جبری گمشدگی کے دو نئے کیس: ’قانونی طریقے سے انوسٹیگیشن نہیں ہوئی تو پبلک نہیں کی جا سکتی‘

،تصویر کا ذریعہFeroz Baloch Relatives
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
’جیتے جی بچوں کے لاپتہ ہونے کی اذیت کسی طرح بھی والدین کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتی۔ والدین تو اس بات کے روادار نہیں ہوتے کہ گرم ہوا تک بھی ان کے بچوں کو چھوئے۔‘
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے فیروز بلوچ کو ان کے والدین نے خراب حالات کی وجہ سے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی پڑھنے بھیجا تھا۔
11 مئی کو وہ راولپنڈی کی بارانی یونورسٹی سے لاپتہ ہو گئے۔ بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کا الزام ہے کہ ان کا لاپتہ ہونا جبری گمشدگی کا معاملہ ہے۔ پیر کے دن بلوچستان کے علاقے کیچ سے ایک خاتون کی مبینہ جبری گمشدگی کا معاملہ بھی اٹھا جس کے بعد مقامی افراد نے احتجاج میں کوئٹہ گوادر روڈ بند کر دی۔
واضح رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملے کے بعد متعدد ایسی شکایات سامنے آئی ہیں جن میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبا لاپتہ ہوئے۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ کراچی کے واقعے کے بعد سے اب تک تنظیم کے پاس 8 خواتین اور بچوں سمیت مجموعی طور پر 21 افراد کی جبری گمشدگی کی شکایات درج ہوئی ہیں جن میں سے 13 طالب علم ہیں۔ ان کے مطابق ان میں سے اب تک چار افراد کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
بی بی سی نے فیروز بلوچ اور کیچ سے لاپتہ خاتون کے معاملے پر سرکاری حکام سے رابطہ کیا تو ایک سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف چند لوگوں کو امن و امان قائم رکھنے کے لیے گرفتار کرتے ہیں، جن کو تفتیش کے بعد بے قصور ہونے کی صورت میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@IBRARALIKALMATI
فیروز بلوچ کون ہیں؟
فیروز بلوچ نے انٹر کے بعد راولپنڈی کی بارانی یونیورسٹی بی ایڈ میں داخلہ لیا تھا اور وہ دوسرے سمسٹر کے طالب علم ہیں۔
کیچ میں ان کے ایک چچا زاد بھائی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والدین نے فیروز کو پر امن ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچ سٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کی ایک پریس ریلیز کے مطابق فیروز بلوچ 11 مئی کو شام چار بجے ہاسٹل میں اپنے کمرے سے مطالعے کے لیے لائبریری کے لیے نکلے جس کے بعد ان سے رابطہ نہیں ہوا۔
کیچ میں ان کے چچا زاد بھائی نے بتایا کہ شام کو یونیورسٹی کے احاطے میں ہی واقع یونیورسٹی کی لائبریری میں مطالعے کے لیے جانا فیروز کا ایک معمول تھا اور ’وہ رات کو 8 بجے تک واپس اپنے کمرے میں آ جاتا تھا۔‘
’11 مئی کو جب وہ رات دیر تک واپس نہیں آئے تو ان کے ساتھیوں نے ان کے نمبر پر کال کیا۔ وہ بند جا رہا تھا۔ پھر انھوں نے یونیورسٹی کے احاطے میں تلاش شروع کی لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھا۔‘
فیروز کی والدہ بی بی ماہ جان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ لاپتہ ہونے سے دو روز قبل ان ہی ان کی اپنے بیٹے سے بات ہوئی تھی لیکن 11 مئی کو ’پنڈی سے اس کے دوستوں کا فون آیا کہ اس کا فون بند جا رہا ہے۔‘
’ان کے دوستوں نے ہم سے پوچھا کہ فیروز کا آپ لوگوں سے کوئی رابطہ ہوا ہے یا نہیں جس پر ہم نے بتایا کہ ہمارا دو روز پہلے ان سے رابطہ ہوا تھا اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔‘
