہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ’شدت پسندی میں اس وقت اکثریت پڑھے لکھے نوجوانوں کی ہے جس کے نتیجے میں ان طلبہ کو بھی نشانے بنایا جا رہا ہے جو اس مسلح سوچ کا حصہ نہیں ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس شدت پسندی کا حل طلبہ پر مزید تشدد کرنے سے نہیں مل سکے گا۔‘
لیکن پروین کے اس تجزیے سے دور پنجاب کی یونیورسٹیوں میں اب بھی بلوچ طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کی مثالیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرنے والے کئی طلبہ نے بتایا ہے کہ ان کا مسلح گروہوں سے کسی قسم کے تعلق کا ثبوت نہ ہونے کے باوجود ان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ایک طالبعلم نے بتایا کہ ’(یونیورسٹی کا) دروازہ کھولنے والے سے لے کر ٹیچر تک ہر کسی کے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹیچر نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے بستے میں بم تو نہیں رکھا ہوا؟ آپ اسلحے کے ساتھ تو نہیں آئے؟ کیا آپ نے کبھی قتل کیا ہے؟‘
ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی ایرڈ ایگریکلچر (بارانی) یونیورسٹی سے ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’ابھی حال ہی میں فیروز بلوچ کو اسی یونیورسٹی سے اٹھایا گیا۔ اس کی امّی مجھ سے روز خبر گیری کے لیے فون کرتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ میں نے تو تمھاری ذمہ داری لگائی تھی، میرے بیٹے کو کون لے کر گیا؟ میں انھیں کیا بتاؤں کہ یہاں ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ہمارے کپڑوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تو (آپ) وحشی اور درندوں کا کلچر اپنائے ہوئے ہو۔‘
بات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ہو یا لاہور کی، ملک کی تمام بڑی یونیورسٹیوں میں بلوچ طلبہ زیر تعلیم ہیں اور کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ پر حملے جیسے واقعات کے بعد تعلیمی اداروں میں ان پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے حکام کو بھی یہ معلوم ہے کہ ہوسٹل سے کسی طالبعلم کو ویگو میں ڈالنے سے 'باقی طلبہ کو اچھا میسج نہیں جاتا' مگر اس طرح کے واقعات سے بلوچ طلبہ سہم کر رہ گئے ہیں۔ جس طرح اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم نے بتایا کہ اب جب بھی وہ 'یونیورسٹی کے دروازے پر پہنچتے ہیں (اور وہاں چیکنگ ہوتی ہے) تو ایک تاثر یہ ملتا ہے کہ یہ چیکنگ صرف بلوچ طلبہ کے لیے ہو رہی ہے۔ اور انھیں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

حکومتِ بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ کہتی ہیں کہ صوبے میں نوجوانوں کے لیے آگاہی کے پروگرام چلائے جا رہے ہیں جبکہ حکومت اور سکیورٹی نافذ کرنے والے ادارے کبھی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور آئندہ کارروائیوں کے ذریعے ان عوامل تک پہنچا جائے گا جو معصوم لوگوں کو ورغلا کر ان سے دہشتگردی کے کام کراتے ہیں۔
تاہم وہ تسلیم کرتی ہیں کہ 'ڈائیلاگ کے بغیر کوئی بھی پیشرفت کامیاب نہیں ہوسکتی۔'
بلوچ طلبہ کو 'ہوشیار رہنا پڑتا ہے کہ کوئی پیچھا نہ کر رہا ہو'
قائدِ اعظم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم نے بتایا کہ 'اب بلوچ لڑکیاں یہ سوچ رہی ہیں کہ وہ روایتی کپڑے نہیں پہنیں گی۔ ہم سادہ لباس پہنیں گے تاکہ ہمیں ٹارگٹ نہ کیا جائے۔'
قائدِ اعظم یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالبعلم امتیاز بلوچ نے بتایا کہ ’ہم جب اپنے گھر واپس جاتے ہیں تب بھی ہمیں ہوشیار رہنا پڑتا ہے کہ کوئی ہمارا تعاقب نہ کر رہا ہو، ہمارے بارے میں پوچھ گچھ نہ کر رہا ہو۔ اسی طرح کے خوف میں مبتلا ہیں ہم اس وقت۔‘
ہوشیار رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی کے ایم فِل کے طالبعلم حفیظ بلوچ کو خضدار کے تعلیمی سینٹر سے فروری میں مبینہ طور پر جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ہونے والے احتجاج اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کے نتیجے میں حفیظ بلوچ کی گرفتاری ضلع خضدار سے متصل بلوچستان کے دوسرے ضلع جھل مگسی سے ظاہر کی گئی لیکن انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات کے باعث ان کی رہائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