’میں پہلے سے بلڈ پریشر کی مریضہ تھی۔ بچے کی گمشدگی کی خبر کے باعث میری طبیعت بگڑ گئی اور مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔‘
’ہمارا پورا خاندان ایک اذیت میں مبتلا ہے۔ معلوم نہیں ہمارا بچہ کہاں ہے اور وہ کس حال میں ہے۔‘
’ہم غریب لوگ ہیں۔ ہم نے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچے کو گھر سے دور صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب بھیج دیا تاکہ وہ اچھا پڑھ لکھ کر بڑھاپے میں ہمارا سہارا بنے۔‘
بی بی ماہ جان بلوچ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو بازیاب کروایا جائے۔
کیچ میں خاتون کی مبینہ جبری گمشدگی

،تصویر کا ذریعہGULZAR DOST BALOCH
ادھر بلوچستان کے ضلع کیچ سے ایک خاتون کی جبری گمشدگی کے خلاف بھی سوموار کو احتجاج کیا گیا۔
بلوچستان سول سوسائٹی تربت کے چیئرمین اور سول سوسائٹی تربت کے کنوینر گلزار دوست بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ خاتون کو ہوشاپ میں سندھ بازار کے علاقے سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ نورجہان بلوچ نامی خاتون کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب ان کے گھر سے سی ٹی ڈی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نورجہاں بلوچ ایک شادہ شدہ گھریلو خاتون ہیں۔‘
گلزار دوست بلوچ کے مطابق مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف خاتون کے رشتہ داروں کے ہمراہ کمشنر مکران ڈویژن سے مذاکرات کیے گئے اور ان کو بتایا کہ جب تک خاتون کو رہا نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اس خاتون کے حوالے سے بی بی سی نے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاءاللہ لانگو سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بھی بی بی سی کی جانب سے واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغام کا جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی خود کش حملہ اور جبری گمشدگی کے واقعات

،تصویر کا ذریعہReuters
کراچی یونیورسٹی میں خود کش دھماکے کے واقعے بعد جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کراچی یونیورسٹی میں جو واقعہ پیش آیا اس کے بعد سے ان کو مجموعی طور 21 فرد کی جبری گمشدگیوں کی شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 13 طالب علم ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے علاوہ 8 خواتین اور بچوں کی جبری گمشدی کی شکایت موصول ہوئیں تاہم کراچی سے اٹھائے جانے والے دو افراد کو بعد میں رہا کردیا گیا۔
نصراللہ بلوچ کے مطابق کراچی سے اٹھائے جانے والے دوسرے دو افراد کو ایک دن کے بعد چھوڑ دیا گیا جن میں سے ایک ڈاکٹر اوردوسرا ایم فل کا طالب علم تھا۔
دوسری جانب بلوچ سٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ’گزشتہ چند روز سے ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس پالیسی سے طلبا تنگ آچکے ہیں۔ اس غیر انسانی سلوک نے بلوچ طلبا کو ایک دشوار حالت میں مبتلا کیا ہے جہاں ماسوائے ان کے پاس اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو خیرباد کہنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔‘
سیکیورٹی حکام کا موقف
لاپتہ افراد کے معاملے پر جب سیکورٹی ادارے کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مسنگ پرسنز کا معاملہ بنیادی طور پرایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کے تحت دشمن پاکستان کو بدنام کرنے اور عوام کو حکومتی اداروں کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان دشمن عناصر دہشت گرد تنظیموں کو استعمال کر کے لوگوں کو اغوا اور قتل کرواتی ہیں اور جب پاکستانی ایجنسیاں ایسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایکشن لیتی ہیں تو ایک سوچی سمجھی چال کے مطابق الزام پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگایا جاتا ہے لیکن حکومت جلد اپنے باشعور اور بہادر عوام کے ساتھ سے ان سازشوں کو ناکام بنائے گی۔‘