حفیظ کے وکیل عمران بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے پہلے کے حفیظ میں اور آج کے حفیظ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ 'عدالتی کارروائی کے دوران جج نے حیرانی سے حفیظ سے پوچھا کہ 'یہ تم ہو؟' تو اس نے کہا کہ 'ہاں یہ میں ہی ہوں۔'
عمران بلوچ کہتے ہیں کہ 'اس پر دہشتگردی کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے جس پر ہم بالکل لڑ رہے ہیں۔ حفیظ کی مثال الگ اس لیے بھی ہے کیونکہ وہ صوبے کے مشکل حالات سے نکل کر ایم فِل کا طالبعلم بنا اور تمام تر مسائل کے باوجود اس نے اپنی پڑھائی مکمل کی اور اب پڑھا بھی رہا ہے۔'
عام طور پر بلوچستان میں جاری شورش اسی صوبے کی حد تک رہتی تھی۔ اور پاکستان کے میڈیا پر کم و بیش خبریں آنے کے باعث زیادہ تر تاثر یہی رہتا تھا کہ صوبے میں بڑھتی شورش کی خبریں محض خبریں ہی ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان پر زیادہ سوالات پوچھنا بھی میڈیا کے لیے مشکلات کا باعث بن جاتا ہے۔
کراچی سٹاک ایکسچینج پر بلوچ شدت پسندوں کی جانب سے حملے کے بعد یہ معاملہ بین الااقوامی سطح پر بھی سامنے آیا۔ اور رواں سال نوشکی، پنجگور اور پھر کراچی یونیورسٹی میں فدائین حملوں کے بعد سے پنجاب کے مختلف شہروں میں زیرِ تعلیم طلبہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان سے جانچ پڑتال اور سرویلنس میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFEROZ BALOCH RELATIVES
بلوچ طلبہ کی تنظیم کے ایک اندازے کے مطابق اس وقت صوبہ بلوچستان سے باہر پڑھنے والے طلبہ کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر طلبہ انھیں یونیورسٹیوں میں بنے ہاسٹل میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور حالیہ دنوں میں انھیں ہاسٹلوں میں سے ان طلبہ کو زبردستی اٹھانے کی خبریں اور ویڈیو بھی سامنے آنا شروع ہوچکی ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2021 سے لے کر اب تک تقریباً 38 بلوچ افراد کو جبری طور پر لاپتا کیا گیا ہے۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ ایک روز کی گمشدگی کا حساب لگانے بیٹھیں تو دوسرے روز ایک اور گمشدگی کی خبر سامنے آجاتی ہے۔
ریاست کا بلوچ شدت پسندی سے نمٹنے کا طریقہ ٹھیک ہے؟
اب سوال بنتا ہے کہ بلوچ شدت پسندی میں تیزی اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی ریاست کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات بلوچ طلبہ کی زندگی کو بے شک متاثر کر رہی ہے لیکن کیا بلوچستان میں جاری شورش، جو اب ذرا تیزی سے پاکستان کے مختلف شہروں کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے، سے نمٹنے کا طریقہ وہی ہے جو اس وقت ریاست نے اپنایا ہوا ہے؟
حکومتِ بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے میں قانون نافذ کرنا حکومت کی اہم تر ترجیحات میں سے ایک ہے۔ 'ایک اہم پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ ایک خاتون بمبار کو گھر سے پکڑا گیا ہے جن کے ذریعے مزید انکشافات ہوں گے اور ان عوامل تک پہنچا جائے گا جو معصوم لوگوں کو ورغلا کر ان سے دہشت گردی کے کام کراتے ہیں۔' تاہم انھوں نے کہا کہ 'ڈائیلاگ کے بغیر کوئی بھی پیشرفت کامیاب نہیں ہوسکتی۔'
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وکیل ایمان مزاری نے بتایا کہ 'اس سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا کہ آپ غیر مسلح پُرامن طالبعلموں کو اٹھائیں۔ اگر کسی کے خلاف کوئی کیس ہے تو اس کا بھی طریقہ کار ہے، انھیں گرفتار کرنے کا، ان سے تفتیش کرنے کا۔ اس طریقہ کار کو ایک طرف رکھ کے کسی کو اٹھا لینا یا بغیر کسی سراغ کے غائب کر دینا نازی جرمنی کی مثال ہے جس کا انجام ہم نے اور پوری دنیا نے دیکھا ہوا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