سینیئر اہلکار کے مطابق ’بہت سے لوگ دہشت گرد تنظیموں میں بھی شامل ہو جاتے ہیں اور ان کے گھر والوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔‘ ان کے بقول پی سی ہوٹل پر حملہ کرنے والوں میں شامل حمل فتح ایسی ایک مثال ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کے قائم کردہ کمیشن کے مطابق مسنگ پرسنز کے 8381 کیس رپورٹ کیے گئے جن میں سے 6163 کیس عدالتی تحقیقات کے بعد ختم کر دیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کمیشن روزانہ کی بنیاد پر ان کیسزکی سماعت کرتا ہے اور تحقیقات کے مطابق زیادہ تر افراد کو دہشت گرد تنظیمیں اغوا کر کے قتل کر دیتی ہیں۔‘
لاپتہ افراد کا معاملہ اور قانون سازی

ریٹائرڈ سینیئر پولیس آفیسر عبد الرزاق چیمہ طویل عرصے تک کوئٹہ میں ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ اس وقت تک رہے گا جب تک اسے قانون کے دائرے میں نہیں لایا جائے گا۔ ’یہ کم ہوسکتا ہے لیکن حل نہیں ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کسی کو بھی شوق نہیں ہوتا ہے کہ وہ کسی کو خواہ مخواہ اٹھائے۔ اس کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ لیکن جو وجہ ہے اگر اس کے لیے قانونی طریقے سے انویسٹیگیشن اور انٹیلیجینس کی ہی نہیں گئی ہو تو وہ پبلک نہیں کی جا سکتی۔‘
’جو چیز پبلک نہیں کی جاسکتی، وہ عدالت میں بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہ ہے وہ بنیادی بات جس پر قانون سازی ہونی چاہیے۔ کوئی اس طرح کا میکینزم ہونا چاہیے کہ اگر کسی عدالت سے اس طرح کی انوسٹیگیشن کی اجازت لینی ہو تو اس کا کسی کو پتہ نہ لگے۔‘
عبدالرزاق چیمہ کا کہنا تھا کہ ’جس پر الزام ہوتا ہے ان سے تفتیش ایسے طریقوں سے ہونی چاہیے جو نظر آئے اور اس نے جو بھی قصور کیا ہے وہ بھی نظر آئے۔‘
’اگر وہ عدالت سے ثابت نہیں ہونے والا تو کم ازکم عوام کو بتایا جائے کہ یہ بندہ یہ خرابی کر رہا تھا اور اس کے خلاف یہ ثبوت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں ایسے کیس بھی ہیں جن میں مبینہ طور پر لاپتہ لوگ کسی کی تحویل میں نہیں تھے لیکن ان کو بھی لاپتہ ظاہر کیا گیا۔
’کوئٹہ میں قتل کا ایک بڑا مشہور کیس ہوا تھا۔ چھ افراد کی لاشیں پرانے کاریزوں کے تین سو فٹ گہرے کنوئیں سے نکالی گئی تھیں۔‘
’جب تفتیش ہوئی تو پتہ چلا کہ کوئٹہ کا ایک نوجوان ملوث تھا۔ اس نے کسی سے موٹر سائیکل چھیننی ہوتی تھی تو وہ اس سے دوستی لگا کر کنوئیں کے پاس لے جاتا تھا اور پھر وہ اس کو دھکہ دے کر گرا دیتا تھا۔ تین سو فٹ گہرے کنوئیں میں اگر کسی کو نیچھے پھینک دیا جائے تو وہ کہاں سے واپس نکل سکتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’شک کی بنیاد پر واردات کرنے والے نوجوان کو پکڑا گیا تو اس نے جرم کا اعتراف کیا۔‘
’پھر کسی ماہر شخص کو مستونگ سے ان لوگوں کو نکالنے کے لیے لایا گیا تو انھوں نے جس پہلے شخص کی لاش نکالی تو وہ یہاں لاپتہ شخص کے طور پر رجسٹر تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ایشو بالکل ہے لیکن بسا اوقات کوئی بندہ کسی حادثے کا یا اس طرح کرائم کا شکار ہوا اور لوگوں کو پتہ نہیں چلا تو لوگ اس کو لاپتہ والے معاملے کی طرف لے جاتے ہیں۔‘