ایمان مزاری نے بلوچ طلبہ کی بازیابی اور ان معاملات کی انکوائری کے لیے اب تک دو درخواستیں دائر کی ہیں۔ پہلی درخواست 10 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ جس میں ایمان نے عدالت سے استدعا کی کہ قائدِ اعظم یونیورسٹی اپنے طالبعلم حفیظ بلوچ کی بلوچستان کے علاقے خضدار سے اٹھائے جانے کے معاملے کی تحقیقات کرے۔
جبکہ دوسری درخواست 16 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی برانچ میں دائر کی گئی ہے۔ اس درخواست میں راولپنڈی کی ایرڈ یونیورسٹی سے حال ہی میں لاپتہ کیے گئے طالبعلم فیروز بلوچ کی بازیابی کی استدعا کی گئی ہے۔
عموماً ان تمام گمشدگیوں کے بارے میں حکومت یا سکیورٹی فورسز کی جانب سے کبھی مؤقف نہیں دیا جاتا۔ اور غیر ملکی خبر رساں اداروں کو ان علاقوں تک رسائی نہیں دی جاتی۔ جبکہ پاکستان میں موجود میڈیا بلوچستان پر بات کرنے سے کتراتا ہے۔ جبری طور پر گمشدہ ہونے والوں کے خاندان کے بقول ان کو بھی چپ رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
لیکن 27 اپریل کو طالبعلم بیبگر امداد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس سے ان طالبعلموں کے اٹھائے جانے کے دعوؤں کی سرِعام تصدیق ہوئی۔ یہ ویڈیو لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کے احاطے میں موبائل فون سے بنائی گئی تھی جس میں سادہ لباس پہنے اہلکار ایک فور بائی فور گاڑی میں بیبگر کو زبردستی بٹھاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس واقعے اور ویڈیو آنے کے دو ہفتے بعد بیبگر کو چھوڑ دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہBALOCH STUDENT COUNCIL
یونیورسٹی حکام 'دو دھاری تلوار کا شکار'
بیبگر امداد کی غیر قانونی گرفتاری اور گمشدگی پر بات کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی افسر کرنل عبید نے یہ جواب دیا: 'غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں۔ اور بات صحیح ہے کہ باقی طلبہ کو اچھا میسج نہیں جاتا۔'
انھوں نے کہا کہ انھیں بیبگر کے بارے میں جو پولیس سے اطلاع ملی وہ تفتیش کرنے پر صحیح نہیں نکلی۔ 'اس واقعے کے بعد ہم سے طلبہ نے کہا کہ اگر بیبگر کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو اس کے نام پر ایف آئی آر کاٹیں اور برابر مقدمہ چلائیں۔ لیکن گرفتاری کے بغیر تفتیش نہیں ہوسکے گی۔
'اس واقعے کے بعد ہم نے اور انتظامیہ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وائس چانسلر کو کہہ کر کوئی ایس او پی تشکیل دیں گے جس کے تحت قانونی طریقہ کار اور ٹھوس ثبوت کی بنا پر ہی کسی طالبعلم کو پولیس کے سامنے بٹھایا جائے۔۔۔ جامعہ کے اندر ہم وی سی کے سامنے ایسے طلبہ کو بٹھا سکتے ہیں۔'
لیکن جب ان سے پوچھا کہ اگر جعلی مقدمہ بنا کر کسی طالبعلم کو پھنسانے کی کوشش کی جائے تو اس کے بارے میں کیا کِیا جائے گا، تو انھوں نے جواب دیا کہ 'اس وقت ہم بھی اس کشمکش میں ہیں کہ گرفتار کیے بغیر کیسے تفتیش مکمل کی جائے گی۔ اور کیا یونیورسٹی سے گرفتار کرنا صحیح ہے یا نہیں۔
'گرفتار کرنے کا مقصد یہ بالکل نہیں ہے کہ اسے سزا دیں گے۔ حالانکہ سی ٹی ڈی ایسی کسی مشکل میں پڑے بغیر گرفتاری کرسکتی ہے، جس سے مزید مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ہم خود اس وقت دو دھاری تلوار کا شکار ہیں۔'
اس وقت صرف پنجاب یونیورسٹی میں 200 بلوچ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جن میں سے 111 بلوچ لڑکیاں ہیں۔
جہاں پنجاب یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی افسر خود تذبذب کا شکار نظر آئے وہیں بلوچستان حکومت کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے کہا کہ 'ڈائیلاگ کے بغیر ایسے کوئی بھی معاملات کا حل نہیں نکالا جاسکتا۔' انھوں نے کہا کہ 'معصوم لوگوں کو بارودی جیکٹ پہنا کر عوام کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے سکتے۔'
لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بلوچستان کو درپیش محرومیوں کا حل نکالے بغیر شدت پسندی کے واقعات کو نہیں روکا جاسکتا۔
جبکہ ایمان کا خیال ہے کہ 'بلوچستان کے عوام سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مسائل کا حل تبھی نکلے گا ورنہ مزید زور زبردستی کرنے سے آپ کے ہاتھ سے بلوچستان کے باقی نوجوان بھی نکل جائیں گے۔'













